دکھائیں کتب
  • 1 اسلام میں اولاد کے حقوق (اتوار 15 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:3176

    انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔اللہ رب العزت قیامت کےدن اولاد سےوالدین کے متعلق سوال کرنے سےپہلے والدین سےاولاد کےمتعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ شیر خوارگی سے لڑکپن اور جوانی کےمراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار ہوتی ہےاس تربیت کا آغاز والدین کی اپنی ذات سے ہوتاہے۔ اولادکے لیے پاک اور حلال غذا کی فراہمی والدین کے ذمے ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ رزقِ حلال کمائیں۔ والدین جھوٹ بولنے کےعادی ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ والدین کی خرابیاں نہ صرف ظاہری طور پر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ باطنی طور پر یہ خرابیاں اس کے اندر رچ بس جاتی ہیں۔ والدین کےجسم میں گردش کرنے والےخون میں اگر حرام ،جھوٹ، فریب، حسد، اور دوسری خرابیوں کے جراثیم موجود ہیں تویہ جراثیم بچے کوبھی وراثت میں ملیں گے۔ بچوں کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کے حقوق میں...

  • اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام میں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کی تربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی تصنیف کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں شیخ موصوف نے مستقبل کےمعمار امت کی امیدوں کےمرکز اور حسین خوابوں کی تعبیر ،نونہالان ملت کی تعلیم وتربیت کو موضوع بنایا ہے اور اس کی قدر واہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔اور تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی...

  • 3 اسمبلی سے کلاس روم تک (مسلمان بچوں کے صبح و شام) (منگل 26 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2271

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں، الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسمبلی سے کلاس تک" محترم ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئےایک منفرد اور کہانی کے انداز میں بچوں کو مختلف مواقع پر بڑھی جانے والی دعائیں سکھلانے کی ایک عظیم الشان کوشش کی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے معروف عالمی طباعتی ادارے مکتبہ دارالسلام کی طرف سے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے شروع کئے گئے "مسلمان بچوں کے صبح وشام" کے سلسلےکی دوسری کڑی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس...

  • 4 اولاد اور والدین کے حقوق (بدھ 17 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2406

    حقوق العباد میں سے سب سے مقدم حق والدین کا ہے ۔ اور یہ اتنا اہم حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق ِعبادت کے بعد جس حق ذکر کیا ہے وہ والدین کا حق ہے ۔والدین کا حق یہ کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے ان کا مکمل ادب واحترم کیا جائے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت وفرنبرداری کی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ۔ قرآن وحدیث سے یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ والدین سے حسنِ سلوک سے رزق میں فراوانی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے ۔ جب کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا او ران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور بالآخر جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے ساتھ ،والدین سے حسن سلوک نہ کرنے والے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور یہ ناراضگی اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد کردیتی ہے ۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم والدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھیں ۔اس معاملے میں قرآن وسنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس کی روشنی میں اپنے رویوں کودرست اور کردار کی تعمیر کریں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’اولاد اوروالدین کےحقوق ‘‘برصغیر پاک وہند کی عظیم شخصیت نواب صدیق حسن خاں کی تصنیف ہے ۔نواب صاحب نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ اس کتاب میں حقوق العباد میں سے والدین اور اولاد کے حقوق کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ یہ کتاب نوجوانوں کو والدین کی اطاعت اور دینی احکامات سےمتعارف کرانےکے لیے بڑی قیمتی اوراہم ہے ۔ یہ کتاب پہلے اسعاد العباد بحقوق الوالدین والاولاد کے نام شائع ہوئی تھی او ر ک...

  • 5 اولاد کو بگڑنے سے کیسے بچائیں (بدھ 08 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1535

    دینِ اسلام میں بچوں کی تربیت پر بڑا زوردیا گیا ہے چنانچہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سےپہلے بچوں کی صحیح تربیت اور نشوونما کےلیے اپنے اخلاق وعادات کو درست کر کےا ن کےلیے ایک نمونہ بنیں، پھر اس کے بعد ان کےعقائد وافکار اورنظریات کوسنوارنے کےلیے بھر پور محنت کریں اور ان کی اخلاقی اور معاشرتی حالت سدھارنےکے لیے ان کے قول وکردار پر بھر پورنظر رکھیں تاکہ وہ معاشرے کےباصلاحیت اور صالح فرد بن سکیں۔کیونکہ اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو ز...

  • 6 اولاد کی اسلامی تربیت (ہفتہ 04 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:19410

    اولاداللہ عزوجل کی ایک عظیم نعمت ہے ،جس کی اہمیت کااندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں ،جواس سے محروم ہیں ۔اس نعمت کاتقاضایہ ہے کہ اس کاشکراداکیاجائے ،جس کاطریقہ یہ  ہے کہ ان کی صحیح اسلامی تربیت کی جائے اورشریعت کے بتائے اصولوں کےمطابق ان کی پرورش کی جائے ۔بصورت دیگریہ اولادانعام کی بجائے وبال بن جاتی ہے اوراپنے اعمال بدسے والدین کےلیے اذیت وبدنامی کاباعث بنتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف میں صالح اولادکی دعاکرنےکی ترغیب دلائی گئی ہے۔رب ہب لی من الصالحین ۔فی زمانہ اولادکی تربیت کےحوالے سے بہت زیادہ کوتاہی دیکھنے میں آرہی ہے ۔دین واخلاق کادیوالیہ نکل چکاہے ،بچےوالدین کے سامنے غیرشرعی امورومشاغل میں مصروف رہتے ہیں ،لیکن وہ انہیں روکتے ہیں نہ سرزنش کرتے ہیں ،حالانکہ یہ ضروری ہے ،ورنہ وہ بھی شریک گناہ ہوں گے ۔زیرنظرکتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ان اصول وضوابط کی وضاحت کی گئی ہے ،جنہیں تربیت اولادمیں ملحوظ رکھناضروری ہے ۔

     

     

  • 7 اولاد کی تربیت کیسے کریں (اتوار 01 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3531

    جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوشک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ اولاد کی تربیت کیسے کریں‘‘شیخ  محمد بن ابراہیم الحمد کی  تصنیف ہے ۔ جس میں  شیخ نے  جہاں والدین سے اولاد کی تربیت میں سرزد ہونے  والی چند مشہور کوتاہیوں کا تذکرہ  کیا ہے وہاں بچوں کی تربیت  کے کچھ سنہری اصول  بھی ذکر کیے  ہیں ۔اور تربیتِ اطفال میں  جو چیزیں معاون ہیں  ان کا تذکرہ  کرتے ہوئے  چند عظیم ماؤں کا ذکر خیر بھی کیا ہے ۔ مزید برآں اس کتاب میں  بعض ایسی شخصیات کا ذ...

  • 8 بچوں کا احتساب (جمعرات 08 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:14522

    اولاد انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک امانت بھی ہے جس کی کماحقہ حفاظت انسان پر فرض ہے۔اولاد کی تربیت میں اسلامی ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اور اس میں کوتاہی انسان کی پوری زندگی کے لیے وبال بن جاتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے اس موضوع کو کما حقہ ادا کرتے ہوئے بچوں کے احتساب کے نام سے تربیت اولاد کے حوالے سے قیمتی مواد فراہم کیا ہے جس کی روشنی میں کوئی بھی شخص اپنی اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی باتوں کو موضوع بنایا ہے وہ درج ذیل ہیں:1۔کیا بچوں کو نیکی کا حکم دینا شرعا ثابت ہے؟کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  بچوں کو نیکی کا حکم دیا کرتے تھے؟2۔کیا بچوں کو برے کاموں سے روکنا ثابت ہے؟کیا ہمارے نبی محترمصلی اللہ علیہ وسلماور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم بچوں کو غلط کاموں سے روکنے کا اہتمام کیا کرتے تھے؟3۔بچوں کا احتساب کرتے ہوئے کون سے درجات،اسالیب اور وسائل استعمال کیے جائیں؟4۔بچوں کا احتساب کون کرے؟

    کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بات کی وضاحت کے لیے قرآن وسنت کو بنیاد بنایا گیا ہے،احادیث کو اصلی مراجع ومصادر سے نقل کیا گیا ہے،صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کرتے ہوئے علمائے امت کے اقوال کے ساتھ بات کو مزین کیا گیا ہے،اسی طرح بچوں کے احتساب سے متعلقہ قرون اولیٰ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بچوں کے احتساب کے واقعات او راحتساب کے مختلف طریقوں کو بیان کر کے بچوں کے احت...

  • 9 بچوں کی تربیت سے متعلق چالیس احادیث (بدھ 24 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:617

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے  ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ’’ بچوں کی تربیت سے متعلق چالیس احادیث ‘‘ شیخ اسعد اعظمی (استاذ جامعہ سلفیہ ،بنارس) کی کاوش ہے  انہوں نےاس کتابچہ میں  احادیث مبارکہ کے ذخیرے سے ایسی چالیس احایث بحوالہ   جمع کر کے ان کی  مختصر اور عام فہم تشریح پیش کی ہے  جن میں بچوں کی تعلیم وتربیت...

  • 10 بچوں کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں (ہفتہ 09 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2961

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بچوں کی تربیت قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں شیخ مولانا محمد ہود ﷾ نے اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ کےطریقے شریعت اسلامیہ سے دلائل کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ نیز تربیت اولاد میں آج ذرائغ ابلاغ کیا بھیانک کردار ادا کررہے ہیں اس پر بھی تفصیلاً بحث کی ہے۔ مولانا گلزار احمد کےاس کتاب پر مقدمہ ا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1588
  • اس ہفتے کے قارئین: 6838
  • اس ماہ کے قارئین: 34532
  • کل قارئین : 45938644

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں