کل کتب 17

دکھائیں
کتب
  • 11 #3827

    مصنف : محسن فارانی

    مشاہدات : 4695

    سیرت انسائیکلو پیڈیا (کلر) جلد۔1

    dsa (جمعہ 11 دسمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں. حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔

    زیر تبصرہ کتاب سیرت انسکائیکلوپیڈیا’’اللولؤ المکنون‘‘ 11جلدوں پر مشتمل اپنی نوعیت کا نہایت منور، منفرد اورممتاز علمی وتحقیقی وارمغانِ عقیدت ہے۔ یہ سیرت انسکائیکلوپیڈیا سیدالانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت مطہرہ پر بے مثالی علمی وتحقیقی ہدیہ عقیدت، رسول اللہ ﷺ کی قبل از پیدائش سے آپ ﷺ کی وفات تک کے مستند حالات وواقعات کا مکمل اور جامع تذکرہ، رنگین تصاویر، نقشوں، خاکوں، شجروں ور آیات سیرت پر مشتمل قرآنی خطاطی کا شاہکار۔ تاریخی واقعات اہم مقاما ت سے متعلق معلومات افزا حواشی رنیگین آرٹ پیپر اعلیٰ بیروتی طباعت اور خوبصورت آسان اور دلچسپ اندازِ بیان ہے۔’’اللؤلؤ المکنون‘‘کےمطالعے سےرسالت مآب ﷺکی مقدس زندگی کے ہر گوشے کےبارے میں علم وبصیرت کی بھر پور روشنی ملے گئی۔سیرت انسکائیکلو پیڈیا میں سیدنا محمد رسول اللہًﷺ کی پیدائش سےلے کر آپ کی وفات تک کےاحوال وآثار پوری جزئیات سمیت نہایت جامعیت سےپیش کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔دعوتِ اسلام سے پہلے جزیرہ نمائے عرب کے باشندوں، ان بودوباش ،سماجی رویوں اور جملہ خصائل کےعلاوہ ارد گرد کی اقوام کے حالات بھی بیان کیے گئے ہیں ۔تاکہ تاریخ انسانی کےسب سےعظیم اورسب سےروشن عہد کےآغاز کاپس منظر قارئین کے سامنے آجائے اور یہ حکمتِ الٰہی عیاں ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت اوربعثت کے لیے جزیرہ نمائے عرب ہی کوخاص طور پر کیوں منتخب کیاگیا۔سیرت انسائیکلوپیڈیا میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ترتیب زمانی کےمطابق مدون کی گئی ہے اورکوشش کی گئی ہے کہ یہ کتاب اسلوب اور تأثر کےاعتبار سےنبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کے مختلف مراحل اور حالات وواقعات کو ایک خاص معنویت کے ساتھ اجاگر کرے گی ۔ اس کا اسلوب بیان انتہائی سادہ آسان ،دلنشیں اور مدلل ہے۔ کتاب کےشروع میں ایک جامع مقدمہ رقم کیاگیا ہے جس میں سیرت کے موضوع اور اس کےخصوصی مطالعےکی اہمیت وضرورت کےاسباب بتائے گئےہیں۔ مختلف ادوار میں متداول کتبِ سیرت اور سیرت نگاروں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ نیز مستشرقین اوران کے گرویدہ قلمی طائفے کاعلمی محاسبہ کیاگیا ہے۔ایک واقعے کی تمام روایات کو جمع کرنےکے بجائے مستند اورجامع روایت کا ذکر کیاگیا ہے۔البتہ جہاں روایت مختصر ہو وہاں متعددروایات کو حوالوں سمیت یکجا کردیا گیا ہے۔روایات کی اسناد ومتون کی صحت اور راویوں کے معتبر ہونے کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ کوشش کی گئی ہےکہ وہی روایات لے جائیں جنہیں محدثین کرام نے سیرت طیبہ کے ضمن میں قابلِ اعتناسمجھا ہے اور جہاں خلا پُر کرنے کے پیش نظر ضعیف روایات کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا ہے وہاں ان کا ضعف واضح کردیا گیا ہے۔ تمام جلدوں میں ہر باب سے پہلے اس باب کےموضوع کی مطابقت میں ایک آیت نہایت خوبصورت خطاطی کی شکل میں سجادی گئی ہےجو اس باب کے کلیدی خیال کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ قرآنی آیات اور عربی متون کو سرخ رنگ دے کر امتیازی حیثیت دی گئی ہے ۔متن کتاب میں مذکور مشکل الفاظ کی شرح ،غیر معروف مقامات کی وضاحت وتعین اور مختلف اعلام وقبائل کی تعریف مختصر حواشی میں کردی گئی ہے ۔یہ حواشی ہر جلد کے آخر میں حروف تہجی کے اعتبار سے مذکور ہیں۔اماکن کی تفہیم کےلیے نقشوں کا خاص اہتمام کیاگیا ہے۔ بعض مقامات کی تعین کے لیے خاکوں سے کام لیا گیا ہے۔ تحقیق وتخریج   کابڑا عمدہ اہتما م کیا گیا ہے۔ نقشوں اور خاکوں اورشجروں کی الگ فہرست بھی مرتب کردی گئی ہے۔ اس انسکائیکلوپیڈیا کی آخری جلد اشاریے پر مشتمل ہوگی جس میں قرآنی آیات، احادیث نبویہ ، اقوال ِصحابہ ،اشعار اور مضامین ،مکمل فہرستوں کے ساتھ اعلام، اماکن، قبائل، اور مذاہب وفِرق وغیرہ کی فہرستیں بہی بہ اعتبار حروف تہجی شامل ہوگی۔ اور اس آخری جلد میں سیرت انسکائیکلو پیڈیا کےمصادر و مراجع کی تفصیلی فہرست بھی ہوگی۔ ( ان شاء اللہ )سیرت انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کی عظیم الشان پیشکش شاہکار ہے۔ جسے   دارالسلام کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی زیر قیادت ،دارالسلام کے ریسر چ سکالرز کی ٹیم نے بڑی محنتِ شاقہ اور جانفشانی سےتیار کیا ہے اوراس میں عالمی سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫ کےعلاوہ نامور علمائے کرام کے مشورے وتجاویز میں شامل ہیں۔ مزید برآں محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری﷾ کی تحقیق، تنقیح وتصحیح اوراسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور معروف مترجم مولانامحمد خالدسیف﷾ کی نظرثانی سے اس کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس انسائیکلوپیڈیا کی تیاری میں شامل تمام احباب کی محنتوں کو قبول فرمائے اورانہیں اجر عظیم سے نوازے۔ اور امت ِمسلمہ کو اس کتاب سے مستفید فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • 12 #2292

    مصنف : سید فضل الرحمن

    مشاہدات : 2460

    فرہنگ سیرت

    (ہفتہ 02 اگست 2014ء) ناشر : زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی

    دنیا کی  دوسر ی اسلامی زبانوں کی طرح اردو  میں  شروع ہی  سے رسول کریم ﷺکی  سیرت طیبہ پر بے  شمار  کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات  کا موضوع  گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے  شاعرِ اسلام  سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی  تاریخ  میں  آپ ﷺ کی سیرت  طیبہ کے جملہ گوشوں پر  مسلسل کہااور  لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا  جاتا  رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے  کہ اس  پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے  گا۔ دنیا کی کئی  زبانوں میں  بالخصوص عربی اردو میں  بے شمار سیرت نگار وں نے  سیرت النبی ﷺ  پر کتب تالیف کی ہیں۔  اردو زبان میں  سرت النبی از شبلی نعمانی ،  رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور  مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول  آنے والی کتاب  الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری  کو  بہت قبول عام حاصل ہوا۔زیر نظر کتاب  ’’ فرہنگ سیرت ‘‘ششماہی  مجلہ ’’السیرۃ عالمی‘‘  کے مدیر  سید فضل الرحمن ﷾ کی  سیرت نبویﷺ کے  موضوع پر ایک منفرد  او رنئی کاوش ہے  ۔ جوکہ سیرت طیبہ  میں ذکر  ہونے والے  تقریبا تین ہزار الفاظ ،مقامات، شہر، شخصیات ،پہاڑوں ،چشموں ،قبائل وغیرہ پر مشتمل  جامع ترین لغت ہے۔اس میں سیرت طیبہ  سے متعلق 30  نقشے بھی شامل ہیں۔اللہ تعالی  فاضل مصنف کی اس منفرد کاوش  کو  شرف قبولیت سے  نوازے  (آمین)  (م۔ا)
     

  • 13 #1479

    مصنف : محمد بن ابی بکر بن عبد القادر الرازی

    مشاہدات : 21547

    مختار الصحاح

    (منگل 18 فروری 2014ء) ناشر : دارالاشاعت اردوبازارکراچی

    پیش خدمت کتاب امام محمد بن  ابی بکر بن عبدالقادر الرازی  کی تالیف  ’’ مختار الصحاح ‘‘  کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ تالیف بذات خود امام ابو نصر اسماعیل بن حماد الجوہری رحمہ اللہ  کی مشہور ومعروف ضخیم عربی لغت  ’’تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ ‘‘  کا اختصار ہے ۔یہ ضخیم لغت چالیس ہزار کلمات پر مشتمل ہے

    اس ضخیم اور مستند لغت کی افادیت اوراہمیت کے پیش نظر امام الرازی نے اس سے ایسے کلمات چن کر ان کی شرح اور تفسیر بیان کی ہے جن کی ان کے اپنے الفاظ میں ہر عالم، فقیہ، حافظ قرآن، محدث اور ادیب کو اشد ضرورت ہے۔کیونکہ اس میں جابجا قرآن، حدیث اور فقہی اصطلاحات کو ان کےسیاق وسباق  کےحوالے سے بیان کیا گیا ہے۔نیز ترجمہ وتفسیر کی صحت پر دور جاہلیت  کے مستند  ومعروف شعراء کے اشعار ضرب الامثال اور مرج محاورے بطور سند درج کیے گئے ہیں۔

    یہ بات یوں تو ہر فن اور موضوع کےلیے ضروری ہے کہ کتاب کے کلمات کی تفسیر اور ان کا ترجمہ سیاق کلام کے مطابق کیا جائے لیکن قرآن اور حدیث سے متعلق یہ بات بطور خاص ضروری ہےکیونکہ کہ ان کا تعلق ایمان اور عقیدے کے ساتھ ہے۔اس معاملے میں سیاق سےہٹ کر بات کرنا بڑے فتنے کا موجب ہوسکتا ہے۔صاحب کتاب نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے۔

    امام الرازی نے الصحاح کی تفسیر کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے بڑے مفید اضافے بھی کیے ہیں۔کہیں تو کلمات کی مزید وضاحت ہے اورکہیں مؤلف کے موقف کی تائید ہے اور جہاں مناسب سمجھا ہے دلائل کی رو سے مؤلف کے موقف سے اختلاف بھی کیا ہے۔اور ساتھ ہی اپنا اختلافی مؤقف بھی بیان کیا ہے۔

    متن قرآن میں قرآنی آیات اور احادیث کی طرف مختصراً اشارات کیے گئے ہیں جس کے باعث بعض مقامات پر بات پوری طرح واضح نہیں ہوتی۔ہم نے مکمل قرآنی آیت اور حدیث کا متن بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔قرآنی آیات اور حدیث کاترجمہ مستند تراجم سے نقل کیا گیا ہے۔کتاب کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں صاحب کتاب اور ناشر کے مقدمات پر کسی قسم کے اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔

    ہم ذات باری کے حضور دعا گو ہیں ہماری یہ کوشش اور کاوش تشنگی علم کےلیے تشفی کا سامان ہو  اور درگاہ ایزدی میں اس کی قبولیت ہمارےلیے توشہ آخرت بنے۔ آمین

     

  • 14 #1641

    مصنف : عبد الحفیظ بلياوی

    مشاہدات : 21400

    مصباح اللغات

    (جمعہ 21 فروری 2014ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    مادری زبان کےعلاوہ کسی دوسری زبان کو سمجھنے کےلیے ڈکشنری یالغات کا ہونا ناگزیر ہے عربی زبان کے اردو معانی  کے حوالے سے کئی لغات یا معاجم تیار کی گئی ہیں لیکن ان سب میں منفرد اور انتہائی مفید ' مصباح اللغات' ہے اس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جدید عربی زبان کے اسالیب کا بھی خیال رکھاگیا ہے یہ کتاب علماء ،طلباء اور عوام سب کے لیے ایک قیمتی متاع ہے جس کے مطالعہ سے کسی بھی عربی لفظ کا اردومفہوم ومدعا معلوم کیا جاسکتا ہے  بعض احباب کےتقاضے پراسے اپ لوڈ کیا جارہا ہے تاکہ عربی تفہیم وتعلم میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔






     

  • 15 #1432

    مصنف : وزارت اوقاف واسلامی امور کویت

    مشاہدات : 20336

    موسوعہ فقہیہ 1

    dsa (اتوار 01 جولائی 2012ء) ناشر : جینوین پبلیکیشنز اینڈ میڈیا انڈیا

    عصر حاضر علمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلہ میں مختلف اسلوب اختیارکیے جا رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’موسوعۃ فقہیہ‘ میں موسوعاتی یا انسائیکلوپیڈیائی اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس میں حروف تہجی کی ترتیب کے ساتھ آسان زبان و اسلوب میں مسائل و معلومات یکجا کر دی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے عام اہل علم کے لیے بھی مطلوبہ معلومات تک رسائی اور استفادہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس موسوعہ میں تیرہویں صدی ہجری تک کے فقہ اسلامی کے ذخیرہ کو جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے اور چاروں مشہور فقہی مسالک کے مسائل و دلائل کو جمع کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ ہر مسلک کے دلائل موسوعہ میں شامل کیے گئے ہیں، موازنہ اور ترجیح کی کوشش نہیں کی گئی ہے، دلائل کے حوالہ جات ہر صفحہ پر درج کیے گئے ہیں اور احادیث کی تخریج کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ موسوعہ کی ہر جلد کے آخر میں سوانحی ضمیمہ شامل کیا گیا ہے جس میں اس جلد میں مذکور فقہا کے مختصر سوانحی خاکے مع حوالہ جات درج کیے گئے ہیں۔ اسی مہتم بالشان موسوعہ کا اردو ترجمہ وزارت اوقاف و اسلامی امور کویت اور اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا)کے تعاون سے اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ ترجمہ نہایت اعلیٰ معیار کا ہے، ترجمہ کے لیے ہندوستان بھر کے ممتاز علماکی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ترجمہ ہونے کے بعد اس سلسلہ میں ممتاز ماہرین سے نظر ثانی کرائی گئی ہے۔ پھر یہیں پر بس نہیں کویت کی وزارت اوقاف و اسلامی امور نے ترجمہ کے بارے میں مزید اطمینان حاصل کرنے کے لیے مستقل ایک نظر ثانی کمیٹی کویت میں تشکیل دی۔ موسوعہ فقہیہ کے اردو ترجمہ کے اس منصوبہ سے جہاں ایک طرف جدید اور سہل اسلوب میں اسلامی فقہ و قانون کے مکمل سرمایہ سے اردو خواں طبقہ کےلیے استفادہ ممکن ہو سکے گا اور ماہرین قانون کے لیے یہ موسوعہ ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگا وہیں دوسری طرف اس کے ذریعہ باصلاحیت علما اور نئی نسل کی ابھرتی ہوئی خفیہ صلاحیتوں سے روشناس و مستفید ہونے کا موقع بھی ملے گا۔   (ع۔م)
     

  • 16 #4849

    مصنف : ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی

    مشاہدات : 2083

    کتابیات شبلی

    (پیر 31 اکتوبر 2016ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

    علامہ شبلی نعمانی اردو کے مایہ ناز علمی و ‌ادبی شخصیات میں سے ہیں۔ خصوصاً اردو سوانح نگاروں کی صف میں ان کی شخصیت سب سے قدآور ہے۔ مولانا شبلی نے مستقل تصنیفات کے علاوہ مختلف عنوانات پر سیکڑوں علمی و تاریخی و ادبی و سیاسی مضامین لکھے جو اخبارات و رسائل کے صفحات میں منتشر ہیں ۔شبلی نعمانی 1857ء  اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ  میں پیدا ہوئے ۔۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ حبیب اللہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد مولانا محمد فاروق چڑیا کوٹی سے ریاضی، فلسفہ اور عربی کا مطالعہ کیا۔ اس طرح انیس برس میں علم متدادلہ میں مہارت پیدا کر لی۔ 25 سال کی عمر میں شاعری، ملازمت، مولویت کے ساتھ ہر طرف کوشش جاری رہی،1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ وہاں  فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔  1882 میں شبلی نے ’’علی گڑھ کالج‘‘ سے تعلق جوڑ لیا۔ یہاں وہ عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہاں سر سید سے ملے ان کا کتب خانہ ملا، یہاں تصانیف کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے اردو ادب کے دامن کو تاریخ، سیرت نگاری، فلسفہ ادب تنقید اور شاعری سے مالا مال کردیا، سیرت نگاری، مورخ، محقق کی حیثیت سے کامیابی کے سکے جمائے 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ چلے گئے۔ 1913ء میں دارالمصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔مولانا شبلی کی شخصیت  ایسی ہےکہ ان کی علمی ، تحقیقی، ادبی اور ملی خدمات کی وجہ سے ان کی حیات اورکارناموں کے بارے میں خود ان کی زندگی میں بہت کچھ لکھا گیا ہے  اورلکھا جارہا ہے  کئی احباب  نے  مولانا شبلی کے حوالے سے تحریر کیے گئے مواد  کو اشاریہ جات اورکتابیات کی صورت میں جمع کیا ہے ۔کیونکہ علم وتحقیق کےمیدان میں  کتابیاتی لٹریچر کی اہمیت ، ضرورت اور افادیت اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ۔دورحاضر میں کتابیات اور اشاریہ سازی کےفن میں جو غیر معمولی ترقی ہوئی ہےاور علمی موضوعات پر جس طرح کا معیاری کتابیاتی مواد محققین  کے سامنے آیا ہے کہ جس کی وجہ سے زیر بحث موضوع پر مطلوبہ معلومات تک رسائی اس حد  تک آسان ہوگئی ہے  کہ کسی بھی علمی وتحقیقی موضوع پر کام کرنے والا اسکالر آسانی سے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ زیربحث موضوع پر اب تک کس  قدر کام ہوچکا ہےا ور وہ کہاں دستیاب ہے۔اس سےمواد کی تلاش وجستجو کا  کام بہت کچھ آسان ہوجاتا ہے۔ زیرنظر کتاب’’کتابیات شبلی‘‘ بھی اسی نوعیت کی ایک کڑی ہےجس میں ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی صاحب نے   نہ صرف اس موضوع پر سامنے آنےوالے نئے لٹریچر کااحاطہ کیا ہےبلکہ بڑی محنت اور دقت نظر سے ان بہت سی پرانی تحریروں کابھی سراغ لگایا ہے  جو ماہ وسال کی گرد کےنیچے دب کر نظروں سےاوجھل ہوچکی تھیں اور اس موضوع پر شائع ہونے والے  اشاریہ ان کےذکر سے خالی تھے۔کتاب ہذا قدر شناسان شبلی کے لیے  یہ  ایک قیمتی تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے   جس سے مولانا شبلی کی حیات اورخدمات کے موضوع پر اہل علم کی دلچسپی میں اضافہ ہو گا۔(م۔ا)

  • 17 #5053

    مصنف : پروفیسر ابو سفیان اصلاحی

    مشاہدات : 1772

    کتابیات قرآن

    (منگل 27 دسمبر 2016ء) ناشر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

    علم و تحقیق کے میدان میں کتابیاتی لٹریچر کی اہمیت، ضرورت اور افادیت اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ دورِ حاضر میں کتابیات اور اشاریہ سازی کے فن میں جو غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ علمی وتحقیقی کاموں کے لیے اس کی ناگزیر ضرورت و اہمیت کا احساس سب سے پہلے مسلمانوں ہی نے کیا اور اس میدان میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ کتابیات کا ایک بنیادی فائدہ تو یہ ہے کہ بہت سی علمی اور تحقیقی کاوشیں جو امتداد زمانہ کے باعث اہل علم کی نظروں سے اوجھل ہوچکی ہیں وہ دوبارہ نظر میں آجاتی ہیں اور اس طرح ان سے استفادہ کی راہ آسان ہوجاتی ہے۔ نیز بہت سے غیر معروف مصنفین کی علمی خدمات سے اہل علم ودانش کو متعارف ہونے کا موقع بھی ملتاہے اور ان تک رسائی کی سبیل پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے زیر بحث موضوع پر مطلوبہ معلومات تک رسائی اس حد تک آسان ہو گئی ہے کہ کسی بھی علمی و تحقیقی موضوع پر کام کرنے والا اسکالر آسانی سے یہ معلوم کرسکتا ہے کہ زیر بحث موضوع پر اب تک کس قدر کام ہوچکا ہے اور وہ کہاں دستیاب ہے۔ اس سے مواد کی تلاش و جستجو کا کام بہت کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’کتابیات قرآن‘‘ ادارہ علوم قرآن، علی گڑھ کے رکن جناب پروفیسر ابو سفیان اصلاحی کی کاوش ہے یہ کتاب اردو میں قرآنیات کے موضوع پر شائع ہونے والی کتب کی ایک مستند کتابیات ہے۔ اس کتاب کو ہندو پاک کی مختلف اہم لائبریریوں میں موجود مواد کا جائزہ لے کر موضوعات کے مطابق مرتب کیا ہے۔ ہر موضوع کے ضمن میں مطبوعہ کتب کو حروف تہجی کے اعتبار سے درج کیاگیا ہے۔ (م۔ا)

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1121
  • اس ہفتے کے قارئین 4998
  • اس ماہ کے قارئین 57031
  • کل قارئین49482712

موضوعاتی فہرست