کل کتب 187

دکھائیں
کتب
  • 171 #4732.01

    مصنف : عبد الرب گونڈوی

    مشاہدات : 4435

    مواعظ حسنہ حصہ دوم

    (جمعہ 22 جولائی 2016ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام، مؤناتھ بھنجن، یو پی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مواعظ حسنہ‘‘ مولانا عبد الرب گونڈوی﷾ ضلع گونڈہ ،بھارت کے خطبات وتقاریر کا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ ان تین جلدوں میں فاضل مصنف نے بیسیوں عنوانات پر قرآن وحدیث کی روشنی میں علمی مواد جمع کردیا ہے۔ مواعظ حسنہ کا یہ مجموعہ طلباء، خطباء ائمہ مساجد اور مبلغین کے لیے بہت کارآمد اورمفید ہے۔ فاضل مصنف انڈیا کے ایک جید عالم دین کے صاحبزادے ہیں اور خود بھی ایک ابھرتے ہونہار خطیب ہیں۔ آپ کا طرز خطابت منفرد اور جدگانہ ہے آپ کی تقریر انتہائی مربوط ہوتی ہے زبان عام فہم ، سلیس اور اندازِ بیان بہت دلکش ہے۔ نیزاس کتاب کے علاوہ بھی متعد د کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • 172 #4732.02

    مصنف : عبد الرب گونڈوی

    مشاہدات : 3438

    مواعظ حسنہ حصہ سوم

    (ہفتہ 23 جولائی 2016ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام، مؤناتھ بھنجن، یو پی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مواعظ حسنہ‘‘ مولانا عبد الرب گونڈوی﷾ ضلع گونڈہ ،بھارت کے خطبات وتقاریر کا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ ان تین جلدوں میں فاضل مصنف نے بیسیوں عنوانات پر قرآن وحدیث کی روشنی میں علمی مواد جمع کردیا ہے۔ مواعظ حسنہ کا یہ مجموعہ طلباء، خطباء ائمہ مساجد اور مبلغین کے لیے بہت کارآمد اورمفید ہے۔ فاضل مصنف انڈیا کے ایک جید عالم دین کے صاحبزادے ہیں اور خود بھی ایک ابھرتے ہونہار خطیب ہیں۔ آپ کا طرز خطابت منفرد اور جدگانہ ہے آپ کی تقریر انتہائی مربوط ہوتی ہے زبان عام فہم ، سلیس اور اندازِ بیان بہت دلکش ہے۔ نیزاس کتاب کے علاوہ بھی متعد د کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • 173 #4929

    مصنف : عطا اللہ طارق

    مشاہدات : 2029

    مواعظ طارق جلد اول و دوم

    dsa (منگل 29 نومبر 2016ء) ناشر : مکتبہ اصحاب الحدیث لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے، جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات  کودوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے۔ اور اگرخطابت کے انہی شہہ پاروں کو تحریری شکل دے کر شائع کردیاجائے تو  یہ ایک گراں قدر خدمت ہے۔ زیرتبصرہ کتاب" مواعظ طارق" محترم مولانا عطاء اللہ طارق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے خطباء اور واعظین کے لئے ایک گرانقدر ذخیرہ جمع فرما دیا ہے۔ یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے اور خطباء وواعظین میں بہت معروف ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 174 #7024

    مصنف : ڈاکٹر ریحانہ ضیا صدیقی

    مشاہدات : 2031

    مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

    (اتوار 28 جولائی 2019ء) ناشر : الندوہ ٹرسٹ لائبریری چھتر اسلام آباد

    مولانا اشرف علی تھانوی ﷫ تھانہ بھون ضلع اترپردیش  میں 1863ء کوپیداہوئے   ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں آپ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً19سال تھی زمانہ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں جابیٹھتے۔ تکمیل تعلیم کے بعد والد اور اساتذہ کرام کی اجازت سے آپ کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ فیض عام میں پڑھانا شروع کر دیا چودہ سال تک وہاں پرفیض کو عام کرتے رہے،1315ھ میں کانپور چھوڑکر آپ آبائی وطن تھانہ بھون تشریف لائے اور یہاں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو نئے سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس،تزکیہ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔تدریس کے علاوہ آپ  نے بیسیوں کتب  تصنیف کیں۔ آپ کی تصانیف اور رسائل کی تعداد 800 تک ہے۔آپ کی اہم تصانیف میں  تفسیر بیان القرآن  یہ تقریباً چھ سال کی مدت میں مکمل ہوئی اور پہلی بار 1326ھ میں "اشرف المطابع" تھانہ بھون سے طبع ہوئی،اس میں سلیس بامحاورہ ترجمہ، تفسیر میں روایات صحیحہ اور اکابر کے اقوال کا التزام کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’ مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کا تحقیقی وتنقیدی مطالعہ ‘‘ ڈاکٹر ریحانہ ضیاء صدیقی  کے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت  ہے جیسے انہوں نے 1991ء میں   علی گڑھ یونیورسٹی میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی  بعد ازاں اس تحقیقی مقالہ کو کتابی میں شائع کردیاگیا۔مقالہ نگار نے   اس مقالے میں  مولانا اشرف علی تھانوی نے جس مقصد اور ضرورت کے تحت تفسیر بیان  القرآن  لکھی تھی اسے  پوری طرح مثالوں کےساتھ واضح کرنے کی  کوشش کے ساتھ ساتھ  تفسیر کے تحقیقی مطالعہ کی روشنی میں چنددیگر تراجم وتفاسیر کا ذکرکرتے ہوئے تفسیر کی فقہی :عقلی،کلامی حیثیت کو واضح کیا ہے  اور اردوترجمہ ،ربط آیات کے حوالوں سے مثالیں بھی پیش کی ہیں ۔نیز مولانا تھانوی کی تفسیر کا امتیاز دیگر تراجم  اور تفاسیر کے موازنہ کےساتھ  مکمل ایک باب میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 175 #6140

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 4017

    مکالمہ جلد۔1

    (ہفتہ 23 ستمبر 2017ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی، لاہور

    راقم کی یہ کوشش رہی ہے کہ روزانہ فیس پر کسی علمی، تحقیقی اور فکری مسئلے میں کوئی مختصر تحریر شیئر کر دی جائے۔ اس طرح تین سال کے عرصے میں کافی ساری تحریریں جمع ہو گئیں کہ جن میں سے اکثر تحریریں مختلف دوستوں کے سوالات کے جوابات میں تھیں۔ ان میں سے اکثر موضوعات اس قابل تھے کہ انہیں کتابی صورت دی جاتی تو ان تحریروں میں سے منتخب تحریروں کی تہذیب وتنقیح کے بعد انہیں “مکالمہ” کے عنوان سے ایک کتاب کی صورت میں جمع کیا گیا ہے۔ بعض دوستوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ میری فیس بک تحریریں کاپی کر کے اپنے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ وغیرہ میں محفوظ کر لیتے ہیں کہ وہ انہیں اچھی لگتی ہیں اور وہ دوسروں کو بھی فارورڈ کرتے رہتے ہیں۔ تو اس سے یہ احساس پیدا ہوا کہ خود سے ہی ان تحریروں کو جمع کر کے ایک کتابی صورت دے دی جائے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ بعض ویب سائیٹس مثلاً “دلیل” وغیرہ پر بعض تحریریں کالموں کی صورت میں جب شائع ہوئیں تو بعض کالموں کے ویورز کی تعداد پچاس ہزار کو بھی پہنچ گئی اور ان کو شیئر کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو گئی۔ تو اس سے بھی توجہ ہوئی کہ کچھ تحریروں میں جان ہے اور موضوع بھی اہم اور وقت کی ضرورت ہے لہذا انہیں شائع ہو جانا چاہیے۔ پس اسی پس منظر میں یہ تحریریں کتابی صورت میں جمع کی گئی ہیں کہ شاید اس سے اس احساس کو بھی تقویت ملے کہ فیس بک پر سب فضول کام نہیں ہو رہا، یا صرف وقت ہی ضائع نہیں ہو رہا بلکہ کچھ نہ کچھ کام کی بات بھی ہو رہی ہے۔ یہ کتاب دراصل مدارس سے فارغ التحصیل نوجوان محققین کے لیے مرتب کی گئی ہے اور اس کا مقصد مکالمہ کے اصول سکھلانا ہے کہ استدلال کیسے کرنا ہے؟ جن محققین کو اس کتاب میں پیش کیے گئے نتائج فکر وتحقیق سے اتفاق ہو توان کے لیے تو یہ مفید ہے ہی لیکن جنہیں نتائج سے اتفاق نہ بھی ہو تو اگر وہ ذہین ہوئے تو اس کتاب کے مطالعے سے ان میں استدلال کرنے کی صلاحیت پروان چڑھے گی جیسا کہ ابن رشد کی کتاب "بداية المجتهد" کا مقصد بھی ہے لیکن وہ فقہی کتاب ہے جبکہ یہ فکری تصنیف ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ درس نظامی کے علوم وفنون کا، استدلال واستنباط میں استعمال، نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ منطق کے حفاظ بھی روز مرہ مکالمے میں اس کے استعمال اور تطبیق کی تربیت نہیں رکھتے ہیں۔ تو اس کتاب کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ روایتی علوم وفنون کی بنیادی مصطلحات اور ان کی تطبیق کی روشنی میں اپنے موقف کو ثابت کرنے کی تربیت پائی جائے۔ اب میرے خیال میں، میں اپنی کتاب کی کافی تعریفیں کر چکا ہوں اور آپ میں بھی اس کے پڑھنے کا اشتیاق بیدار ہو چکا ہو گا لہذا اتنا تعارف ہی کافی ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں اور 17 ابواب پر مشتمل ہے اور فی الحال اس کی پہلی جلد پیش خدمت ہے۔

  • 176 #5659

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 3777

    میزان الخطیب

    (بدھ 09 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب( خوشبوئے خطابت منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب ، مصباح الخطیب ، حصن الخطیب ، بستان الخطیب،معراج الخطیب ، میزان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’میزان الخطیب ‘‘ وطن عزیز پاکستان کے مشہور ومعروف ہر دلعزیز خطیب مولانا عبد المنان راسخ ﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کے تحریر کردہ پندرہ علمی واصلاحی مضامین کا حسین گلدستہ ہے ۔ان مضامین میں اللہ کے معاملے میں غیرت، رسو ل اللہ ﷺ کے معاملے میں غیرت ، آوارہ نظر کی تباہ کاریاں، کامیابی کا راز ،ایمان کی مٹھاس کیسے ملتی ہے ؟، رمضان ایسا کہ روزہ نہ لگے ،جنتی دروازے ،مومن جنت کے دروازوں پر ،خوشبوئے جنت کسے ملے گی؟ جنت تو درکنار خوشبو تک نہ ملے گی؟ کسی کا حق مارنا بربادی ہی بربادی ، بہتر کی تلاش، علماء طلباء اور مدارس کی شان، خطبہ عید ا لفطر ، خطبہ عید الاضحیٰ جیسے عنوانات شامل ہیں کتاب ہذا کے مصنف مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور میں تدریس کے ساتھ ساتھ مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے مدرس ، خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہیں ۔ جن میں سے آٹھ کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب، بستان الخطیب ، مصباح الخطیب، معراج الخطیب، میزان الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ( آمین) (م۔ا)

  • 177 #2454

    مصنف : ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

    مشاہدات : 3565

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدالتی فیصلے ( مقالہ )

    (بدھ 24 ستمبر 2014ء) ناشر : شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام ﷢کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   اہم  کتاب امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘ ہے  ۔ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس  کتاب کی تحقیق پر پی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ادارہ معارف اسلامی ،لاہور نے اسکا  اردو ترجمہ کرواکر شائع کیا۔اورپندرہ سال قبل حافظ  عبد الرحمن مدنی ﷾ نےمجلس التحقیق الاسلامی،لاہور  کے تحت الموسوعۃ القضائیۃ (اسلامی عدالتوں کے فیصلوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا)  کے سلسلے میں  کام کا آغازکیاجوکہ ابھی جاری ہے ۔اور  چند سال  قبل  شیخ ڈاکٹرارکی  نور محمد  نے  صحابہ کرام ﷢ کے  کتب ِحدیث وفقہ اورکتب سیر وتاریخ  میں  منتشر  اور  بکھرے  ہوئے فیصلہ جات کو   ’’اقضیۃ الخلفاء الراشدین ‘‘کے  نام سے جمع کرکے  جامعہ اسلامیہ ،مدینہ منور ہ  سے پی ایچ ڈی کی ڈگری  حاصل  کی ۔ اشاعت کتب کے عالمی ادارے دارالسلام نے نےاسے  دو جلدوں میں شائع کیا ۔زیر نظرمقالہ ’’نبی کریم  ﷺ عدالتی فیصلے ‘‘ڈاکٹر حافظ حسن  مدنی ﷾(مدیر  ماہنامہ محدث،لاہور)  کا در اصل وہ  تحقیقی مقالہ ہے جسے  انہوں نے   پنجاب یونیورسٹی میں  پی ایچ ڈی  کے لیے پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری  حاصل کی ۔موصوف نے اس مقالہ میں  986 فیصلوں کو مستند ذرائع سےجمع کر کے  جدید قانونی ترتیب کے مطابق  اس  طر ح پیش کیا  کہ  موصوف  کے  اس  کا  م کو اس موضوع  پر کئے گئے  تمام تحقیقی کاموں میں   انفرادی اور امتیازی حیثیت حاصل ہے۔اوراس مقالہ میں ایک اہم پہلو  یہ ہے کہ  موصوف  نے  اپنے  مقالہ کو  یونیورسٹی میں  پیش کرتے وقت  فیصلوں کی  کمپیوٹرائزیشن   کی  اور ایک  ایسا   سوفٹ  وئیر  تیار کیا   جو  نہ صرف سی ڈی  بلکہ انٹرنیٹ پر بھی  آن لائن کام کرسکتا ہے۔اس سافٹ وئیر میں  موضوع  کے اعتبار سے  نمبر کے  لحاظ سے یا کسی بھی لفظ کے ذریعے  مطلوبہ  مقام تک رسائی  ہوسکتی ہے اور کسی بھی فیصلے کوتلاش کرکے  اس کو پرنٹ کیا  جاسکتا ہے۔ مقالہ نگار  ڈاکٹر حافظ حسن  مدنی ﷾ محتر  م  جناب  ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ (مدیر اعلی ماہنامہ محدث ، بانی و مدیر  جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور )کے صاحبزادے  ہیں۔ موصوف   ڈاکٹر  حسن مدنی  صاحب تکمیل حفظ کے بعد  درس نظامی کے لیے  جامعہ لاہور میں داخل  ہوئے۔درس نظامی کے ساتھ  ساتھ عصری تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ 1992ء میں جامعہ لاہورالاسلامیہ  سے  فراغت  کے بعد   جامعہ تدریس  اور مجلس التحقیق الاسلامی اور ماہنامہ  محدث سے منسلق ہوگے ۔کئی  سال مجلس التحقیق اسلامی  کے ناظم کی حیثیت سے  اپنے  فرائض انجام دیتے رہے اس  دوران انہوں نے   تقریبا ایک درجن کتب  شائع کیں۔جن کو اہل علم او ر  عوام الناس میں  قبولِ عام حاصل  ہوا ۔اس  کے ساتھ ساتھ  آپ  طلباء جامعہ  کے لیے  قائم  کے گے ’’لاہورانسٹی ٹیوٹ فار کمپیوٹر سائنسز‘‘کے  پرنسپل  بھی رہے۔اس کے علاوہ آپ نے  جامعہ سے   فراغت کے بعد   ماہنامہ محدث میں   معاون مدیرِ محدث   کے   طور  پر کام کا آغاز کیا  اور فروری 2001 سے  بطور مدیر  محدث  خدمات سرانجام دے رے ہیں ۔اور تقربیا  8سال سے  جامعہ لاہور الاسلامیہ(رحمانیہ) کے  مدیر التعلیم اور اس  کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں علوم اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی دینی  وتحقیقی صحافی خدمات کے  اعتراف میں انہیں کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے 'دار السلام انٹرنیشنل' کے زیر اہتمام قائم ہونے والی اہل علم وقلم کی تنظیم 'اہل حدیث رائٹرز فورم' کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ آپ  نے  اپنی ادارت میں ماہنامہ محدث کے خاص نمبرز( فتنہ انکار حدیث نمبر،اصلاحی نظریات پر اشاعت خاص ، تصویر نمبر، امامت  زن نمبر،اشاعت  خاص مسئلہ توہین رسالت ،تہذیب وثقافت پر خصوصی اشاعت ،تحریک  نسواں پر اشاعت خاص،اشاعت خاص بر المیہ سوات وغیرہ  )  کے  علاوہ  پر ویزیت  اور غامدیت  کے رد   میں  قیمتی مضامین شائع کیے  اور کئی کرنٹ موضوعات  پر    آپ نے  بڑے ہی  اہم   اداریے  اور مضامین تحریر کیے   بالخصوص  مشرف  دور  میں   حدودآرڈیننس  اور حقوق نسواں بل پر آپ  کی  تحریری  کاوشیں انتہائی لائق تحسین ہیں۔اور آپ دینی  مدارس کی تعلیم  وترقی  کے حوالے سے  بڑے فکر مند  ہیں اس حوالے   آپ کئی مقالات لکھ چکے  ہیں۔  ماہنامہ محدث کے معروف کالم نگار  محترم عطاء اللہ صدیقی﷫ سے    قیمتی مضمون لکھوا کر شائع کرنا بھی آپ ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔اور موصوف کئی   قومی وبین الاقوامی کانفرنسز میں  مختلف موضوعات پر تحقیقی  مقالات بھی  پیش کرچکے  ہیں ۔اللہ تعالیٰ موصو ف   کےعلم وعمل ان کی دینی وتعلیمی  اور صحافتی خدمات میں اضافہ فرمائے ۔ اور محدث کی 45 سالہ   علمی وتحقیقی  روایت  کو تسلسل  کے ساتھ باقی رکھنے کی توفیق  عنائت فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 178 #1122

    مصنف : عرفان صدیقی

    مشاہدات : 20125

    نقش خیال

    (ہفتہ 15 اکتوبر 2011ء) ناشر : خزینہ علم وادب لاہور

    محترم عرفان صدیقی کا شمار پاکستان کے ان نامور کالم نگاروں میں ہوتا ہے جن کا کالم مذہبی، سیاسی اور علمی حلقوں میں یکساں مقبولیت رکھتا ہے۔ وہ جب کاغذ پر قلم رکھتے ہیں تو موج دریا ٹھہر سی جاتی ہے اور الفاظ دست بستہ ان کی خدمت میں حاضر نظر آتے ہیں۔ ان کا کالم جہاں معلومات کا بحر بے کنار ہوتا ہے وہیں ادب کی چاشنی بھی لیے ہوتا ہے۔ 2001ء وہ خون آشام سال تھا جس میں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے امریکہ کی ایک دھمکی پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کا پیمان کر لیا۔ اس کے بعد افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ سب کچھ اس کتاب میں رقم کر دیا گیا ہے۔ ’نقش خیال‘ در اصل ان کالموں کا مجموعہ ہے جو طالبان، افغانستان اور امریکی یلغار کے تناظر میں لکھے گئے اور روزنامہ ’نوائے وقت‘ میں شائع ہوتے رہے۔ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت سے شبہات پائے جاتے ہیں اس کتاب کے مطالعے کے بعد افغانستان کی شفاف تصویر سامنے آ جائے گی۔ عرفان صدیقی صاحب کے کالم کی پسندیدگی کی ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے کالم کے معیار کو مستقلاً برقرار رکھا اور اس کی دلکشی میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ انھوں نے کالم میں شعر و ادب کی چاشنی کو زندہ کیا اور نہایت پر کشش اسلوب اختیار کیا۔(ع۔م)
     

  • 179 #4608

    مصنف : عبد المجید سوہدروی

    مشاہدات : 2069

    نقوش ابو الکلام و مقالات آزاد

    (ہفتہ 16 جولائی 2016ء) ناشر : مسلم پبلیکیشنز لاہور

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔آپ ایک سنی المسلک انسان تھے ۔آپ کا قادیانیت یا مرزائیت سے کوئی تعلق نہ تھا۔لیکن اس کا باوجود بعض لوگوں نے آپ پر مرزا قادیانی کا جنازہ پڑھنے کا بہتان لگا کر آپ کو قادیانیت کی طرف میلان رکھنے والا ظاہر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نقوش ابو الکلام ومقالات آزاد "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مولانا عبد المجید سوہدروی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  مولانا آزاد کے مسلک اور عقیدے پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • 180 #1308

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 20983

    نگارشات - جلد1

    dsa (بدھ 23 مئی 2012ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    حضرت مولانا اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کثرت مشاغل کے سبب بہت تھوڑا لکھ سکے لیکن جتنا لکھا ہزاروں صفحات پر بھاری تھا کہ ہر قدر شناس نے اس کا خیر مقدم کیا اور ان کی تحریرات کو سلفی منہج و فکر کے احیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ قرار دیا گیا۔ زیر نظر مجموعہ میں حضرت سلفی کی تمام مطبوعہ منتشر تحریرات جمع کی گئی ہیں، جس میں ان کے تحریرفرمودہ کتب و رسائل، مضامین و مقالات، فتاویٰ، مکاتیب، مقدمات اور تعلیقات و حواشی شامل ہیں۔ ان مضامین میں جماعت اہل حدیث کی تاریخی خدمات کا بخوبی تجزیہ و تعارف کرایا گیا ہے اور مختلف حوادث و واقعات کے تناظر میں اس طائفہ کی کثیر الجہت جہود و مساعی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ سلفی فکر اور منہج اہل حدیث کو ایک دلنشیں اسلوب میں متعارف کرایا گیا ہے۔ مختلف گروہوں کی جانب اس گروہ پر لگائے جانے والے الزامات کی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ اس مجموعہ میں 40 نگارشات شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ عربی میں شائع ہوئے تھے جن کو اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ (ع۔م)
     

< 1 2 ... 11 12 13 14 15 16 17 18 19 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1321
  • اس ہفتے کے قارئین 14960
  • اس ماہ کے قارئین 53354
  • کل قارئین49438165

موضوعاتی فہرست