کل کتب 46

دکھائیں
کتب
  • 21 #158

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 43280

    سنت مطہرہ اور آداب مباشرت

    (پیر 04 مئی 2009ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    یہ کتاب دراصل محدث نبیل علامہ ناصر الدین البانی رحمتہ اللہ علیہ کی عربی تصنیف "آداب الزّفاف فی السّنۃ المطھّرۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے ایک دوست کی شادی کے موقع پر تحریر فرمائی ہے۔ اس میں انہوں نے وقت کی قلت کے باعث فقط ان مسائل پر قلم اٹھایا ہے جو سہاگ رات سے قبل اور بعد میں پیش آمدہ ہیں۔ اسی طرح مباشرت کے آداب کا تذکرہ بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ ان کی یہ کوشش اس بناء پر بہت خوش آئند ہے کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھا کر لوگوں کیلئے کتاب و سنت کی راہنمائی مہیا کی ہے جس پر لاتعداد مخرب الاخلاق کتابچے، رسائل و جرائد اور مضامین زیر گردش ہیں۔ شیخ موصوف نے اس نازک موضوع پر ایسی پاکیزہ اور اعلٰی معلومات بہم پہنچائی ہیں جن کی بنیاد اللہ تعالٰی کا مقدس کلام اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اطہر سے نکلے ہوئے محبوب ترین الفاظ ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے  بھی انتہائی مفید ہے کہ شادی کرنے والے نوجوان اس سے مناسب رہنمائی لے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے برصغیر میں ایسے مسائل کے متعلق سوال کرتے ہوئے عموماً لوگ جھجک محسوس کرتے ہیں۔

     

  • 22 #3819

    مصنف : عبد اللہ دانش

    مشاہدات : 2547

    شادی اسلام کی نظر میں

    (ہفتہ 12 دسمبر 2015ء) ناشر : مدرسہ تجوید القرآن رحمانیہ جسٹرڈ لاہور

    شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دینِ اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ  ’’شادی اسلام کی نظر میں‘‘ مولانا عبد اللہ دانش صاحب کی تحریر ہے۔انہوں نے اس  موضوع کو بڑے ہی مؤثر  ودلکش  اور دلنشیں انداز میں  پیش فرمایا ہے  اور اس کتابچہ کو کتاب وسنت کےحوالہ جات سے مزین کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 23 #2684

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 3014

    شادی بیاہ

    (جمعہ 05 دسمبر 2014ء) ناشر : خلیل احمد ملک

    شادی کی تقریبات میں ولیمہ ایک ایسا عمل ہے جو مسنون ہے۔یعنی نبی کریم ﷺ نے اس کاحکم دیا ہے ۔اور آپ نے خودبھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کےایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر دیا جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کاباعث بھی ہوگا او رزندگی کے نشیب وفراز میں اس کاہم دم اورہم درد اور مددگار بھی۔دعوت ولیمہ جب سنت ہے دنیاوی رسم نہیں تو اسے کرنا بھی اسی طرح چاہیے جس میں اسلامی ہدایات سے انحراف نہ ہو جب کہ ہمارے ہاں اس کےبرعکس ولیمہ بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ بھی شادی بیاہ کی دیگر رسموں کی طرح بہت سی خرابیوں کامجموعہ بن کر رہ گیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شادی بیاہ‘‘ نامور عالم دین مفسر قران مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ایک اہم تحریری کاوش ہے جس میں انہوں نےولیمہ کامسنون طریقے کو بیان کر کے غیرمسنون طریقوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اسی طرح شادی کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے بعض غیر ضروری امور اور رسومات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ آمین (م۔ا)

  • 24 #1021

    مصنف : ام عبد الرحمٰن ہرش فیلڈر

    مشاہدات : 16721

    شادی سے شادیوں تک

    (جمعرات 01 دسمبر 2011ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اسلام تعدد ازواج کا پرزور حامی ہے  اور مسلم مرد کو بیک وقت چار شادیوں کی رخصت ہے ۔یہ خدائی فیصلہ مردوزن کے لیے نہایت موضوع اور عصمت وعفت کے تحفظ کا بہترین نسخہ ہے۔سو تعدد ازواج فحاشی وبدکاری سے بچاؤ اور نسل انسانی میں ارتقاء کا بہترین ذریعہ ہے۔لیکن دشمنان اسلام بالخصوص مغرب اور اس کے حواری مسلمانوں کو پاکدامن اور جنسی آلائشوں سے پاک دیکھنا کبھی بھی پسند نہیں کرتے۔بلکہ ان کی شروع سے خواہش ہے کہ اہل اسلام بھی اقوام مغرب کی طرح جنسیت زدہ ہو جائیں اور فحاشی وبدکرداری کے گند میں لتھڑ کر بےضمیر وبے غیرت ہو جائیں۔اپنی اسی سوچ کی آبیاری کے لیے کبھی وہ حقوق نسواں کے نام سے اور کبھی تعدد ازواج کے قانون میں نقائص نکال کر سادہ لوح مسلمانوں اور مغربیت زدہ افراد کو اپنے دام تذویر میں لانا چاہتے ہیں۔لیکن اسلام کے قوانین اٹل ہیں اور عقلی اور نقلی دلائل سے شرعی دلائل کا توڑ اور ان کی بے وقعتی ناممکن ہے ۔اور علمائے کرام نے ہر دو رمیں ان شورشوں کی قوی دلائل سے بیخ کنی کی اور حق کو حق ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔تعدد ازواج کے برحق ہونے اور اس پر وارد اعتراضات کا اس کتاب میں خوب جائزہ لیا گیا ہے۔اور تعدد ازواج سے دوچار مسلم بہنوں کی اصلاح کے لیے خاطر خواہ مواد جمع کیا گیا ہے ۔جو ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کافی مواد ثابت ہو گا۔(ف۔ر)
     

  • 25 #2562

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2528

    شادی شوہر اور سنگھار

    (منگل 21 اکتوبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی ،شوہر اور سنگھار"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 26 #3722

    مصنف : محمد ابو الخیر اسدی

    مشاہدات : 2377

    شادی کی جاہلانہ رسمیں

    (ہفتہ 31 اکتوبر 2015ء) ناشر : مکتبہ اعلیٰ تھلہ سادات، ملتان

    ہمارا معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود غیر اسلامی رسوم ورواج میں بری طرح جکڑچکا ہے،اور ہندو تہذیب کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہنے کے سبب متعدد ہندوانہ رسوم ورواجات کو اپنا چکا ہے۔کہیں شادی بیاہ پر رسمیں تو کہیں بچے کی ولادت پر رسمیں،کہیں موسمیاتی رسمیں تو کہیں کفن ودفن کی رسمیں۔الغرض ہر طرف رسمیں ہی رسمیں نظر آتی ہیں۔اسلامی تہذیب وثقافت کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔انہیں رسوم ورواج میں سے شادی کے موقعوں پر ادا کی جانے والی رسوم ہیں،جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ان رسوم ورواج میں اسلامی تعلیمات کا خوب دل کھول استخفاف کیا جاتا اور غیر شرعی افعال سر انجام دیئے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی کی جاہلانہ رسمیں"مولانا علامہ ابو الخیر اسدی صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر کی جانے والی رسوم ورواجات پر روشنی ڈ الی ہے کہ یہ کیسے اسلامی معاشرے کا حصہ بنیں اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 27 #645

    مصنف : عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    مشاہدات : 136710

    شادی کی رات

    (ہفتہ 23 فروری 2013ء) ناشر : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

    نکاح کرنا نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ نکاح کے بعد میاں بیوی کا مخصوص تعلقات قائم کرنا  ایک فطری امر ہے۔ شریعت مطہرہ میں اس ضمن میں بھی بہت سی جامع تعلیمات و احکامات موجود ہیں۔ زیر نظر کتابچہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے شادی کی پہلی رات سے متعلق ہے جس میں شادی کی پہلی رات میاں بیوی کی رہنمائی کے لیے کھلے  انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ کتابچہ کے مصنف عبدالہادی عبدالخالق کی یہ کوشش اس بناء پر بہت خوش آئند ہے کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھا کر لوگوں کیلئے کتاب و سنت کی رہنمائی مہیا کی ہے جس پر لاتعداد مخرب الاخلاق کتابچے، رسائل و جرائد اور مضامین زیر گردش ہیں۔ مصنف نے اس نازک موضوع پر ایسی پاکیزہ اور اعلٰی معلومات بہم پہنچائی ہیں جن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اطہر سے نکلے ہوئے محبوب ترین الفاظ ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے  بھی انتہائی مفید ہے کہ شادی کرنے والے نوجوان اس سے مناسب رہنمائی لے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے برصغیر میں ایسے مسائل کے متعلق سوال کرتے ہوئے عموماً لوگ جھجک محسوس کرتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 28 #2542

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3274

    شادی کی رسومات دعوتیں اور ان میں شرکت

    (ہفتہ 18 اکتوبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’شادی کی رسومات ‘‘ اصلاح معاشرہ  کے سلسلے  میں محترمہ  ام عبد منیب  صاحبہ کی کاوش  ہے  جس میں انہوں  شادی  بیاہ  کا مسنون طریقہ بیان کرنے کے بعد  اس  موقع پر ناجائز رسومات  اور  ہندوانہ رسوم ورواج اور خرافات کو عام فہم  انداز میں   پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ  کی  اس کاوش کو اہل اسلام کےلیے    فائد مند بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 29 #5756

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان

    مشاہدات : 2485

    شادی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں

    (منگل 29 اگست 2017ء) ناشر : الدار السلفیہ، ممبئی

    شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔ دینِ اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ  ’’ شادی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں ‘‘ العلامہ الشیخ صالح بن غانم السدلان  صاحب کی تحریر ہےجس کا اردو ترجمہ مختار احمد ندوی نے کیا ہے ۔انہوں نے اس  موضوع کو بڑے ہی مؤثر  ودلکش  اور دلنشیں انداز میں  پیش فرمایا ہے  اور اس کتابچہ  میں مسائل  وغیرہ کو کتاب وسنت کےحوالہ جات سے مزین کیا ہے اور نتیجہ خیز بات کو عیاں کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے (آمین) (رفیق الرحمن)

  • 30 #1857

    مصنف : ابو یاسر

    مشاہدات : 5734

    شادیاں ناکام کیوں؟

    (بدھ 30 اکتوبر 2013ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    شادی مشرقی و اسلامی گھرانے کی ایک ایسی رسم ہے جسے معاشرے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔اس کی اساس پر ایک نئے گھر  اور خاندان کا آغاز ہوتا ہے۔اس میں کامیابی ایک مضبوط اور مستحکم معاشرے  کی ضمانت ہے اور اس میں ناکامی معاشرتی تباہی کو مستوجب  ہے۔مغرب اور اہل یورپ کی شادیوں کی  ناکامی کی وجہ تو واضح ہے کہ  ان لوگوں نے ایک جداگانہ معاشرتی نظام  ترتیب دیا ہے اور الگ طور پر فلسفہ حیات تشکیل دیا ہے۔لیکن اہل مشرق یا اسلامی گھرانوں میں شادیوں کی ناکامی  عام طور پر یہ ہے کہ  لوگوں میں غلط رسومات نے جنم لے لیا ہے۔ان رسومات کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل  شادیوں سے پہلے  ہی ہو جاتے ہیں اور ایسے ہی بہت زیادہ بعد میں ہو جاتے ہیں۔مثلا  کثیر جہیز کی طلب، زیادہ حق مہر متعین کروانا اور شادی میں ضد کی وجہ سے بے دریغ مال خرچ کرنا وغیرہ  ۔ اسی طرح شوہر اور بیوی کے درمیان رویوں کی وجہ سے باہمی بے اعتمادی یا تعلقات میں سرد مہر ی پیدا ہو جانا  وغیرہ۔زیرنظر کتاب میں مصنف نے معاشرتی اصلاح کی خاطر انہی رویوں  اور مسائل کی طرف نشاندہی کی ہے۔(ع۔ح)
     

< 1 2 3 4 5 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2165
  • اس ہفتے کے قارئین 14815
  • اس ماہ کے قارئین 38355
  • کل قارئین49247872

موضوعاتی فہرست