دکھائیں کتب
  • 81 علم معاشیات اور اسلامی معاشیات (جمعرات 22 جون 2017ء)

    مشاہدات:3527

    دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے۔ اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "علم معاشیات اور اسلامی معاشیات" محترم ڈاکٹر اوصاف احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلامی معاشیات کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔ یہ اپنے موضوع ایک انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 82 غیر سودی بنک کاری (منگل 20 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2575

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے۔ زیر تبصرہ کتاب''غیر سودی بنک کاری "انڈیا کے معروف عالم دین ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے پروفیسرمحترم ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی صاحب کی تصنیف  ہے،جس میں انہوں نے غیر سودی بینکاری کا خاکہ پیش کیا ہے کہ اگر صدق دل سے سودی بینکاری کی جگہ غیر سودی بینکاری کو نافذ کرنا ہو تو اس خاکے کے مطابق غیر سودی بینکاری کا نظام نافذ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 83 قرآن کی معاشی تعلیمات (منگل 23 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2500

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن کی معاشی تعلیمات‘‘عالمِ اسلام کے عظیم مفکر سید ابو الاعلی مودودی﷫ کی کاوش ہے ۔ انہوں نے قرآنی آیات کی روشنی میں انسانی معیشت کے بارے میں واضح کیا ہے کہ اولین حقیقت جسے قرآن مجید بار بار زور دے کر ب...

  • 84 قرض کے فضائل ومسائل (پیر 03 مئی 2010ء)

    مشاہدات:16200

    بسااوقات انسان اپنےوسائل سےاپنی ضروریات یااپنےکاروباری منصوبےپورےنہیں کرسکتاایسے حالات میں پیدا ہونے والے  سوالات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔کیا وہ قرض لے سکتاہے؟،قرض  کی ادائیگی کس حد تک ضروری ہے؟،ادائیگی میں کیساطرزعمل  اختیار کرناچاہیے؟،قرض واپس کروانےکےلیے شریعت اسلامیہ  میں کون سے اخلاقی اقدامات ہیں ؟قرض لیتے وقت کوئی شرط لگائی جاسکتی ہے؟ اس کتاب میں ان سوالات کےعلاوہ اور بھی بہت سارے سولات کےجوابات سمجھنےسمجھانےکی کوشش کی گئی ہے ۔
     

  • 85 لاٹری (ہفتہ 22 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1897

    سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(بخاری:2059) دور حاضر میں مال حرام کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔۔ زیر تبصرہ کتاب " لاٹری"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لاٹری کی حرمت،لاٹری کی مختلف شکلیں ،لاٹری کی ابتداء ،مسلم ممالک میں لاٹری کی آمد ،پاکستان میں لاٹری اور لاٹری سے متعلق متعدد دیگر موضوعات پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 86 محاضرات معیشت و تجارت (اتوار 17 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3185

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات معیشت وتجارت" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےدوحہ قطر میں مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے۔۔یہ محاضرات...

  • 87 مسئلہ سود اور غیر سودی مالیات (جمعہ 16 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:18756

    احترام مساجد، حرمت قرآن اور ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات میں جانیں قربان کر دینے کی حد تک زود حس واقع ہونے والی ہماری قوم سود کے معاملے میں جو بموجب حکم خداوندی "خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھلی جنگ ہے" بالکل بے حس ثابت ہوئی ہے۔ اتنی بڑی تنبیہہ ہمارے جذبات و احساسات میں کوئی ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں کرپاتی اور سود سے ہم اتنی بھی کراہت محسوس نہیں کرتے جتنی  کہ شراب اور لحم خنزیر سے۔ اس میں ہمارے ان علماء کا بھی دخل ہے جو سود اور ربا کے درمیان فرق کر کے سود کو مباح قرار دیتے ہیں اور ان نام نہاد روشن خیال دانشوروں کا بھی جن کا ایمان ہے کہ آج کے دور میں سودی بینکاری کے بغیر کسی ملک کا معاشی نظام چل ہی نہیں سکتا۔

    زیر تبصرہ کتاب اسلامی معاشیات کے ماہر اور حکومت پاکستان کی آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں اعلیٰ عہدہ پر فائز شخصیت محمد اکرم خان کی تالیف ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں انہوں نے سود اور ربا میں تفریق کی گمراہی کا پردہ چاک کیا ہے اور دوسرے حصے میں غیر سودی مالیات کی معقول اور قابل عمل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    سود 
  • 88 مضاربت میزان شریعت میں (اتوار 28 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1119

    عصر حاضر کا اگر تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تیس سالوں میں دنیا میں جتنی تبدیلیاں رونما ہوئی وہ سابقہ ادوار میں نہ ہوئی اور انہی تبدیلیوں میں سے ایک خوش آئند تبدیلی جو سامنے آئی وہ کویت‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ ملائشیا وغیرہ میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے اُٹھائے گئے مثبت عملی اقدامات ہیں جو بلا شک وشبہ ایک مثبت آغاز  قرار دیے جا سکتے ہیں۔ عالم اسلام کو جس طرح عالم کفر کے سودی نظام معیشت نے اپنے تسلط مین لیا ہوا ہے اس کے بعد بجا طور پریہ  کہا جا سکتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  محقق نے موضوع کی جملہ جزئیات کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر میں پیش آمدہ مسائل اور ان کا حل سوالات وجوابات کی شکل میں دیا ہے جبکہ آغاز میں اقتصاد اور معیشت کی اساسیات‘ آداب اور احکام جامعیت کے ساتھ ذکر کیے ہیں۔ اسمیں چار ابواب ہیں‘ پہلے باب میں اسلام کے نظام اقتصاد کے بنیادی خصائص وضوابط کو‘ دوسرے میں مضاربت تاریخی واخلاقی پس منظر کو‘ تیسرے میں مضاربت‘ تعارف‘ اقسام واحکام کو اور چوتھے میں مضاربت سے متعلق علمائے امت کی جہود مبارکہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔اور آخر میں مصادر ومراجع کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ مضاربت میزان شریعت میں ‘‘ ڈاکٹر شاہ فیض الابرار صدیقی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے...

  • 89 معاشی مسائل اور قرآنی معلومات (بدھ 30 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2275

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "معاشی مسائل اور قرآنی تعلیمات"انڈیا کے معروف عالم دین محترم اوصاف احمد صاحب اور محترم عبد العظیم اصلاحی صاحب کی مرتب کردہ تصنیف ہے،جس میں انہوں نے ادارہ علوم القرآن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سیمینار بعنوان"معاشی مسائل اور قرآنی تعلیمات" میں مختلف اہل علم کی طرف سے پیش کئے جانے والے مقالات کو کتابی شکل...

  • 90 معاشیات اسلام ( مودودی ) (جمعہ 19 فروری 2016ء)

    مشاہدات:3363

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب’’معاشیات اسلام‘‘ عالمِ اسلام کے عظیم مفکر سید ابو الاعلی مودودی﷫ کی تصنیف ہے۔یہ کتاب فلسفۂ معیشت کی ایک راہ کشا کتاب ہے ۔ اس میں ان اولین امور سے بحث کی گئی ہے۔ جنہیں ماہرین معاشیات بالعموم چھوڑدیتے ہیں او...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2168
  • اس ہفتے کے قارئین: 4366
  • اس ماہ کے قارئین: 38387
  • کل قارئین : 47854222

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں