کل کتب 191

دکھائیں
کتب
  • 181 #65

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 20166

    ٹوپی و پگڑی یا ننگے سر نماز ؟

    (منگل 16 دسمبر 2008ء) ناشر : توحید پبلیکیشنز، بنگلور

    عبادات میں سے سب سے افضل عبادت نماز ہے اسی لیے اس کی ادائیگی میں مسنون طریقے کو اختیار کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے اسی لیے علماء نے نماز کے موضوع پر بے شمار کتب لکھیں ہیں تاکہ اس اہم فرض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ رہ جائے-نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا نماز پڑھتے وقت سر ڈھانپنا ضروری ہوتا ہے یا اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی-کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سر ڈھانپے بغیر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سر نہ بھی ڈھانپا جائے تو اس میں سنت کی مخالفت نہیں ہوتی-اس لیے اس کتاب میں نماز کے متعلق تمام مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے  اوراس میں ٹوپی یا پگڑی سے سر کو ڈھانپنے اور نماز میں پگڑی کے فضائل و برکات کے بارے میں وضاحت موجود ہے جس کو احادیث نبویہ سے ثابت کیا گیا ہے تو اس طرح ننگے سر نماز , باطل راویات کے اثرات اور ننگے سر نماز کے دلائل کی استنادی حیثیت کو ثابت کیا گیا ہے -
     

  • 182 #3221

    مصنف : پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری

    مشاہدات : 1892

    پیر سید بدیع الدین راشدی کے موقف کے جواب میں،رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا

    (منگل 09 جون 2015ء) ناشر : جماعت اہل حدیث بہاولپور

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے  کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" پیر سید بدیع الدین راشدی کے موقف کے جواب میں،رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا" پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔اس سے پہلے محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب کی کتاب " القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال " چھپ چکی تھی جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے والے موقف کو اختیار کیا تھا۔چنانچہ حافظ صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے یہ کتاب لکھی ہے اور ان کے موقف کا رد کیا ہے۔ چونکہ دونوں مصنف ہی اہل حدیث ہیں اور یہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں کتابیں ہیں اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 183 #5653

    مصنف : پروفیسر ابو حمزہ محمد اعظم چیمہ

    مشاہدات : 1018

    کتاب الجنائز ( پروفیسر اعظم چیمہ )

    (پیر 07 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں احکامات الٰہی کو مد نظر رکھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تقلیدی رجحانات کی وجہ سے بعض ایسی چیزیں در آئی ہیں جن کا قرآن وسنت سے ثبوت نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور انہیں حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے۔ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائےاس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں۔لیکن بدقسمتی یہ ہے عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے۔جبکہ اس کے مقابلے میں بعد میں مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں اورشریعت کےخلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’کتاب الجنائز ‘‘ محترم جناب پروفیسرابو حمزہ محمد اعظم چیمہ صاحب کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مسائل جنازہ سے متعلق ایک جامع کتاب ہے اور اپنے موضوع میں انسائیکلوپیڈیاکی حیثیت رکھتی ہے ۔ جس میں موت سے سوگ تک کے جمیع احکام ومسائل ایک لڑی میں اس طرح پرو دیے گئے ہیں کہ عام سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس سے بھر پور استفادہ کرسکتا ہے ۔نیز فاضل مصنف نے بھر پور محنت اور باریک بینی سے ان مسائل کا بھی جائزہ لیا حو کسی وجہ سے اختلافات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور ان میں راجع موقف کودلائل وبراہین کی روشنی میں واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو شرف قبولیت سے نوازے اور مصنف کے لیے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 184 #3199

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 2590

    کتاب الصلوٰۃ ( ابن قیم)

    (جمعہ 29 مئی 2015ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کتاب الصلوۃ " تاریخ اسلامی کے معروف عالم دین محقق امام ابن قیم الجوزی﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ اور حواشی وتخریج کا کام محترم مولانا عبد الرشید حنیف صاحب نےکیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

  • 185 #3200

    مصنف : امام احمد بن حنبل

    مشاہدات : 2903

    کتاب الصلوٰۃ ( امام احمد بن حنبل)

    (ہفتہ 30 مئی 2015ء) ناشر : تاج کمپنی کراچی ، لاہور ، راولپنڈی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کتاب الصلوۃ " امام المحدثین امام احمد بن حنبل ﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم شیخ علی جواد  صاحب نےکیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

  • 186 #1969

    مصنف : محمدابوسعیدالیار بوزی

    مشاہدات : 2446

    کتاب وسنت کے مطابق نماز

    (جمعہ 04 اپریل 2014ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد

    نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد و زن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ مگر افسوس ہے آج مسلمانوں کی حالت پر کہ ان کی اکثریت اس رکنِ عظیم کی سرے سے ہی تارک ہے اور جو لوگ اس کا اہتمام کرتے ہیں ان میں اکثر ایسے ہیں کہ وہ اسے سنت کے مطابق ادا نہیں کرتے۔زیرِ نظر کتاب ''کتاب وسنت کے مطابق نماز'' ترکی کے ایک جیدعالم دین شیخ ناصرالدین البانی کے شاگرد خاص شیخ محمد ابو سعید الیاربوزی کی ترکی زبان میں تصنیف کا ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کی سعاد ت پر وفیسر ڈاکٹر خالد ظفر اللہ ﷾ نے حاصل کی ہے ۔ مصنف نے اس کتاب میں سترہ ،صف بندی کے مسائل بیان کرنے کے بعد نماز کے جملہ احکام ومسائل کو قرآن وحدیث کے مطابق سہل انداز میں پیش کیا ہے اللہ تعالی اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 187 #1617

    مصنف : حافظ محمد ادریس کیلانی

    مشاہدات : 22580

    کیا رفع الیدین منسوخ ہے؟

    (جمعہ 21 ستمبر 2012ء) ناشر : مکتبہ دار الحدیث لاہور

    نماز میں رفع الیدین کرنا نبی کریمﷺ کی سنت ثابتہ ہے لیکن بہت سے لوگ مختلف دلائل کے باوصف رفع الیدین کے بغیر نماز ادا کرتے ہیں۔ کبھی اس کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے تو کبھی سنت متواترہ کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اشتہارات یا رسائل میں ایسے مضامین شائع کیے جاتے ہیں جن میں رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ چند سال قبل فیصل آباد سے اسی قسم کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں ترک رفع الیدین کے دلائل جمع کیے گئے تھے حافظ محمد ادریس کیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اشتہار کا مدلل تجزیہ کیا اور عدم رفع الیدین کے تمام دلائل کا نہایت شرح و بسط کے ساتھ جواب دیا۔ جو ماہنامہ ’حرمین‘ جہلم میں دو اقساط میں شائع ہوا۔ یہ مضمون زیر نظر کتابچہ کی صورت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 188 #37

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 26872

    کیا عورتوں کا طریقہ نماز مردوں سے مختلف ہے ؟

    (ہفتہ 17 جنوری 2009ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    ہمارے ہاں بغیر کسی صریح دلیل کے علی الاعلان کہاجاتا ہے کہ عورت کی نماز کا طریقہ مردوں سےمختلف ہےجبکہ اس موقف کے ثبوت کے لیے کوئی حتمی اور یقننی دلیل بھی فراہم نہیں کی جاتی-دین اسلام اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کمی وبیش کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی نہیں تھا تو ایک عام آدمی کو دین کے معاملے میں گفتگو کرتے وقت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے-عورت اور مرد کی نماز کی ادائیگی میں بہت سارے فرق بیان کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر عورت قیام کی حالت میں اپنے ہاتھ سینے پر باندھے کی جبکہ مرد سینے سے نیچے باندھے کأ اور اس کی دلیل کیا ہے؟یہ کوئی بھی پیش نہیں کرتا-اسی طرح عورت رکوع ،سجدے اور تشہد میں بیٹھنے میں فرق ہے لیکن اس کے ثبوت کے لیے قرآن وسنت سے کوئی صریح دلیل پیش نہیں کی جاتی-اس حوالے سے پائے جانے شبہات کا ازالے کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے زیر نظر کتاب میں قلم اٹھایا ہے- انہوں نے اس حوالے سے چھپنے والے مضامین اور کتابچوں کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے کتاب و سنت، آثار صحابہ اور اقوال تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے- انہوں نے آئمہ اربعہ اور دیگر علماء کرام کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کو پیش کیا ہے-
     

  • 189 #1521

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 20290

    ہدیۃ المسلمین نماز کے اہم مسائل مع مکمل نماز نبوی

    (منگل 24 جولائی 2012ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد حاضر کے ایک کہنہ مشق محقق ہیں اور اسماء الرجال پر  ان کی بہت گہری نگاہ ہے۔ مذکورہ کتاب میں وضو اور نماز کا طریقہ اور اس سے متعلقہ مسائل جو اللہ کے رسولﷺ سے ثابت تمام افعال و اقوال بیان کردیئے ہیں اور محقق فاضل نے ہر  دلیل کو اسماء الرجال کے فن پر پرکھتے ہوئے اس کی تخریج او رحکم کے ساتھ نشاندہی بھی کردی ہے۔ حدیث کی وضاحت اور مسائل  کے استنباط کے علاوہ قاری کے ذہن میں معاشرے میں گردش کرنے والی نماز کی جزئیات سے متعلق متضاد اخبار  و مسائل کا تجزیہ بھی کردیا گیا ہے۔ ہر حدیث کی استنادی حالت اپنے حوالوں کے ساتھ درج ہے۔ جس کی وجہ سے اس تحریر پر اعتماد بڑھ جاتا ہے ۔ لہٰذا ان تمام خوبیوں کی وجہ سے یہ کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)
     

  • 190 #5780

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 1849

    ہدیۃ المسلمین نماز کے اہم مسائل مع مکمل نماز نبوی ( تصحیح شدہ جدید ایڈیشن )

    (ہفتہ 14 اکتوبر 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد حاضر کے ایک کہنہ مشق محقق ہیں اور اسماء الرجال پر  ان کی بہت گہری نگاہ ہے۔ مذکورہ کتاب میں وضو اور نماز کا طریقہ اور اس سے متعلقہ مسائل جو اللہ کے رسولﷺ سے ثابت تمام افعال و اقوال بیان کردیئے ہیں اور محقق فاضل نے ہر  دلیل کو اسماء الرجال کے فن پر پرکھتے ہوئے اس کی تخریج او رحکم کے ساتھ نشاندہی بھی کردی ہے۔ حدیث کی وضاحت اور مسائل  کے استنباط کے علاوہ قاری کے ذہن میں معاشرے میں گردش کرنے والی نماز کی جزئیات سے متعلق متضاد اخبار  و مسائل کا تجزیہ بھی کردیا گیا ہے۔ ہر حدیث کی استنادی حالت اپنے حوالوں کے ساتھ درج ہے۔ جس کی وجہ سے اس تحریر پر اعتماد بڑھ جاتا ہے ۔ لہٰذا ان تمام خوبیوں کی وجہ سے یہ کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)
     

< 1 2 ... 12 13 14 15 16 17 18 19 20 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1525
  • اس ہفتے کے قارئین 15164
  • اس ماہ کے قارئین 53558
  • کل قارئین49442735

موضوعاتی فہرست