دکھائیں کتب
  • 121 مادیت کی دلدل اور بچاؤ کی تدابیر (منگل 04 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:891

    آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں‘ یہ مغربی تہذیب کے غلبہ کا دور ہے۔یہ تہذیب اپنے طاقتور آلات کے ذریعہ ملکی سرحدوں کی حدود‘ درسگاہوں اور گھروں کی دیواروں کو عبور کر کے‘ افراد کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ  چکی ہے۔ عورت ومرد اس تہذیب کے مظاہر پر فریفتہ ہو رہے ہیں۔ اس تہذیب کی پیدا کردہ ایجادات نے اگرچہ انسان کو بہت ساری سہولتیں بھی پہنچائی ہیں‘ آمد ورفت اور رابطہ میں آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں‘ گرمی وسردی سے بچاؤ کےلیے انتظامات ہو گئے ہیں‘ خوبصورتی اور زیب وزینت کے نت نئے سامان ایجاد ہوئے ہیں‘ انسانی جسم کو لاحق بعض اہم بیماریوں کے علاج میں سہولتیں پیدا ہو گئی اور ظاہری روشنی اور چمک دمک میں اضافہ ہو ا ہے لیکن اس کے کئی ایک نقصانات بھی جیسا کہ رشتوں کی اہمیت گنوا دی گئی ہے لوگ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور مالداروں کو احساس برتری اور غریبوں کو احساس کمتری کے امراض میں مبتلا کر دیا گیا ہے غرض اس مادی تہذیب نے رونق اور زیب وزینت کے نت نئے سامان کی قیمت پر انسان کے دل اور روح کو آخری حد تک بے چین کر دیا ہے۔ دل روح کی بڑھتی ہوئی اس بے چینی نے ہی انسان سے انسانیت اور محبت ورواداری‘ ہمدردی اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے کی حسوں کو مسدود کر دیا ہے۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں حقیقی بندہ مومن کے حالات‘ احساسات اور تفکرات کے حوالے سے انہی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور معاشرہ کی مختلف طبقات کی کمزوریوں کی بڑی دردمندی وفکر مندی اور تفصیل سے نشاندہی کر کے‘ اصلاح کا لائحہ عمل پیش کیا گی...

  • 122 ماں خاندان کا محور (جمعہ 06 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:765

    ماں اس ہستی کا نام ہے جو زندگی کے تمام دکھوں اور مصیبتوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے۔ اپنی زندگی اپنے بچوں کی خوشیوں، شادمانیوں میں صَرف کرتی چلی آئی ہے اور جب تک یہ دنیا قائم و دائم ہے یہی رسم جاری رہے گا۔یوں تو دنیا میں سبھی اشرف المخلوقات چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، چاہے کسی بھی مذہب سے اس کا تعلق ہو ماں ہر ایک کے لیئے قابلِ قدر ہے۔ اسلامی تعلیم کی روشنی میں اللہ کی طرف سے ماں دنیائے عظیم کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔ ماں تو ایک ایسا پھول ہے جو رہتی دنیا تک ساری کائنات کو مہکاتی رہے گی۔ اس لئے تو کہتے ہیں کہ ماں کا وجود ہی ہمارے لئے باعثِ آرام و راحت، چین و سکون، مہر و محبت، صبر و رضا اور خلوص و وفا کی روشن دلیل ہے۔ماں اپنی اولادوں کے لیے ایسا چھاؤں ہے جس کا سایہ کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق بنی نوع انسان پر حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد میں سے سب سے زیادہ حق اس کے والدین کا ہوتا ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے فرمایا :تیری ماں کا۔ اس نے دوبارہ اور سہ بارہ پوچھا: آپ نے فرمایا: تیری ماں کا۔ پھر فرمایا تیرے والد کا۔ ماں اللہ کے احسانات میں سے وہ احسان ہے جس کا جتنا بھی شکر بجا لایا جائے کم ہے۔قرآن پاک نے ماں باپ سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ ماں باپ اگرچہ مشرک بھی ہوں تب بھی ان سے بدسلوکی کرنے سےمنع فرمایا گیا ہے۔ ماں کی عظمت وشان پرمتعدد آیات قرآنی اور احادیث نبویہ موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتا بچہ ’’ماں خاندان کا محور‘‘ محتر...

  • 123 مثالی گھر (بدھ 28 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2153

    انسان کے لیے گھر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے او ر اللہ تعالی نے کتاب ِمبین میں گھر کی سہولت کی دستیابی کواپنا انعام قرار دیا ہے ۔انسان جب اپنے چاروں اطراف نظر دوڑائے تو کتنے ہی لوگ ایسے نظر آئیں گے ، جو گھر جیسی نعمت سے محرومی کی وجہ سے سڑکوں کے کنارروں اور پارکوں میں پڑے راتیں بسر کرتے ہیں یا چھت کی عدم دستیابی کے سبب خیموں میں زندگی کے دن گزار نے پر مجبور ہیں ۔ ایسی صورت میں گھر کی سہولت جیسی نعمت کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اوراس نعمت غیر مترقبہ پر اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔چونکہ گھر کا میسر آنا انسان کے لیے سعادت مندی کی علامت او راللہ کریم کی بہت بڑی نعمت ہے ،اس اعتبار سے گھر کے سر پرست پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن پرعمل پیرا ہو کر وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے نجات کاساماں کرسکتا ہے او ر روز ِقیامت اپنی مسؤلیت سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے ۔گھریلو معاملات کی اصلاح اور اولاد ووغیرہ کی دینی واخلاقی تربیت گھر کےسر پرست کی ذمہ داری ہے ۔زیر نظر کتا ب''مثالی گھر'' مولانا فاروق رفیع ﷾ (مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ) کی تصنیف ہے موصوف تصنیف وتالیف ،تخریج وتحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا نصف درجن کتب کے مصنف ، اچھے مدرس اور واعظ ہیں۔ اللہ تعالی ان کےعلم وعمل او ر زور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین) موصوف نے اس کتاب میں گھر کی اصلاح کے متعلق شرعی تعلیمات کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور جو عادات ِ بد ،اخلاق رزیلہ گھر کے بگاڑ او ربدامنی کا سبب بنتے ہیں ان پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ یہ کتاب گھرکے افراد کی اصلاح و تر...

  • 124 محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب (بدھ 27 جون 2018ء)

    مشاہدات:1151

    حبِ رسول ﷺ اہل ایمان کے لیے ایک روح افزاءباب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حبِ رسول ﷺ کے بروئے شریعت کچھ تقاضے ہیں۔ خود نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان، مال، اولاد، ماں باپ غرض جمیع انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے‘‘۔ محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعتِ رسول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کےبغیر مومن ہونے کا دعویٰ منافقت کی بیّن دلیل ہے اور حب رسول ﷺ ہی وہ پیمانہ ہےجس سے کسی مسلمان کے ایمان کوماپا جاسکتا ہے۔ دعوائے محبت ہو اوراطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتاہے۔ حب رسولﷺ کےتقاضوں میں سے ایک تقاضا تو نبی ﷺ کا ادب و احترام کرنا، آپ سے محبت رکھنا ہے۔ ۔پیغمبر اعظم وآخر الزمان ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے کہ آپ کے جان نثاروں کی زندگیاں جہاں محبتِ رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسولﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسیہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرمایا ہے۔صحابہ کرام نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کرتے تھے اوراس محبت میں مال ودولت کیا جان تک قربان کردیتے تھے تاریخ میں ایسی ایک نہیں سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ صحابہ کرام کا یہی وہ جذبہ اور ایسی ہی محبت آج بھی دلوں میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ محبت رسول ﷺ کے آداب ‘‘ علامہ عبدالرؤف محمد عثمان  کی عربی تصنیف ’’ محبۃ الرسول بین الاتباع والابتداع ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب فاضل مصنف کی نہایت اہم تحقیقی اور مدلل علمی شاہکار ہے یہ کتاب در اصل فاضل مص...

  • 125 مخلوط معاشرہ (اتوار 05 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1890

    دورِ حاضر میں مخلوط معاشرہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے ۔مخلوط معاشرے کی ابتدا کہاں سے ہوئی ؟ یہ جاننا ایک مشکل امر ہے لیکن اس دعوے میں کوئی اشتباہ اور باک نہیں ہے کہ اس کی ابتدا ان معاشروں میں ہوئی جن میں الہامی تعلیمات سے انتہائی زیادہ روگردانی کے جراثیم پھیل گئے او ر انہوں نے الہامی تعلیمات کے برعکس ہرکام انجام دینا اپنے اورلازم کرلیا۔غیر مسلم معاشرے مشرق کے ہوں یا مغرب کے ان میں نہ تو خوف آخرت پایا جاتا ہے نہ توحید کا اقرار ،ان کی مذہبی رسومات وروایات میں مخلوط معاشرہ کسی نہ کسی سطح پر ضرور پایا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی زندگی میں مخلوط ،معاشرے کا در آنا ایک المیہ ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے   واضح کیا ہے کہ قرآن وحدیث میں مخلوط معاشرے سے بچاؤ کے لیے وسیع پیمانے پر احکامات بیان کیے گئے ہیں اور ان کےایک ایک جزو کی تفصیل بھی موجود ہے تاکہ مخلوط معاشرے کے ایمان پرمسموم اثرات سے فرد اور جماعت دونوں محفوظ رہیں۔اللہ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرم...

  • 126 مدنی معاشرہ(عہد رسالت میں) (جمعہ 06 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:17880

    پیغمبرِ اسلام کے رفعت ذکر کے متنوع مظاہر میں سے ایک مظہر یہ ہے کہ آپ ﷺ کی  ذات ستودہ  صفات اورتعلیمات پر آئے روز نئی نئی کتابیں اور مقالات لکھے جا رہے ہیں اور دنیا کے گوشے گوشے میں بسنے والے انسان اپنی ضرورت اور ذوق کے مطابق ان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتب کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو آقائے دو جہاںؐ کا برپا کردہ معاشرہ اپنی ساری رعنائیوں اور تابانیوں کے ساتھ پڑھنے والے کے سامنے آجاتا ہے۔ ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری نے زیرِ نظر کتاب ’’المجتمع المدنی فی عھد النبوۃ‘‘ میں سیرت نگاری کا ایک جدید منہج متعارف کرایا ہے جو محدثین کے اصولِ تحقیق کے بھی مطابق ہے اور جدید مغربی مؤرخین کے اختیار کردہ اصولِ تحقیق پر بھی پورا اترتا ہے۔ اس قابلِ قدر کتاب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کی سعادت مرحومہ عذرا نسیم فاروقی کے حصے میں آئی ہے۔ اور یہ ’’مدنی معاشرہ، عہد رسالت میں‘‘ کے نام سے مطبوعہ شکل میں پیش خدمت ہے۔ (م۔ آ۔ ہ)
     

  • 127 مسلم ثقافت ہندوستان میں (منگل 21 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1051

    مولانا عبدالمجید سالک( (1894ء-  1959ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، صحافی، افسانہ نگار اور کالم نگار تھے۔عبدالمجید سالک 12 ستمبر، 1894ء کو بٹالہ، گرداسپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بٹالہ اور تہذیب 

  • 128 مسلمان حکمرانوں کے تمدنی جلوے (بدھ 29 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1491

    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی جلوے‘‘ دار المصنفین کے رفیق سید صباح الدین عبد الرحمٰن کی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے دربار،محلات، حرم، لباس، پارچہ بافی، زیورات، جوہرات، خوشبوئیات، خورد و نوش، ساز وسامان، تہوار، تقریبات، موسیقی، اور مصوری وغیرہ کی مکمل تفصیل بیان کی ہے۔ (م۔ا)

  • 129 مسلمان حکمرانوں کے تمدنی جلوے (بدھ 29 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1491

    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے عہد کے تمدنی جلوے‘‘ دار المصنفین کے رفیق سید صباح الدین عبد الرحمٰن کی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے عہد کے دربار،محلات، حرم، لباس، پارچہ بافی، زیورات، جوہرات، خوشبوئیات، خورد و نوش، ساز وسامان، تہوار، تقریبات، موسیقی، اور مصوری وغیرہ کی مکمل تفصیل بیان کی ہے۔ (م۔ا)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 691
    • اس ہفتے کے قارئین: 11597
    • اس ماہ کے قارئین: 36125
    • کل قارئین : 47156934

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں