دکھائیں کتب
  • 91 پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت (اتوار 01 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:14378

    ادارہ تحقیقات اسلامی نے اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک سہ روزہ پروگرام کاانعقاد کیا۔ جس کا موضوع ’اجتماعی اجتہاد، تصور، ارتقاء اور عملی صورتیں‘ تجویز ہوا۔ اس سیمینار میں حافظ حافظ عبدالرحمٰن مدنی حفظہ اللہ نے ’پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت‘ کے نام سے مقالہ پیش کیا۔ یہی مقالہ اس وقت کتابی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ جس میں حافظ صاحب نے نفاذ شریعت سے متعلق امت کے چار مشہور نظریات پر تبصرہ کیا ہے۔ سب پہلے علامہ اقبال کے نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس حوالہ سے دوسرے نظریہ کے طور پر انہوں نے انقلاب ایران اور طالبانی طرز فکر کو لیا ہے۔ تیسرا نظریہ پاکستان کے آزاد خیال اہل علم اور دینی سیاسی جماعتوں کا ہے، اس پر بھی حافظ صاحب نے سیر حاصل اور مدلل بحث پیش کی ہے۔ چوتھا اور آخری نظریہ وہ ہے جو عالم اسلام کے بعض ممالک میں شریعت کی عمل دار ی کی حد تک عرصہ سے رائج ہے۔ تعبیر شریعت کے حوالے سے یہ کتابچہ ایک علمی دستاویز ہے۔ (ع۔م)
     

  • 92 پاکستان میں انٹیلی جینس ایجنسیوں کا سیاسی کردار (جمعہ 01 جنوری 2010ء)

    مشاہدات:14863

    زیر نظر کتاب ''پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسوں کا سیاسی کردار''اپنی نوعیت کی پہلی اور اہم کتاب ہے جس میں پاکستان کے معروف صحافی منیر احمد نے خفیہ سروس کے ادارے کی خامیوں اور خوبیوں کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے ایسے حکمرانوں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے خفیہ اداروں کا غلط استعمال کیا- کتاب میں ایسے خفیہ ہاتھوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں میں ہمارے سیاستدان کٹھ پتلیاں بنے ہوئے ہیں-اس کے علاوہ آپ کو اس کتاب میں بھٹو نے خفیہ اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا اور قائد اعظم سے آج تک خفیہ ادارے کس حد تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہے، کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے- کتاب کے مطالعے سے آپ کو قدم قدم پر ایسے حیرت انگیز اور چشم کشا انکشافات ملیں گے جن سے آپ کبھی بھی واقف نہ تھے-
     

  • 93 پاکستان میں جمہوریت کے تضادات (ہفتہ 01 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1023

    جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے یعنی عوام کی اکثریت کی رائے سے حکومت کا بننا اور اس کا بگڑنا۔ اس نظام میں انفرادی آزادی اور شخصی مساوات کے تصورات کو جو اہمیت دی گئی ہے اس کی وجہ سے عہد حاضر میں اس کی طرف لوگوں کا میلان زیادہ ہے۔اگرچہ بہت سے مسلم دانشور اس طرزِ حکومت کے حامی ہیں۔لیکن ہر دور میں اصحابِ علم کی ایک بڑی تعداد نے جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، جمہوریت کو ناپسند کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس میں عوام کی حاکمیت اور مطلق آزادی کا تصور غیر عقلی اور باعثِ فساد ہے۔پاکستان میں جمہوری نظام کے قیام کی خواہش کا فی مستحکم نظر آتی ہے لیکن سیاسی اور معاشرتی عمل میں اتنے تضادات موجود ہیں کہ جمہوریت میں ابھی تک تسلسل پیدا نہ ہوسکا اور نہ پائیداری۔جمہوریت کی خواہش اور کوشش کے باوجود جمہوریت کا پر وان نہ چڑھنا جمہوری عمل کے نازک اور مشکل ہونے کا ثبوت ہے ۔
    زیر نظر کتاب ’’پاکستان میں جمہوریت کے تضادات‘‘ پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ نگار جناب سلمان عابد صاحب کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے عام فہم اور مؤثر اندازمیں پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے کی بات کی بلکہ ان عناصر اور رجحانات کا جائزہ لیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت گہری جڑیں نہ پکڑ سکی۔فاضل مصنف نے اپنے تجزیے کو جامع کرنے کے لیے بہت سے ایسے مصنفین اور سیاست دانوں کی تحریروں کا سہارا لیا ہے جنہوں نے اپنےاپنے مخصوص انداز میں پاکستان کی سیاست اورمعاشرت کے تضادات کا تجزیہ کرتے ہوئے ا...

  • 94 پاکستان میں سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ (جمعہ 03 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1204

    سیاسی جماعت  اس تنظیم کو کہتے ہیں جو بعض اصولوں کےتحت منظّم کی جائے اور جس کا مطمح نظر آئینی اور دستوری ذریعوں سے حکومت  حاصل  کر کے  ان اصولوں کو بروئے کار لانا ہو جن کی غرض سے اس جماعت کو منظّم کیا گیا ہو۔ پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔پاکستان میں   اس وقت بیسیوں سیاسی جماعتیں موجود ہیں ۔ پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں جمہوریت مضبوط کرنے کی دعویدار تو ہیں، تاہم ایک آدھ سیاسی جماعت کے علاوہ کوئی ایسی پارٹی نہیں  جو اندرونی طور پر جمہوریت پر عمل پیرا ہو۔یہاں ہر سیاسی جماعت کو ایک دوسرے سے مِل کر کام کرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو اکیلے ہی حکومت سازی کر سکے بلکہ صرف مخلوط حکومت ہی ممکن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں  سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ‘‘  جناب تنویر بخاری کی مرتب  کردہ ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں  سیاسی جماعتوں  کا بنیادی مقصد  اہمیت  وضرورت، سیاسی جماعتوں کا ارتقاء، سیاسی جماعتوں کی اقسام ،برسراقتدار  سیاسی جماعتوں کاتعارف اور ان کے منشور کو پیش کرنے کے علاوہ عام سیاسی جماعتوں کا بھی تعارف  پیش کیا ہے ۔یہ کتاب نصابی نوعیت کی ہے۔ پروفیسر محمد عثمان اور مسعود اشعر کی مرتب کرد...

  • ارشاد ربانی کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت کو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام سید نا حضرت محمدﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید و سنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت و کردار کی بلندیوں سے آشنا کیا۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔جبکہ قیام پاکستان کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک طرف تو ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اور ایک اللہ کی عبادت کریں گے وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کر کے اور ہر شعبۂ زندگی میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کر کےپاکستان کو اسلام کی ت...

  • 96 چوری کے متعلق قانون الٰہی اور قانون حنفی (منگل 24 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:15194

    چوری ایک ایسا قبیح فعل ہے جو دنیا کے ہر قانون میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس کے اخلاقاً اور شرعاً جرم ہونے پر کوئی دو رائے نہیں۔ اس لئے اس گناہ کبیرہ کے مرتکب کی عبرت ناک سزا بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چوری ثابت ہونے پر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی سزا سے مستثنٰی کرنے پر تیار نہیں لیکن دوسری طرف فقہائے احناف نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو حد سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی ہے۔ اور قانون الٰہی میں بھی تغیر و تبدل سے گریز نہیں کیا مثلاً شیشہ، کتاب اور کفن چور پر حد نہیں ہے۔ مسجد سے چوری پر حد نہیں ہے ۔ وغیرہ۔ جبکہ چوری اس نوعیت کا جرم ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے معاف کر دینے سے بھی حد ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ فقہ حنفی چوروں کو بھی عدالت اسلامی کے کٹہرے سے نکال کر تقلیدی دامن عافیت میں پناہ دیتی نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو جہاں قابلِ غور ہے وہاں دعوت فکر بھی دیتی ہے۔
     

  • 97 چوری کے متعلق قانون الٰہی اور قانون حنفی (منگل 24 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:15194

    چوری ایک ایسا قبیح فعل ہے جو دنیا کے ہر قانون میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس کے اخلاقاً اور شرعاً جرم ہونے پر کوئی دو رائے نہیں۔ اس لئے اس گناہ کبیرہ کے مرتکب کی عبرت ناک سزا بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چوری ثابت ہونے پر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی سزا سے مستثنٰی کرنے پر تیار نہیں لیکن دوسری طرف فقہائے احناف نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو حد سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی ہے۔ اور قانون الٰہی میں بھی تغیر و تبدل سے گریز نہیں کیا مثلاً شیشہ، کتاب اور کفن چور پر حد نہیں ہے۔ مسجد سے چوری پر حد نہیں ہے ۔ وغیرہ۔ جبکہ چوری اس نوعیت کا جرم ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے معاف کر دینے سے بھی حد ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ فقہ حنفی چوروں کو بھی عدالت اسلامی کے کٹہرے سے نکال کر تقلیدی دامن عافیت میں پناہ دیتی نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو جہاں قابلِ غور ہے وہاں دعوت فکر بھی دیتی ہے۔
     

  • 98 کیا سیاست عقیدہ اکٹھے رہ سکتے ہیں ؟ (جمعرات 18 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:895

    سیاست اور عقیدہ  یا سیاست اور اسلام   دونوں الگ الگ نہیں ہیں بلکہ سیاست بھی اسلام  اور عقیدہ کا حصہ ہے عقیدہ دراصل لفظ "عقد" سے ماخوذ ہے ، جس کے معنیٰ ہیں کسی چیز کو باندھنا یعنی عقیدہ سے مراد کسی چیز کو حق اور سچ جان کر دل میں مضبوط اور راسخ کر لینا ہےعقیدہ انسان کے کردار و اعمال کی تعمیر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان کے تمام اخلاق و اعمال کی بنیاد ارادے پر ہے، اور ارادے کا محرک دل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ دل انہی چیزوں کا ارادہ کرتا ہے جو دل میں راسخ اور جمی ہوئی ہوں، اس لئے انسان کے اعمال و اخلاق کی درستگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے دل میں صحیح عقائد ہوں لہذا عقیدے کی اصلاح ضروری ہے۔سیاست  Politics’’ساس‘‘ سے مشتق ہے جو یونانی زبان   کا ہےاس کےمعانی شہر وشہر نشین کے ہیں  اس میں  سیاست اس فعل کو  کہتے ہیں جس کا انجام دینے  سے لوگ اصلاح  کےقریب اور فساد  سے دور ہوجائیں۔ اہل مغرب فن حکومت کو سیاست کہتے  ہیں ۔ امور مملکت کانظم ونسق برقرار رکھنے والوں کو سیاست دان کہا جاتا ہے ۔ قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیات موجود ہیں  جو سیاست...

  • 99 کیا ووٹ مقدس امانت ہے؟ (بدھ 31 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5880

    مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کی مشرق میں آمد کے بعد مسلمانوں کے اندر بالخصوص  بنیادی طور پر تین طرح کے طبقات آئے ہیں ۔ پہلا وہ جو مغربی فکر و تہذیب کی مکمل تردید کرتا ہے اور دوسرا وہ جو مکمل تائید کرتا ہے اور تیسرا اور  آخری گروہ ان لوگوں کا ہے جو پیوند کاری  کرتا ہے ۔ مغرب کے ان گوناگو افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں ایک جمہوریت بھی ہے چناچہ اس کے بارے میں فطری طور پر مذکورہ بالا تین طرح کی ہی آراء سامنے آئی ہیں ۔ بعض لوگ جمہوریت کی بالکلیہ تردید ، بعض تائید اور بعض بین بین رائے اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس سلسلے میں زیر نظر کتاب اول الذکر گروہ کی نمائندگی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ فاضل مصنف نے زیر بحث کتاب میں جہاں جمہوری نظام کے مفاسد کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ساتھ بالخصوص ان لوگوں کی آراء اور دلائل کو چھانٹے کی کوشش کی ہے جو مسلمانوں میں سے جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اگر غیرجانبدارنہ طور پر دیکھا جائے تو کتاب اپنے اندر کئی ایک حقائق کو بھی سموئے ہوئے ۔ اللہ ہماری صحیح رہنمائی فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 100 گوانتاناموبے کی کہانی ملا ضعیف کی زبانی (پیر 21 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:19196

    ملا عبدالسلام ضعیف طالبان دور حکومت میں پاکستان میں افغان سفیر تھے ،لیکن  نائن الیون کے بعد طالبان کے حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی پاکستانی حکمرانوں نے بغیرتی کا لبادہ اوڑھا،شرم وحیا کی چادر تار تار کی اور سفلت اور کمینگی کے اس درجہ کو جا پہنچے کہ ڈالروں کی خاطر اپنے ہی ہم دین وہم وطن افراد کی بیوپاری شروع کر دی ۔اور نیٹو اور امریکہ کے مطالبات پر عرب وافغان مجاہدین اور پاکستانی درد دل رکھنے والے افراد کو قندھار جیل اور گوانتاناموبے جیسے بدنام ترین عقوبت خانوں میں جھونکنا شروع کیا۔حتی کہ سفیروں کا تحفظ جو ازلی اور بین الاقوامی قانون ہے اسے بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے ملا عبدالسلام ضعیف افغان سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیا اور انہیں شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ملا موصوف نے زیر نظر کتاب میں امریکیوں کے قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک ،مغرب کی اسلام دشمنی اور پوری دنیا پر عیسائیت کے غلبہ کی فکر کو کھول کر بیان کیا۔اور مغرب کا اصل کردار ،اسلام کی بیخ کنی اور اہل اسلام کی تذلیل پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔زیر تبصرہ کتاب میں امریکہ ویورپ کا مکروہ چہرہ اور مذموم عزائم کی قلعی کھول دی ہے ۔اورجو مغرب پسند ،مغربی رواداری اور انسانی حقوق کی مالا جپتے نہیں تھکتے ان کے لیے حقائق کو سمجھنے کے لیے بہترین معاون ہے ۔(فاروق رفیع)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1592
  • اس ہفتے کے قارئین: 6082
  • اس ماہ کے قارئین: 40103
  • کل قارئین : 47868432

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں