دکھائیں کتب
  • 21 چوری کے متعلق قانون الٰہی اور قانون حنفی (منگل 24 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:14825

    چوری ایک ایسا قبیح فعل ہے جو دنیا کے ہر قانون میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ جس کے اخلاقاً اور شرعاً جرم ہونے پر کوئی دو رائے نہیں۔ اس لئے اس گناہ کبیرہ کے مرتکب کی عبرت ناک سزا بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چوری ثابت ہونے پر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھی سزا سے مستثنٰی کرنے پر تیار نہیں لیکن دوسری طرف فقہائے احناف نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس گھناؤنے جرم کے مرتکب کو حد سے بچانے کی سر توڑ کوشش کی ہے۔ اور قانون الٰہی میں بھی تغیر و تبدل سے گریز نہیں کیا مثلاً شیشہ، کتاب اور کفن چور پر حد نہیں ہے۔ مسجد سے چوری پر حد نہیں ہے ۔ وغیرہ۔ جبکہ چوری اس نوعیت کا جرم ہے کہ عدالت میں مقدمہ پیش ہونے کے بعد متاثرہ شخص کے معاف کر دینے سے بھی حد ساقط نہیں ہوتی۔ لیکن صد افسوس ہے کہ فقہ حنفی چوروں کو بھی عدالت اسلامی کے کٹہرے سے نکال کر تقلیدی دامن عافیت میں پناہ دیتی نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو جہاں قابلِ غور ہے وہاں دعوت فکر بھی دیتی ہے۔
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 464
  • اس ہفتے کے قارئین: 12905
  • اس ماہ کے قارئین: 40599
  • کل قارئین : 46005010

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں