دکھائیں کتب
  • 41 عمدۃ التصانیف شرح نخبۃ الاحادیث (جمعہ 23 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2294

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں  جن میں ایک  100 احادیث پر مشتمل  ایک  مجموعہ  عارف با اللہ  مولانا سید محمد داؤد غزنوی  ﷫ نے   نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘  کے  نام سے مرتب کیا جس میں  عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل  رااہنمائی موجود ہے۔ نخبۃ  الاحادیث ایک ایسی کتاب ہے کہ جس نے علماء کرام پیدا کرنےکے لیے  بنیاد میں رکھی جانے والی اینٹ کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے  جس کومدرسہ میں داخل ہونےوالا طالب علم سب سے پہلے  حفظ کرتا ہے۔ یعنی ایک طالب حدیث کی علم  حدیث کی ابتداء اسی کتاب سےہوتی ہےموصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب  میں شامل  ہے۔اس کی افادیت واثرپذیری کومحسوس کرتے ہوئے شارح ابن...

  • 42 عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری جلد اول (بدھ 08 فروری 2017ء)

    مشاہدات:2168

    محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب " عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری "محترم مولانا محمدحسین میمن صاحب کی تصنیف ہے، جس کی نظر ثانی شیخ الحدیث محترم مولانا مقصود احمد سلفی صاحب نے فرمائی ہے اور اس پر تقدیم محقق العصر محترم مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے لکھی ہے۔ یہ کتاب صحیح بخاری کے ابواب اور احادیث میں مناسبت کا بیش بہا مجموعہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اوراور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 43 فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد (پیر 04 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:2464

    اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کی رہنمائی کے لیے انہی میں سے ایک نبی کو مبعوث فرمایا اور مبعوث فرمانے کےبعد انہیں تعلیمات دینے کے لیے قرآن مجید اور احادیث نبویہﷺ کا عظیم تحفہ بھی عنائیت فرمایا۔ نبیﷺ سے پہلے انبیاء کی نبوت جز وقتی تھی اور ان کے جانے کے بعدان کی تعلیمات تحریف کا شکار ہو گئیں لیکن نبیﷺ کی شریعت قیامت تک کے لیے تھی اس لیے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے لے لیا اور احادیث نبویہﷺ کی حفاظت کے لیے اللہ رب العزت نے امت کے اکابر علماء کو چُن لیا اور انہوں نے اس کی حفاظت بھی کی اور آج قرآن مجید اور نبیﷺ کے فرامین اپنی اصل حالت میں بنا تحریف کے موجود ہیں۔ اور ان کی جمع وتدوین کا ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی مثال اس امت سے پہلےکوئی اُمت یا قوم پیش نہیں کر سکی۔ اور احادیث اور فن حدیث پر بے شمار کتابیں تالیف ہو چکی ہیں اور یہ ایسا بحر ذخار ہے کہ جس کے ساحل پر پہنچنے کے لیے ایک مدت دراز درکار ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی احادیث کے ایک مجموعے کو بزبانِ اُردو ترجمہ‘ تخریج اور تشریحات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور اس کتاب کو مروجہ انداز سے ہٹ کر جدید ترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں 644 ابواب اور کل مرفوع وموقوف روایات کی تعداد 1322 ہے۔ اس کتاب میں اگرچہ امام بخاری نے صحیح احادیث کا التزام نہیں کیا مگر ایسی احادیث کو بھی نہیں بیان کیا جو محدثین کے نزدیک پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ یہ کتاب اصلا عربی میں ہے لیکن افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ عام فہم اور سلیس رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے اور لمبی بحثوں سے اجتناب کیا گیا...

  • 44 فیض الباری ترجمہ فتح الباری پارہ 3،2،1 (جمعرات 14 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:31150

    کتب حدیث میں جو مقام صحیح بخاری کو حاصل ہے کہ وہ کسی اور مجموعہ حدیث کے حصے میں نہیں آیا۔اس کتاب کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اب تک مختلف زبانوں میں اس کی سینکڑوں شرحیں اور حاشیے لکھے جا چکے ہیں۔زیر نظر شرح جو فیض الباری کے نام سے موسوم ہے مولانا محمد ابو الحسن سیالکوٹی کے قلم سے ہے۔مولانا سیالکوٹی ،شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذ رشید تھے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1870 میں شائع ہوئی اب اسے جدید انداز میں طبع کیا گیا ہے،جو شائقین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگی۔یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب رہے گی کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کی مشہور شرح بخاری فتح الباری کا ترجمہ ہے ۔لیکن عصی الاطلاق یہ بات امر واقعہ کے مطابق نہیں  اصل میں یہ ایک مستقل شرح ہے جس میں فتح الباری کے علاوہ ارشاد الساری،کو اکب الدراری ،تیسیرالقاری،منح الباری ،توشیح اور عمدۃ القاری سمیت بعض دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کیا گیا جیسا کہ اس کتاب کے صفحہ 6پر یہ تصریح موجود ہے۔لہذا اسے فتح الباری کا ترجمہ قرار دینا مناسب نہیں ہےالبتہ بعض مقامات پر فتح الباری کا لفظی ترجمہ دیا گیاہے۔بہر حال ادارہ اس  عظیم الشان کتاب کو انٹرنیٹ پر پیش کر ہا ہے تاکہ ذوق علم رکھنے والے احباب اس سے مستفید ہو سکیں اور سلف کی خدمت حدیث سے امت کو روشناس کرایا جا سکے۔(یہ جلد پہلے تین پاروں پر مشتمل ہے جس میں کتاب الاذان تک کی احادیث کی شرح شامل ہے)۔(ط۔ا)
     

  • 45 ما یفید الناس شرح قال بعض الناس (جمعرات 02 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3066

    امام بخاری  کی شخصیت اور  ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہی۔سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام  بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ  عطا کیا ۔امام بخاری چونکہ مقلد نہ تھے اور ہر مسئلے کو اجتہادی اصولوں پر پرکھتے تھے،چنانچہ آپ نے متعدد مقامات پر دیگر مکاتب فکر کی آراء اور ان کے اقوال پر نام لئے بغیر صرف "قال بعض الناس"کہہ کر رد کیا ہے،اور صحیح موقف پیش کیا ہے۔آپ زیادہ تر احناف کا رد کرتے ہیں اور بسااوقات دیگر باطل فرقوں کا بھی رد کرتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " ما یفید الناس فی شرح قال بعض الناس"محترم جناب مفتی اللہ بخش صاحب ﷾خطیب دار الحدیث محمدیہ ملتان کی کاوش علمیہ ہے۔جس میں انہوں نے صحیح بخاری کے پچیس25 مقامات "قال بعض الناس" کی وضاحت کی ہے ،اور دلائل کے ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ ان مقامات پر امام بخاری نے "بعض الناس " سے کیا مراد لیا ہے۔یہ ایک تحقیقی اور علمی کتاب ہے جو طلباء کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور محققین کے بھی بڑی مفید اور شاندار تصنیف ہے۔تمام اہل علم کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 46 ما یفید الناس فی شرح قال بعض الناس ( اللہ بخش ) (ہفتہ 31 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2101

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ حدیث نبوی   کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد خصوصیات کی بنا پر اولین مقام اور اصح الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد کسی اور کتاب کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا ۔ صحیح بخاری کو اپنے زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف قبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اوربعض اہل علم تراجم ابواب، امام بخاری کااجتہادوغیرہ جیسے موضوعات کو زیر بحث لائے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مایفید الناس فی شرح قال بعض الناس‘‘ ملتان کے جید سلفی عالم دین شیخ الحدیث مفتی اللہ بخش کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے صحیح بخاری کے پچیس مقامات ’’ قال بعض الناس ‘‘ کی عالمانہ وضاحت وشرح پیش کی ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے اور طلبائے صحیح بخاری اور استاتذہ کے لیے گرانقدر علمی تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • اللہ تعالی کی رسی یعنی قرآن کریم کے ساتھ انسان کا تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کریم کی تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی آپ کے طریقہ سے نہ ہو اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک اس علم پر عمل نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں سے ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے امام بغوی ﷫ نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔ اس کتاب کو تالیف کے دور سے ہی شرق وغرب کے عوام وخواص دونوں میں یکساں طور مقبولیت حاصل ہے۔مصنفین ، علماء وطلبا ، واعظین وخطباء سب ہی اس کتاب سےاستفادہ کرتےچلے آرہےہیں۔یہ کتاب اپنی غایت درجہ علمی افادیت کے پیش نظر برصغیر پاک وہند کےدینی مدارس کےقدیم نصاب درس میں شامل چلی آرہی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں۔اوراس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے حتیٰ کہ خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام...

  • 48 مسند امام شافعی ( اردو ) جلد اول (جمعہ 08 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:3514

    اللہ تعالیٰ نے حدیث او رحاملین حدیث کو بڑی عزت فضیلت اور شرف سے نوازا ہے او رحدیث رسول ﷺ کی خدمت او رحفاظت کےلیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ وبرگزیدہ تھے ان عظیم المرتبت شخصیات میں بلند تر نام امام شافعی ﷫ کا ہے حضرت امام کی حدیث وفقہ پر خدمات اہل علم سے مخفی نہیں۔ امام شافعی اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ عربی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے انشاپرداز تھے۔ آپ کی دو کتب کتاب الام اور الرسالہ کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔آپ کی تالیفات میں سے ایک کتاب مسند الشافعی بھی ہے ۔مسند امام شافعی اپنی افضلیت وفوقیت کی بناء پر جداگانہ مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں امام شافعی ﷫ کی روایت کردہ احادیث کو جمع کیاگیا ہے ان احادیث کا انتخاب ہی اس کی سب سےاہم خاصیت ہے ایسی احادیث کو منتخب کیا گیا ہے جن میں مختصر مگر جامعیت کے ساتھ جملہ احکام شریعت کو سمودیاگیا ہے۔مسند شافعی کے پہلے نسخے میں احادیث کی ترتیب ایسی نہ تھی کہ جس سے موضوعاتی انداز میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ۔کیونکہ اس میں ایک موضوع کی احادیث کتاب کے مختلف مقامات پر بکھری پڑی تھیں۔ چنانچہ امیر سنجر بن عبد اللہ ناصری ﷫ نےمختلف موضوعات وعناوین کے اعتبار سے متعدد ابواب وکتب قائم کیے اور ہر کتاب اور باب کے تحت ان احادیث کو جمع کیا جو اس موضوع کے تحت آتی تھیں اورترتیب نہایت احسن اور شگفتہ انداز میں لگائی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسند امام شافعی‘‘ امیر سنجر بن عبد اللہ ناصری﷫ کی ترتیب شدہ نسخہ کا اردو ترجمہ ہے یہ ترجمہ شدہ نسخہ دو جلدوں پر مشتمل ہے جسے...

  • 49 مشکوٰۃ المصابیح (اردو) جلد اول (جمعہ 18 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:25860

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و ن...

  • مشکوٰۃ المصابیح  حدیث کی ایک  معروف کتاب ہے۔ جسے  اس کی تالیف کے دور سے ہی اس قدرشرفِ قبولیت حاصل ہے  کہ بہت سے لوگوں نے اس کی شروحات ،تعلیقات اور حواشی لکھے حتی خود مصنف کے استاذ محترم  نے بھی اپنے لائق  شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا  نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے او ربہت سے دینی مدارس میں یہ  کتاب شاملِ  نصاب ہے ۔اس لیے  بہت سے اہل علم نے  اس کی عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی  لکھے ہیں ۔ صاحب  مشکوٰۃ نے  احادیث مشکوٰۃ کے راویوں اورمخرجین کے علاوہ ااحادیث کےضمن میں آنے والی شخصیات کا بھی ایک الگ کتاب میں بالاختصار تذکرہ کیا ہے  جس کا نام ’’ الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ہے مدارسِ اسلامیہ میں پڑھائے جانے والے درسی نسخہ کےآخر میں یہ کتاب مطبوع ہے ۔مشکوٰۃ پڑھنے والے ہر شخص کےلیے  ’’الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ کاپڑھنا  از حد ضروری ہے۔زیر تبصرہ  ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے ترجمہ کے فرائض پروفیسر ابوانس محمد سرور گوہر نے سرانجام دئیے ہیں۔اور  انتہائی سلیس اور رواں ترجمہ پوری  احیتاط کےساتھ کیاہے۔اس ترجمہ کی  نظر ثانی شارح صحیح بخاری ،مفتی جماعت    شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1305
  • اس ہفتے کے قارئین: 3503
  • اس ماہ کے قارئین: 37524
  • کل قارئین : 47837908

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں