کل کتب 174

دکھائیں
کتب
  • 161 #6425

    مصنف : علیم اقبال

    مشاہدات : 1867

    کراٹے کا تصویری انسائیکلوپیڈیا حصہ اول و دوم

    (منگل 19 جون 2018ء) ناشر : مشتاق بک کارنر لاہور

    کراٹے جاپانی تلفظ ہےکراٹے ایک مارشل آرٹ کا کھیل ہے جو جزائر ریوکیو میں شروع کیا گیا جو آج کے دور میں اوکیناوا، جاپان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کراٹے کا کھیل کشتی کے دیسی طریقے سے اخذ کیا گیا ہے جسے "ٹی" جاپانی کا نام دیا جاتا ہے جس کا لفظی مطلب ہے ہاتھ۔ اور جوڈو کراٹے دو مختلف الفاظ کا مرکب ہے جن کے معنی ٰ بھی مختلف ہیں۔ جوڈو کے معنیٰ گھیر کر مارنے کے ہیں جب کہ کہ کراٹے کا مطلب ہے دشمن پر جوابی حملہ کرنا۔ جوڈو کراٹے کی مختلف اقسام ہیں ہر ایک میں لڑنے کا انداز مختلف ہوتا ہے ۔ کنگ فو بانڈو کراٹے اور کک باکسنگ جوڈو کراٹے کی دلچسپ اور مشہور اقسام ہیں ۔جوڈو کراٹے میں سات بیلٹ ہوتی ہیں سب سے پہلی بیلٹ سفید رنگ کی ہوتی ہے جبکہ آخری بیلٹ کالے رنگ کی ہوتی ہے ۔ کراٹے کی ورزشیں بہت ہی سخت ہوتی ہیں ۔ بڑے شہروں میں جوڈو کراٹے کے سنٹر موجود ہیں جہاں بچوں کو ان کی تربیت دی جاتی ہے ۔ کراٹے ایسا کھیل ہے جس کو سیکھ کر نہ صرف انسان اپنا دفاع بھر پور طریقے سے کرسکتا ہے بلکہ و ہ بری عادتوں سے بھی بچا رہتا ہے اور صحت مندبھی رہتا ہے جو ڈو کراٹے سے انسان میں نظم وضبط کی عادت اور صبر و برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس کھیل کے بڑے بڑے ٹورنمنٹ کرائے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بچوں کو شروع ہی سے کراٹے کی تربیت دی جاتی ہے جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہاں کا بچہ بچہ کراٹے جانتا ہے اور وہاں اس کھیل کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کراٹے کا تصویری انسائیکلوپیڈیا ‘‘ جناب علیم اقبال کی مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے 300 سے زائد تصاویر کے ذریعے کراٹے کے کھیل کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں ۔ مصنف نے اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ حصہ اول کراٹے کی کہانی ۔ تصاویر کی زبانی ، وارم کی ورزشیں، کراٹے کی مہارتیں ، کو میٹے کاتے پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا حصہ اس کھیل کے تعارف ، کراٹے کی اصطلاحات ، ریفری کے اشارے ، کراٹے کے اہم قوانین کے متعلق ہے۔یہ کتاب اس موضوع پر جے ایلین کوئین اور کارل اولڈگیٹ کی کتابوں کا بہترین نچوڑ ہے ۔اس کتاب کا اگرچہ کتاب وسنت سائٹ کے موضوع سے خاص تعلق نہیں لیکن قارئین کی معلومات کے لیے اس کتاب کو اس سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔کراٹے کا کھیل مدارس کے طلباء کی دلچسپی کا کھیل ہے اور اسی طرح جہادی تربیت دینے والے تربیتی ادارے میں تربیت حاصل کرنے والوں کو کراٹوں کی تربیت دیتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہےکہ تحریک مجاہدین کے امیراور میر ی مادری علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور(مدرسہ رحمانیہ ) کے ہردلعزیز استاد وناظم مولانا خالد سیف شہید بھی کراٹے کے مایہ ناز کھلاڑی تھے ۔ ان کے دور میں طلباء کو باقاعدہ کراٹوں کی تربیت دی جاتی تھی اسی غرض سے اس کتاب کو کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے کہ مدارس کے طلباء ٹائم ضائع کرنے والی کھیلوں کو اختیار کرنے کی بجائے اس کراٹے جیسی کھیل کو اختیار کرکے اپنے آپ کو فٹ رکھیں ۔ کیونکہ اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیے یہ بہترین کھیل ہے ۔ (م۔ا)

  • 162 #5981

    مصنف : شاہین فردوس

    مشاہدات : 944

    کہیں دیر نہ ہو جائے

    (اتوار 12 نومبر 2017ء) ناشر : نا معلوم

    ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیوں نے جڑ پکڑی ہوئی اور ہر شخص پریشان اور انگشت بدنداں ہے کہ یہ سب کیا ہے نہ والدین اپنے فرائض کو پوری طرح اداکر پا رہے ہیں اور نہ ہی اولاد فرمانبردار ہے اور اپنے فرائض بھی انجام دینے میں کوتاہی کرتے ہیں اور ہر گھر میں والدین اور اولاد کے درمیان ایک عجیب کشمکش پیدا ہو چکی ہے اور ہر گھر کی طرح پورا معاشرہ کشمکش کا شکار ہے اور ہزاروں برائیوں سے بھراہوا ہے‘’انسان‘ جسے کسی وقت صرف فکرِ معاش نے بے چین کر رکھا تھا اب بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’کہیں دیر نہ ہو جائے‘‘کی مصنفہ نے اس کتاب کو تصنیف بھی انہیں تمام مسائل کے حل کے لیے کیا ہے اور ان مسائل کا ادراک کر کےاسلامی تعلیمات کے مطابق ان کا بخوبی حل بھی بتایا ہے ۔یہ کتاب ہر عمر کے شخص‘خواتین اور بچوں کے لیےبشرط یہ کہ توجہ سے پڑھا جائے تو انتہا مفید اور آسان فہم ہے ۔اور مصنفہ ایک دینی مبلغہ ہیں جن کا مشن اصلاح معاشرہ ہے اور معاشرے کی اصلاح اسوۂ رسولﷺ کی پیروی کے بغیر ناممکن ہے اس لیے مصنفہ نے بڑے سلیس اور پُر اثر انداز میں کتاب مرتب کی ہے اور دلوں پر نیکی کی ایک دستک ہے۔اور معاشرے میں موجود بیماریوں کا تدارک کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اور انسانی مقصد حیات اورطرز ِ حیات سے واقفیت کروانے کی کوشش کی گئی ہے اور انسان کو اس کے فرائض سے آگاہی کروائی گئی ہے کہ معاشرے کی اصلاح ہو سکے۔۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کےعلم وعمل میں برکت دےاور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

  • 163 #2464

    مصنف : سلیم رؤف

    مشاہدات : 1882

    کیسی رہی سزا؟

    (منگل 30 ستمبر 2014ء) ناشر : صفہ اسلامک سنٹر، گوجرانوالہ

    سلیم رؤف صاحب﷾ ایک معروف مبلغ اور داعی ہیں۔آپ نے تبلیغ دین کے لئےایک منفرد طریقہ اختیار کرتے ہوئے ہر موضوع کو کہانی کی شکل میں پیش کیا ہے اور بے شمار موضوعات پر لکھا ہے۔آپ نے کتابچوں کے نام بڑے پرکشش او ر جاذب نظر ہوتے ہیں،عنوان کو دیکھ کر انہیں پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔مثلا"ننھا مبلغ"،"واہ رے مسلمان"،"نایاب ہیرا"،"شیطان سے انٹرویو"،"بازار ضرور جاوں گی"۔"اور میں مر گیا" وغیرہ وغیرہ۔آپ کے یہ چھوٹے چھوٹے کتابچے عامۃ الناس میں انتہائی مقبول اور معروف ہیں۔ یہ چھوٹا سا کتابچہ"کیسی رہی سزا؟" بھی محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ہماری معاشرتی کوتاہیوں کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے۔اور ہمیں اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح اور اسلام کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی ترغیب دیتا ہے ،تاکہ ہماری دنیا بھی سنور جائے اور ہماری آخرت بھی بن جائے۔مولف نے اس کتابچے میں ہماری حکومت کی طرف سے جمعہ کی چھٹی بند کر کے اتوار کی چھٹی کرنے پر بزبان جمعہ اپنے ساتھ روا رکھی جانے والی بد سلوکی کا تذکرہ کیا ہے اور پھر اس بدسلوکی کے بدلے میں ملنے والی سزا کا ایک منفرد انداز میں ذکر کیا ہے،جو پڑھنے لائق ہے۔ اللہ تعالی مولف کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔ آمین(راسخ)

  • 164 #107

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 20744

    گانا بجانا سننا اور قوالی اسلام کی نظرمیں

    (اتوار 09 اگست 2009ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    موسیقی اور گانے بجانے کی اسلام میں شدید مذمت کی گئی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیاہے  لیکن ہمارے ہاں نام نہاد ملا اور صوفیاء حضرات قوالی اور  سماع و وجد کے نام پر موسیقی کو رواج دینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں  وہ کتاب وسنت کی براہین کے ساتھ لہوولعب کرنے سے بھی باز نہیں آتے-زیر نظر کتاب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ  نے قوالی اور گانے بجانے کی اسلام میں کیا حیثیت ہے کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے – کتاب کو اردو زبان کا جامہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے پہنایا ہے- مصنف نے محققانہ انداز میں قوالی اور گانے بجانے کے جواز پر پیش کی جانے والی احادیث کی حیثیت واضح کرتے ہوئے حرمت موسیقی پر آئمہ کرام کے اقوال اور احادیث رسول پیش کی ہیں-
     

  • 165 #3474

    مصنف : قاضی محمد زاہد الحسینی

    مشاہدات : 5140

    گانا بجانا قرآن و سنت کی روشنی میں

    (منگل 11 اگست 2015ء) ناشر : توحیدی کتب خانہ کراچی

    اسلام میں موسیقی اور گانے بجانے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیاہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:" میرى امت میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا ہونگے جو شرمگاہ [زنا] ’ ریشم ’ شراب اور گانا وموسیقی کو حلال کرلیں گے" یہ دل میں نفاق پیدا کرنے اور انسان کو ذکرالہی سے دور کرنے کا سبب ہے۔ ارشادِباری تعالی ہے :﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَر‌ى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ‌ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ﴾...... سورة القمان" لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو لغو باتو ں کو مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے"جمہور صحابہ وتابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے جس سے مراد گانا بجانا اور اس کا ساز وسامان ہے او ر سازو سامان، موسیقی کے آلات او رہر وہ چیزجو انسان کو خیر او ربھلائی سے غافل کر دے اور اللہ کی عبادت سے دور کردے۔ اس میں ان بدبختوں کا ذکر ہے جو کلام اللہ سننے سے اِعراض کرتے ہیں اور سازو موسیقی ، نغمہ وسرور او رگانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ خریدنے سے مراد بھی یہی ہے کہ آلات ِطرب وشوق سے اپنے گھروں میں لاتے ہیں اور پھر ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں- لہو الحدیث میں بازاری قصے کہانیاں ، افسانے ، ڈرامے، ناول اورسنسنی خیز لٹریچر، رسالے اور بے حیائی کے پر چار کرنے والے اخبارات سب ہی آجاتے ہیں اور جدید ترین ایجادات، ریڈیو، ٹی وی،وی سی آر ، ویڈیو فلمیں ،ڈش انٹینا وغیرہ بھی۔ لیکن ہمارے ہاں نام نہاد ملا اور صوفیاء حضرات قوالی اور  سماع و وجد کے نام پر موسیقی کو رواج دینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں  وہ کتاب وسنت کی براہین کے ساتھ لہوولعب کرنے سے بھی باز نہیں آتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " گانا بجانا،قرآن وسنت کی روشنی میں"محترم مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی  میں گانے بجانے کی حرمت اور اس پر وارد وعیدوں کو جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو لہو ولعب اور موسیقی سے محفوظ فرمائے اور انہیں قرآن پڑھنے سننے اور اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

     

  • 166 #2628

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2575

    گدا گری

    (منگل 11 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    اللہ تعالی نے انسان کو خوب صورت اور احسن سیرت وعادات پر پید اکیا ہے۔اس کی فطرت میں حیا،خود داری ،غیرت ،تحفظ ذات،تحفظ مال، اور تحفظ ناموس کا جذبہ رکھ دیا ہے۔لیکن جب انسان شرف وامتیاز کی ان خوبیوں کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹ دیتا ہے تو وہ ذلت وحقارت کی ایسی پستی میں گر جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس سے گھن کھا تی ہے اور اس کے نام پر نفرین بھیجتی ہے۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں ایسی تمام بد عادات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے،انہی قبیح عادات میں سے ایک گدا گری بھی ہے۔ اسلام گدا گری کی مذمت کرتا ہے اور محنت کر کے کمائی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔محنت میں عظمت ہےجو شخص اپنے ہاتھ سے کما کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ،وہ دراصل ایک خود دار ،غیرت مند انسان ہے اور اسی کو صالح اعمال کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔انبیاء کرام اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتے تھے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " گدا گری"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ رحمھا اللہ  کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے گدا گری  کی مذمت ،اس کے انسانی معاشرے پر برے اثرات،غیرت وخودی کی موت اور دیگر نقصانات وغیرہ پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

  • 167 #6324

    مصنف : محمد ارشد کمال

    مشاہدات : 1665

    گناہوں کو مٹانے والےاعمال

    (منگل 06 مارچ 2018ء) ناشر : اریب پبلیکیشنز نئی دہلی

    انسان خواہ کتنا ہی بڑا اور کتنی ہی خوبیوں کا مالک کیوں نہ ہو‘ بہ صورت وہ گناہ سے نہیں بچ سکتا سوائے حضرات انبیاء ورسلؑ کے‘ کیوں کہ وہ معصوم ہیں‘ ان کے علاوہ کوئی بھی شخص معصوم نہیں ہے۔ انبیاء ورسلؑ اس لیے معصوم ہیں کہ وہ براہِ راست اللہ کی نگرانی میں ہوتے ہیں‘ اگر بشری تقاضوں کے تحت کوئی کمی کوتاہی ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ انہیں فوراً مطلع کر دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کر لیتے ہیں۔ شیطان جو انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے‘ انسان میں خون کی طرح جاری وساری رہتا ہے۔ لیکن اس اللہ ارحم الرحمین کا انسانوں پر بڑا احسان ہے کہ اس نے بارہا اعلان فرمایا کہ میری رحمت سے مایوس نہیں ہونا اور گناہ سے بچنا اور ایسے اعمال کرنا کہ جو جنت میں لے جانے کا باعث بنیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص ایسے اعمال کی نشاندہی پر لکھی گئی ہے کہ جن کے باعث ہمارے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور جنت کی راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ اس کتاب میں چودہ فصلیں ترتیب دی گئی ہیں‘ پہلی فصل میں گناہوں کی اقسام اور ان کا تعارف کروایا گیا ہے‘ اس کے بعد ہر فصل کے شروع میں فصل سے مطابقت رکھنے والی ایک آیت اور حدیث بیان کی گئی ہے جو اس فصل میں بیان ہونے والے عمل کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ زیادہ احادیث وآیات اس لیے نہیں بیان کی گئی کہ کتاب ضخیم نہ ہو جائے۔احادیث کی صحت کا التزام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ گناھوں کو مٹانے والے اعمال ‘‘ محمد ارشد کمال کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 168 #6345

    مصنف : عبد الرحمٰن ابن جوزی

    مشاہدات : 1873

    گناہوں کے برےاثرات

    (جمعرات 19 اپریل 2018ء) ناشر : اریب پبلیکیشنز نئی دہلی

    قرآن مجید کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ﴿إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا ﴿٣١﴾ ...النساء اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں سے بچا رہے تو اس کی بخشش ہو جائے گی۔ یہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کی رحمت کا اظہار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بندوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کرنا، اصلاً رحمت اور شفقت کا معاملہ کرنا ہے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب اصلاً کوئی شخص اپنی زندگی خدا خوفی کے اصول پر گزار رہا ہو۔اور اگر کوئی آدمی ان سے بچا ہوا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اصلاً بندگی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے یہ خبر دی گئی ہے کہ اسے گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود خدا کی مغفرت حاصل ہو جائے گی۔اسی لیے اہل علم نے امت کی راہنمائی کے لیے عقائد، فقہ، احکام، آداب اور دیگر موضوعاتپر قلم اٹھا کر گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔حسبِ موقعہ کبائر کا تذکرہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ گناہوں کے برےاثرات‘‘ علامہ الامام الحافظ عبد الرحمن ابن جوزی کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا محمد انس چترالی صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں امام ابن جوزی کی حالات زندگی اور ان کی کتاب ’’المعاصی والذنوب‘‘ مختصر تجزیہ کیا گیا ہے۔ امید ہے یہ کتاب گناہوں سے بچنے میں کافی معاون ثابت ہوگی۔ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔(رفیق الرحمٰن) 

  • 169 #6476

    مصنف : ڈاکٹر سلیم اختر

    مشاہدات : 1943

    ہماری جنسی اور جذباتی زندگی

    (ہفتہ 07 جولائی 2018ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

    آج کا انسان جس ماحول میں سانس لے رہا ہے اس نے اس کی شخصیت کو لخت لخت کر کے ایسے اعصابی تناؤ میں مبتلا کیا کہ انسان خود اپنا آسیب بن کر رہ گیا جس کے نتیجے میں جب اس کا اپنی ذات پر سے ایمان اٹھ گیا تو دوسروں سے ابلاغ ختم ہو گیا۔ یوں لوگ پرچھائیوں میں تبدیل ہو گئے اور دیا سایوں کی بستی بن گئی۔چنانچہ آج کا انسان اپنے سایہ کو بھی دوسروں کا سایہ سمجھتے ہوئے اس سے لرزاں ہے۔ابن العربی نے جہنم کو ایک سرد جگہ قرار دیا تھا۔ جہاں ہر آنے والا اپنی آگ خود ساتھ لاتا ہے اس کے برعکس سارتر کے خیال میں جہنم دوسرے لوگ ہیں جبکہ فرائڈ کے خیال میں جہنم جنس ہے جس کی آگ میں انسان صدا جلتا رہتا ہے۔ یہ تین نظریات اس جبر کے غماز ہیں جس سے کسی نہ کسی طور سے انسان کو عہدہ بر آ ہونا پڑتا ہے۔ اور جدید انسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے تینوں جہنموں کی آگ میں جلنا پڑ رہا ہے اور اسی لیے ذہنی عوارض میں مبتلا مریضوں اور خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی حوالے سے ہے جس میں تفصیل سے اسی موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یہ کتاب طویل اور مختصر مضامین کا مجموعہ ہے‘ ان کے موضوعات میں تنوع ہے اور جن ذہنی مسائل سے بحث کی گئی ہے وہ ذہنی زندگی کے بیشتر امور اور شخصیت کے بہت سے مستور گوشوں پر سے پردے اٹھاتے ہیں۔ ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ہماری جنسی اور جذباتی زندگی ‘‘ ڈاکٹر سلیم اختر  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 170 #6741

    مصنف : گلریز محمود

    مشاہدات : 1039

    ہمارے بچے اور والدین کی شرعی ذمہ داریاں

    (جمعرات 16 اگست 2018ء) ناشر : مکتبہ جدید پریس لاہور

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ بچے  اللہ تعالیٰ  کابہترین  عطیہ اور انسان کے لیے صدقہ جاریہ  ہیں ۔والدین اپنے بچوں کے مستقبل کےبارے  میں بہت سہانے خواب دیکھتے ہیں اور اپنا مال ودولت  بھی کھلے  دل سے ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں مگردین  کے  لحاظ سے   ان کی تربیت کا پہلو بہت کمزور رہ جاتا ہے ۔نتیجتاً اولاد صدقہ جاریہ بننے کی بجائے نافرمان بن جاتی ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ہمارے بچے اور والدین کی شرعی  ذمہ داریاں‘‘ محترمہ  گلریز محمود صاحبہ کی  مرتب شدہ ہے ۔ مصنفہ  کا  اس کتاب کو لکھنے  کا مقصد  والدین  کورسول اللہﷺ کے طریق تربیت کی جھلک دکھانا اور یہ بتانا  ہے کہ بچوں کی  تربیت کس انداز سےکریں کہ  وہ ان کےلیے حقیقتاً صدقہ جاریہ بن جائیں۔مصنفہ نے اس کتاب میں  کوشش کی  ہے کہ لوگوں کو نبی کریم ﷺ کےطریقہ تربیت کے چیدہ چیدہ واقعات  بتائے جائیں کہ پیغمبرانہ ذمہ داریوں  کےباوجود آپ ﷺ نے اپنی اولاد اور نواسوں سے کس طرح محبت کی اُن کا احتساب کس طرح کیا ۔عام بچوں سے آپ ﷺ کابرتاء کیا تھا  ۔ بچے کی پیدائش پر کون سے رسم  ورواج مسنون ہیں۔ ان کی اہمیت کیا ہے  اور آج کل کے دور میں لوگوں نےان رسوم ورواج میں کس طرح کے اضافے کر لیے ہیں۔آپ ﷺ نے اس دور  کےبچوں کوتربیت کے لیے   کون سے خصوصی طریقے اختیار کیے ۔ آج  والدین کو وہ طریقے  اپنانے کی ضرورت  ہے ۔ اگر وہ اولاد کی تربیت شریعت کے مطابق نہیں کریں گے  تو ان کی اہمیت اولاد کی نظر میں صرف اس وقت تک  ہوگی جب  تک کہ  وہ اولاد کے لیے مالی طور پر فائدہ مند ہیں ۔اس  کے بعد ان  کی حیثیت گھر میں پڑی ہوئی ایک فاتو چیز کی ہوجائے گی۔اس کتاب میں کچھ بزرگان دین کےبچپن کےواقعات بھی بیان کئے گئے ہیں او ربتایا گیا ہےکہ ان کی  ماؤں نے ان  کی تربیت کس طرح کی۔نیز اس کتا میں  بچوں کی تربیت کےحوالے سے  مفکرین کی آراء اور ماہر نفسیات اورڈاکٹروں کےانٹرویو بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  مصنفہ کی  اس  کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتا ب کو  عامۃ الناس  کےلیے نفع بخش بنائے  ۔ (آمین)(م۔ا) 

     

< 1 2 ... 10 11 12 13 14 15 16 17 18 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1877
  • اس ہفتے کے قارئین 13574
  • اس ماہ کے قارئین 51968
  • کل قارئین49428826

موضوعاتی فہرست