کل کتب 83

دکھائیں
کتب
  • 71 #1666

    مصنف : محمد طاہر نقاش

    مشاہدات : 4475

    ننھی چڑیا کی بیقراری

    (پیر 22 اپریل 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’ننھی چڑیا کی کہانی‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ایک ایسی چڑیا کا تذکرہ کیا گیا ہے جو نبی کریمﷺ کے دور میں زندہ تھی۔ صحابہ نے اس کو دیکھا تھا اور ا س کے دو ننھے منے بچوں کو پکڑ بھی لیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اس ننھی چڑیا کے متعلق اپنے صحابہ سے ایک خاص ارشاد فرمایا۔ یوں اس ننھی و معصوم چڑیا کی داستان ہمیشہ کے لیے کتب احادیث میں محفوظ ہو گئی۔ اس کے علاوہ متعدد واقعات شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ یہ مفید تربیتی کہانیاں ننھے مجاہد اور بعض دوسرے رسائل و جرائد سے اخذ کی گئی ہیں۔(ع۔م)
     

  • 72 #1656

    مصنف : مائل خیرآبادی

    مشاہدات : 4134

    نو ر ایمان سے محروم بدنصیب مجرم لوگ

    (جمعہ 12 اپریل 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں تاریخ اسلامی کے سچے واقعات قلمبند کیے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں نور ایمان سے محروم رہ جانے والے بدنصیبوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان بدنصیبوں میں ابلیس، قابیل، کنعان، سامری، قارون، عبداللہ بن ابی، مسیلمہ کذاب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 73 #1811

    مصنف : محمد فاروق رفیع

    مشاہدات : 8779

    نومولود کے احکام ومسائل اور اسلامی نام

    (بدھ 11 ستمبر 2013ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    بحیثیت ہر مسلمان  پر کتاب و سنت کی بنیادی تعلیمات سیکھنا اور ان پر عمل کرنا لازم ہے اور ہر مسلمان میں یہ جذبہء صادقہ بیدار ہونا چاہیے کہ کتاب و سنت کی بالادستی اور شرعی احکام کی اتباع اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہو ۔ وہ دنیا میں کتاب و سنت کا سچا پیروکار اور شریعت اسلامیہ کا حقیقی متبع ہو ۔ چناچہ شریعت سے سچی لگن اور اسلام سے دائمی تعلق ہی دنیاوی و اخروی زندگی کی کامیابی کا راز اور عظمت کا ضامن ہے ۔ زندگی کے ہر پہلو اور ہر موقع پر کتاب و سنت  سے رہنمائی لینا  اور عملی زندگی میں شرعی احکام کی تعمیل ہی مسلمان کی اصلی پہچان ہے ۔ سو عقائد و نظریات ، عبادات و معاملات اور اخلاق و عادات میں شریعت اسلامیہ کی اتباع ہی ملحوظ ہونی چاہیے ۔ لہذا دیگر احکام و فرائض کی طرح شادی شدہ اسلامی جوڑے پر یہ اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نیک اولاد کے حصول کا خواہش مند بھی اور طلب اولاد کا حریص بھی ۔ پھر اولاد طلبی کی شرعی حدود و قیود کی پابندی اختیار کرے اور حصول اولاد کی ناجائز صورتیں اور شرکیہ افعال سے بھی گریز کرے ۔ اور جب اللہ تعالی اس کی التجاؤں کو شرف قبولیت بخشے تو حمل ، وضع حمل کے احکام سے واقفیت حاصل کر کے ان پرعمل پیرا ہو اور گھر کے آنگن میں پھول کھلنے کی صورت میں نومولود کے نام رکھے ۔ عقیقہ کرنے ، بال مونڈنے ، ختنہ کروانے ، رضاعت کے مسائل اور تربیتی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کر کے اپنی شرعی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہو۔یہ کتاب اسلامی زندگی کے انہی پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے ۔ اللہ  مصنف کی اس کاوش کو دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (ع۔ح)
     

  • 74 #1703

    مصنف : ڈاکٹر انعام الحق کوثر

    مشاہدات : 4126

    نیکی کی کلیاں

    (بدھ 29 مئی 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ادارہ دار الابلاغ نے اس سلسلہ میں بہت اہم قدم اٹھایا ہے اور بچوں کےلیے بہت ساری کہانیاں مرتب کر کے شائع کی ہیں۔ اس حوالے سے محمد طاہر نقاش ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں جن کی شبانہ روز محنتوں سے یہ سلسلہ چلتا رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں اس کا تسلسل آگے بھی برقرار رہے گا۔ زیر نظر کتاب ’نیکی کی کلیاں‘ اسی سلسلہ میں ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی ایک تصنیف ہے موصوف بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس کتاب میں بھی بچوں کے لیے متعدد کہانیاں اور واقعات شامل کیے گئے ہیں یہ واقعات اور کہانیاں بچوں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ و طریقہ بتاتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 75 #3645

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1676

    وعدہ

    (منگل 06 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "وعدہ" محترم ڈاکٹر محمد افتخار صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں شہد اورشہد کی مکھی کے حوالے سے  متعدد سائنسی ودینی  معلومات کو بڑے خوبصورت پیرائے میں جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے بچوں کی اصلاح وتربیت کے لئے شروع کئے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 76 #3646

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 1357

    وفا کا پیکر

    (بدھ 07 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "وفا کا پیکر" محترم اشفاق احمد خاں صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں معروف صحابی رسول سیدنا اسامہ بن زید  کے سیرت وسوانح کو بڑے خوبصورت پیرائے میں جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سےدور نبوت کے بچوں کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یہ کتاب ایک عظیم اور مجاہد صحابی کی داستان ہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 77 #1606

    مصنف : آغا اشرف

    مشاہدات : 16936

    پتھر کا شہر پتھر کے لوگ

    (اتوار 23 دسمبر 2012ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’پتھر کے شہر پتھر کے لوگ‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں نبی کریمﷺ کا طائف میں تبلیغ کے لیے جانا اور اہل طائف کا آپﷺ کے ساتھ نہایت برے سلوک کا واقعہ قلمبند کیا گیا ہے اس کےساتھ ساتھ ’وہ مائیں وہ بیٹے‘اور ’سجدہ بندگی‘کے عنوانات سے بھی بہت سبق آموز واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 78 #3635

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1771

    پرانی لاش

    (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    قرآن مجید کی دوسورتوں میں سیدنا ادریس    کا ذکر ہے۔حضرت ادریس کی شخصیت ، زمانے اور وطن کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ آپ آدم اور نوح کے درمیانی زمانے میں پیدا ہوئے اور بابل آپ کا وطن تھا۔ ابن مسعود اور ابن عباس کے نزدیک الیاس اور ادریس  ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ "صحیح بخاری کتاب الانبیا" صحیح بخاری ہی کی ایک روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی تو چوتھے آسمان پر آپ نے حضرت ادریس سے ملاقات فرمائی۔حضرت آدم  کے بعد آپ پہلے نبی تھے  انہوں نے ہی سب سے پہلے سینا اور لکھنا شروع کیا ۔اور سید ناادریس   پہلے   انسان ہیں جنہوں نے  ظلم کے خلاف جہاد کیا  اور  ظالموں کو شکست دی۔زیر تبصرہ کتاب’’ پرانی کتاب‘‘ محترم جناب  اشتیاق احمد صاحب کی کاوش ہے  جس میں ا نہوں نے  سید ناادریس   کی  سیرت کو  ایک  عام فہم انداز میں کہانی  اور مکالمے کی صورت میں پیش کیا ہے  اللہ تعالیٰ ان  کی سلسلہ  قصص الانبیاء کی  اس  حسین  کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 79 #3634

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2101

    پرانی کتاب

    (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا یعقوب   کی اولاد بنی اسرائیل کو مصر میں رہتے ہوئے کافی مدت گزر چکی تھی، چوں کہ باہر سے آئے ہوئے تھے، اس لیے مصری انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔اس زمانے میں مصر کا ہر بادشاہ فرعون کہلاتا تھا، حضرت یوسف  سولہویں فرعون کے زمانے میں مصر تشریف لائے۔سیدنا  موسیٰ  کے زمانے کا انیسواں فرعون تھا۔ اس کا نام منفتاح بن ریمسس دوم تھا۔ سیدنا موسیٰ  خدا کےبرگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے. آپ کے بھائی حضرت ہارون  بھی اللہ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔تمام پیغمبر کی نسبت قرآن میں حضرت موسیٰ   کا واقعہ زیادہ آیا ہے۔ تیس سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ   و فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سومرتبہ سے زیادہ اشارہ ہوا ہے۔فرعون نے ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر یہ بتائی گئی کہ بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت کے زوال کا باعث ہوگا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس قتل کردیا جائے۔اسی زمانے میں حضرت موسی  عمران کے گھرمیں پیدا ہوائے۔ ماں باپ کو سخت پریشانی تھی اور وہ سمجھتے تھے اگر کسی کو پتا چل گیا تو اس بچے کی خیر نہیں۔ کچھ مدت تک تو ماں باپ نے اس خبر کو چھپایا، لیکن مارے پریشان کے ان کا حال برا ہورہا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس معصوم بچے کو صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں بہادو۔حضرت موسیٰ  کی والدہ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بڑی لڑکی کو بھیجا کہ وہ صندوق کے ساتھ ساتھ کنارے پر جائے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کی حفاظت کرتا ہے۔جب یہ صندوق تیرتا ہوا شاہی محل کے قریب پہنچا تو فرعون کے گھرانے کی عورتوں میں سے ایک نے اس کو دیکھ کر باہر نکلوالیا اور جب اس میں ایک خوب صورت بچے کو دیکھا تو خوش ہوئیں اور اس بچے کو محل میں لے گئیں۔ حضرت موسیٰ  کی بہن بھی فرعون کی خادماؤں میں شامل ہوگئیں۔فرعون کے کوئی اولاد نہ تھی۔ جب اس کی بیوی آسیہ نے ایک حسین و جمیل بچے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئیں۔ اتنے میں فرعون بھی آگیا۔ اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی نے منت سے کہا کہ اس معصوم کو قتل نہ کرو، کوئی بڑی بات نہیں اگر یہی بچہ میری اور تیری آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جائے اور ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور اگر حقیقت میں یہی وہ بچہ ہے جو تیرے خواب کی تعبیر بننے والا ہے تو ہم اس کی ایسی تربیت کریں گے کہ ہمارے لیے نقصان رسان بننے کی بجائے مفید ہی ثابت ہو۔ اس طرح فرعون حضرت موسی   کے قتل کرنے سے باز رہا۔حضرت موسیٰ  فرعون کے گھر میں پل کر جوان ہوئے۔ آپ بڑے خوب صورت اور طاقتور تھے۔ایک دن آپ شہر سے باہر جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک اسرائیلی کو بیگار میں لے کر تنگ کررہا ہے۔ جب حضرت موسیٰ   اس کے قریب سے گزرے تو اسرائیلی نے حضرت موسیٰ   سے فریاد کی، آپ نے مصری کو سختی اور جبر سے روکنے کی کوشش کی، لیکن مصری نہ مانا۔ اس پر حضرت موسیٰ   نے غصے میں آکر مصری کو ایک ایسا طمانچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔  فرعون نے ان کی گرفتاری کے احکام جاری کردئیے۔ اس وقت ایک آدمی فرعون کے دربار میں موجود تھا، جس کو حضرت موسیٰ    سے انس تھا۔ اس نے فوراً حضرت موسیٰ   کو جا کر سارے واقعہ کی اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ آپ فوراً یہاں سے نکل جائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ   بے سرو سامان نکل کھڑے ہوئے اور منزلیں طے کرتے ہوئے مدین کے شہر جاپہنچے۔ وہاں  دو لڑکیوں کی بکریوں کوپانی پلانے کے عوض ان کی مہمان نوازی کی گئی اور ان میں سے ایک لڑکی  کےساتھ  ان  کی شادی  بھی کردی گئی   وہاں کافی عرصہ بکریاں چراتے رہے ۔طویٰ کی مقدس وادی میں آپ کو نبوت سےسرفرازکیاگیا  اور کچھ معجزے اور نشانیاں بھی  عطا کیں اوراللہ تعالیٰ نے  حکم دیا کہ ہماری ان نشانیوں کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو او اس کی قوم کو سیدھا راستہ دکھاؤ۔ اس نے بہت سرکشی اور نافرمانی اختیار کررکھی ہے اور وہ بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کررہا ہے، ان کو اس غلامی اور ذلت سے نجات دلاؤ۔حضرت موسیٰ   اپنے بھائی کو ساتھ لے کر فرعون کے دربار گئے اور فرعون سے کہا کہ خدا نے مجھے اپنا پیغمبر اور رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے۔ ہم تم سے دو باتیں کہتے ہیں ایک تو خدا واحد پر ایمان لے آؤ۔ دوسرے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آؤ اور ان کو غلامی سے نجات دو۔فرعون سے کافی باتیں ہوئیں۔ حضرت موسیٰ   نے پیار و محبت سے فرعون کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور جب اس سے کوئی جواب نہ بن آیا تو درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ کوئی پاگل معلوم ہوتا ہے اور کج بحثی کرنے لگا اور اپنے وزیر بامان سے کہنے لگا کہ ایک اونچی عمارت بناؤ جس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ حضرت موسیٰ   نے کہا کہ میں اپنی صداقت میں تیرے پاس ظاہر نشانیاں لایا ہوں۔ فرعون نے کہا اگر تیرے پاس کوئی نشانی ہے تو ہمیں بھی دکھا۔ حضرت موسیٰ   نے اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ پھر اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے گئے۔ جب نکالا تو وہ ایک روشن ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔یہ دیکھ کر فرعون کے درباری چلا اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا جادو گر ہے۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ اب تو موسیٰ اور ہارون کو جانے دیا جائے اور کچھ دن بعد اپنی سلطنت کے تمام بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے حضرت موسیٰ   سے مقابلہ کرایا جائے۔مقابلے سے پہلے حضرت موسیٰ  نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ، ایسا نہ ہو کہ اللہ  کا عذاب تم کو دنیا سے نیست و نابود کردے۔ جادوگروں نے آگے بڑھ کر کہا کہ ان باتوں کو جانے دو۔ اب ذرا دو دو ہاتھ ہوجائیں۔ اب یہ بتاؤکہ پہل تم کرو گے، یا ہم کریں آپ نے فرمایا کہ پہل تمہاری طرف سے ہونی چاہیے۔اب ان جادوگروں نے اپنی رسیاں بان اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں جو سانپ بن کر زمین پر دوڑنے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت  موسیٰ  کچھ گھبراگئے ۔ مگر اسی وقت خدا کا حکم ہوا، موسیٰ خوف نہ کھاؤ، ہمارا وعدہ ہے تم غالب رہو گے، اپنی لاٹھی کو زمین پر ڈال دو۔حضرت موسیٰ نے فوراً اپنا عصا زمین پر پھینک دیا اور وہ ایک خوفناک اژدھا بن گیا۔ جس نے تمام جادو کے زور سے بنے ہوئے نمائشی سانپوں کو نگل لیا۔ جادوگر یہ دیکھ کر سخت حیران ہوئے اور پکار اٹھے کہ موسیٰ   کا یہ عمل جادو نہیں بلکہ خدا کا معجزہ ہے اور فوراً سجدہ میں گر پڑے اور اعلان کیا کہ ہم موسیٰ   اور ہارون کے خدا پر ایمان لے آئے ہیں۔جادوگروں نے کہا کہ اب سچائی ہمارے سامنے آگئی ہے تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر، ہم ایک الہ پر ایمان لاچکے ہیں۔ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔یہ دیکھ کر اسرائیلی نوجوانوں کی ایک جماعت بھی حضرت موسیٰ   پر ایمان لے آئی۔ لیکن وہ بھی فرعون کے قہر و غضب سے ڈرتے تھے اس لیے کھل کر اعلان نہ کرسکے۔حضرت موسیٰ   نے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے ہو اور اس کے فرمانبردار بننا چاہتے ہو تو فرعون سے ہرگز نہ ڈرو اور اللہ پر ہی اپنا بھروسہ رکھو۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔جب حضرت موسیٰ  کو فرعون اور اس کے درباریوں کے منصوبوں کا علم ہوا تو آپ نے بنی اسرائیل کے لوگوں نے کہا۔ موسیٰ، ہم تو پہلے ہی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے تھے، تیرے آنے سے کچھ امید بندھی تھی، مگر تیرے آنے کے بعد تو اور بھی مصیبت آگئی ہے۔ حضرت موسیٰ   نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ گھبراؤ نہیں۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے تم ضرور کامیاب رہو گے اور تمہارا دشمن ہلاک ہوگا۔اللہ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی قوم بنی اسرائیلی کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی سرزمین پر لے جاؤ، چنانچہ آپ رات کے وقت نبی اسرائیل کو لے کر نکل گئے۔ ادہر فرعون کو بھی اطلاع مل گئی، اس نے ایک زبردست فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ وہ پانی کے کنارے پر پہنچے تھے کہ مصری فوجیں آگئیں۔ جنہیں دیکھ کر بنی اسرائیل بہت گھبرائے۔ مگر حضرت موسیٰ   نے ان کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ   کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو، چنانچہ جب حضرت موسیٰ   نے بحیرہ قلزم کے پانی پر اپنی لاٹھی ماری تو اس میں سے راستہ بن گیا اور حضرت موسیٰ   بڑے آرام سے بحیرہ قلزم سے پار ہوگئے۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ تم بھی اس راستے سے بحیرہ قلزم کو پار کرجاؤ۔ لیکن جب فرعون اور اس کی ساری فوج درمیان میں آگئی تو اللہ کے حکم سے پانی پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا اور فرعون اپنی فوج سمیت غرق ہوگیا۔ جب فرعون غرق ہونے لگا تو اس نے پکارا کہ میں موسیٰ کے رب کے اوپر ایمان لاتا ہوں، لیکن یہ بعد از وقت تھا ۔ فرعون کی پکار پر اللہ نے فرمایا کہ "آج کے دن ہم تیرے جسم کو ان لوگوں کے لیے جو تیرے پیچھے آنے والے ہیں نجات دیں گے کہ وہ عبرت کا نشان بنے"۔ چنانچہ ہزارو سالوں کے بعد اس پرانی  لاش دستیاب ہوئی ہے اور اب مصر کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’پرانی لاش‘‘ میں  محترم جنا ب اشتیاق احمد صاحب نے    کہانی او رمکالمے کے  انداز میں اس فرعون کا تذکرہ کیا ہے۔ایک اچھی کہانی کی طرح اس  کہانی میں بھی یہ خوبی نمایاں ہے یہ عبرت ونصیحت کےتمام پہلو اپنے اندرکھتی ہے۔ (م۔ا)

  • 80 #3648

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1667

    پوری دنیا ایک طرف

    (جمعرات 08 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "پوری دنیا ایک طرف" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئےایک منفرد اور کہانی کے انداز میں کھانا کھانے کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ کو بیان کیا ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے اجالوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ  کی قدر وقیمت اور اہمیت  اور شادی کے موقعہ پر ہونے والی  برائیوں کو براءت اور شادی کے ایک واقعہ کی روشنی میں کچھ اس انداز سے  بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1286
  • اس ہفتے کے قارئین 3131
  • اس ماہ کے قارئین 55164
  • کل قارئین49459028

موضوعاتی فہرست