کل کتب 15

دکھائیں
کتب
  • 11 #2178

    مصنف : سعید بن علی بن وہف القحطانی

    مشاہدات : 3797

    شرعی علاج بذریعہ دم

    (اتوار 01 جون 2014ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم   اور نبیﷺ سے ثابت شدہ دم کے ذریعے علاج کرنا نہایت مفید اور مکمل شفایابی ہے ۔قرآن کریم تمام قلبی وجسمانی امراض اور دنیا وآخرت کی بیماریوں کےلیے مکمل شفا ہے ۔البتہ ہرشخص کوقرآن سےعلاج اور شفایابی کی توفیق نہیں ملتی ۔قرآن کریم کافہم رکھنے والوں کےلیے قرآن کےاندر اس کے علاج کاطریقہ ،بیماری کا سبب اور اس سے بچاؤ کی تدبیر موجود ہے ۔اللہ تعالی نے قرآن کریم کےمیں دل او رجسم کی بیماریوں کاذکر فرمایاہے ۔ اور ان کےعلاج کاطریقہ بھی بتا دیا ہے ۔اسی طرح سنت نبویﷺ سے ثابت دم کے ذریعے علاج کرنابھی مفید ترین علاج میں سے ہے۔علماء کااجماع ہے کہ دم کرنا جائز ہے اگر تین شرطوں کے ساتھ کیا جائے تو: 1۔اللہ تعالی کے کلام یا اس کےاسماء وصفات کے ذریعے۔ یا رسول اللہﷺ سے منقول کلام کے ذریعہ دم کیا جائے 2۔دم عربی زبان میں ہو ۔ اوراگر غیر عربی زبان میں ہوتو اس کا معنی معروف ہو یہ اعتقادرکھا جائے کہ دم بذاتِ خود مؤثر نہیں ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اثر انداز ہوتا ہے ۔دم محض ایک سبب ہے ۔ زیر نظر کتاب   ’’شرعی علاج بذریعہ دم‘‘ معروف سعودی عالمِ دین صاحب حصن المسلم شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی ﷾ کی تصنیف’’الذكر والدعا والعلاج بالرقى من الكتاب والسنه‘‘ کاترجمہ ہے ۔جس میں شیخ صاحب نے قرآن واحادیث کی روشنی میں بیماریوں کے علاج کو بیان کیا ہے۔یہ کتاب   روحانی وجسمانی بیماریوں   کےستائے ، جنات جادواور ٹونے، نطر بد اور حسد کےحملوں سے زخمی مسلمان کے لیے ایک انمول تحفہ ہے ۔اس کتاب کی اردوترجمانی کا کام’’محترم ابوالمکرم عبد الجلیل ﷫ نے بڑے آسان فہم انداز میں انجام دیا او رپاکستان میں دارالابلاغ کی طرف سے اسےپہلی   دفعہ شائع کیا گیا۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے پریشان حال لوگوں کے لیے   بیماریوں سے شفایابی کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 12 #6049

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 1868

    مروجہ تعویذ اور معوذات نبویہ

    (بدھ 27 دسمبر 2017ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    اردو میں مستعمل لفظ’’تعویز‘‘ کا عربی نام’’التمیمۃ‘‘ہے عربی زبان میں ’’التمیمۃ ‘‘کے معنی اس دھاگے ،تار،یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسے اور حصے میں باندھا جائے۔ آج کل اس کا استعمال مسلم معاشرہ میں بہت زیادہ   ہو گیا ہے۔ اگر آج  امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہےتو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مروجہ تعویذاور معوذات نبویہِﷺ‘‘محترمہ ام عبد منیب کی تصنیف کردا ہے،جس میں وہ بیان کرنا چا ہتی ہیں کہ کس طرح آج کل ہمارے معاشرے تعویز پہننے یا تعویز لٹکانے کا رواج ہے، اور اکثریت غیر شرعی اور شرکیہ تعویزات کا ہی سہار لیتی ہے۔ سادہ لوح لوگ تو سرسے پیروں تک اس شرک میں ڈوبے ہوے ہیں ،اور بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی جانے ان جانے میں اس گناہ میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔آخر میں اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ محترمہ ام عبد منیب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)

  • 13 #3857

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1774

    مسئلہ شرکیہ دم جھاڑا پر فیصلہ کن بحث

    (پیر 28 دسمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ تنظیم اہل حدیث، لاہور

    دم کرنے کو عربی زبان میں "رقیہ "کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،اسی طرح دم میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " شرکیہ دم جھاڑا پر فیصلہ کن بحث"جماعت اہل حدیث کےمعروف عالم دین  مولانا حافظ عبد اللہ مھدث روپڑی صاحب کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  اکراہ کے وقت شرکیہ دم جھاڑے کے جواز وعدم جواز پر تفصیلی بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 14 #5804

    مصنف : عبد اللہ بن محمد السدحان

    مشاہدات : 2590

    نظر بد سے بچاؤ کے طریقے اور علاج

    (جمعہ 06 اکتوبر 2017ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    جادو اور نظر بد کی ہلاکتوں ‘ بربادیوں اور تباہیوں سے کون واقف نہیں!! ہم اپنی روز مرہ زندگی میں آئے دن نظر بد کے تیروں سے بسمل انسانوں کی ماہئ بے آب کی طرح تڑپتے دیکھتےہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے مجروح ومقتول ہوتے ہیں کہ بولنے وبیان کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ گم ہم کیفیت میں قبروں میں جا سوتے ہیں۔ یہ نظر کا تیر اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ عزیز ورشتہ دار کسی کو نہیں چھوڑتا۔ شاید ایسے ہی کسی موقع پر نظر بد کو’’نگاہ ناز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظر بد تلوار کی طرح وار کر کے حضرت انسان کو کاٹ ڈالتی  ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں نظر بد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور طریقے وعلاج بتایا گیا ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں ایسی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ جو پڑھنے والے کی بنجر وویران زندگی میں بہار کے جھونکوں کی آمد کی پیامبر ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد نظر بد‘ حسد وبغض کی ہلاکت خیریوں سے بچنے کے لیے فائدہ بخش طریقے اور نظر بد کے چکروں سے نجات اور شافعی علاج  ممکن ہوگا۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے‘ حوالے فٹ

  • 15 #3308

    مصنف : محمد اقبال سلفی

    مشاہدات : 1859

    ہم کدھر جا رہے ہیں؟

    (پیر 15 جون 2015ء) ناشر : مکتبہ الکریمیہ گوجرانوالہ

    کسی بھی عمل کی قبولیت کے لئے عقیدہ کا خالص ہونا اور عمل کا مسنون ہونا بنیادی شرائط ہیں۔غیر مسنون اعمال سے جہاں سنت کی اہمیت کم ہوتی ہے، وہاں ان کے نتیجے میں انسان کے اعتقادات بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔جب عقیدے میں بگاڑ آتا ہے تو انسان کی ساری کی ساری محنت اور کوشش جسے وہ دین سمجھ کر کر رہا ہوتا ہے، اللہ کی طرف سے اجروثواب کی بجائے عذاب وعقاب کا سبب بن جاتی ہے۔ ان غیر مسنون اعمال میں سے ایک تعویذ لکھنا ،لکھوانا اور گلے میں لٹکانا اور جسم کے بعض حصوں کے ساتھ باندھنایا گاڑیوں ،دکانوں اور گھروں میں لٹکانا ہے۔ اس عمل نے اب باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر لی ہے۔مختلف عدد،مبہم اور غیر واضح عبارات یہاں تک کہ جنوں اور فرشتوں اور فوت شدہ ہستیوں سے امداد طلب کرنا وغیرہ ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے دیکھا دیکھی قرآنی تعویذات بھی لکھنا شروع کر دئیے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید دلوں کے امراض ،کفر وشرک اور فسق وفجور سے تزکیہ وشفاء کا بہترین ذریعہ ہے۔اس کی تلاوت اور اس پر عمل کے نتیجے میں اللہ تعالی نے برے بڑے کافروں کو مسلم اور مشرکوں کو موحد بنا دیا ہے۔ یہ سب کچھ پڑھنے ،دم کرنے اور دم کروانے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے،جو کہ سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے۔جبکہ قرآنی آیات پر مشتمل تعویذات کے بارے میں بالکل واضھ ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام اور سلف صالحین میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "محترم محمد اقبال سلفی صاحب کی تصنیف ہے،جسے ام عیینہ نے ترتیب دیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں تعویذات جیسے معاشرے میں پھیلے شرکیہ اعمال کی زبر دست تردید فرمائی ہے اور امت کو توحید پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو شرک وبدعات سے محفوظ فرمائے۔ آمین(راسخ)

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1686
  • اس ہفتے کے قارئین 7671
  • اس ماہ کے قارئین 46065
  • کل قارئین49333861

موضوعاتی فہرست