دکھائیں کتب
  • 41 تفسیر مطالب الفرقان کا علمی و تحقیقی جائزہ ۔ جلد 1 (جمعرات 01 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:14045

    امت مسلمہ کے عقائد ونظریات ،عبادات ومعاملات او رجملہ معمولات زندگی کا مآخذ حقیقی اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس بات پر امت کا ہمیشہ اجماع رہا ہے کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح واجب الاتباع ہے جس طرح  قرآن ۔سنت کاانکار حقیقت میں قرآن کاانکار ہے۔امت مسلمہ کی چودہ سوسالہ تاریخ میں بہت سے فتنوں نے سراٹھایا جھوٹے مدعیان نبوت بھی پیدا ہوئے اور منکرین حدیث بھی وقتا فوقتا سراٹھاتے رہے فتنہ انکار حدیث میں سے ایک فتنہ غلام احمد پرویز کا ہے جس نے انکار حدیث کا اعلان کیا اور قرآن کو اپنے من مانے معنی ومفہوم میں ڈھالنے کے لیےاپنا اصلی چہرہ دکھایا توامت کے اہل علم اس کی حقیقت کو جاننے کے بعد اس فتنہ کو دبانے کے پے درپے ہوئے۔فتنہ انکار حدیث کے مقابلے پر سب سےاچھی دستاویز مولانا سیدابو الاعلی مودودی کی کتاب ’’سنت کی آئینی حیثیت ‘‘کے نام سے 1963 ء میں منظر عام پرآئی اس کتاب  کی جامعیت کے  باوجود اس بات کی ضرورت تھی کہ پرویزی افکار کےتاروپود بکھیرنے کےلیے غلام احمد پرویز کی شخصیت او رلٹریچر بالخصوص تحریفات قرآن کا بے لاگ محاکمہ کیا جائے چنانچہ پروفیسر محمد دین قاسمی نے پرویزی فکر کے مقابلے میں قلم اٹھایا اور دلائل وبراہین اور ثبوت وسند کے ساتھ ثابت کیا کہ یہ دین حق کے خلاف ایک بہت خطرناک او رگہری سازش ہے جسے شیطان نے اپنی کمین گاہ بنا رکھا ہے یہ مقالہ غلام احمد پرویز کی نام نہاد تفیسر قرآن ’’مطالب الفرقان‘‘کا محاکمہ کرنے کےلیے لکھا گیا ہے ۔جوہر صاحب علم کےلیے دور جدید کے اس فتنے کو سمجھنے او رآ...

  • 42 تفہیم الفقہ (بدھ 25 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2667

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " تفہیم الفقہ" ایم اے اسلامیات کے طلباء کے لئے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے۔جومحترم تنویر بخاری صاحب، پروفیسر عین الحق صاحب اور پروفیسر واحد بخش سعیدی صاحب کی مشترکہ کاوش ہے۔اس کتاب کے دو حصے ہیں۔جن میں سے پہلے حصے میں اصول شاشی جبکہ دوسرے حصے میں امام ابن رشد کی بدایۃ المجتہد کے بعض متعین ابواب کا ترجمہ پیش کیا گیاہے۔ ایم اے کے نصاب  میں شامل ہونے کی وجہ سے اس کتاب کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء  اس سے استفاد...

  • 43 تکفیر، اسباب، علامات اور حکم (جمعہ 05 اگست 2016ء)

    مشاہدات:1343

    متوازن فکر اور معتدل سوچ اور پھر ان کے مطابق رویہ بنانا انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ معتدل سوچ اور معتدل رویہ انسان کے لیے کامیابی کی دلیل ہوتی ہے اور ضمانت بھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انساان بلاوجہ لوگوں کی دل آزاری اور فکری و ذہنی انتشار کا سبب نہیں بنتا ہے اور نئی الجھنیں اور پریشانیاں نہیں لاتا ہے۔ عدم توازان کی ایک نہایت سطحی شکل یہ ہے اور وہ بھی فساد عام کا نتیجہ ہے کہ انسان دین کے نام پر کسی معمولی سی بات کو اساسی اور اصولی مسئلہ بنا دے، یا ایک مباح شے کو عین اسلام یا عین کفر بتانا شروع کردے۔باہمی نزاعات کو عین دین بتانا شروع کردے، کفر سازی اور فتنہ سازی کو مہم جوئی بنا ڈالے۔ علم کی بو بھی سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن علّامہ بننے کی کوشش کرے۔ دعوت و افتاء کا کاروبار کرنے لگے اور اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر لوگ اچھلنا شروع کردیں۔بے اعتدالی کی یہ ساری شکلیں اس وقت علمی و دعوتی دائرے میں نظر آتی ہیں اور ان پر اتنا اصرار ہے کہ خارجیت شاداب ہورہی ہے اور اس کے علائم صاف نظر آرہے ہیں۔عالم اسلام ان دنوں بڑی ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے ۔ قدم قدم پہ مسائل کا انبار اور  خارجی سازشوں سے لے کر داخلی پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دراز ہوتا جاتا  ہے ۔ یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی ...

  • جدید دور اگر ایک طرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز بلکہ ہوش رب ترقیوں سے عبارت ہے تو دوسری طرف ذہنی نراج اور جذباتی بے اطمینانی سے۔ مادی ترقیوں نے انسان کی روحانی تسکین کے سامان بہم نہیں پہنچائے ہیں، بلکہ اسے ایک نئے خلفشار سے دو چار کر دیا ہے۔ ہماری دنیا ایک گلوبل ویلیج تو بن گئی ہے لیکن اس کا ہر گھر‘ بلکہ ہر فرد بجائے خود ایک دنیا بنتا جا رہا ہے۔ انسانی رشتے معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ محض مادی مفادات کے رشتے رہ گئے ہیں۔یہ تمام انسانوں کے لیے عام طورپر اور مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں اس بحران کا جائزہ لیا گیا ہے اور مختلف مکاتیب فکر کی آراء اجمالا پیش کرنے کے بعد فاضل مصنفہ نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے جو اسلام کی آفاقی اقدار پر مبنی ہے۔ یہ کتاب پیش پا افتادہ مسائل سے متعلق اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے اور قارئین کے لیے ایک خاصے کی چیز ہے اور مصنفہ نے ایسے مضامین پر قلم اُٹھایا ہے جن سے اردو دان قارئین کم واقف ہیں یا ناواقف ہیں اور اس کتاب میں جدیدیت جیسے اہم مضمون کی تفصیلی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ تہذیب کے اس پار ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ فرید کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمی...

  • 45 جدید تحریک نسواں اور اسلام (اتوار 15 مئی 2011ء)

    مشاہدات:11190

    عورت چھپانے کی چیز ہے سو عورت پردہ اور گھر کی چار دیواری تک محصور ہو گی تو اس کی عزت و آبرو محفوظ ،معیار ووقار برقرار رہے گا اور دنیا میں معزز اور   آخرت میں محترم ٹھہرے گی۔کتاب وسنت کے بے شمار دلائل عورتوں کو گھروں میں ٹکے رہنے ،اجنبی مردوں سے عدم  اختلاط اور غیر محرموں سے پردہ و حجاب کی پر زور تاکید کرتے ہیں اور جاہلی بناؤ وسنگھار ،بے حجابی و بے پردگی اور مخلوط مجالس کی سخت ممانعت کرتے ہیں ۔نیز فحاشی و عریانی ،بے حیائی و بے پردگی،بدکاری و زنا کاری اور بے حیائی و بے غیرتی کے خفیہ و علانیہ جتنے بھی چور دروازے ہیں اسلام نے یہ تمام راستے مسدود کردیے ہیں ۔
    اللہ تبارک اسمہ وتعالی ٰ انسانوں کو با عزت و باوقار دیکھنا پسند کرتے ہیں۔اس لیے محرم و غیر محرم رشتہ داروں کی تقسیم ،اجنبی مردوں سے عدم اختلاط ،بامر مجبوری غیر محرم مردوں سے درشت لہجے میں گفتگو اور چار دیواری کا حصارعورت کی عصمت و ناموس کی حفاظت کے  مضبوط حفاظتی حصار  مقرر کیے ہیں ۔ان پر عمل پیرا ہو کر عورت پرسکون و پرکشش زندگی گزار سکتی ہے۔لیکن یہ عظیم سانحہ ہے کہ اسلامی معیار ی تعلیمات کو قدامت پسندی اور فرسودہ تہذیب کا نام دیکر اور آزادی نسواں  کے پرکشش اور رنگین نعرے کی آڑ میں عورتوں  کو گھروں سے نکالنے ،مخلوط تقاریب و مجالس میں لتاڑنے ،مساوات مردوزن کی آڑ میں پردہ نشینوں کو ملازمتوں  میں دھکیلنے اور آئیڈیل کی تلاش میں عورت کو بے توقیر و غیر معیاری کرنے کی مغربی مہم نے اہل  اسلام سے دینی روحانیت ،مذہبی غیرت اور ملی حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔پھر اس ننگی مغربی ثقافتی یلغا...

  • گذشتہ دو صدیوں میں امت مسلمہ کو فکر واعتقاد، تہذیب، سیاست ومعیشت اور تمدن ومعاشرت کی سطح پر سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ مغرب کا عالم انسانیت پر ہمہ جہتی غلبہ واستیلا ہے۔ ان دو صدیوں میں مسلمانوں کی بہترین فکری اور عملی کوششیں اسی مسئلے کے گرد گھومتی ہیں اور ان تمام تر مساعی کا نکتہ ارتکاز یہی ہے کہ اس صورت حال کے حوالے سے کیا زاویہ نظر متعین اور کس قسم کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔مغرب کا یہ غلبہ محض سیاسی وعسکری نہیں، بلکہ معاشی واقتصادی بھی ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ وہ ایک بالکل مختلف فلسفہ حیات اور معاشرتی اقدار کے ساتھ پوری انسانی معاشرت کی تشکیل بھی نئے خطوط پر کرنا چاہتا ہے۔  زیر تبصرہ کتاب ’’جدید مغربی مفکرین مع حل شدہ پرچہ جات ‘‘ نعیم سلہری اور سیدہ کنیز نرجس زہرہ کی مشترکہ کاو ش ہے ۔یہ ایم اے لیول کی نصابی کتاب ہے ۔ جو کہ اس موضوع کے متعلق

  • 47 حرمت مسلم اور مسئلہ تکفیر (پیر 24 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1731

    اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔ کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی  ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب" حرمت مسلم اور مسئلہ تکفیر "معروف داعی محترم مولانا محمد یوسف ربانی صاحب کی تصنیف ہے، جس کی نظر ثانی محترم مولانا مبشر احمد ربانی صاحب نے کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں قرآن وسنت کی روشنی میں حرمت خون مسلم کی عظمت اور فتنہ تکفیر کی سنگینی اور نقصانات کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور تمام مسلما...

  • 48 حقوق نسواں بارے اشکالات (ہفتہ 06 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:910

    اللہ  تعالیٰ نے  عورت کو معظم بنایا لیکن  قدیم جاہلیت نے عورت کو جس پستی   کے گھڑے میں  پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ایک طرف قدیم جاہلیت نے اسے زندگی  کے حق سے محروم کیا تو جدید جاہلیت  نے اسے زندگی کے ہر میدان میں دوش بدوش چلنے کی ترغیب دی  اور  اسے گھر کی چار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنادیا ۔ جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا  اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے  مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں  پھینک دی گئی اور  عورت اپنی عزت ووقار کھو بیٹھی آزادی کے نام پر غلامی  کا شکار ہوگئی۔ ۔ لیکن جب اسلام کا ابرِ رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔
    زیر تبصرہ کتاب’’ حقوق نسواں کے بارے اشکالات اور قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا جائزہ ‘‘ فضیلۃ الشیخ  ڈاکٹر عبد اللہ بن حمد الجلالی کی تصنیف ہے ۔حافظ صاحب  نےاس کتاب میں اسلام کے عورت کے لیے متعین  حقوق کے موضوع پر  بہت اعلیٰ  تحقیق پیش کی ہے  اور حقوق نسواں کے حوالے سے پیش آمدہ  اشکالات کے ایک ایک پہلو پر دلائل وبراہین سے مزین سیر حاصل اور تشفی بخش بحث کی ہے ۔ اس کتاب کامطالعہ مرد وعورت دونوں کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ ہرایک اپنے ذمے واجب حقوق کی ادائیگی میں کسی طرح کے پس وپی...

  • 49 خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ (بدھ 06 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2599

    متوازن فکر اور معتدل سوچ اور پھر ان کے مطابق رویہ بنانا انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ معتدل سوچ اور معتدل رویہ انسان کے لیے کامیابی کی دلیل ہوتی ہے اور ضمانت بھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انساان بلاوجہ لوگوں کی دل آزاری اور فکری و ذہنی انتشار کا سبب نہیں بنتا ہے اور نئی الجھنیں اور پریشانیاں نہیں لاتا ہے۔ عدم توازان کی ایک نہایت سطحی شکل یہ ہے اور وہ بھی فساد عام کا نتیجہ ہے کہ انسان دین کے نام پر کسی معمولی سی بات کو اساسی اور اصولی مسئلہ بنا دے، یا ایک مباح شے کو عین اسلام یا عین کفر بتانا شروع کردے۔باہمی نزاعات کو عین دین بتانا شروع کردے، کفر سازی اور فتنہ سازی کو مہم جوئی بنا ڈالے۔ علم کی بو بھی سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن علّامہ بننے کی کوشش کرے۔ دعوت و افتاء کا کاروبار کرنے لگے اور اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر لوگ اچھلنا شروع کردیں۔بے اعتدالی کی یہ ساری شکلیں اس وقت علمی و دعوتی دائرے میں نظر آتی ہیں اور ان پر اتنا اصرار ہے کہ خارجیت شاداب ہورہی ہے اور اس کے علائم صاف نظر آرہے ہیں۔ عالم اسلام ان دنوں بڑی ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے۔ قدم قدم پہ مسائل کا انبار اور  خارجی سازشوں سے لے کر داخلی پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دراز ہوتا جاتا  ہے۔ یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک...

  • 50 خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق (منگل 20 جون 2017ء)

    مشاہدات:1311

    خاندانی اصول و قوانین کی پابندی، میاں بیوی، والدین اور اولاد کا ایک دوسرے کا احترام،  باہمی مشورہ کے ذریعہ تمام امور کی انجام دہی، خاندان میں بیوی کے لئے ایک اہم  اورمستقل شخصیت کا قائل ہونا، خواتین کی ضروریات اور جذبات کا احترام، دورِ جاہلیت کے ظالمانہ آداب و رسوم کے مقابلہ میں عورت کی حمایت ،مذکورہ بالا امور عورت کے بارے میں اسلام کے ناقابل ِ تردید اصول ہیں۔ نبی کریمﷺ خواتین کے حقوق کی رعایت  کی ہمیشہ تاکید فرمایا کرتے تھے اور جہاں کہیں ضرورت پڑتی آپ اس معاملہ میں بلا واسطہ مداخلت فرمایا کرتے تھے۔ سورۂ مجادلہ کی پہلی آیت اس خاتون کی آہ وفریاد کو بیان کر رہی ہے جسے اس کے شوہر نے دورانِ جاہلیت  کی رسم کے مطابق "طلاقِ ظہار" دے دی تھی، یعنی اس نے اپنی بیوی سے کہا تو میرے لئے میری ماں کے مانند ہے۔ یہ عورت اپنی شکایت لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں پہنچی اور یوں گویا ہوئی: میں نے اس مرد کی خدمت میں اپنی جوانی کو گنوایا ہے، اس کے بچّوں کو پال پوس کر بڑا کیا ہے، پوری زندگی اس کی یارو یاور رہی ہوں، اس شخص نے ادھیڑ اور محتاجی کی عمر میں میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور مجھے اپنے اوپر حرام کردیا ہے۔ نبی کریمﷺ وحی کا انتظار فرمانے لگے یہاں تک کہ سورۂ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب "خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اکیڈمی نے اس پر دو مستقل سیمینارز منعقد کئے ہیں، جن میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو اس کتاب میں...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2175
  • اس ہفتے کے قارئین: 4373
  • اس ماہ کے قارئین: 38394
  • کل قارئین : 47854582

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں