دکھائیں کتب
  • ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔مغربی جامعات اور تحقیقی و طباعتی ادارے اس بارے میں اپنے اختیار کردہ یا وضع کردہ رسمیات کو بے حد اہمیت دیتے اور ان کی پابندی کرتے ہیں۔ ان اداروں اور جامعات میں ان رسمیات کے معیارات میں فرق یا اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن ہر ادارہ یا جامعہ اپنے لئے وضع کردہ اور اختیار کردہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہتی ہیں۔ آکسفورڈ اور کیمبرج کی جامعات میں ان کے طباعتی اداروں میں یہ رسمیات باہم مختلف ہوسکتی ہیں لیکن کیمرج میں لکھا جانے والا ہر مقالہ یا وہاں سے شائع ہونے والی ہر کتاب بڑی حد تک یکساں معیارات اور اصولوں کے تحت لکھی یا شائع کی جاتی ہیں۔ یوں ہم تحقیق میں ہر مغربی جامعہ یا تحقیقی ادارے کو اپنی مخصوص رسمیات یا اسالیب و اصولوں پر عمل پیرا دیکھ سکتے ہیں۔لیکن افسوس کہ...

  • 12 معاشرتی نفسیات (اتوار 19 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1175

    معاشرتی نفسیات  فرد کے اس تجربے اور کردار کے سائنسی مطالعہ کا نام کے  ہے  جو کہ اس کےدوسرے افراد گروہوں اور ثقافت سے تعلق کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ معاشرتی نفسیات فرد کے حوالے سے معاشرتی نظام اور معاشرتی اداروں کو زیر بحث لاتی ہے۔معاشرتی نفسیات کابنیادی موضوع فرد کے معاشرتی کردار کا تجزیہ کرنا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ معاشرتی نفسیات ‘‘ جناب طارق محمود مغل کی تصنیف ہے  یہ کتاب انہوں نے بنیادی طور پر ایم ایس  سی نفسیات کے پرچہ معاشرتی نفسیات کو سامنے رکھ کر طلباء کے لیے تیار کی ہے۔یہ کتاب چار حصوں اورسولہ ابواب پر مشتمل ہے ۔مصنف نے اس کتاب میں  معاشرتی نفسیات کو اس کے حقیقی مقام کےمطابق ایک جدید اطلاقی سائنس کے طور پر پیش کیا  ہے ۔معاشرتی نفسیات کے تمام اہم موضوعات پر اس کتاب میں اس طرح   بحث کی گئی ہے  کہ قارئین پر اس کی افادیت واضح ہوجاتی ہے۔یہ کتاب قارئین کو انگریزی  میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں سے بے نیاز کردیتی ہے ۔معاشرتی نفسیات کے طلبا اور دوسرے قارئین بھی اس سے ے بھر پور استفادہ کرسکتے ہیں۔(م۔ا) 

  • تعلیم و تربیت انسان کی سب سے پہلی،اصل اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ میں اس کی عملی تابندہ مثالیں موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں مسجد نبوی میں چبوترے پر اہل صفہ علم حاصل کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے آزادی کے بدلے ان پڑھ صحابہ کو تعلیم یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی مسجد نبوی کا ہال دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ آج کل فن تعلیم کو جو اہمیت حاصل ہے وہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے۔ہر طرف ٹریننگ اسکول اور کالج کھلے ہیں،مدرس تیار کئے جاتے ہیں،فن تعلیم پر نئی نئی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور نئے نئے نظرئیے آزمائے جاتے ہیں۔ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر مسلمان ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے،مسلمانوں کے اس ترقی وعروج کے زمانے میں بھی اس فن پر کتابیں لکھی گئیں اور علماء اہل تدریس نے اپنے اپنے خیالات کتابوں اور رسالوں میں تحریر کئےاور کتاب وسنت ،بزرگوں کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں جو تعلیمی نتائج انہوں نے سمجھے تھے انہیں اصول وقواعد کی حیثیت سے ترتیب دے دیا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ مسلمان علماء نے جو کتابیں لکھی ہیں یا اپنی تصنیفات میں تعلیم سے متعلق جو نظرئیے بتائے ہیں یا متفرق خیالات ظاہر کئے ہیں ان سب کو ترتیب سے یکجا کر دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاک وہند میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت‘‘ حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے۔ جس میں ہندوستان میں قطب الدین ایبک کے وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں کے نظام تعلیم وتربیت کو بیان کیا گیا ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ م...

  • 14 ہمارا نظام تعلیم اور نصابی صلیبیں (جمعہ 09 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2169

    ہمارا نظام تعلیم اور نصابی صلیبیں"1997ء کی پہلی جماعت سے لے کر بی اے تک کے لازمی نصاب کے اس تجزئیے اور تبصرے پر مشتمل مقالے کا نام ہے جسے بی اے کی طالبہ محترمہ مریم خنساءرحمھا اللہ نے بی اے کے پیپرز کی تیاری کے دوران مرتب کیا۔اس مقالے کو مرتب کرنے والی بہن کے دل کو اللہ تعالی نے غیرت دینی سے نواز ا تھا ،جو بر وقت اسلام کے خلاف کی جانے والی ہر سازش ،ہر حرکت اور ہر لفظ کو بھسم کر دینے کا عزم رکھتی تھیں۔اور ایسا ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ ان کو یہ جذبہ موروثی طور پر ملا تھا۔ان کے والد محترم مولانا محمد مسعود عبدہ ﷫اور ان کی والدہ محترمہ ام عبد منیب رحمھا اللہ کے جذبات بھی اسی آتش سوزاں سے حرارت پذیر تھے۔اس کتاب سے پہلے بھی آپ کے متعدد مضامین ماہنامہ "بتول" اور ہفت روزہ "الاعتصام "میں چھپتے رہے ہیں۔یہ مقالہ مولفہ کی زندگی ہی میں دار الکتب السلفیہ نے 1999ء میں شائع کر دیا تھا،اور پھر ان کی وفات کے بعد تقریبا چودہ سال بعد اسے دوبارہ مشربہ علم وحکمت کے تحت شائع کیا گیا ۔اس مقالے میں موصوفہ نے پاکستان کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی خامیوں اور عیوب کی نشان دہی کی ہے،اور اس کی اصلاح کے لئے مفید اور کارآمد تجاویز پیش کی ہیں۔ان کا پیش کردہ یہ جائزہ 1997ء میں مرتب کیا گیا تھا،اب 2014ء میں آ کر نصاب میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں ،لیکن اب بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے۔موجودہ نصاب میں زیادہ زیادہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ اہالیان پاکستان کو اسلامی معلومات سے بے بہرہ ہی رکھا جائے اور انہیں جدید دنیوی علوم ہی پڑھانے پر اکتفاء کیا جائے۔اللہ تعالی سے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1106
  • اس ہفتے کے قارئین: 6356
  • اس ماہ کے قارئین: 34050
  • کل قارئین : 45930620

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں