دکھائیں کتب
  • 11 صفر کا مہینہ اور بدشگونی (جمعرات 08 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2625

    ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا قمری مہینہ ہے صفر کے لغوی معنی خالی ہونے کے ہیں عرب محرم کے مہینےکا احترام کرتے ہوئے اس میں قتال وغیرہ سے باز رہتے تھے لیکن ماہِ صفر کے شروع ہوتے ہی وہ قتال وجدال کےلیے نکل کھڑے ہوتے تھے اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے تھے اس لیے اس کا مہینے کا نام صفر پڑگیا ۔صفر کے میں نحوست کے عقیدے کی کوئی حیثیت نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ''کو بیماری متعدی نہیں ہوتی،بدشگونی لینا جائز نہیں ۔قرآن وحدیث میں کہیں بھی ماہ ِصفر میں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ،لہذا جو مسنون اعمال عام دنوں میں کیے حاتے ہیں ، وہ اس ماہ میں بھی کیے جا سکتے ہیں ماہ محرم کو منحوس سمجھ کر اس میں شادیاں نہ کرنا،اس ماہ کی آخری بدھ کو جلوس نکالنا اور بڑی بڑی محافل منعقد کرکے خاص قسم کے کھانے او رحلوے تقسیم کرنا اور اسی طرح کی دیگر رسم ورواج کا تعلق بدعت سے ہے کیوں کہ اس کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔زیر نظر کتابچہ بھی اسی موضوع پر ہے جس میں اختصارکے ساتھ احسن اور عام فہم انداز میں ماہ ِ صفر میں پائی جانے والی رسوم ورواج او ربدعات کا رد کیا گیا ہے امیدہےکہ یہ کتابچہ قاری کی سوچ اور شعور کو اس طرح جلا بخشےگا کہ وہ اپنے ہر نفع ونقصان کا مالک اللہ وحدہ لاشریک و سمجھتے ہوئے توہم اور بدشگونی سے بچ سکے گا۔(م۔ا)

     

     

  • 12 عاشورہ محرم روز عید یا روزغم وماتم (اتوار 19 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:12841

    محرم الحرام اس قدر بابركت مہینہ ہے کہ خداوند قدوس نے اس کو روز اول سے حرمت والا مہینہ قرار دیا۔ محرم کی دس تاریخ کو اللہ تعالی نے قومِ موسی کو فرعون سے نجات اس لیے حضرت موسی اور آپ کی قوم ہر سال اس دن روزہ رکھتے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شکرو سپاس کے طور پر اپنی پوری زندگی عاشورا کا روزہ رکھتے رہے۔ ’عاشوراء محرم روز عید یا روز غم و ماتم‘ شیخ الحدیث عبیداللہ رحمانی مبارکپوری کی عام فہم انداز میں لکھی گئی ایک قابل قدر تصنیف ہے جس میں مولانا نے عاشوراء محرم کے ضمن میں تمام تر واقعات کا اختصار کے ساتھ احاطہ کیا ہے۔ کتاب میں غیر جانبداری کے ساتھ شہادت عثمان سے لے کر جنگ جمل و جنگ صفین سے ہوتے ہوئے واقعہ کربلا تک تمام واقعات کو سپرد قلم کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یوم عاشور شکر و سپاس کا دن ہے نہ کہ ماتم کے نام پر صحابہ کرام پر سب و شتم کرنے کا۔

  • 13 ماہ ذو الحجہ کے فضائل (پیر 29 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1833

    ماہ ذوالحجہ   قمری تقویم کے لحاظ سے سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے ۔ چونکہ اس ماہِ مبارک میں حج جیسا عظیم فریضہ انجام دیا جاتا ہے اس لیے اس کا نام حج ہی کی مناسبت سے مشہور ہے ۔اس ماہ ِمبارک میں عشرہ ذوالحجہ کے ایام بڑے ہی اہمیت وفضیلت والے ہیں۔جسے نبی کریم ﷺ نے سال بھر کے دیگر ایام سے افضل قرار دیا ہے ۔اور اسی طرح اس میں ایام تشریق جیسے اہم دن بھی شامل ہیں ۔اس میں بنیادی عبادات نماز، روزہ، صدقہ، حج ،قربانی جیسی اہم عبادات کی جاتی ہیں اس لیے   اس کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہےکہ آپ ﷺنےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ماہ ذوالحجہ کے فضائل‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے ماہ ذوالحجہ کی فضائل ومسائل کو قرآن حدیث کی روشنی میں عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ جس سے عام قارئین بھی مستفید ہو سکتے...

  • 14 ماہ شعبان بدعات کے گھیرے میں (جمعرات 05 جون 2014ء)

    مشاہدات:2677

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ لیکن عبادت کےلیے  اللہ تعالیٰ  نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی  خلقت  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سن بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک  اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت  مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی  عبادات کو  دین  میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے  کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے ۔انہی بدعات  میں  سے  ماہ شعبان میں شب برات  کے  سلسلے میں  من گھڑت  موضوع احادیث کو  سامنے رکھتے ہوئے  کی  جانے والی بدع...

  • 15 ماہ محرم اور مروجہ بدعات (جمعہ 31 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3875

    اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بعض مہینوں کوبعض پر فضیلت عطا کی ہے ۔چنانچہ ماہِ محرم کو بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی خصوصیات عطا کیں جو اس کے فضائل کی حامل بھی ہیں اور اسے دوسرے مہینوں کےمقابلے میں ممتاز بھی کرتی ہیں۔اور ماہِ محرم کو اسلامی تقویم کے تمام مہینوں میں سے اولیت اور آغاز کا  مقام حاصل ہے۔اس ماہِ مبارک میں روزے رکھنا  بڑی فضیلت کا باعث ہے ۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے  کہ :’’رمضان کے بعد سب مہینوں سے افضل روزے اللہ  کے مہینے محرم کے روزے ہیں‘‘ (صحیح مسلم )محرم کے کسی بھی دن یا رات میں کوئی خاص عبادت ،خاص نماز، خاص وظیفہ خاص دعا پڑہنے کی کوئی دلیل قرآن وسنت سے نہیں ملتی سوائے نو،دس کے روزے کے۔زیر نظر کتابچہ ’’ماہ محرم کے فضائل اور مروجہ بدعات‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی  اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے جس  میں ا نہوں نے   اختصار کے ساتھ  قرآن وحدیث کی روشنی میں ماہ ِمحرم کی حرمت وفضیلت بیان  کرنے کےبعد اس مہینے میں معاشرے  میں پائی جانے والی مروجہ بدعات وخرافات کی حیثیت کوواضح کیا ہے کہ یہ محض من گھڑت  روایات پر مبنی ہیں جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اس ماہ  میں  کی جانے شیعی بدعات کی قرونِ اولیٰ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کوعوام الناس کی اصلاح   کا ذریعہ بنائے  اور ہمیں ہر گمراہی سےبچائے اور اپنے رسول ﷺ اوران کے صحابہ کرام﷢ کی سچی محبت اور دوستی عطا فرمائے (آمین) (م۔ا) رسوم و رواج اور بدعات بسنت ، اپریل فول ، ویلنٹائن ڈے وغیرہ  رؤیت ہلال اور اسلامی مہینے 

  • 16 مسئلہ رؤیت ہلال اور 12 اسلامی مہینے (ہفتہ 03 دسمبر 2011ء)

    مشاہدات:21609

    اسلامی نقطہ نگاہ میں تمام اوقات اور تمام مہینے مقدس ومحترم ہیں۔اور ہر مسلمان پر ان کی تعظیم واحترام واجب ہے۔مختلف اوقات اور مہینوں کو منحوس قرار دینا تعلیمات اسلامیہ سے دوری کا نتیجہ اور باطل نظریات کا شاخسانہ ہے ۔کتاب وسنت میں مختلف مہینوں کے فضائل ومناقب بیان ہیں۔جو کتب احادیث میں منتشر تھے انہیں کسی دستاویزی شکل میں یک جا کرنے کی ضرورت تھی ۔پھر مختلف مہینوں میں مختلف بدعات مروج ہیں اور عامتہ الناس اسے دین سمجھ کر طلب ثواب کی نیت سے ان پر عمل پیرا ہیں۔زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف ماہر محقق ،معروف قلمقار اور جید عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اسلامی مہینوں کے فضائل ومسائل بیان کرنے کے بعد ان مہینوں کی مروجہ بدعات کا اچھے طریقے سے پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔یہ کتاب خطبا ،علما اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے اور اسلامی مہینوں کے حوالے سے عوام میں پھیلی مختلف بدعات کا تریاک بھی ہیں۔کتاب کی اشاعت وطباعت اور سرورق کا حسن دارالسلام ادارہ کے ذوق طباعت کا آئینہ دار ہے ۔(ف۔ر)
     

  • 17 مقالات محرم (ہفتہ 01 مارچ 2014ء)

    مشاہدات:3959

    واقعہ کربلا تاریخِ  اسلام کایک ایسا سلگتا موضوع ہے   جو کہ چودہ سو سال گزر جانے کے  باوجود اس کی حدت آج بھی  محسوس کی جارہی  ہے  قصائد حکایات کی دنیا میں تو یہ  بہت سہل عنوان ہے  اور  اس  حوالے سے  خود ساختہ  کہانیوں پر مشتمل  بے  شمار مواد موجود ہے  مگر تحقیقی انداز میں حقائق پر  مبنی   مواد بہت کم ہے ۔زیر نظر کتاب ’’مقالات محرم ‘‘  حافظ  محمد ابراہیم کمیر پوری﷫ کے  وہ علمی مقالات ہیں جو انہوں نے مختلف اوقات میں  اہلِ بیت کی عقیدت میں تحریر کئے  عقید ت کی رو میں انہوں حقیقت کو فراموش  نہیں کیا  او ران مقالات میں انہوں نے   خاص طور  پر ماہ  محرم  اور اس کی رسومات اور  اس میں  پیش آنےواقعا ت کوپیش کیا ہے  اللہ   تعالی   مولانا حافظ ابراہیم کمیر پوری  ﷫ کے درجات بلند فر مائے  اور  اس کتاب کو عوام الناس کے لیے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 18 نیا چاند ، ہماری روایات اور رویت ہلال (پیر 08 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2002

    اسلامی کلینڈر میں سن ہجری کو بنیاد بنا کر قمری تقویم بنائی گئی جو کہ عین فطرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی تعداد کو بھی چاند کے ساتھ منسلک کیا ہے نا کہ سورج کے ساتھ ۔اس لیے شرعی احکامات پر جب طائرانہ نظر دوڑائی جاتی ہے تو تمام شرعی معاملات جن کا تعلق تاریخ بندی سے ہوتا ہے ان کی ادائیگی قمری کلینڈر سے ہی ممکن ہے عیسوی سے ناممکن ہے۔جیسے رمضان کے روزے ہوں یا عید الفطرو عیدالاضحیٰ،ادائیگی زکوۃ کا مسئلہ ہو یا ایام حج کا گویا کہ بہت ساری فرضی اور نفلی عبادات قمری کلینڈر کے بغیر ناممکن ہیں۔لیکن بنیادی مشکل جو آج کے دور میں نظر آتی ہے وہ اختلاف مطالع کی وجہ سے لوگوں کا متذبذب اور مشکوک ذہن ہے کہ یہ کیا سلسلہ ہے کہ ایک ہی اسلامی تہوار میں  اسلامی دنیا میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اپنے اس کتابچہ میں اس حساسیت کو شریعت کی روشنی میں پیش کیا ہے کہ اختلاف مطالع کی باقاعدہ شرعی حیثیت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور صحابہ کے دور میں بھی کئی مطالع کا ثبوت پایا جاتا ہے اور اس کے مطابق  لوگ احکامات الہٰیہ کی ادائیگی کے پابند ہوں گے۔اسی طریقے سے رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت ،ان کے کیے ہوئے فیصلے کو تسلیم کرنا اور ان کی تحقیق کےمطابق کیے گئے اعلان کوقبول کرتے ہوئے اپنے اپنے مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے شرعی احکامات کی بجا آوری کی جائے اسی میں ہی امت مسلمہ کی خیر ہے۔(راسخ)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1313
    • اس ہفتے کے قارئین: 3394
    • اس ماہ کے قارئین: 27922
    • کل قارئین : 47061892

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں