دکھائیں کتب
  • 131 پردے کی شرعی حیثیت (جدید ایڈیشن) (پیر 08 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:6608

    آج پوری دنیا میں مغربی تہذیب اور کلچر کے اثرات ہیں مسلمان خواہ عورت ہو یا مرد وہ حقیقی معنوں میں اپنے اسلام پر عمل کرنا چھوڑ گئے ہیں ۔ اسلام کی جہاں گونا گوں اقدار کو پس پشت ڈالاگیا ہے وہاں ایک اسلامی معاشرے کی نمایاں ترین قدر ، پردہ بھی ہے ۔ سوسائٹی میں جابجا بےپردگی عام ہے ۔ آج عورت فیشن ایبل بن کر ، ننگے منہ ، ننگے سر عطر پرفیوم لگا کر بازاروں ، سٹوڈیوز، کلبوں اور کھیل کے میدانوں میں گھومتی ہے بلکہ بین الاقوامی کھیلوں کے میچ میں بن سنور کر شریک ہوتی ہے اور اس حالت میں بگڑے ہوے معاشرے کے اندر مردوں کو دعوت گناہ دیتی ہے ۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے ۔ (غلط) دیکھنا آنکھ کا زنا ہے (غلط ) بولنا زبان کا گناہ ہے ۔ اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے ۔ اور شرمگاہ ان تمام امور کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔ (بخاری6612) اسلام نے عورت کو عفت و عصمت اور پاکدامنی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے گھر میں رہنے کی تاکید کی  اور جب کبھی ضرورت  سے باہر جانا پڑے تو پردے کا حکم دیا ہے ۔ اس کتابچے میں مختصر انداز میں پردے کا شرعی حکم بیان کیا گیا ہے ۔ لمبی لمبی فقہی بحثوں کو نہیں چھیڑا گیا ۔ تاکہ مسلمان خواتین کے سامنے پردے کی اہمیت اجاگر ہوجائے اور  بےپردگی سے نفرت کا احساس بیدار ہو جائے ۔ (ع۔ح)
     

  • اسلام ایک پاکیزہ دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔زیر تبصرہ کتاب" چہرے اور ہاتھوں کا پردہ،شرعی حیثیت اور شبہات کا ازالہ"سعودی عرب کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ علی بن عبد النمی کی تصنیف ہے۔جس پر فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین اور فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی کی تقدیم ہے۔مولف نے اس کتاب میں قرآن وسنت کی روشنی میں مضبوط دلائل سے چہرے اور ہاتھوں کے پردے کو ثابت کیا ہے۔اور چہرے کے پردے کا انکار کرنے والوں کا مدلل رد کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمان ماؤں اور بہنوں کو عفت وعصمت کا مجسمہ بننے اور پردہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 133 چہرے کا پردہ (پیر 23 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:15482

    عورت اور مرد کے جسمانی خدوخال کی مخالفت کی وجہ سے شریعت نے ان کے جسم کو چھپانے کے احکامات الگ الگ مقرر کیے ہیں-اس لیے عورت کو ہر وقت پردے میں رہنے کا حکم جبکہ مرد کے مختصر لباس کو بھی جائز قراردیا ہے-عورت کے پردے کے حوالے سے بہت ساری بحثیں موجود ہیں کچھ لوگ عورت کے پردے کے قائل ہیں لیکن چہرے کے پردے کے قائل نہیں اور کچھ چہرے کے پردے کے قائل ہیں-مصنف نے دونوں رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے جانبین کے دلائل کو پیش کرکے قرآن وسنت سے ان کی حیثیت کو واضح کرکے شرعی راہنمائی فراہم کی ہے-علامہ البانی کے چہرے کے پردہ کے قائل نہ ہونے کی وجوہات کچھ اور ہیں اور غامدی اور اس طرح دوسرے لوگوں کے نزدیک عورت کے چہرے کے پردے کا قائل نہ ہونے کی وجوہات کچھ اور ہیں اس لیے مصنف نے ہر گروہ کے افکار ودلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے حساب سے جواب دیتے ہوئے قرآن وسنت سے اپنے موقف کی ترجمانی کو پیش کیا ہے اور اسی طرح کتاب کے آخر میں پردے کے حوالے سے پائے جانے والے مختلف شبہات کو الگ الگ بیان کر کے ان کا بھی علمہ محاکمہ کیا ہے اور کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے ہر بات دلائل کی روشنی میں کی ہے اور ہر باب کے آخر میں تمام حوالہ جات کو بھی پیش کیا ہے تاکہ قاری اگر اصل مراجع ومصادر سے استفادہ کرنا چاہتا ہو تو اس کو آسانی رہے-

  • 134 چہرے کا پردہ واجب، مستحب یا بدعت؟ (پیر 03 ستمبر 2012ء)

    مشاہدات:20805

    چہرے کا پردہ واجب ہے مستحب یا بدعت؟ اس سلسلہ میں ماضی قریب کے معتبر عالم دین علامہ ناصر الدین البانی کا موقف استحباب کا ہے۔ البتہ فتنہ کے اندیشہ کی صورت میں وہ بھی چہرے کے پردے کے وجوب کے قائل ہیں۔ لیکن موجودہ دور کے متجددین حضرات چہرے کے پردہ کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں بلکہ ان کےموقف کے مطابق یہ بدعت کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں محترم حافظ محمد زبیر اور پروفیسر خورشید صاحب کے مابین طویل سلسلہ مضامین رہا ہے۔ پروفیسر خورشید صاحب چہرے کے پردہ کے سلسلہ میں ماہنامہ ’اشراق‘ میں لکھتے رہے ہیں جبکہ اس کے جواب میں حافظ محمد زبیر ماہنامہ ’حکمت قرآن‘ میں اپنی آرا کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’ چہرے کا پردہ واجب ہے مستحب یا بدعت؟ ‘حافظ صاحب کے انہی مضامین کی یکجا صورت ہے، جن کو حافظ صاحب نے مزید تنقیح و تہذیب اور حک واضافہ کے بعد افادہ عام کے لیے پیش کیا ہے۔ حافظ صاحب نے کتاب میں جواضافے کیے ہیں ان میں بطور خاص اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’جلباب المراۃ المسلمۃ‘ میں بیان کردہ احادیث و آثار کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے۔ اس کتا ب میں چہرے کے پردے کے حوالے سے ہر نوع کے ان اشکالات کا بھی علمی محاکمہ کیا گیا ہے جو اپنوں یا غیروں نے علمی بنیادوں یا محض جہالت کی بنا پر اٹھائے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 135 کاسمیٹکس (ہفتہ 29 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1958

    بننے سنورنے کا رجحان دور حاضر میں ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اور کاسمیٹکس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو جسم کو فطری حسن کی بجائے اضافی حسن،دل کشی،رنگ ،جاذبیت  وغیرہ کے لئے یا من مانا انداز اور رنگ وروپ دینے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔مثلا اسکن کئیر کریمیں ،لوشن،پاؤڈرز ،اسپرے پرفیوم ،لپ سٹک وغیرہ وغیرہ اور ان کے علاوہ  بے شمار چیزیں اس میں شامل ہیں۔لیکن ان میں سے متعدد چیزیں ایسی ہیں جو شرعی تقاضوں پر پورا نہیں اترتی ہیں ،مثلا نیل پالش لگا لینے سے ناخنوں تک پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے وضو اور غسل مکمل نہیں ہوتا ہے اور طہارت حاصل نہیں ہوتی ہے۔لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان چیزوں کے استعمال میں شرعی تقاضوں کا بھی خیال رکھے اور فضول خرچی جیسے معاملات سے اجتناب کرے۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ کاسمیٹکس ‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے استعمال کی چیزوں کے حوالے سے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام...

  • 136 کوہ استقامت ہبۃ الدباغ (منگل 18 جون 2019ء)

    مشاہدات:679

    اخوان المسلمین مصر کی سب سے پرانی اور بڑی اسلامی تنظیم ہے۔اخوان المسلمین انیس سو بیس کی دہائی میں وجود میں آئی اس کے بانی حسن البنا تھے۔اس تنظیم نے اپنی سیاست اور امدادی کاموں سے دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کو متاثر کیا۔مصر وشام میں اس تنظیم کے کارکنان پر  بہت ظلم ستم کیا گیا۔اس کے کارکنان پر ظلم وستم کی کہانیاں بڑی دل آویز ہیں ۔شامی جیلوں میں خواتین پر ہولناک مظالم ڈھائے گئے۔ زیر نظرکتاب’’کوہِ استقامت  ہبہ الدباغ‘‘ نوسال تک شامی جیل میں پسنے والی   ایک اخوانی  بہن کی دستان ہے۔ یہ اسّی کی دہائی کی داستانوں میں  ایک دستان ہے نو سال بعد یہ  جب جیل سے رہاہوئی توجیل کے تاریک ایام کی اس نے اپنی آپ بیتی اور ا پنے مشاہدات کو  ’’خمس دقائق حسب‘‘ کے نام سےعربی میں تحریرکیا ۔یہ کتاب اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ یہ مختصر کتاب  بہت معلوماتی اور جذبۂ عمل کو بڑھادینے والی ہے ۔(م۔ا)

  • 137 کیا عورتوں کا طریقہ نماز مردوں سے مختلف ہے ؟ (ہفتہ 17 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:26269

    ہمارے ہاں بغیر کسی صریح دلیل کے علی الاعلان کہاجاتا ہے کہ عورت کی نماز کا طریقہ مردوں سےمختلف ہےجبکہ اس موقف کے ثبوت کے لیے کوئی حتمی اور یقننی دلیل بھی فراہم نہیں کی جاتی-دین اسلام اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کمی وبیش کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی نہیں تھا تو ایک عام آدمی کو دین کے معاملے میں گفتگو کرتے وقت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے-عورت اور مرد کی نماز کی ادائیگی میں بہت سارے فرق بیان کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر عورت قیام کی حالت میں اپنے ہاتھ سینے پر باندھے کی جبکہ مرد سینے سے نیچے باندھے کأ اور اس کی دلیل کیا ہے؟یہ کوئی بھی پیش نہیں کرتا-اسی طرح عورت رکوع ،سجدے اور تشہد میں بیٹھنے میں فرق ہے لیکن اس کے ثبوت کے لیے قرآن وسنت سے کوئی صریح دلیل پیش نہیں کی جاتی-اس حوالے سے پائے جانے شبہات کا ازالے کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے زیر نظر کتاب میں قلم اٹھایا ہے- انہوں نے اس حوالے سے چھپنے والے مضامین اور کتابچوں کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے کتاب و سنت، آثار صحابہ اور اقوال تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے- انہوں نے آئمہ اربعہ اور دیگر علماء کرام کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کو پیش کیا ہے-
     

  • 138 ھدیۃ النساء (جمعرات 12 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2598

    یہ بات  روزِ روشن کی طرح عیاں  ہے  کہ عورت کی تخلیق مرد کے سکون واطمینان کا باعث ہے ۔ اور انسانی معاشرہ میں  جتنی اہمیت ایک مرد کو  حاصل ہے  اتنی ہی ایک عورت  کوبھی حاصل ہے اس لیے کہ وہ  خاندان کی مرکزی اکائی ہے ۔ ، اگر یہ اسلامی پلیٹ فارم پر سیدھی  چلتی رہی تو اس مادی دنیا کا اصل زیور  وحسن ہے اورمرد کی زندگی میں نکھار اور سوز وگداز پیداکرنے والی یہی عورت ہے ۔ اس کی بدولت مرد جُہدِ مسلسل اور محنت کی  دلدوز چکیوں میں پستا رہتاہے ۔ اور اس کی وجہ سے مرددنیا کے ریگزاروں کو گلزاروں او رسنگستانوں کو گلستانوں میں  تبدیل کرنے کی ہر آن کوشش وکاوش کرتا  رہتا ہے ۔اگر عورت بگڑ جائے اور اس کی زندگی میں فساد وخرابی پیدا ہوجائے  تویہ سارے گلستانوں کو خارستانوں میں تبدیل کردیتی ہے  اور مرد کوہر آن ولحظہ برائی  کے عمیق گڑھوں میں دھکیلتی دیتی ہے ۔اسلام نے  عورت کوہر طرح کے ظلم وستم ، وحشت وبربریت، ناانصافی ، بے حیائی وآوارگی اور فحاشی وعریانی سے نکال کر پاکیزہ ماحول وزندگی عطا کی ہے ۔ او ر جتنے حقوق ومراتب اسلام نے  اسے دیے  ہیں دنیا کے کسی بھی معاشرے  اور تہذیب  وتمدن میں  وہ حقوق عورت کوعطا نہیں کیے گئے ۔اس لیے  عورت  کا اصل مرکز ومحور اس کے گھر کی چاردیواری ہے ۔جس کے اندر رہ کر گھر کے ایک چھوٹے سے یونٹ کی آبیاری کرنا اس کا فریضہ ہے ۔اسلام عورت کی تربیت پر خصوصی توجہ  دیتا ہے  کسی گھر کی عورت اگر نیک  اور پرہیز گار ہے تو وہ امن وآ...

  • 139 ہم بھی ایسی بنیں (ہفتہ 24 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1673

    ہر انسان کی  یہ خواہش ہوتی ہے کہ و ہ معاشرے میں ایسا بن کر رہے  کہ ہر دلعزیزی اس کے مقدر میں ہو۔ ہر کوئی اس سے  محبت کرے  ، عزت کرے  ،احترام کرے  اورسرآنکھوں پربٹھائے ۔ یہ  خواہش مردو زن دونوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ۔ بلکہ اگر کہاجائے کہ خواتین میں زیادہ  پائی جاتی ہے  توبے جا اورمبالغہ نہ ہوگا۔ موجودہ میڈیا خاص  طور پر اخبارات ورسائل اور الیکٹرانک سکرین پر نوجوان نسل مختلف مغرب زدہ، حیاباختہ، بے  پردہ بے دین خواتین کودیکھتی  ہے تو شیطان اس موقع پر ان کو گمراہ کرتا ہے ۔وہ ان فلم سٹار، فنکار،گلوکار،موسیقار، اور ثقافت وکھیل جیسے  شعبوں سے تعلق رکھنے والی چڑیلوں کوان کی نظر میں خوبصورت وپرفریب اور دیدہ زیب بناکرپیش کرتا ہے ۔ تو ایسے مواقع پرلڑکیوں کےدل میں نادانی اور دین سے لاعلمی کی بناء پر خواہش پیدا ہوتی ہے  کہ کاش! ہم بھی ایسی ہوں۔بعض لڑکیوں نے تواس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے  حادثاتی طور پرسامنے آنے والے یا ٹی وی اور اخبار میں  متعارف ہونے والے  لوگوں کواپنا آئیڈل بنایا ہوتاہے  اور وہ ان جیسا بننے کے  جنون میں ان جیسی شکل وشباہت ، وضع قطع ،بولنے چالنے کا رنگ ڈھنگ اپنا لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ ہم نے اپنی منزل کو پالیا ہے۔لیکن درحقیقت ایسی لڑکیاں سراب میں بھٹک رہی ہیں  اور سراب کے بھٹکے  ہوؤں کا اذیت ناک انجام ساری دنیا جانتی ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ ہم بھی ایسی بنیں‘‘ محترم  مائل خیر آبادی کی  تصنیف ہے۔جس میں ان...

  • 140 ہم کیوں مسلمان ہوئیں (بدھ 20 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1160

    دعوت اسلام کا عمل سب اعمال سے افضل ہے اس لیے کہ اس دعوت وتبلیغ میں لوگوں کوصراط مستقیم کی طرف راہنمائی اورھدایت ملتی اورانہيں دنیا و آخرت کی سعادت مندی نصیب ہوتی ہے ۔اوردعوت الی اللہ کا کام کرنا بہت ہی اچھا پیغام اورانبیاء ورسل کا طریقہ ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کردیا کہ ان کی زندگی اوران کی رسالت دعوت الی اللہ اوران کے پیروکاروں کا طریقہ بھی دعوت الی اللہ ہی ہے۔ اسلام آسمانی ادیان میں سے آخری دین اور قرآن کریم آسمانی کتابوں میں آخری کتاب اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء ورسل میں آخری نبی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اس دین کوسب لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہم مسلمان کیوں ہوئیں؟‘‘اُمّ فریحہ سیف اللہ ربانی کی ہے۔ جس میں اسلام کی زندگی بخش اور لافانی تعلیمات کی روشنی میں مختلف پعہلوؤں پر 150 سے زائد نو مسلم خواتین کے ایمان افرزو مشاہدات و تاثرات کو جمع کیا گیا ہے۔اس کتاب میں مزید ادیان کی وضاحت کرتے ہوئے اسلام کو ایسا دین قرار دیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔ اور اب قیامت تک دین اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان باطل ہیں۔اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نو مسلم کا دین اسلام کو اپنانے میں کس قدر مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امید ہے دین اسلام کو جاننے میں سمجھنے میں بہت کار آمد ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اُمّ فریحہ سیف اللہ ربانی کی کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (ر،ر)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1081
  • اس ہفتے کے قارئین: 7604
  • اس ماہ کے قارئین: 21575
  • کل قارئین : 48382026

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں