دکھائیں کتب
  • اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کو فرض کیا ہے جن باتوں کےساتھ امت کی دنیا وآخرت میں رفعت ومنزلت،شان وعظمت،سعادت اور خوش بختی کو وابسطہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک اہم بات امت کےتمام افراد کااس فریضے کو اپنی استعداد کے بقدر ادا کرناہے۔لیکن یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ جو کہ (امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کی اہمیت  اور ضرورت کو سمجھتے اور مانتے ہیں اس کو فکری اور عملی طور پر ،یاکم ازکم عملی طور پر مردوں میں محدود کردیتے ہیں کہ یہ مردوں کے کرنے کے کام ہیں خواتین کی اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں اس بھیانک سوچ سے نمٹنے کےلیے (امر بالمعروف او رنہی عن المنکر)کے متعلق خواتین کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے ارادے سے مولائےعلیم وقدیرپر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کتاب وسنت اور مسلمان عورتوں کی سیرت کی روشنی میں (نیکی کاحکم دینے او ربرائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری)کےعنوان سے اس کتاب کی تیاری کا عزم کیا گیاہے ۔
     

  • 122 پاکباز خواتین کے عملی کارنامے (پیر 16 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1930

    اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکباز خواتین کے عملی کارنامے‘‘ شیخ ازہری احمد محمود کی عربی تصنیف ’’نساء لھن مواقف‘‘ کا اردو ترجمہ ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں ازواج مطہرات صحابیات، اوردیگر نیک خواتین میں سے چند خواتین کی زندگی کے کچھ نمونہ جات پیش کیے ہیں جنہوں نے اعلیٰ شرافت کو اپنایا اور نیک نسل کے لیے سچا نمونہ تھیں اور بلند مقاصد کو حاصل کرنے والی تھیں۔ یہ ایسی عظیم عابدات، صالحات، زاہدات اور عزت و شرف والی خواتین تھیں کہ ہماری خواتین ان نیک خواتین کے راستے کی اقتداء کر کے اوران کی عادات کو اختیار کرکے ان جیسا عزت وشرف حاصل کرسکتی ہیں۔ (م۔ا)

  • 123 پاکستان کی نامور خواتین (منگل 14 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:870

    برصغیر کے مسلمانوں نے حصول پاکستان کی جد و جہد میں جس ضبط و نظم، خلوص، ایثار اور قربانی کا عملی مظاہرہ کیاہے وہ یقینا ہماری تاریخ کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو ےنے والی نسلوں کے لئے مشعلے راہ کا کام دیتا رہے گا۔ یہ تریخی ورثہ ایک ایسا نادر سرمایہ ہےجس کی تانباکی ہر زمانے میں روشنی کے مینار کا کام دے گی۔ اس سرمائے کا تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے۔اگرچہ تحریک پاکستان پر مختلف زاویہ ہائے نظر سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن ان نامور خواتین کے حالات ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے جنہوں نے تحریک آزادی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخی حقائق اس امر کے متقاضی تھے کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاکستان کی نامور خواتین‘‘ عزیز جاوید کی ہے جس میں کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا گیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ یقینا نئی پود کے لئے فکر و نظر کے نئے زاویے پیدا کرنے میں مدد دے گا۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے ۔آمین۔ طالب دعا: پ،ر،ر

  • دین کامل ہے ،جس میں زندگی کے تمام معاملات کامکمل احاطہ ہے اور معاملات زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی اسلام نے مکمل راہنمائی نہ دی ہو۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم احکام دین کے بار ے میں ضروری معلومات سے بہرہ ور ہوں اور اسلامی تعلیمات کو عملا اپنی زندگیوں پر لاگو کریں۔انسانی زندگی میں معاشی معاملات کی گتھیوں کو سلجھانا اورمعاشی ضروریات پوری کرنا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور معاشیات کے حل اور اس کی ذمہ داری کے متعلق اکثر لوگ دینی تعلیمات سے نابلد ہیں ۔پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسب معاش کے نام پر عورت کو مردوں کے اداروں میں گھسیٹ دیا اور عورتوں کی بے تو قیری کا اسلام کش ایسا سنگین سلسلہ شروع ہے کہ اسلام نے مردو زن کےاس آزادانہ اختلاط اور فحاشی و عریانی کے اس سلسلہ کو معاشرے کی تباہی قراردیا ہے۔صنف نازک معاشی ذمہ داریوں کی کس   قدر مکلف ہے اور کن حالات میں اورکن ذمہ داریوں کی مجاز ہے ،مقالہ ہذا میں اس بحث پر اچھی روشنی ڈالی گئی ہےاور اسلام سے قبل دیگر مذاہب میں حوا کی بیٹی پر جو ظلم روا تھے ان کی قلعی کھولی گئی ہےاور اسلام نے عورت کو جو مقام ومرتبہ عطا کیا ہے ،مذاہب باطلہ میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔مقالہ ہذا عورتوں کی معاش کے متعلق معلوماتی دستاویز ہے،جس کامطالعہ نہایت معلوما ت افزا ثابت ہوگا۔(ف۔ر)
     

  • 125 پردہ (جمعہ 14 مئی 2010ء)

    مشاہدات:21292

    عورت کے لئے پردے کا شرعی حکم اسلامی شریعت کا طرہ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت و تکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔اس لئے دختران اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ایک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے جس کی تفسیر و تشریح کے لئے فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل بحث کی ہے۔ انہوں نے پردہ کی لاریب شرعی حیثیت کو واجب، مستحب اور متنازعہ مسئلہ بنانے والوں کے دلائل پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اس کو غیر حقیقت پسندانہ بحث قرار دیا اور ثابت کیا کہ اس قسم کے بودے دلائل قرآن و سنت کے اٹل فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔


     

  • 126 پردہ (مولانا مودودی) (بدھ 15 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3400

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ پردہ‘‘ عالم ِاسلام کے معروف دانشور اور عظیم سکالر سید ابوالاعلیٰ مودودی ﷫ کی عورت کے تاریخی کردار پر عظیم الشان اور بے مثال تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے ایک صالح اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں پردے کی اہمیت ، پردے کے بارے میں صحیح اسلامی احکامات اور ان کی حدود،آ...

  • 127 پردہ محافظ نسواں (اتوار 19 فروری 2012ء)

    مشاہدات:19628

    زیر نظر کتاب ہیئۃ کبار العلماء سعودی عرب کے رکن الشیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید کی ممتاز کتاب ’’حراسۃ الفضیلۃ‘‘ کا ترجمہ و تفہیم ہے۔ شیخ محترم نے اس کتاب میں دورِ حاضر میں پردے پر وارد ہونے والے الزامات واعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ پردہ عورتوں کی عصمت کا اصل محافظ ہے۔ اس کتاب کو اردوقالب میں منتقل کرنے کی سعادت الشیخ محمد یوسف طیبی صاحب نے حاصل کی ہے۔ قابل مصنف نے کتاب کو دو فصول پر تقسیم کیا ہے۔ پہلی فصل میں عورت کی فضیلت و عظمت پر مبنی دس اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جو فضیلت نسواں، حفاظت نسواں اور مؤمنات و مسلمات کی ثابت قدمی کی ترغیب پر مشتمل ہیں اور دوسری فصل میں ایسے اصولوں کا بیان ہے جو عورتوں کو ذلت وخواری کی طرف بلانے والوں کی سازش فاش کرتے ہیں اور عورتوں کو خبردار کرنے کے متعلق ہیں تاکہ وہ ان میں ملوث نہ ہو جائیں۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں عورت کے موضوع پرلکھی گئی دو صد کتابوں کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ پردے کے موضوع پر یہ ایک اچھوتی تحریر ہے جس کو عالم عرب میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ عصر حاضر کے حوالے سے پردے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر یہ کتاب اردو زبان میں پیش خدمت ہے۔ خواتین اسلام کے لئے یہ قابلِ قدر تحفہ ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 128 پردے کی اوٹ سے (بدھ 17 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1645

    اسلامی  معاشرے میں  نامحرم مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے حجاب میں رہنا ایک جانا پہچانا طریقہ ہے  جس کا مقصد  مرد وعورت کےدرمیان ناجائز خواہشات کےہر داعیے کو روکنا ہے۔ان میں سب سے پہلے خطرناک چیز نظر ہے جونامحرم مرد عورت پر پڑتے ہی  اپنے  صاحب  کےدل میں ایک طوفان بپا کردیتی ہے ۔ ناجائز  تعلقات کاآخری فعل زنا ہے  جسے اللہ تعالیٰ نے کلیۃً حرام قرار  دیا اورلاتقربوا الزنا  فرماکر اسی فعل بد سے  بچانے کےلیے  محرم  پر نظر اٹھانے سے لے کر اس آخری فعل تک  جو جو مرحلے  آتے ہیں ۔جو چیزیں اسباب بنتی ہیں ۔ان سب کوحرام  قرار دیا گیا۔اس لیے  نامحرم مرد اورعورت کے درمیان حجاب اسلامی معاشرے کا معروف طریقہ ہے اور حجاب کےاحکام نازل ہونے کے ساتھ ہی اس  پر صحابیات اور صحابہ نے فوری عمل کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن دور ِ حاضر میں اکثریت اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ  اجنبی مرد اورعورت کے درمیان کسی درمیان کسی دیوار کپڑے یا کسی اور چیزکی آڑ ہونا یا عورت  کا اپنے چہرے کوڈھانپ کر اجنبی مرد کے  سامنے آنا اسلامی طریقہ نہیں بلکہ ایجا ملا ہے۔ پردے کی شرعی  حیثیت ،اہمیت وفرضیت کے سلسلے کئی  اہل علم نے اردو وعربی زبان  میں   مستقل کتب تصنیف  کی ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’پردے کی اوٹ  سے ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جسے  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ نے  اپنے   آسان فہم انداز میں   مرتب...

  • 129 پردے کی شرعی حیثیت (ہفتہ 15 مئی 2010ء)

    مشاہدات:17651

    موجودہ دور میں مسلمانوں کی اکثریت یہود و نصاریٰ کی نقال اور ان کے رسم و رواج کی دلدادہ ہو چکی ہے۔ معاشرتی و تمدنی آزادی کے خوگر قرآن و سنت کے احکام سے آزادی اور بے زاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی لادینیت اور الحاد کا نتیجہ ہے کہ بیگم عابدہ حسین (سابقہ وزیر بہبود آبادی) کا بیان اخبارات میں چھپا تھا کہ پردہ منافقت ہے۔ عورت کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں ، ہیومن رائٹس کمیشن وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں۔ ستر و حجاب اسلام کا انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ اس مختصر سے کتابچے میں صرف پردے کے شرعی حکم کی بحث ہے۔ لمبی لمبی فقہی ابحاث کو نہیں چھیڑا گیا کیونکہ مقصود اپنی مسلمان ماؤں، بہنوں تک پردے کی اہمیت اجاگر کرنا ہے اور بے حجابی و بے پردگی سے نفرت دلانا ہے۔

  • 130 پردے کی شرعی حیثیت (جدید ایڈیشن) (پیر 08 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:6409

    آج پوری دنیا میں مغربی تہذیب اور کلچر کے اثرات ہیں مسلمان خواہ عورت ہو یا مرد وہ حقیقی معنوں میں اپنے اسلام پر عمل کرنا چھوڑ گئے ہیں ۔ اسلام کی جہاں گونا گوں اقدار کو پس پشت ڈالاگیا ہے وہاں ایک اسلامی معاشرے کی نمایاں ترین قدر ، پردہ بھی ہے ۔ سوسائٹی میں جابجا بےپردگی عام ہے ۔ آج عورت فیشن ایبل بن کر ، ننگے منہ ، ننگے سر عطر پرفیوم لگا کر بازاروں ، سٹوڈیوز، کلبوں اور کھیل کے میدانوں میں گھومتی ہے بلکہ بین الاقوامی کھیلوں کے میچ میں بن سنور کر شریک ہوتی ہے اور اس حالت میں بگڑے ہوے معاشرے کے اندر مردوں کو دعوت گناہ دیتی ہے ۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے ۔ (غلط) دیکھنا آنکھ کا زنا ہے (غلط ) بولنا زبان کا گناہ ہے ۔ اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے ۔ اور شرمگاہ ان تمام امور کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔ (بخاری6612) اسلام نے عورت کو عفت و عصمت اور پاکدامنی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے گھر میں رہنے کی تاکید کی  اور جب کبھی ضرورت  سے باہر جانا پڑے تو پردے کا حکم دیا ہے ۔ اس کتابچے میں مختصر انداز میں پردے کا شرعی حکم بیان کیا گیا ہے ۔ لمبی لمبی فقہی بحثوں کو نہیں چھیڑا گیا ۔ تاکہ مسلمان خواتین کے سامنے پردے کی اہمیت اجاگر ہوجائے اور  بےپردگی سے نفرت کا احساس بیدار ہو جائے ۔ (ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1313
  • اس ہفتے کے قارئین: 3394
  • اس ماہ کے قارئین: 27922
  • کل قارئین : 47061996

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں