دکھائیں کتب
  • 21 بے موسم پھل (منگل 12 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1686

    سیدہ مریم علیہا السلام وہ خاتون ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ ﷤ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو جنم دیا۔رسول پاکﷺ کا فرمان ہے کہ "شیطان سب بچوں کو پیدا ہوتے وقت چھیڑتا ہے مگر حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں چھیڑ سکا۔ان کی والدہ نے بھی اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ان کو ان کی اولاد کو شیطان سے بچائیو۔چناچہ ایسا ہی ہوا۔آپ علیہا السلام کے والد کا نام عمران ﷤اور والدہ کا نام حنہ علیہا السلام تھا۔ جب حضرت حنہ علیہا السلام والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو حمل ہوا تو انہوں نے اللہ سے منت مانی کہ اگر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو وہ اسے ہیکل کی خدمت کے لیے آزاد چھوڑ دیں گی۔ یعنی دنیا کے کام ان سے نہ لیں گی۔ان کے ہاں لڑکی یعنی حضرت مریم علیہا السلام پیدا ہوئی تو ان کو تاسف ہوا کہ ان کی منت پوری نہ ہوسکی کیونکہ لڑکی ہیکل کی خدمت پوری طرح نہ کر سکتی۔جب سیدہ مریم علیہا السلام سن شعور کو پہنچیں تو سوال اٹھا کہ مقدس ہیکل کی امانت کس کے سپرد کی جائے تو ہر ایک نے خواہش ظاہر کی کہ مقدس امانت اس کے سپرد کی جائے۔چناچہ قرعہ ڈالا گیا،تو قرعہ حضرت زکریا ﷤ کے نام کا نکلا۔آپ ﷤اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے۔حضرت زکریا ﷤نے ہیکل کے قریب ہی ایک حجرہ حضرت مریم علیہا السلام کے لئے مخصوص فرما دیا تا کہ دن کے وقت وہ حضرت مریم علیہا السلام وہاں عبادت کر سکیں۔رات کے وقت وہ حضرت مریم علیہا السلام کو ان کی خالہ ایشاع یعنی اپنی زوجہ کے پاس لے جاتے اور حضرت مریم علیہا السلام رات وہاں بسر فرماتیں۔حضرت مریم علیہا السلام اپنے...

  • 22 تحریک مجاہدین جلد پنجم (اتوار 17 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1407

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحیدِ خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل شہید تھے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبر...

  • 23 تحفۃ الاطفال (جمعرات 06 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1147

    اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد ہے۔اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔انسان کی اصل تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ جو اپنے لال کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق وفرائض سے آگاہی فراہم کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم گھرانوں میں بچہ زبان کھولتا ہے تو  گھر کی فضا لاالہ الا اللہ کی مشک بار لفظوں سے معطر  ہوجاتی ہے ۔اور حالات  کا مشاہدہےکہ جو لوگ اپنے بچوں کی دینی تربیت نہیں کرپاتے انہیں زندگی میں ندامت  وشرمندگی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی نادانی اور بے خبری پر کف افسوس ملتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تحفۃ الاطفال‘‘  مولانا  غلام  مصطفیٰ  ظہیر امن پوری ﷾کی مرتب شد ہ ہے ۔ یہ کتاب  دو حصوں پرمشتمل ہے ۔پہلے  حصے کا نام تحفۃ الاطفال اور دوسرے حصے کا نام ’’ ریاض الاطفال‘‘ ہے  حصہ اول ’’ تحفۃ الاطفال‘‘ میں مسلمان ماؤں کی ضرورت کے پ...

  • 24 توبہ؟ (منگل 06 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1939

    اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا  وہ توبہ کرسکتا ہے  اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے  لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین  ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی  اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول  نہیں۔انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گ...

  • 25 تہذیب اطفال (منگل 25 مئی 2010ء)

    مشاہدات:13916

    یہ کتاب دراصل علامہ ابن قیّم الجوزیہ رحمتہ اللہ علیہ کی مایہ ناز تالیف "تحفۃ الودود باحکام المولود" کا کچھ اختصار و اضافہ کے ساتھ اردو ترجمہ ہے۔ بچے کی پرورش کے موضوع پر اتنی تفصیلی کتاب شاید ان سے پہلے کسی نے نہیں لکھی۔ موضوع سے متعلق کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا ہر مسئلے پر گفتگو کی اور بادلیل کی۔ اسی لیے یہ کتاب آج تک اہل علم کے لیے مرجع و مصدر کا درجہ رکھتی ہے۔ زیر نظر ایڈیشن محقق ہے یعنی ہر حدیث کی تخریج اور حکم ساتھ ہی موجود ہے، جس کی وجہ سے اس کتاب کی افادیت بہت بڑھ گئی ہے۔ بچوں کی پیدائش سے بلوغت تک کے احکام و آداب پر مشتمل یہ نہایت ہی عمدہ کتاب ہے۔
     

  • 26 تیرتی قبر ؟ (پیر 05 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1535

    سیدنا یونس اللہ کے نبی تھے۔ آپ کے نام پر قرآن پاک میں پوری ایک سورت ہے۔ آپ کی قوم نہایت سرکش تھی۔ سالوں کی تبلیغ کے باوجود جب آپ کی قوم نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو آپ نے اُن کو اللہ کی طرف سے سخت عذاب کی نوید دی، جس پر اُس قوم کے سرکش لوگوں نے حضرت یونس کی باتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ “اگر تمہارے خدا کی طرف سے عذاب آنے والا تو تم ہمیں اُس کا وقت بتاؤ، جس پر حضرت یونس نے اُنہیں چالیس دن کے بعد عذابِ الٰہی کی خبر دی جوکہ اللہ کو ناگوار گزری کیونکہ اللہ نے اُس قوم کو عذاب سے ڈرانے کے لئے ہدایت کی تھی نہ کہ عذاب نازل کرنے کا وقت بتانے کی۔ دوسرے نادانی اُس وقت ہوئی کہ جب حضرت یونس عذاب کی نوید دینے کے بعد اُس وطن کو ترک کرکے چلے گئے اس دوران آپ کو اندازہ ہوگیا کہ رب تعالٰی کسی بات پر آپ سے ناراض ہوگیا ہے۔ جب آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی کو طوفان نے گھیر لیا۔ اُس وقت کے رواج کے مطابق کشتی کے ملاح اور دوسرے مسافر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کشتی میں کوئی اللہ کا نافرمان بندہ سوار ہے، جس کی وجہ سے تمام کشتی والوں کو اس طوفان کا سامنا ہے۔ جس پر حضرت یونس نے اُن سے کہا کہ مجھے دریا میں پھینک دو، تم کو اس طوفان سے نجات مل جائے گی لیکن کشتی والوں نے کہا کہ آپ تو اللہ کے نبی اور نیک بندے ہیں، آپ کو کیسے دریا بُرد کیا جاسکتا ہے۔ آخر سب اس نتیجے پر پہنچے کہ قرعہ کرلیتے ہیں، جس کا نام نکل آئے گا، اُس کو دریا بُرد کردیا جائیگا۔ قرعہ کے نتیجے میں بھی حضرت یونس کا نام نکلا، دوبارہ قرعہ نکالا گیا، پھر حضرت یونس کا نام نکلا، بالآخر جب...

  • 27 ثمود کی تباہی (ہفتہ 03 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1904

    قوم ثمود یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔یہ قوم بھی پہلی بھٹکی ہوئی قوموں کی طرح  بت پرست تھی اور جب ان کے فسق و فجور حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قوم ثمود میں ہی سے حضرت صالح   کو نبوت کا شرف دے کر مبعوث کیا تاکہ وہ ان بدکردار لوگوں کو اگلی قوموں کے انجام کی داستانیں سنا کر ان کو بتائیں کہ ان کے خوفناک انجام کو دیکھو اور اپنی سرکشی سے باز آؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اللہ  کے عذاب میں گرفتار ہوکر ان قوموں کی طرح دنیا سے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجاؤ۔جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح  کو نبی بنا کر قوم ثمود کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم کو جمع کرکے برے کاموں سے بچنے اور اللہ کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت کی آپ نے اپنی قوم کو بار بارسمجھایا، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور ان پر اللہ  کے فضل و کرم جتائے، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔اے صالح، ہماری قوت، شوکت، دولت  کی فراوانی، کھیتوں کی سرسبزی، عالی شان مکانات، غرض یہ کہ دنیا جہان کے عیش و آرام جو ہمیں حاصل ہیں تیرے ہی الہ  کی طرف سے ہیں تو پھر وہ لوگ کیوں غریب اور نادار ہیں جو تیرے الہ کو ایک مانتے ہیں۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ راست پر نہیں اور یہ ہمارے ہی معبودوں کی تو کرم فرمائیاں ہیں۔سیدنا صالح نے ان سے فرمایا کہ اس عقل و دولت اور شان و شوکت پر ہرگز گھمنڈ اورغرور نہ ک...

  • 28 جان سے قیمتی (جمعہ 25 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1361

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "جان سے قیمتی" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئےایک منفرد اور کہانی کے انداز میں بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ ، جادو گر ، راہب اور ایمان دار لڑکے کا واقعہ بیان کیا ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے  سلسلےبچوں کے لئے سچی کہانیاں  کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں ایمان کی قدر وقیمت اور اہمیت کو ایک واقعہ کی روشنی میں کچھ اس انداز سے  بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھ...

  • 29 جب فرشتہ بھیس بدل کر آگیا (ہفتہ 11 مئی 2013ء)

    مشاہدات:3958

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ’فرشتہ اندھے کے روپ میں‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں بچوں کی تربیت کے لیے متعدد کہانیاں رقم کی گئی ہیں۔ ان کہانیوں میں موت کے پیچھے پیچھے، 100 جانوں کا قاتل، اللہ کی اونٹنی، بوڑھا بیٹا، اذان کیسے شروع ہوئی  اور جب فرشتہ بھیس بدل کر آ گیاقابل ذکر ہیں۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 30 جستجو کا سفر (اتوار 27 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1634

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "جستجو کا سفر" محترم نعیم احمد بلوچ صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئے ایک منفرد اور کہانی کے انداز  میں ہمارے جد امجد سیدنا آدم   کی تخلیق کے قصےکو بیان کیاہے، اور یہ کتابچہ اس کا دوسرا حصہ ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے سلسلے واقعات انبیاء کی دوسری  کڑی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے سیدنا آدم    اور ان کی تخلیق کے قصے کو بیان کیا ہے، اور اس موقف کا سختی سے رد کیا ہے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1050
  • اس ہفتے کے قارئین: 11695
  • اس ماہ کے قارئین: 39389
  • کل قارئین : 45990065

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں