دکھائیں کتب
  • 31 شباب شادی اور شرع (ہفتہ 25 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:916

    اسلام ایک مکمل اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شب وروز قرآن وسنت اور اسلام کی دی گئی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ دنیاوی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو اسے قرآن وسنت کے سانچےمیں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں ایک حساس معاملہ شادی کی تقریب کا ہے کہ شادی کی تقریب کو کیسے قرآن وسنت کی روشنی اور رہنمائی کے مطابق انجام دیا جائے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی موضوع پر ہے ۔ جس کی تالیف کا سبب بھی یہی تھا کہ شادی کی تقریب میں نامناسب رسوم اور دیگر غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور قرآن وسنت کی رہنمائی کو لوگوں تک پہنچانا۔ اس کتاب کو آٹھ حصوں میں اور ہر حصے کو طوالت کی صورت میں مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے اور عامۃ الناس کے لیے موضوعا ت کو مختصر ٹکڑوں کی صورت یا نکات کی صورت میں ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کے حوالے کو اختصار سے بیان کرتے ہوئے صرف مذکورہ مرجع کی متعلقہ’کتاب‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ سنن اربعہ کی احادیث ہونے کی صورت میں شیخ البانی کا حکم اجمالی بھی بیان کیا گیا ہے۔ مسائل قرآن وسنت سے بیان کیے گئے اور سلف کے قرآن وسنت سے استنباط شدہ مسائل سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آخر میں مشکل الفاظ کے معانی فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ آخر میں اس موضوع پر مزید استفادہ کے لیے فہرست کتب تحریر کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’شاب‘ شادی اور شرع‘‘ اعجاز حسن چوھدری کی علمی کاوش ہے جو کہ جامعہ اسلامیہ کے فاضل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین و مساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتا...

  • 32 لو میرج اور اس کے مضمرات (ہفتہ 01 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2326

    1997ء میں جب صائمہ ارشد کیس منظر عام پر آیا اور عدالتوں نے شرعی تقاضوں کے منافی یہ فیصلہ دے دیا کہ بالغ لڑکی از خود اپنا نکاح کر سکتی ہے تو اسے اخبارات اور اسلام بیزار ذرائع ابلاغ نے خوب اچھالا۔کیونکہ اس کیس سے اسلام بیزار ،مغرب زدہ طبقے کو اپنے موقف کو مزید ابھارنے میں بہت بڑی کمک حاصل ہوئی تھی۔اس کیس نے دینی ،رفاہی اور معاشرتی حلقوں کے علاوہ قانونی ماہرین ،غیر ملکی این جی اوز اور عوام میں بھی ہلچل پیدا کر دی۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محترمہ باجی مریم خنساء نے قلم اٹھایا اور اخباری بیانات کو سامنے رکھ کر اس کیس کے مختلف پہلووں پر لکھنا شروع کر دیا ۔ان کے یہ قابل فخر مضامین ماہنامہ بتول،طیبات اور الحسنات میں شائع ہوتے رہے۔ان مضامین میں لو میرج کے داخلی اسباب ،لو میرج کے خارجی اسباب،ولی اور فقہ حنفی،عورتوں کے حقوق کی بازیابی یا حق تلفی،کیا ہر گھر میں صائمہ موجود ہے؟اور پسند یا عشق جیسے مضامین قابل ذکر ہیں۔محترمہ مریم خنساء کے ان مضامین میں محترمہ ام عبد منیب نے بھی چند دیگر مفید اور موضوع سے متعلقہ مضامین کا اضافہ کیا ہے ۔اور پھر ان تمام مضامین کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کر دیا ہے۔جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان دونوں بہنوں کے اس نیک عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 33 لڑکی شادی کیوں کرتی ہے (بدھ 13 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2144

    اسلامی نظامِ زندگی کی خصوصیات میں سے سب بڑی خصوصیت اور امتیاز اس کا خاندانی نظام ہے جس کی برکات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اسلامی تمدن میں نکاح کا تصور ایمان کی حفاظت کا سب سےمؤثر ذریعہ ہے جس سےصالح تمدن کی بنا استوار ہوتی ہے۔ اور نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رموددت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے ۔ کتاب وسنت میں حقوق الزوجین کے مسئلے کوبڑی جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، میاں بیوی کے درمیان تعلقات کے تمام ضروری اور نازک معاملات کوجس شرح وبسط کے ساتھ ادلیہ شرعیہ میں واضح کیا گیا ہے اس کا مقابلہ دنیاکی کوئی تہذیب یا مذہب نہیں کرسکتا۔ اسلام نے عورت کا جو دائرہ کار مقرر کیا ہے وہ نہ صرف عورت کے مقام کو متعین کرتا ہے بلکہ معاشرے میں عورت کو باعزت شخصیت کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب "لڑکی شادی کیوں کرتی ہے؟ "محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کا ایک جواب نامہ ہے جس کو کتابی قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ موصوف حافظ ؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں عرب وعجم میں ان کی دینی خدمات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موصوفؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل شرح و بسط کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات اور میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین( عمیر)

  • 34 متعہ کی حقیقت (بدھ 29 فروری 2012ء)

    مشاہدات:17890

    نکاح شریعت اسلامیہ کے بنیادی احکامات میں سے ایک اہم حکم ہے۔ زمانہ جاہلیت ہی سے مشرکین عرب نے بدکاری وفحاشی کی بہت سے صورتوں کو قانونی جواز عطا کرتے ہوئے ان پرنکاح کا لیبل چسپاں کر رکھا تھا۔ اسلام نے باطل نکاح کی ان مروجہ قبیح صورتوں کو ختم کیا اور نکاح کا ایک معروف اور فطری طریقہ رائج کیا۔ دور جاہلیت کے باطل نکاحوں میں ایک قسم متعہ، بدقسمتی سے بعض بدعی فرقوں میں رائج ہو گیا اور اہل تشیع کے امامیہ یا اثنا عشریہ فرقے میں اس کے فقہی جواز کے سبب سے بدکاری وفحاشی کو قانونی فروغ ملا۔ شیخ عثمان بن محمد الخمیس نے اپنی اس کتاب میں قرآن وسنت اور اجماع امت سے متعہ کی حرمت کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ ازیں شیخ نے شیعہ کے ان دلائل کا بھی مسکت جواب دیا ہے کہ جن کے مطابق وہ متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔
    شیخ نے اس کتاب کے آخر میں متعہ کے مفاسد اور اس کی حرمت کی حکمت پر بھی قیمتی ابحاث رقم کی ہیں۔ اس کتاب کے صفحہ 73تا 77 میں متعہ کے ذریعے پھیلنے والی بدکاری وفحاشی کے بارے ایک سروے یا جائزہ رپورٹ کے کچھ اقتباسات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس سروے کے مطابق متعہ سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت شیعہ علما کی ہے جو اپنی طالبات اور عقیدت مند خواتین سے ہر دوچاردن بعدیا ہر ایک دو ہفتے بعد یا ہر ماہ یا چند ماہ بعد ایک دو گھنٹوں یا ایک دو راتوں یا ایک دو ہفتوں کے لیے متعہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قبیح رسم سے ان فرقوں کو رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔
     

  • 35 مسنون نکاح اور شادی بیاہ کی رسومات (پیر 08 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:7592

    اسلامی معاشرت میں نکاح جس قدر سادہ تقریب تھی، امتدادِ زمانہ کے ساتھ یہ اسی قدر تکلفات سے بھرپور اور بد اخلاقی کا گہوارہ بنتی چلی جا رہی ہے۔ اسلام میں نکاح کے متعلق کیا ہی عمدہ احکامات اور تعلیمات ہیں لیکن ہم نے اپنی جہالت، جذبہ نمائش دولت اور رسوم و رواج کی پرستش کے باعث اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ اس موضوع پر معروف عالم دین اور محقق شہیر حافظ صلاح الدین یوسف نے مختلف اوقات میں جو مضامین لکھے یا استفسارات کے جواب تحریر کیے، انھیں اب ایک خاص علمی ترتیب سے اس کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے۔ ان مضامین کا مطالعہ جہاں ایک طرف ہمیں سنت کے مطابق شادی اور نکاح کے مسائل سے آگاہ کرے گا وہاں ہمیں اس معاشرتی اور جاہلانہ رسوم سے چھٹکارے کا راستہ بھی دکھائے گا۔ اس اعتبار سے یہ کتاب معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت اور اہل حکومت کی بے حسی پر ایک تازیانہ ہے۔ کتاب کے آخر میں گھریلو ماحول اور ازدواجی زندگی  پرمسرت اور خوش گوار بنانے کے لیے چند اصول اور نصیحتیں کی گئی ہیں اس کے علاوہ شادی سے متعلق چند ضروری اور مسنون دعائیں بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 36 مفرور لڑکیوں کا نکاح اور ہماری عدالتیں (اتوار 13 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:3342

    ولایت ِنکاح کا مسئلہ یعنی جوان لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ''مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں''(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی حافظ صاحب کو صحت وتندرستی والی زندگی عطا فرمائے اور اشاعتِ اسلام کے لیے ان کی دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے او ر اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

     

  • 37 منگنی اور منگیتر (بدھ 22 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2476

    منگیتر منگنی سے ماخوذ ہے ۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین باہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیں گے ۔ اس عہد کا نام   ہمارے معاشرے میں منگنی ہے او رایسے لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے کا منگیتر کہا جاتاہے ۔منگنی کابظاہر مقصد تو صرف اتنا ہے کہ لوگوں پریہ عیاں ہو جائے کہ فلاں کے بیٹے کی فلاں کی بیٹی سے   نکاح کی بات ٹھر گئی ہے ۔لہذا کوئی دوسرا پیغام بھیجنے یاایسا وعدہ لینے کی غلطی نہ کرے ۔لیکن دور حاضر میں اتنی پر تکلف ،مہنگی اور مشکل رسومات کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا سوائے   ریا کاری یا نمود ونمائش کے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ منگنی اور منگیتر ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے منگنی کےسلسلے میں   ہمارے معاشرے میں   پائی جانے والی ہندوانہ رسومات کا ذکر تے ہو ئے   اس کے متعلق شرعی احکام ومسائل کودلائل کی روشنی میں   پیش کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے   مروجہ رسوم ورواج سے   بچا جاسکتا ہے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔آ...

  • 38 مہر بیوی کا اولین حق (جمعہ 19 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2987

    کارِ را زِ حیات میں مرد کے لیے عورت او رعورت کے لیے مرد کی احتیاج ایک جانی پہچانی حقیقت ہے ۔ اس احتیاج کو ہر معاشرے اور ہر قوم میں ایک اہم مقام حاصل ہے البتہ اس کے طریقے ہرایک کے ہاں اپنے اپنے ہیں ۔ اسلام میں نکاح مردوعورت کے درمیان عمر بھر کی رفاقت ،محبت اور مودت کے مضبوط عہد وپیمان کا نام ہے ، جسے نباہنے کےلیے مرد اور عورت کی نیت ،قول اور عمل تمام عمر مسلسل اور بھر پورکر دار کرتے ہیں۔ نکاح کے اس اہم مرحلے پر اسلام مرد پر عورت کا یہ حق عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی حیثیت کے مطابق عورت کے سماجی مرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ا س کے لیے احترام محبت اور مسرت کامظہر کوئی   نہ   کوئی ہدیہ پیش کرے اسی ہدیے کا نام مہر ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ مہر بیو ی کا اولین حق ‘‘معروف کالم نگار اور مصنفہ کتب کثیرہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے ۔ جس میں انہوں نے مہر کی شرعی حیثیت ، مہر کی مقدار ، مہر کی مختلف صورتیں ،مہر کس کی ملکیت،مہرکی اقسام وغیرہ کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو   قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً...

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکاح میں شرط اور مشروط مہر،فقہ اسلامی کی روشنی میں " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے آٹھویں فقہی سیمینار مؤرخہ 22 تا 24 اکتوبر 1995ء  منعقدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  انڈیا میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 40 نکاح میں ولی کی حیثیت (ہفتہ 20 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2208

    اسلام نے ولی سربراہ خاندان کویہ حق  عطا کیا ہے  کہ اگر سربراہِ خاندان اپنے  علم ،تجربہ اور خیر خواہی کے تحت یہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں فرد کےفلاں  کام سے خاندانی وقار مجروح ہوگا ۔یااس فرد کودینی ودنیوی نقصان پہنچے گا تو وہ  اسے اس کام سے بالجبر بھی  باز رکھ سکتاہے۔ البتہ جوحقوق اسلام نے فرد کوذاتی حیثیت سے عطا کیے ہیں سربراہ کاجان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا یا افراد پر ان کے حصول کے حوالے  سےپابندی عائد کرنا درست نہیں اور اسلام میں  اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ولایت ِنکاح کا  مسئلہ یعنی جوان لڑکی  کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے  کہ کسی نوجوان لڑکی  کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ  وہ والدین کی اجازت  اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار  اختیار کرکے  کسی عدالت میں یا کسی  اور جگہ  جاکر  از خود کسی  سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی  صحت کے لیے  ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے  ۔ لیکن  موجودہ دور میں مسلمانوں کے  اسلام سے  عملی  انحراف نے جہاں شریعت  کے  بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے  سے بھی  اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے  -علاوہ  ازیں ایک فقہی  مکتب فکر  کے  غیر واضح موقف کو بھی  اپنی بے راہ روی  کے جواز کےلیے  بنیاد  بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’نکاح میں ولی کی حیثیت...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1661
  • اس ہفتے کے قارئین: 9060
  • اس ماہ کے قارئین: 37309
  • کل قارئین : 46512265

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں