دکھائیں کتب
  • 41 فضائل و مسائل رمضان المبارک (جمعرات 18 جون 2015ء)

    مشاہدات:2191

    روزہ ایک ایسی عظیم عبادت ہے جسے صرف امت محمدیہ ﷺ پرہی فرض نہیں کیاگیا۔ بلکہ اس امت سے پہلے تمام امم سابقہ کو بھی اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رمضان المبارک کے روزے اس لیے فرض کیے ہیں کہ انہیں تقویٰ کی نعمت ودولت حاصل ہو ۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے رب کا بندہ اور اس کا فرماں بردار بن کررہے ۔روزے کی حقیقت سامنے رکھنے سےیہ بات ہماری محدود عقل بھی سمجھ لیتی ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لیے یہ عبادت مؤثرترین تدبیر ہے ۔رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے ۔رمضان المبارک وہی مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔روزہ کی دوسرے فرائض سے یک گونہ فضیلت کا ندازہ اللہ تعالٰی کےاس فرمان ہوتا ہے&rsquo...

  • زير نظرکتابچہ میں مصنف نے ارکان اسلام میں سے اہم ترین عبادت روزہ کے فضائل ومسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے  روزے کی اہمیت وفرضیت کو بیان کیا ہے اور ساتھ ان امور کی نشاندہی کی ہے جن کا ارتکاب روزے کی حالت میں حرام ہے اور وہ نواقض روزہ ہیں –اور اسی طرح ان امور کی بھی نشاندہی کی ہے جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں-اس کے بعد اعتکاف کے احکام ومسائل کو بیان کرتے ہوئے رکعات تراویح کی اصل تعداد معتبر حوالوں سے ذکر کی ہے –مصنف نے روزہ رکھنے کا ثواب اور سحری وافطاری کی دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے روزہ نہ رکھنے پر کفارے کا بھی تذکرہ کیا ہے- نیز اعتکاف کے عمومی مسائل سے آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ احادیث نبوی اور جدید علماء کے فتاوی جات کی روشنی میں رکعات تروایح کی تعداد کتنی ہے؟ کی وضاحت پیش کی ہے-اور یہ ثابت کیا ہے کہ مسنون رکعات تراویح بیس ہی ہیں اور اس کے ثبوت کے لیے مختلف دلائل کے ساتھ ساتھ احناف کے جید علماء کے فتاوی کو بھی ذکر کیا ہے-
     

  • 43 فضیلت ماہ رمضان (ہفتہ 06 جون 2015ء)

    مشاہدات:3788

    روزہ ایک  ایسی عظیم عبادت ہے جسے  صرف امت محمدیہ ﷺ پرہی فرض نہیں کیاگیا۔ بلکہ اس امت سے پہلے تمام امم سابقہ کو  بھی اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے  اپنے بندوں پر رمضان المبارک کے روزے اس لیے فرض کیے ہیں کہ انہیں تقویٰ کی نعمت ودولت حاصل ہو ۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے رب کا بندہ اور اس کا فرماں بردار بن کررہے ۔روزے کی حقیقت سامنے رکھنے سےیہ بات ہماری محدود عقل بھی سمجھ لیتی  ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لیے  یہ عبادت مؤثرترین تدبیر ہے ۔رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ  اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے   ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم   کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا...

  • 44 فقہ صیام (جمعرات 11 اگست 2011ء)

    مشاہدات:20168

    روزہ ایک عظیم عبادت ہے اور قرب الہیٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔حدیث پاک میں اسے افضل عمل قرار دیا گیا ہے ،اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رمضان المبارک کے روزے فرض کیے ہیں تاکہ تقوی حاصل ہو سکے۔روزہ کی برکات سے صحیح معنوں میں اسی وقت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب اس کے مسائل واحکام کا مکمل علم ہو۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں انتہائی دلنشین اور  سہل انداز میں روزہ کے فضائل ومسائل بیان کیے گئے ہیں ۔اس کے مطالعہ سے ایک عامی بھی بہ آسانی روزہ کے فضائل ومسائل سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے ۔روزے کی حقیقت،اس کی اقسام اور اس کے جملہ احکام مثلاً روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے ؟کون سی چیز یں روزے میں جائز ہیں وغیرہ کا بیان اس میں موجود ہے ۔ہر مسلمان کو اس کتابچے کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ روزہ کے ضروری مسائل سے واقفیت حاصل کر سکے اور اس کی برکات سے کما حقہ استفادہ کر سکے۔(ط۔ا)
     

  • روزہ ایک  ایسی عظیم عبادت ہے جسے  صرف امت محمدیہ ﷺ پرہی فرض نہیں کیاگیا۔ بلکہ اس امت سے پہلے تمام امم سابقہ کو  بھی اس کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے  اپنے بندوں پر رمضان المبارک کے روزے اس لیے فرض کیے ہیں کہ انہیں تقویٰ کی نعمت ودولت حاصل ہو ۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنے رب کا بندہ اور اس کا فرماں بردار بن کررہے ۔روزے کی حقیقت سامنے رکھنے سےیہ بات ہماری محدود عقل بھی سمجھ لیتی  ہے کہ تقویٰ کے حصول کے لیے  یہ عبادت مؤثرترین تدبیر ہے ۔رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ  اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے   ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم   کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا...

  • 46 ماہ رمضان المبارک فضائل و فوائد و احکام (منگل 23 جون 2015ء)

    مشاہدات:1511

    رمضان المبارک کامہینہ سال کے باقی تمام مہینوں سے افضل واعلی ہے۔یہ اپنے اندر لامحدود، اور ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ نیکیوں کی موسلادھار بارش کی مانند ہے،جس سےہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے،جس میں ہر نیکی کاا جروثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔اسی مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے ،جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ لہٰذا ہر عقل مند کے لیے ضروری ہے  کہ وہ رمضان میں اپنے اوقات کی تقسیم کرے اور بڑے پیمانہ پر قرآن کی تلاوت و تفہیم،ترجمہ اور کچھ حصہ حفظ کرنے کا اہتمام کرے۔چونکہ رمضان المبارک سال کے  تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس کی عبادات کو تمام عبادات سے افضل قرار دیا گیا  ہے۔اس لیے احتیاط کے پیش نظر مختلف کوتاہیوں اور غلطیوں سے محفوظ رہنے کے لیے علماء نے بہت کچھ لکھا ہے۔اور عامۃ الناس کو راہنمائی فراہم کی ہے۔ زير نظر كتاب"ماہ رمضان المبارک ،فضائل وفوائد واحکام"سعودی عرب کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ابو عبد الرحمن محمد الترکیت﷫کی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم میاں ابو بکر حمزہ  صاحب نے کیا ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب   ميں انتہائی آسان اور عام  فہم انداز میں روزے سے متعلق تقریباً تمام مسائل کو ترتیب وار  یکجا کردیا ہے-اس میں انہوں نے روزے کے احکام،رمضان کے روزے فرض ہونے کی شرائط،روزے کے صحیح ہونے کی شرائط،روزے سے...

  • 47 ماہ رمضان ضائع نہ ہونے پائے (منگل 09 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1002

    ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم   کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔   کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے   کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے    رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ ماہِ رمضان ضائع نہ ہونے پائے ‘‘حافظ شفیق الرحمٰن نے تالیف کی ہے  ۔جس میں  انہو ں نے روزہ کا معنی و مفہوم،   ماہ رمضان کے فضائل وبرکات ،صوم رمضان کی فرضیت، قیام رمضان ، شب قدرآخری عشرہ  میں  عبادت اور نفلی روزوں  کی فضیلت کو     بڑے احسن انداز میں ...

  • 48 ماہ شوال کے 6 روزے، فضائل، مسائل اور شبہات کا ازالہ (جمعرات 29 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1535

    رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہیں، اورمسلمان کے لیے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں فضل عظیم اوربہت بڑا اجر و ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجروثواب لکھا جاتا ہے۔ سیدنا ابوایوب انصاری﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔ ( صحیح مسلم) لیکن عصر حاصر کے بعض روشن خیال مجتہدین ماہ شوال کے چھ روزوں کو مکرو ہ کہتے ہیں نیز امام مالک﷫  اور امام ابو حنفیہ﷫  سے بھی ان کی کراہت  منقو ل  ہے لیکن متا خرین نے ان سے اتفاق  نہیں کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ماہ شوال کے چھ روزے فضائل ومسائل اور شبہات کا ازالہ‘‘ المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر، کے ریسرچ سکالر اور المعہد السلفی ،کراچی کے مدرس محترم جناب مولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ کی کاوش ہے۔ یہ کتابچہ در اصل کراچی کے ایک عالم دین مفتی زرو لی صاحب کے ایک کتابچہ’’ احسن المقال فی کراہیۃ صیام ستۃ شوال‘‘ کے تعاقب میں محدث العصر حافظ زبیر علی﷫ کی طرف سے تحریر کے گئے ایک مضمون ’’صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال‘‘ کا تکملہ ہے۔ اس مضمون میں حافظ زبیر علی﷫ نے مفتی زر ولی کے وہ اعتراضات جو اس نے شوال کے روزوں کی فضیلت سے متعلق اٹھائے تھے ان کا مدلل ومسکت جواب دیا تھا جسے اہل علم نے خوب سراہا اور اسے...

  • 49 مختصر مجالس رمضان (ہفتہ 31 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2539

    رمضان المبارک کامہینہ سال کے باقی تمام مہینوں سے افضل واعلی ہے۔یہ اپنے اندر لامحدود، اور ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ نیکیوں کی موسلادھار بارش کی مانند ہے،جس سےہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے،جس میں ہر نیکی کاا جروثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔اسی مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے ،جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ لہٰذا ہر عقل مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ رمضان میں اپنے اوقات کی تقسیم کرے اور بڑے پیمانہ پر قرآن کی تلاوت و تفہیم،ترجمہ اور کچھ حصہ حفظ کرنے کا اہتمام کرے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’مختصر مجالس رمضان‘‘ سعودی عرب کے معروف عالم دین سماحۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ﷫کی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ مولانا جمیل احمد مدنی نے کیا ہے ۔اس میں مولف نے رمضان المبارک کےتیس دنوں کے حوالے سے رمضان ہی سے متعلقہ تیس موضوعات پر گفتگو کی ہے،جس میں رمضان کی فضیلت،احکام،مسائل ،روزے داروں کی اقسام ،روزے کی آداب اور نواقض روزہ وغیرہ جیسے موضوعات پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔تاکہ حصول جنت کے شائقین رمضان سے متعلقہ مسائل کو ایک ہی جگہ پڑھ سکیں اور اپنے ایمان کو تازہ کر سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

     

     

  • 50 مختصر مسائل و احکام رمضان ، روزہ اور زکوۃ (جمعہ 25 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2553

    روزوں کے احکام مسائل پر عربی زبان میں بہت سی کتب لکھی گئی ہیں اور روزوں سے متعلقہ ابحاث کو فتاویٰ کی شکل میں بھی کافی حد تک لوگوں کے سامنے لایا جاچکا ہے۔ اردو زبان میں عصری مسائل کو سامنےر کھتے ہوئےبہت کم ایسی کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام مسائل کو ایک جگہ مبسوط طریقہ سے اکٹھا کردیا جاتا خصوصا وہ مسائل کہ جس میں کسی نہ کسی پہلو سے تشنگی رہ جاتی ہے دلائل ذکرکر کے ان کے موازنہ کے بعد  راجح مسلک بیان کردیا جاتا۔زیر نظر کتابچہ(رمضان ،روزہ اور زکوۃ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی عالم دین ابو عدنان محمد منیر قمر کی تصنیف ہے ،جس میں مصنف نے رمضان روزہ اور زکوۃ سے متعلقہ مسائل کی بحث کو بھی اجاگر کیا ہے کہ جس میں فقہاء کے اختلافات اور پھر منافشہ کے بعد راجح مسلک بھی بیان کردیا ہے۔اس کتاب کا منفرد انداز یہ ہے کہ مصنف نے روزوں کے فوائد و ثمرات کو طبی اور سائنسی اصولوں پر بھی پرکھا ہے اور روزہ سے متعلق انسانی نفسیات کوبھی شامل کرتے ہیں اور موجودہ دور میں واقعاتی مثالوں سے روزہ کی اہمیت و افادیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)
     

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 520
  • اس ہفتے کے قارئین: 12961
  • اس ماہ کے قارئین: 40655
  • کل قارئین : 46005250

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں