دکھائیں کتب
  • 251 گالی ایک سنگین جرم ایک خطرناک گناہ (جمعرات 18 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:6080

    آج کے اس پرفتن دور میں اصلاح معاشرہ کے موضوع پر جو کچھ بھی لکھا جائے وہ جہاد سے کم نہیں۔ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر اس قدر دیوالیہ ہو چکا ہے کہ مسجد و محراب سے بھی اخلاق سے عاری گفتگو سننے کو مل رہی ہے ۔ مسلک و فرقہ کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو گالیاں دینا معمول بن چکا ہے ۔ عوام الناس کا یہ حال ہے کہ ان کی گفتگو میں ماں بہن کا نام لے کر ایسی ایسی گالیاں دی جاتی ہیں جن کو سن کر سلیم الطبع آدمی شدید کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ مگر گالیاں دینے والے اور  سننے والے اس سے ذرا بھی بدمزہ نہیں ہوتے ۔ قرآن و سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی اکثریت صرف اپنی زبان کی وجہ سے جہنم میں اوندھے منہ پڑے گی ۔ پھر اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ علم و تحقیق کے موضوع پر بڑے بڑے پچیدہ موضوعات پر کتابیں اور مقالات شائع ہو رہے ہیں ۔ مگر اصلاح معاشرہ کے موضوع پہ نہ تو خطبات سننے کو ملتے ہیں نہ پڑھنے کو کتابیں ۔ زیرنظر کتابچہ اسی سلسلے کی ایک کاوش  ہے جس میں احادیث اور قرآن کی روشنی میں اس  گناہ  کی  قباحت  و شناعت واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالی ہمیں اس لعنت سے بچنے کی توفیق عطافرمائے ۔ اور اس کتابچے کے مصنف مولاناعبدالمنان کو اجر جزیل سے نوازے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 252 گالی گلوچ اور بدزبانی (ہفتہ 09 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:15099

    دین اسلام نے زبان کی حفاظت کا خصوصیت سے حکم جاری فرمایا ہے بلکہ ایک روایت کے مفہوم کے مطابق آپ نے اس شخص کو جنت کی ضمانت دی ہے جو اپنی شرم گاہ اور زبان کی حفاظت فرمائے۔گالی دینے والے دو قسم  کے  ہوتے ہیں ایک وہ جو بات بات پر گالی دیتے ہیں گویا کہ گالی ان کا تکیہ کلام بن چکی ہوتی ہے اور دوسرے وہ لوگ جو کبھی کبھار گالی دیتے ہیں۔ گالی کی یہ دونوں صورتیں شرعا ممنوع ہیں اگرچہ پہلی صورت زیادہ قبیح ہے۔  زیر تبصرہ کتاب میں گالی کی متفرق صورتوں اور ان کے بارے کتاب وسنت کی وعیدوں کو جمع کیا گیا ہے۔ مصنف نے اپنی اس کتاب میں اللہ تعالیٰ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین، والدین،بیوی،غلام وخادم،اہل ایمان،گناہ گار مسلمان،شیطان، معبودان باطلہ، فوت شدگان، مرض،جانوروں، زمانے اور ہوا وغیرہ کو گالی دینے کے بارے قرآن وسنت کی وعیدیں جمع کی ہیں۔ اپنے موضوع پر ایک جامع اصلاحی کتاب ہے اور جو لوگ گالی دینے کی عادت بد میں مبتلا ہوںانہیں خاص طور پر اس کتاب کے مطالعہ کی تلقین کرنی چاہیے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    المسلم من سلم المسلون من لسانہ ویدہ۔
    مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اورزبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
    یہ کتاب اس حدیث پرعمل کرنے کے لیے ایک رہنما کتاب ہے۔
     

  • 253 گفتگو کا سلیقہ (بدھ 15 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:2505

    گفتگو ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں اتر جاتا ہے یا لوگوں کے دل سے اتر جاتاہے۔ دل اور زبان انسانی جسم کے سب سے اہم دو حصے ہیں۔ زبان دل کی ترجمان ہے اس لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ آدمی کی گفتگو ہی اس کاعیب و ہنر ظاہرکرتی ہے۔ گفتگو کرتے وقت زبان سے وہی گفتگو کریں جس کا مقصد خیر ہو، کسی کی غلطی کی اصلاح کرتے وقت حکمت کومد نظر رکھیں، اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں۔ ناحق اور بے جا بحث کرنے سے، حق پر ہونے کے با وجود لڑائی جھگڑے، درمیان میں بات کاٹنے سے، غیبت و چغلخوری اور لگائی بجھائی، جھوٹ او ر خلاف حقیقت کوئی بات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نیز آداب گفتگو میں سے یہ بھی ہےکہ   مخاطب کی بات کو غور سے سنیں اسے بولنے کاموقعہ دیں، درمیان میں اس کی بات نہ کاٹیں اور ادھر ادھر توجہ کرنے کی بجائے اس کی طرف پوری توجہ رکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے گفتگو کے آداب کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تین لوگ ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان میں سے دو آپس میں کھسر پھسر نہ کریں اس سے تیسرے کی دل شکنی ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’گفتگو کا سلیقہ‘‘ پروفیسر امیرالدین مہر کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نے گفتگو کو شیریں، دلپسند اور دلنواز بنانے کے لیے قرآن و حدیث، حکماء علماء کے کلام سے منتخب کردہ شہ پاروں، جامع کلمات کی عبارتوں، حکمتوں، لطیفوں، جملوں فقروں کی روشنی میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب ہرطبقے کے افراد کے باہم گفتگو کرنے، دوسرے کو اپنی بات پر قائل کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کےلیے ایک بہترین ذر...

  • 254 گناہ مٹا دینے والے اعمال (منگل 15 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1314

    انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضر...

  • 255 گناہ چھوڑنے کے انعامات (اتوار 21 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:4738

    انعامات نعمت سے ہے اور نعمت اس کو ملتی ہے جومحنت کرتا ہے،کوئی اچھا کام کرتا ہےکوئی کارنامہ سرانجام دیتا ہے۔کسی کو فائدہ اور نفع پہنچاتا ہے۔کسی کونقصان سےبچاتا ہے یا کسی قسم کی قربانی دیتا ہے۔ یا پھر وہ برے افعال کو ترک کرکے ایک باصلاحیت فائدہ بخش اور نیک فرد بن کر ایک ماڈل ونمونہ بن جاتا ہے۔ پھرمعاشرے میں ہرفرد اس کو عزت وتوقیر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس کےلیے دیدۂ دل اور فراش راہ رکھتا ہے۔ اس کےلیے آنکھیں بچھاتا ہے، اس کی عزت واحترام کرتا ہے۔ اور اس کی زندگی کو اپنےلئے بطورنمونہ وماڈل بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی افراد رہتی دنیا تک کے لیے قابل نمونہ ومثال بن جاتے ہیں۔ اس کےبرعکس گناہوں کا ارتکاب انسان کےلیے باعث ننگ وعار ہوتا ہے اس کی وجہ سے نہ صرف انسان معاشرےمیں اپنی عزت ووقارکھوتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اپنے خاندان اور اقربا واعزا کا بھی وقار ختم کر دیتا ہے۔گناہوں کی کئی ایک قسمیں ہیں۔ بلکہ اگرکہا جائے توبےجانہ ہوگا کہ جس قدر انسانی خواہشات ہیں اسی قدر گناہ ہیں۔کیونکہ ہر خواہش نیکی اور برائی کے دونوں پہلوو رکھتی ہوتی ہے۔ یہ اب انسان پرہی کہ وہ کس طرف چلتاہے۔ زیرنظرکتاب گناہ کے بارےمیں ہمارا شعور بیدارکرنے اور اس سے نفرت دلانے کے جذبے کےتحت لکھی گئی ہے اس میں تقریباً تمام معاشرتی برائیوں کا ذکرکیاگیا ہے۔ (ع۔ح)
     

  • 256 گناہوں سے کیسے بچیں (پیر 09 فروری 2015ء)

    مشاہدات:2655

    اسلام ایک  مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبےمیں مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے ۔  اسلام میں جس طرح مردوں کے لیے تزکیہ وتطہیر کاطریقہ کار دیاگیا  اسی طرح عورتوں کی عفت وعصمت اور پاکدامنی کی طرف بھی توجہ دی گئی ہے ۔ اسلام نے طہارت وپاکیزگی کا ایسا گراں مایہ گوہر عطاء  کیا کہ جس کے باعث اسے قدروقیمت کی نگاہ سےدیکھا جانے لگا۔ اور اسے اخلاقی ودینی اعتبار سے اوجِ ثریا  تک پہنچا دیا  اور گھر کی چار دیواری میں محصور کر کے  ایک انمول موتی اور ہیرا بنادیا ۔ زمانہ جاہلیت کی  طرح آج مغربیت  اور اس کے  دلدادہ افراد عورت کوپھر سے  بازاروں ،چوکوں، چوراہوں،تفریح گاہوں ، فائیوسٹار ہوٹلوں اور  ہواؤں میں اڑا کر شرمناک مناظر دکھانا  چاہتے ہیں ۔اور اس کوانسانیت کے عظیم منصب سےنکال کر حیوانیت کا لبادہ پہنانا چاہتے ہیں ۔تحریک نسوانیت اور تحریک آزادی جیسے  خوشنما اور دل فریب نعروں کے سائے تلے  اسے حیا باختگی اور ایمان سوز مناظر کارسیا بنانا چاہتے ہیں ۔ایسے حالات میں  اسلام کے نظام عفت وعصمت اور پاکیزگی وپاکدامنی کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے  تاکہ بنتِ آدم  قرونِ اولیٰ کی عورتوں کی طرح صاف ستھری اور ایمان کی بلندیوں کو چھونے والی عورت بن سکے ۔ اور ماں بہن ،بیٹی اور بیوی کے مرتبہ عالیہ پر فائز رہتے ہوئے   صالحیت اور نیک نامی سے کنارہ کش نہ ہو۔ زیر نظر کتاب ’’گناہوں سے کیسے بچیں‘‘مولانا محمد ظفیر الدین﷫  کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے  موضوع کے تمام گ...

  • 257 گناہوں کو دھو ڈالنے والے اعمال (منگل 02 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3917

    اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں انسانوں کےلیے اور تمام کائنات کےلیے  اصول وضوابط مقرر کردیئے ہیں۔ دینا میں بھی قرآن حکیم کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق  فیصلہ ہوگا اور آخرت میں بھی انہی اصولوں کو سامنے رکھ کر حساب ہوگا۔ جو ان اصولوں کی پابندی کرے گا۔ بلاشک وشبہ  وہ جنتی ہے اور جو ان کے خلاف ورزی کرے گا اس سے معاملہ سخت ہوگا۔ تمام نسل انسانی کےلیے قرآنی حکیم ایک رول کتاب ہے۔اس کے اصولوں پر چلنا نیکی ہے اور اس کے اصولوں کے خلاف ورزی کرنا بدی ہے۔ نیکی اور بدی اگرچہ ایسا مادی وجود تو نہیں رکھتیں کہ جنہیں آنکھوں سے دیکھا اور ہاتھوں سے چھو کے محسوس کیا جاسکتا ہو۔ ہاں اس کے اثرات کو ضرور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ گناہوں کا انسان سے سرزد ہوجانا کوئی بعید امر نہیں ۔ ہاں رب تعالیٰ نے  نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ ایسے اعمال امت مسلمہ کےلیے بیان فرمادیے ہیں جن میں گناہوں کو دھونے کی مخصوص قوت وتاثیر رکھی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بکھرنے والے ان  خوشبو بھرے پھولوں کو چن کر ایک مہکتا گلدستہ  بنانے کا اس کتاب میں التزام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(ک۔ح)

  • بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں ان اعمال کی تفصیل موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’ گناہوں کو مٹانے اور جنت میں لیجانے والے اعمال و کلمات ‘‘ محترم جناب طلحہ بن خالد، زبیر بن خالد، اور عثمان بن خالد ان تینوں نے مل کر مدون کی ہے ۔۔اس کتاب میں انہوں نے حسن کمال کے ساتھ کتاب وسنت کے بکھرے ہوئے حسین وجمیل پھولوں کو چن کر ایک شاندار گلدستہ مرتب کردیا ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں فاضل مصنف نے بے شمار ایسے اعمال پیش کیے ہیں کہ جن کرنے سےانسان سے سرزد ہونے والے گناہ معاف ہوجاتے اور جنت کے حق دار بن جاتے ہیں۔ مزید اس کتاب میں قرآنی دعائیں بھی مدون کی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اسے عوام الناس کے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (رفیق الرحمن)

  • 259 گناہوں کی دلدل میں (منگل 17 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1785

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک   کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں ۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جات...

  • 260 گناہوں کی معافی کے 10 اسباب (جمعہ 15 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2809

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ اللہ تعا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1605
  • اس ہفتے کے قارئین: 15033
  • اس ماہ کے قارئین: 29854
  • کل قارئین : 46429043

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں