دکھائیں کتب
  • 71 عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست (پیر 13 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1456

    شریعت کے قوانین انسان کے تمام شعبوں ؛ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سب کو حاوی ہیں، شریعت کے قوانین میں وہ تقسیم نہیں جو آج کی بیشتر حکومتوں کے دستوروں میں پائی جاتی ہے، کہ ایک قسم کو پرسنل لاءیعنی احوالِ شخصیہ کا نام دیا جاتا ہے، جو کسی انسان کی شخصی اور عائلی زندگی سے متعلق ہوتی ہے، اور اس کے متعلق یہ غلط تأثر دیا جاتا ہے کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، اسی تأثر کا یہ اثر ہے کہ آج جن لوگوں کو مسلم دانشور کہا جاتا ہے، وہ یہ کہتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے کہ مذہب میرا اپنا ذاتی معاملہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں چاہوں تواس پر عمل کروں اور چاہوں تو نہ کروں؛ حالاں کہ اُن کی یہ سمجھ غلط ہے؛ کیوں کہ مسلمان کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں شریعتِ اسلامی کا پابند ہے، مختار نہیں۔قرآن وحدیث میں عائلی  مسائل  کی اہمیت  کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے  کہ قرآن کا کثیر حصہ انہی امور سے متعلق ہے  او ر نساء کے نام سے مستقل سورۃ کا نزول اس بات کی علامت ہے کہ خانگی امور ، اسلامی معاشرہ میں بے پناہ اہمیت  کے حامل  ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں عائلی قوانین کی تدوین وتنقید نے سیاسی ، سماجی اور معاشرتی افق پر بہت سے مدوجزر پیدا کئے ۔اسی مدوجزر نے مستقبل میں پاکستان کے معروضی حالات پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر صاحب  کا مقالہ بعنوان ’’ عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست‘‘ انہی نقوش وحالات کی قلمی تصویر ہے ۔جس میں عمل تحقیق  کی  مدد سے نتائج اخذ...

  • 72 علم المیراث (صفی احمد) (پیر 10 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:2194

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ، وراثت یا ورثہ کہتے ہیں۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کے بارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نے بھی صحابہ کواس علم کے طرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا۔ صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا زیدبن ثابت﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کے بعد زمانےکی ضروریات نے دیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک   شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غور و فکر کر کے تفصیلی و جزئی قواعد مستخرج کیے۔ اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’علم المیراث‘‘ مولانا صفی احمد مدنی﷾ کی مرتب شدہ ہے۔ جو علم میراث کے تمام ضروری مسائل پر مشتمل ہے جس سے ایک مبتدی طالب علم سےلے کر دین کا عام ادراک رکھنے والا بھی ضروری مسائل سے واقف ہوسکتا ہے۔ فاضل مصنف اس کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب کے مصنف ومترجم ہیں۔ (م۔ ا)

  • 73 غیر مسلم ممالک میں عدالتوں کی طلاق (جمعرات 04 اگست 2016ء)

    مشاہدات:1595

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 74 لو میرج اور اس کے مضمرات (ہفتہ 01 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2386

    1997ء میں جب صائمہ ارشد کیس منظر عام پر آیا اور عدالتوں نے شرعی تقاضوں کے منافی یہ فیصلہ دے دیا کہ بالغ لڑکی از خود اپنا نکاح کر سکتی ہے تو اسے اخبارات اور اسلام بیزار ذرائع ابلاغ نے خوب اچھالا۔کیونکہ اس کیس سے اسلام بیزار ،مغرب زدہ طبقے کو اپنے موقف کو مزید ابھارنے میں بہت بڑی کمک حاصل ہوئی تھی۔اس کیس نے دینی ،رفاہی اور معاشرتی حلقوں کے علاوہ قانونی ماہرین ،غیر ملکی این جی اوز اور عوام میں بھی ہلچل پیدا کر دی۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محترمہ باجی مریم خنساء نے قلم اٹھایا اور اخباری بیانات کو سامنے رکھ کر اس کیس کے مختلف پہلووں پر لکھنا شروع کر دیا ۔ان کے یہ قابل فخر مضامین ماہنامہ بتول،طیبات اور الحسنات میں شائع ہوتے رہے۔ان مضامین میں لو میرج کے داخلی اسباب ،لو میرج کے خارجی اسباب،ولی اور فقہ حنفی،عورتوں کے حقوق کی بازیابی یا حق تلفی،کیا ہر گھر میں صائمہ موجود ہے؟اور پسند یا عشق جیسے مضامین قابل ذکر ہیں۔محترمہ مریم خنساء کے ان مضامین میں محترمہ ام عبد منیب نے بھی چند دیگر مفید اور موضوع سے متعلقہ مضامین کا اضافہ کیا ہے ۔اور پھر ان تمام مضامین کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کر دیا ہے۔جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان دونوں بہنوں کے اس نیک عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 75 لڑکی شادی کیوں کرتی ہے (بدھ 13 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2195

    اسلامی نظامِ زندگی کی خصوصیات میں سے سب بڑی خصوصیت اور امتیاز اس کا خاندانی نظام ہے جس کی برکات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اسلامی تمدن میں نکاح کا تصور ایمان کی حفاظت کا سب سےمؤثر ذریعہ ہے جس سےصالح تمدن کی بنا استوار ہوتی ہے۔ اور نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رموددت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے ۔ کتاب وسنت میں حقوق الزوجین کے مسئلے کوبڑی جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، میاں بیوی کے درمیان تعلقات کے تمام ضروری اور نازک معاملات کوجس شرح وبسط کے ساتھ ادلیہ شرعیہ میں واضح کیا گیا ہے اس کا مقابلہ دنیاکی کوئی تہذیب یا مذہب نہیں کرسکتا۔ اسلام نے عورت کا جو دائرہ کار مقرر کیا ہے وہ نہ صرف عورت کے مقام کو متعین کرتا ہے بلکہ معاشرے میں عورت کو باعزت شخصیت کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب "لڑکی شادی کیوں کرتی ہے؟ "محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کا ایک جواب نامہ ہے جس کو کتابی قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ موصوف حافظ ؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں عرب وعجم میں ان کی دینی خدمات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موصوفؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل شرح و بسط کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات اور میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین( عمیر)

  • 76 متعہ کی حقیقت (بدھ 29 فروری 2012ء)

    مشاہدات:17970

    نکاح شریعت اسلامیہ کے بنیادی احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔ زمانہ جاہلیت ہی سے مشرکین عرب نے بدکاری وفحاشی کی بہت سے صورتوں کو قانونی جواز عطا کرتے ہوئے ان پرنکاح کا لیبل چسپاں کر رکھا تھا۔ اسلام نے باطل نکاح کی ان مروجہ قبیح صورتوں کو ختم کیا اور نکاح کا ایک معروف اور فطری طریقہ رائج کیا۔ دور جاہلیت کے باطل نکاحوں میں ایک قسم متعہ، بدقسمتی سے بعض بدعی فرقوں میں رائج ہو گیا اور اہل تشیع کے امامیہ یا اثنا عشریہ فرقے میں اس کے فقہی جواز کے سبب سے بدکاری وفحاشی کو قانونی فروغ ملا۔ شیخ عثمان بن محمد الخمیس نے اپنی اس کتاب میں قرآن وسنت اور اجماع امت سے متعہ کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ ازیں شیخ نے شیعہ کے ان دلائل کا بھی مسکت جواب دیا ہے کہ جن کے مطابق وہ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔
    شیخ نے اس کتاب کے آخر میں متعہ کے مفاسد اور اس کی حرمت کی حکمت پر بھی قیمتی ابحاث رقم کی ہیں۔ اس کتاب کے صفحہ 73تا 77 میں متعہ کے ذریعے پھیلنے والی بدکاری وفحاشی کے بارے ایک سروے یا جائزہ رپورٹ کے کچھ اقتباسات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس سروے کے مطابق متعہ سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت شیعہ علما کی ہے جو اپنی طالبات اور عقیدت مند خواتین سے ہر دوچاردن بعدیا ہر ایک دو ہفتے بعد یا ہر ماہ یا چند ماہ بعد ایک دو گھنٹوں یا ایک دو راتوں یا ایک دو ہفتوں کے لیے متعہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قبیح رسم سے ان فرقوں کو رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔
     

  • 77 متعہ کی حقیقت (بدھ 29 فروری 2012ء)

    مشاہدات:17970

    نکاح شریعت اسلامیہ کے بنیادی احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔ زمانہ جاہلیت ہی سے مشرکین عرب نے بدکاری وفحاشی کی بہت سے صورتوں کو قانونی جواز عطا کرتے ہوئے ان پرنکاح کا لیبل چسپاں کر رکھا تھا۔ اسلام نے باطل نکاح کی ان مروجہ قبیح صورتوں کو ختم کیا اور نکاح کا ایک معروف اور فطری طریقہ رائج کیا۔ دور جاہلیت کے باطل نکاحوں میں ایک قسم متعہ، بدقسمتی سے بعض بدعی فرقوں میں رائج ہو گیا اور اہل تشیع کے امامیہ یا اثنا عشریہ فرقے میں اس کے فقہی جواز کے سبب سے بدکاری وفحاشی کو قانونی فروغ ملا۔ شیخ عثمان بن محمد الخمیس نے اپنی اس کتاب میں قرآن وسنت اور اجماع امت سے متعہ کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ ازیں شیخ نے شیعہ کے ان دلائل کا بھی مسکت جواب دیا ہے کہ جن کے مطابق وہ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔
    شیخ نے اس کتاب کے آخر میں متعہ کے مفاسد اور اس کی حرمت کی حکمت پر بھی قیمتی ابحاث رقم کی ہیں۔ اس کتاب کے صفحہ 73تا 77 میں متعہ کے ذریعے پھیلنے والی بدکاری وفحاشی کے بارے ایک سروے یا جائزہ رپورٹ کے کچھ اقتباسات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس سروے کے مطابق متعہ سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت شیعہ علما کی ہے جو اپنی طالبات اور عقیدت مند خواتین سے ہر دوچاردن بعدیا ہر ایک دو ہفتے بعد یا ہر ماہ یا چند ماہ بعد ایک دو گھنٹوں یا ایک دو راتوں یا ایک دو ہفتوں کے لیے متعہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قبیح رسم سے ان فرقوں کو رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔
     

  • 78 متعہ کی شرعی حیثیت مع آئینہ شیعہ نما (جمعہ 28 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2461

    نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔اور متعہ جیسے زنا اور  اسلام کے حرام کردہ امور کو اپنا مذہب بنا رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " متعہ کی شرعی حیثیت مع آئینہ شیعہ نما " محترم پیر محمد فیض احمد اویسی رضوی کی تصنیف  ہے۔جس میں انہوں نے متعہ سمیت شیعہ کے متعدد عقائد ونظریات کے متعلق بڑی اچھی بحث کی ہے اور بڑی جامعیت کے ساتھ ان کی شاخوں ،،عقائد،ان کی تحریفات وتاویلات،تاریخ اسلام میں ان کے منفی وظالمانہ،تقیہ کے تحت ان کے مخفی خیالات سے حقیقت پسندانہ انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔یہ کتاب اس اہم موضوع پر بڑی جامع اور شاندار کتاب ہے اور اردو کے دینی وتاریخی لٹریچر  کے ایک خلا کی بڑی حد تک تکمیل کرتی...

  • 79 مسئلہ حجاب اسلامی تعلیمات اور یورپی نقطہ نظر (جمعرات 17 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1242

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے جو کامل واکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس دین کو آخر میں بھیجا اس کی بنیاد اگرچہ’ابدی عقائد وحقائق‘ پر مبنی ہے مگر وہ زندگی سے متعلقہ تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ اسلام فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے ایسی تعلیمات اور احکامات پیش کرتا ہے جن پر عمل کرنے کے نتیجے میں ایک صالح فرد اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ کتاب وسنت میں مردوعورت کے تعلقات کی فطری حدود بیان کر دی گئی ہیں اور ان تعلقات کی شرعی حیثیت بھی واضح کر دی گئی ہے۔ اسلام کی کچھ تعلیمات تو ایسی ہیں جو کہ مردوعورت دونوں کے لیے لازمی اور مشترک ہیں جیسے لباس کے مسائل کا تعلق ہر دو صنفوں سے ہے۔ مگر عائلی اور معاشرتی زندگی کی کچھ تعلیمات ایسی ہیں جن کا تعلق صرف خواتین سے ہے۔ ایسے مخصوص نسوانی مسائل میں اہم ترین مسئلہ’ حجاب‘ سے تعلق رکھتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں حجاب سے متعلقہ احکامات واشکالات کو بیان کیاگیا ہے اور اشکالات کا جواب مدلل انداز میں دیا گیا ہے اور اس بارے میں مؤقفات کو درج کر کے راحج کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کتاب میں پانچ ابواب مرتب کیے گئے ہیں۔ باب اول ’حجاب اور اسلامی تعلیمات‘ کے حوالے سے جس میں مزید تین فصول ہیں جو باب کے موضوع کا گھراؤ کرنے میں معاون ہیں۔ باب دوم ’ حجاب کا دائرہ کار‘ کے حوالے سے جس میں تین فصول ہیں۔ باب سوم قائلین وجوب حجاب کے دلائل کا تجزیہ کے حوالے سے ہیں اور باب چہارم قائلین عدم وجوب حجاب کے دلائل پر ہے اور باب پنجم...

  • 80 مسائل مقروض (اتوار 05 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1734

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے بنی نوع انسان کی خیر وبھلائی اور رشد وہدایت کے لئے کامل واکمل اور بہترین تعلیمات وہدایات فراہم کی ہیں۔اسلام تمام انسانوں کے حقوق وفرائض کا خیال رکھتا ہے اور کسی کو کسی پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی سے قرض لیتا ہے تو اسلامی نقطہ نظر سے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ وقت مقررہ پر اپنا قرض واپس کرے،کیونکہ قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد اس وقت تک اللہ تعالی نے معاف نہیں کرنے جب تک وہ متعلقہ بندہ خود معاف نہ کر دے یا اس کی تلافی نہ کر لی جائے۔نبی کریم ﷺ ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔میت کا قرض ادا کرنا اسے کے ورثاء پر لازم اور واجب ہے،اور وہ قرض وراثت تقسیم کرنے سے پہلے پہلے ہی میت کے ترکہ سے ادا کیا جا ئے گا۔ زیر تبصرہ کتاب" مسائل مقروض" گوجرانوالہ کے رہنے والے محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے مقروض کے مسائل کو بیان کیا ہے۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے مقروض شخص  کے حوالے سے دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    قرض 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 810
  • اس ہفتے کے قارئین: 11716
  • اس ماہ کے قارئین: 36244
  • کل قارئین : 47157265

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں