دکھائیں کتب
  • 621 گردن کا مسح ایک تحقیقی جائزہ (جمعرات 18 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1951

    دین اسلام ظاہری و باطنی اعمال کی اصلاح کا دین ہے۔ نماز جو کہ دین اسلام کا ایک بنیادی اور اساسی رکن ہے اور ہر بالغ و عاقل مکلف مسلمان مرد و عورت پر روزانہ اوقات معینہ میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:"نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھو"۔ نماز کی ادائیگی وضو کے ساتھ مشروط ہے اگر آدمی بلا وضوء نماز ادا کرے تو اس کی نماز عند اللہ مقبول نہیں ہوگی۔ اس لیے وضوء کے ارکان و افعال کے متعلق صحیح طریقہ نبویؐ کا علم ہونا از حد ضروری ہے اور غیر ثابت امور کو ترک کرنے میں ہی ہماری بھلائی کا راز مضمر ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وضوء میں تعلیمات نبویﷺ کے خلاف اضافہ و نقص کے سبب جو چیز اجر و ثواب کا باعث ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائے۔ زیر نظر کتاب"گردن کا مسح ایک تحقیقی جائزہ" مولانا عبد الوارث ضیاء الرحمٰن اثری کی ایک تحقیقی کاوش ہے۔ بعض لوگ گردن کے مسح کو جائز و مستحب سمجھتے ہوئے اس کے متعلق دلائل دیتے ہیں لیکن ان دلائل کی کیا حقیقت ہے؟ کتاب ہذا میں اسی موضوع کو بغیر کسی تعصب کے بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 623 ہدیۃ المسلمین نماز کے اہم مسائل مع مکمل نماز نبوی (منگل 24 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:20135

    نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد حاضر کے ایک کہنہ مشق محقق ہی...

  • نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد ح...

  • 625 ہم دعوت کا کام کیسے کریں؟ (پیر 22 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:4854

    دنیا میں کوئی بھی فکر اور نظریہ ہو اسے لوگوں تک منتقل کرنے کے لیے یا اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے اس کی دعوت ضروری ہے ۔ پھر یہ ہے کہ دعوت کے اندر افہام و تفہیم کا پہلو غالب ہو ۔ تاکہ بات سمجھ کر اسے قبول کرنا آسان ہو ۔ یا کہیں ایسا نہ ہو کہ بات بحث و نزاع میں ہی الجھ کر رہ جائے اور اصل مدعا فوت ہو کر رہ جائے ۔ پھر جب آپ کسی کو دعوت دیتے ہیں تو اس وقت کچھ اصولوں کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے یعنی آپ اپنی دعوت کیسے آگے پہنچائیں کہ سامع قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ یہ بات انسان عملی تجربات سے سیکھتا ہے اگرچہ اس باب میں بھی قرآن و حدیث نے کچھ بنیادی اصول دے رکھے ہیں تاہم ان کے ساتھ ساتھ انسان کے عملی تجربات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ ہر علاقے اور قوم کے احوال مختلف ہوتے ہیں ہر قوم کی اپنی اپنی نفسیات ہوتی ہیں ۔ اس کے سمجھنے کے اپنے اپنے  زاویے ہوتے ہیں تاہم پھر بھی عقل و فہم کے کچھ عمومی اصول ہوتے ہیں جن پر عمل کیا جاسکتا اور انہیں بوقت دعوت عملا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی پہلو کے بارے میں روشنی ڈالتی  ہے کہ قرآن و حدیث اور عمومی تجرباتی اصول دعوت کیا ہو سکتے ہیں ۔ یہ کتاب ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس کتاب کے مصنف ، مترجم اور ناشر کے لیے نافع بنائے ۔ (ح۔ک)
     

  • 626 ہم طہارت کیسے حاصل کریں؟ (جمعہ 20 اگست 2010ء)

    مشاہدات:23129

    اسلام میں طہارت و پاکیزگی پر بہت زور دیاگیاہے ۔اس ضمن میں جہاں فکروعقیدہ کی صفائی کا حکم ہے وہیں لباس ،جسم ،مکان اور استعمال کی دیگر اشیاء کو بھی صاف ستھرا رکھنے کی تاکیدکی گئی ہے ۔خداوندقدوس جزائے خیردے فاضل مؤلف کوکہ انہوں نے طہارت سے متعلقہ جملہ مسائل کوقرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل انداز سے بیان کیا ہے ۔موصوف نے طہارت کامفہوم اور اس کی اقسام سے لے کر وضو،غسل ،حیض ونفاس،جنابت ،برتنوں کی صفائی وغیرہ جملہ مسائل پرروشنی ڈالی ہے ۔علاوہ ازیں فطری سنتوں کو بھی بیان کیاہے ، جن سے انسان اپنے جسم کو پاکیزہ بنا سکتا ہے ۔مؤلف موصوف نے یہ بھی بتایاہے کہ مسجدمیں جانے ،طواف کرنے اور مصحف شریف کو چھونے کےلیے کس نوع کی پاکیزگی کا اہتمام ضروری ہے ۔ الغرض طہارت سے متعلقہ شاید ہی کوئی  مسئلہ ایسا ہو جو اس کتاب میں بیان نہ ہوا ہو۔اصل کتاب عربی میں تھی جسے جناب محمد عرفان محمدعمر المدنی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ۔ اسطرح اردود ان طبقہ بھی قرآن وحدیث کے مسائل طہارت کو بآسانی سیکھ اور سمجھ سکتاہے ۔ خداوندتعالی مؤلف ، مترجم اور ناشرین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عنائت فرمائے۔(آمین)

     

  • 627 یوم جمعہ فضائل ، مسائل اور احکام (اتوار 10 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3459

    جمعۃ المبارک کا دن اسلام میں بڑی اہمیت  کا حامل ہے  ۔رسو ل اللہ ﷺ نے  اس دن  کو سب سے افضل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے  باقی امتوں کو اس دن کی برکات سے محروم رکھا  صرف امت محمدیہ پر اللہ  تعالیٰ نے  خصوصی فضل وکرم  فرمایا اور امت  محمدیہ کی   اس دن کی  طرف راہنمائی فرمائی اور اسے  اس کی برکات سے نوازا۔نبی کریم ﷺ جب مکہ سےہجرت  کر کے مدینہ پہنچے تو بنی سالم بن عوف کےعلاقے میں نماز جمعہ کا وقت ہوگیا اوریہاں آپ ﷺ نے   اپنی زندگی پہلا جمعہ ادا کیا ۔فرض نمازوں کی طرح نمازِ جمعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے اور یہ نماز دوسری فرض نمازوں سے کہیں زیادہ افضل ہے ۔نماز جمعہ  ایضا فریضہ  ہے جس کاادا کرنا ہر مسلمان پر لازمی  اور ضروری ہے  اور اس کاتارک گنہگار  ہے ۔ نمازِ جمعہ بغیر کسی  شرعی عذر کے  چھوڑنے والے لوگوں  کورسول اللہ ﷺنے  سخت وعید سنائی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ یومِ جمعہ فضائل ،مسائل اور احکام‘‘ مولانا ابو عبدالرحمٰن شبیر بن نور﷾ کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے جمعہ سے متعلق اہم او رضروری  باتوں کو  کتاب  وسنت کی روشنی میں  آسان  اورعام فہم انداز میں جمع کردیا ہے  اللہ اسےعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • اللہ تعالی نے انسان کو بہت سے انعامات سے نوازا ہے -ان نعمتوں کے شکرانے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ اپنی خواہشات کو خالق حقیقی کے سامنے جھکا دے-اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے عائد کردہ فریضہء نماز کو احسن طریقے سے سرانجام دیا جائے- زیر نظر کتابچہ میں مصنف نے جہاں نماز کے انسانی زندگی پر ظاہری ومعنوی اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے  وہاں نماز کے دنیوی و اخروی فوائد کا بھی تذکرہ کیا ہے-اور یہ واضح کیا ہے کہ نماز کو قائم کرنے سے اللہ تعالی کی طرف سے روحانی اور جسمانی ہر دو اعتبار سے بہت سارے فوائد حاصل ہوتے ہیں-مثلا  راحت وسکون کے لیے نماز سب سے بہترین ذریعہ ہے،اسی طرح نماز نور ہے، انسانی غفلتوں کا علاج ہے، انسان کے رنج وغم کو دور کرتی ہے، بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے،اوراس کے علاوہ بے شمار فوائد ہیں جو اللہ تعالی نے نماز میں پوشیدہ رکھے ہیں-ان تمام موضوعات پر بڑی مفصل اچھی گفتگو کی گئی ہے
     

  • 629 یہ ہے ہماری دعوت (ہفتہ 30 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1705

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔ علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ یہ ہے ہماری دعوت‘‘ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کے   خطاب کی کتاب صورت ہے ۔...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1468
  • اس ہفتے کے قارئین: 7999
  • اس ماہ کے قارئین: 27292
  • کل قارئین : 47735902

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں