دکھائیں کتب
  • 61 ربٰو اور بنک کا سود (منگل 07 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2636

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں...

  • 62 رزق کی کنجیاں ( جدید ایڈیشن ) (اتوار 19 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3095

    دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزدی سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا باطل گمان یہ ہے ہےکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی پابندی رزق میں کمی کا سبب ہے اس سے زیادہ تعجب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ بظاہر دین دار لوگ بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معاشی خوشی حالی اور آسودگی کے حصول کےلیے کسی حد تک اسلامی تعلیمات سے چشم پوشی کرنا ضروری ہے ۔ یہ نادان لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ کائنات کے مالک وخالق اللہ جل جلالہ کے نازل کردہ دین میں جہاں اُخروی معاملات میں رشد وہدایت کا ر فرما ہے وہاں اس میں دنیوی امور میں بھی انسانوں کی راہنمائی کی گئی ہے جس طرح اس دین کا مقصد آخرت میں انسانوں کیو سرفراز وسربلند کرنا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ دین اس لیے بھی نازل فرمایا ہے کہ انسانیت اس دین سے وابستہ ہو کر دنیا میں بھی خوش بختی اور سعادت مندی کی زندگی بسر کرے ۔کسبِ معاش کے معاملے میں اللہ تعالیٰ او ران کےرسول کریم ﷺ نے بنی نوع انسان کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کےاسباب کو خوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے ۔ اگر انسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھ کر مضبوطی سے تھام لے اور صحیح انداز میں ان سے استفادہ کرے تو اللہ مالک الملک جو ’’الرزاق ذو القوۃ المتین‘‘ ہیں لوگوں کےلیے ہر ج...

  • 63 رزق کی کنجیاں قرآن وسنت کی روشنی میں (بدھ 09 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:13261

    دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزد سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔ پیش نظر کتاب ’رزق کی کنجیاں‘ میں معاشی مسائل کا آزمودہ اور کار آمد حل نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر فضل الہٰی ایک علمی و معتدل تعارف رکھنے کے ساتھ ساتھ دین کی صحیح تعبیر کا بھی علم رکھتے ہیں۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں قرآن و حدیث کی واضح براہین کی روشنی میں رزق کے حصول کے اسباب کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔

     

  • 64 زر کا تحقیقی مطالعہ شرعی نقطہ نظر سے (جمعہ 14 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:17477

    ’’زر کا تحقیقی مطالعہ شرعی نقطہ نظر سے‘‘کے نام سے ڈاکٹر مولانا عصمت اللہ کی یہ تالیف اقتصادیات پر جامع اور نہایت مفید کاوش ہے ۔ یہ اصل میں پی۔ایچ۔ڈی کا تحقیقی مقالہ ہے جسے بعد میں اس کی جامعیت و انفرادیت کی بناء پر کتابی شکل دی گئی ۔ موصوف نے جس مہارت اورآسان انداز سے اس پچیدہ موضوع کا احاط کیا ہے وہ لائق تحسین ہے ۔اگرچہ اس موضوع پربہت سا مواد قرطاس کی نذر کیا جا چکا ہے اور مختلف مولفین کی قلم آزمائی کی وجہ سے  بیشتر کتابیں بھی اہل علم کے ہاتھوں میں آ چکی ہیں لیکن یہ کتاب بہت سی خصوصیات کی وجہ سے اپنے اندر انفرادیت رکھتی ہے مثلا اس میں اقتصادیات کی جملہ ضروری مباحث پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے،ڈیبٹ کارڈ،چارج کارڈ،کریڈٹ کارڈ،بینک ڈرافٹ،بانڈز،اور شیئرز وغیرہ جیسے جدید اور دقیق مسائل کی بڑی جامعیت اور عمدگی سے وضاحت کی گئی ہے ،اس کے علاوہ زر جو اقتصادیات کی بنیاد ہے کا بڑی شرح وبسط سے احاط کیا گیا ہے اسی طرح سود خور ماہرین اقتصادیات کے سود کو حلال قرار دینے کے تمام پہلوں کی شرعی دلائل اور معاصر ماہرین کے نقطہ نظر سے تردید کی گئی ہے ۔میری رائے میں مذکورہ تالیف اہل علم کے لیے انمول تحفہ او ر اور علم اقتصادیات کے باب میں  قابل قدر اضافہ ہے۔ (ناصف)
     

  • دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کا اسلامی معاشی نظام سے موازنہ "شیخ التفسیر محترم علامہ شمس الحق افغانی صاحب ﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی عظیم الشان معاشی نظام کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئےسرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی نظام کا اسلامی نظام سے موازنہ کیاہے۔ اسلام حلال طریقے سے کمانے اور حلال جگہ پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔یہ ا...

  • عہدجدید کو عہدِ معاشیات کے نام سے موسوم کرنا غلط نہ ہوگا۔ ان معنوں میں کہ عصرِ حاضر میں جتنے انقلابات ممالکِ عالم میں رونما ہوئے اکثر وبیشتر ان کی اساس معاشی تھی۔ فوڈلزم کا نظام شکست وریخت کا شکار ہوا۔ بادشاہتیں رخصت ہوئیں اور ذرائع معاش میں وسعت پیدا ہوئی۔ نئی ایجادات ہوئیں‘ سائنس نے ترقی کی‘ کارخانے قائم ہوئے‘ رسل ورسائل ابلاغ عامہ کے سلسلے وسعت پذیر ہوئے‘ برسوں کے سفر منٹوں میں طے ہونے لگے۔ لا سلکی ذرائع ظاہر ہوئے پھر الیکڑانک کا دور آ گیا اور آپ پوری دنیا ایک کنبہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان تمام ترقیات کو سرمایہ درانہ نظام نے جنم دیا اور بھر پور تحفظ فراہم  کیا لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ سرمایہ درانہ نظام در اصل ظالم ترین استحصالی نظام ہے جس نے طبقات جنم دیے اور صرف افراد ہی کو نہیں بلکہ ملکوں کو جبر واستحصال کا شکار بنایا۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے جس میں سرمایہ درانہ نظام انشورنس اور اسلام کے نظام کفالت عامہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ کتاب نہایت مفید اور جامع انداز میں لکھی گئی ہے۔اس میں آٹھ ابواب ہیں۔پہلے میں انشورنس کا مفہوم‘ اس کا طریقۂ کار‘ اس کی شرائط‘اس کی اہمیت‘ اس کی اقسام اور اس کی جائز صورتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔دوسرے میں موجودہ نظام انشورنس کے مفاسد‘تیسرے میں اسلام کے نظام کفالت عامہ کو‘ چوتھے میں کفالت عامہ کے تنظیمی ڈھانچے کو‘پانچویں میں کفالت عامہ کے ذرائع آمدن کو‘ اور اس کے بعد والے تمام ابواب میں مختلف طرز سے کفالت عامہ...

  • عہدجدید کو عہدِ معاشیات کے نام سے موسوم کرنا غلط نہ ہوگا۔ ان معنوں میں کہ عصرِ حاضر میں جتنے انقلابات ممالکِ عالم میں رونما ہوئے اکثر وبیشتر ان کی اساس معاشی تھی۔ فوڈلزم کا نظام شکست وریخت کا شکار ہوا۔ بادشاہتیں رخصت ہوئیں اور ذرائع معاش میں وسعت پیدا ہوئی۔ نئی ایجادات ہوئیں‘ سائنس نے ترقی کی‘ کارخانے قائم ہوئے‘ رسل ورسائل ابلاغ عامہ کے سلسلے وسعت پذیر ہوئے‘ برسوں کے سفر منٹوں میں طے ہونے لگے۔ لا سلکی ذرائع ظاہر ہوئے پھر الیکڑانک کا دور آ گیا اور آپ پوری دنیا ایک کنبہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان تمام ترقیات کو سرمایہ درانہ نظام نے جنم دیا اور بھر پور تحفظ فراہم  کیا لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ سرمایہ درانہ نظام در اصل ظالم ترین استحصالی نظام ہے جس نے طبقات جنم دیے اور صرف افراد ہی کو نہیں بلکہ ملکوں کو جبر واستحصال کا شکار بنایا۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے جس میں سرمایہ درانہ نظام انشورنس اور اسلام کے نظام کفالت عامہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ کتاب نہایت مفید اور جامع انداز میں لکھی گئی ہے۔اس میں آٹھ ابواب ہیں۔پہلے میں انشورنس کا مفہوم‘ اس کا طریقۂ کار‘ اس کی شرائط‘اس کی اہمیت‘ اس کی اقسام اور اس کی جائز صورتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔دوسرے میں موجودہ نظام انشورنس کے مفاسد‘تیسرے میں اسلام کے نظام کفالت عامہ کو‘ چوتھے میں کفالت عامہ کے تنظیمی ڈھانچے کو‘پانچویں میں کفالت عامہ کے ذرائع آمدن کو‘ اور اس کے بعد والے تمام ابواب میں مختلف طرز سے کفالت عامہ...

  • 68 سرمایہ دارانہ نظام ایک تعارف (منگل 07 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:3045

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہرشخص فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "سرمایہ دارانہ نظام، ایک تعارف"محترم ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کا تعارف کروایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 69 سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ (ہفتہ 21 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1291

    سرمایہ دارانہ نظام انگریزی ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں سرمایہ بطور عاملِ پیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت کی بجائے  کسی پرائیوٹ بینک کے اختیار میں ہوتا ہے۔اشتراکی نظام کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام میں نجی شعبہ کی ترقی معکوس نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ داروں کی ملکیت میں سرمایہ کا ارتکاز ہوتا ہے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس میں منڈی آزاد ہوتی ہے اس لیے اسے آزاد منڈی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ آج کل کہیں بھی منڈی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی مگر نظریاتی طور پر ایک سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ جملہ حقوق، منافع خوری اور نجی ملکیت اس نظام کی وہ خصوصیات ہیں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین کے مطابق غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے۔ جدید دانشوروں کے مطابق آج سرمایہ دارانہ نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک متبادل نظام کی آوازیں شدت سے اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں۔ مختصراًسرمایہ دارانہ نظام یہ کہتا ہے کہ ذاتی منافع کے لئے اور ذاتی دولت و جائیداداور پیداواری وسا‏‏ئل رکھنے میں ہر شخص مکمل طور پر آزاد ہے، حکومت کی طرف سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم دنیا میں سو فیصد (%100)سرمایہ دارانہ نظام کسی بھی جگہ ممکن نہیں، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح لوگوں کے کاروبار میں مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کا سارا نظام سود پر مبنی ہیں۔ سود ہی کے ذریعے مغربی طاقتیں پورے پورے ممالک کو تباہ کر...

  • 70 سود (مودودی) (پیر 21 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4184

    سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے   مامور کیا تھا جس کو سودخواروں اعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سود‘‘ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نےسود کے ہر پہلو پر تفصیل کے ساتھ ایسی مدلل بحث کی ہے کہ کسی معقول آدمی کواس کی حرمت وشناعت میں شبہ باقی نہ رہے ۔ اس کتاب میں سودپر نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے بحث کی گئ ہے بلکہ معاشی نقطۂ نظر سےبھی یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ سود ہر پہلو سے انسانی معاشرہ کے لیے مضرت رساں او رتباہ کن ہے۔یہ کتاب معاشیات سےدل چسپی رکھنے والے حضرات عموماً کالجوں ،یونیورسٹیوں میں معاشیات کےطلباء اور کاروباری حضرات کےلیے انتہائی مفید ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا مودودی  کی تمام دینی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2146
  • اس ہفتے کے قارئین: 4344
  • اس ماہ کے قارئین: 38365
  • کل قارئین : 47853495

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں