دکھائیں کتب
  • 111 مسلمان عورت کا پردہ اور لباس (جمعرات 19 فروری 2009ء)

    مشاہدات:18656

    عورت کےلیے پردہ اسلامی شریعت کا ایک واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے اسلام نے انسانی فطر ت کےعین مطابق یہ فیصلہ کیاہے کہ عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی وصفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پراستوار ہوں اور اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے اسی بناء پر ان تمام اسباب ومحرکات پر مکمل قدغن لگائی ہے جوغلط کا بیش خیمہ ہیں انہی میں سے ایک چہرے کاپردہ بھی ہے کہ اسی سے فتنے جنم لیتے ہیں زیرنظر کتاب شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے افادات پرمشتمل ہے جس میں یہ بتایاگیا ہے کہ نماز میں عورت کالباس کیسا ہونا چاہیے ضمناً اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نماز اور غیرنماز میں عورت کے پردے میں کیا فرق ہے انتہائی علمی اور لائق مطالعہ کتاب ہے

     

  • 112 مسلمان عورتوں کے فقہی مسائل (جمعہ 09 جون 2017ء)

    مشاہدات:1452

    دین کے اکثر مسائل مردوں اور عورتوں کے درمیان مشترکہ ہیں لیکن بعض مسائل ایسے ہیں جو صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہیں۔ جن کو جاننا خواتین کے لئے انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہو کراسلام کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عورتیں نہ تو خود مطالعہ کرتی ہیں اور نہ ہی کسی مستند عالم دین سے مسئلہ دریافت کرنے کی تکلیف گوارہ کرتی ہیں۔ بعض باتیں بڑی شرم و حیا کی ہوتی ہیں جن کے دریافت کرنے میں حجاب محسوس ہوتا ہے لیکن ایسی باتیں جب دین اور شریعت سے متعلق ہوں تو ان کے دریافت کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شرع میں شرم نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان عورتوں کے فقہی مسائل" محترم ابو حماد عبد الغفار مدنی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مسلمان عورتوں کے فقہی مسائل کو بیان کیا ہے تاکہ مسلمان خواتین ان مخصوص مسائل کا مطالعہ کر کے ان پر عمل پیرا ہو سکیں اور انہیں کسی سے سوال کرنے کی بھی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منطور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 113 مطلقہ خواتین اور ان کے مسائل (اتوار 12 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2266

    انسانی زندگی  میں  ظروف ،حالات اورمزاج کے لحاظ سے کبھی یو ں  بھی ہوتا ہے  کہ  میاں بیوی کا باہم نباہ ناممکن ہو جاتا ہے  او ردونوں کے لیے  باہم مل کر زندگی  کی گاڑی   چلانا ایک ناگوار اورانتہائی دہ  صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ ایسے  مرحلے   میں  اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ برے دل  بے تعلق اور کھوٹی نیت کے ساتھ باہم جڑے رہنے اور زندگی کے جائز وحقیقی لطف کےحاصل کرنے  اور حقوق وفرائض کودل جمعی سےادا کرنے کے اجروثواب سےمحرومی  کی بجائے  علیحدگی  اختیار کرلیں۔لیکن جس طر ح گھر کے معاملات  کا سربراہ مرد کو بنایا گیا ہے اسی طرح طلاق کی گرہ بھی  مرد کے ہاتھ رکھی گئی ہے  ۔ طلاق کے  بعد عورت نے واپس اسی گھر آنا ہوتا ہے  جہاں سےوہ نکاح کےوقت رخصت کی گئی تھی تو اس کو مختلف مسائل کاسامنا کرنا  پڑتا ہے ۔مطلقہ کا بہترین حل تواس کا نکاح  ہی ہے  لہٰذا اس کے  رشتہ داروں اور سہیلیوں  کےذریعے اسے  کسی مناسب جگہ پر نکاح کےلیے آمادہ کرلینا ہی بہتر ہے ۔ اگر  ایسانہ ہوسکے تو عورت  کے اولیا کوچاہیے کہ اس خاتون  کےلیے ایسی رہائش کا  انتظام کریں جو  اس کے لیے  الگ گھر کے تصور کو پورا کرتی ہو۔کیونکہ الگ گھر  ہر عورت  کی فطری خواہش ہوتی ہے ۔اگر بے  سہارا  یا مطلقہ خواتین دوسرا نکاح نہ کریں یا اولاد نہ  ہو تو اس  صورت میں انہیں چاہئے کہ اپنے لیے کوئی تبلیغی ،تعلیمی یا اسلام...

  • 114 معیاری خاتون (بدھ 04 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1703

    دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی  تعلیمات ہی کا فیضان تھاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت  مآب مثالی خواتین پید ا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں  عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام  نے تقسیم کاری کے  اصول  پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ  وہ گھر میں رہتے ہوئے  اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض  ہے کہ وہ  معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے  اسلامی تعلیمات  کا جاننا از بس ضروری ہے   ۔اور امر میں کسی شک وشبہ کی  گنجائش نہیں  کہ  مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مسلمان عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ،بیوی ہو یا  بہن اپنے  گھر کو سنوارنے پر آئے تو جنت کا نمونہ بنادیتی ہے  اوراگر بگاڑنے کی ٹھان لے تو جنت  نشان گھرانے کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ۔ یہی وجہ  ہے کہ اسلامی تاریخ  کے ہر دور میں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بے حد زور دیا جاتا رہا ہے ۔مصر کے مشہور شاعر حافظ ابراہیم کے  الفاظ ہیں:’’کہ ماں ایک درسگاہ ہے اوراس درسگاہ کو اگر  سنوار دیا تو گویا ایک باصول اورپاکیزہ نسب والی قوم وجود میں آگئی۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’معیاری خاتون‘‘مو...

  • 115 مومنات کا حج (ہفتہ 14 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1559

    حج بیت  اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن  ہے  بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت مسلمان مرد اور عورت پرزندگی  میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  ۔اس لیے اس کے  مسائل سے  آگاہ  ہونا بھی ضروری ہے ۔تاکہ اس فریضہ کو  کتاب وسنت کی روشنی میں سرانجام دیا جائے ۔ اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  ۔ اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مومنات کا حج‘‘ جناب خالد بن عبد العزیز المسلم کی عربی تصنیف حج المراۃ المسلمۃ کا  اردوترجمہ ہے ۔ اگر چہ  یہ کتا ب عربی زبان میں  بہت دلنشیں وجامع انداز میں لکھی گئی ہے۔ لیکن فاضل نوجوان مولانا محمود احمد تبسم﷾ نے  اس کو اردو کے قالب میں اس خوبصورت انداز سے ڈھالہ ہے کہ قاری کوترجمہ کا  گمان ہی نہیں گزرتا۔اس...

  • 116 مومنات کا پردہ اور لباس (جمعرات 03 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2263

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے۔ اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’مومنات کاپردہ اورلباس‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے عورت کا نمازمیں لباس کیسا ہونا چاہیے اور عورت کے گھر وگھر سے باہر پردہ کےاحکام کومختصر مگرجامع انداز میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ اس کتاب کو کئی اداروں نے شائع کیا ہے۔لیکن کتاب...

  • 117 نسوانی بال اور ان کی آرائش (بدھ 31 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2039

    جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے سر ،بھنوؤں اور پلکوں کے بال موجود ہوتے ہیں۔پورے جسم پر ہلکے ہلکے نرم نرم روئیں نظر آتے ہیں۔سر کے بال ساتویں دن منڈوا دینے کا حکم ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔لیکن یہ کٹانے یا منڈوانے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔زیر ناف ،بغل،مونچھ اور داڑھی کے بال جوانی کے آمد پر نمودار ہوتے ہیں،اور ساری عمر صاف کرنے ،کاٹنے یا مونڈنے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔عورت کی فطرت میں آرائش،اس کے بعد نمائش اور نمائش کے بعد ستائش وصول کرنے کا جذبہ رکھ دیا گیا ہے۔چنانچہ زمانہ قدیم ہی سے خواتین بنتی سنورتی چلی آرہی ہیں۔شریعت اسلامیہ نے بھی خواتین کو ان کا یہ فطری حق عطا کیا ہے،لیکن چند حدود وقیود کے ساتھ،تاکہ بے جا  بننےسنورنے کا جذبہ معاشرے اور خود اس عورت کے لئے فتنہ کا باعث نہ بن سکے۔ زیر تبصرہ کتاب  " نسوانی بال اور ان کی آرائش "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے عورتوں کو اپنے بالوں کی آرائش وزیبائش کے لئے  شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’...

  • 118 نسوانی طبعی خون کے احکام (جمعرات 16 اگست 2012ء)

    مشاہدات:17562

    فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثمین کا شمار اس دور کے اکابر فقہا میں ہوتا ہے۔ فتاویٰ کےمیدان میں ان کی مساعی سے اہل علم طبقہ واقف ہے۔ ’الدماء الطبعیۃ للنساء‘ ان کاایک نادر علمی تحفہ ہے۔ بالعموم مستورات حیض، استحاضہ اور نفاس کے مسائل سے ناواقف ہوتی ہیں۔ کتاب و سنت کی روشنی میں ان سے آگہی نہایت ضروری ہے۔ اسی احساس کے ساتھ شیخ مکرم نے مذکورہ رسالہ تحریر فرمایا تھا۔ اردو دان طبقے کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا حافظ ریاض احمدنے اس قیمتی کتاب کو اردو میں منتقل کر کے اس مشکل کے حل کی سبیل نکالی ہے۔ انہوں نے ترجمہ کے ساتھ آیات قرآن اور احادیث کی تخریج بھی کر دی ہے۔ جس سے متعلقہ مسائل سمجھنے میں آسانی ہو گئی ہے۔ اس کتاب کی افادیت اس لحاظ سے بڑھ جاتی ہے کہ اس میں خواتین کے اہم مسائل کی تفصیلات آگئی ہیں جن پر ان کے مخصوص احکام کا دارومدار ہے۔ (ع۔م)
     

  • 119 نیک بیوی کی صفات قرآن وحدیث کی روشنی میں (جمعرات 22 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:14588

    ’’صالحہ بیوی کی صفات‘‘یا ’’اللہ سبحانہ وتعالی نےخاوند کے اس کی اہلیہ پر جو حقوق فرض کیے ہیں ‘‘یہ اس کتاب کا موضوع ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے دور کی خواتین کو اس موضوع کی معرفت حاصل کرنے کی انتہائی ضرورت ہے اوریہ اس لیے ہے کہ امت عمومی طور پر اس مسئلے میں کوتاہی وسستی کا شکار ہے جبکہ خواتین خاص طور پر انتشاروخلفشاراو رپس وپیش کا شکار ہیں وہ عمومی طورپر بری خصلتوں او ربرائیوں پر راضی ہیں ابلیس او راس کے لشکر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں او ریہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جسے اللہ تعالی نے لوگوں کے لیے مشروع کیا تھا کہ وہ اس کی حیات کےلیے منہج او ران کی نجات کے لیے سبیل ہو۔پس یہ وہ ہمہ گیر تباہی پھیلادینے والا ریلا تھا جس کی وجہ سے دل او رچہرے اپنے رب او راپنے خالق سبحانہ وتعالی سے پھیر دیئے گئے اور شیطان ان پر مسلط ہوگیا تو اس نے اس امت کو اس کادین بھلادیا۔یہ کتاب مسلمان زوجہ کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے شوہر او راس کے گھر کے متعلق جو ذمہ داریاں اس پر عاید کی ہیں وہ انہیں اداکرےاور یہ مختصر سی کتاب مسلمان بہنوں کو ان کے خاوندوں کے حقوق کی وضاحت کے بارے میں ایک یاددہانی ہے امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے انہیں فائدہ پہنچائے گا او رہ اپنے شوہروں کے حقوق کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھیں گی وہ بے حیائی کی تشہیر کرنے والی عورتوں کے پیچھے نہیں چلیں گی جنہوں نے دختران عصر سے حیا کی چادر اتار ڈالی۔
     

  • 120 نیک ماؤں کا مثالی کردار (اتوار 20 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2508

    شخصیت کی تعمیروترقی کا انحصارصحیح تعلیم و تربیت پر ہے، صحیح تعلیم و تربیت ایسا عنصر ہے جوشخصیت کے بناؤ اور تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہ کام بچپن سے ہی ہو تو زیادہ موثر اور دیر پاہوتا ہے۔ بچوں کی تعلیم وتربیت اور شخصیت کی تعمیر میں صحیح رول ماں ہی ادا کرسکتی۔ اسی لیے کہا گیا کہ ’’ماں کی گودبچہ کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے۔‘‘ بچوں کی تعمیر و ترقی کا سر چشمہ ماں کی گود ہی ہے، یہیں سے ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔ اس پہلی درسگاہ میں جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اس کی حیثیت پتھر پر لکیر سی ہوتی ہے۔ یہ علم ایسا مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے جو زندگی بھر تازہ رہتاہے۔ اور ابتدائے زندگی کے نقوش خواہ مسرت کے ہوں یا ملا ل کے ہمیشہ گہرے ہوتے ہیں،یہی ابتدئی نقوش مسلسل ترقی کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اگر ماں ابتدا سے اپنے بچوں کو کلمہ توحید کی لوری دےتویقینا وہی کلمہ ان کے دل و دماغ میں اتر جائے اور مستقبل میں تناور درخت کی شکل اختیار کرے گا، اس کے بر خلاف اگر مائیں بچپن ہی سے اپنے بچوں کو غیر اسلامی باتیں سکھائیں یابچوں کا اٹھنا بیٹھنا غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ ہو جائے تو وہیں باتیں ان کے دل ودماغ پر مرتسم ہوں گی، اور بچے ان ہی لوگوں کا اثر قبول کریں گے پھر ایسے بچوں سے مستقبل میں خیر کی امیدنہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے شیخ سعدی ؒکو کہنا پڑا’’خشت اول چوں نہد معمار کج تاثیریا می رود دیوار کج‘‘معمار جب پہلی اینٹ (بنیاد) کی ٹیڑھی رکھتا ہے تو اخیر تک دیوار ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’نیک ماؤں کا مثالی کردار‘&lsquo...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 810
  • اس ہفتے کے قارئین: 11716
  • اس ماہ کے قارئین: 36244
  • کل قارئین : 47157260

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں