دکھائیں کتب
  • 101 مجالس خواتین (بدھ 18 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1306

    انسان شروع سےہی اس دنیا میں تمدنی او رمجلسی زندگی گزارتا آیا ہے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک اسے زندگی میں ہر دم مختلف مجلسوں سے واسطہ پڑتا ہے خاندان ،برادری اور معاشرے کی یہ مجالس جہاں ا س کے اقبال میں بلندی ،عزت وشہرت میں اضافے او ر نیک نامی کا باغث بنتی ہیں وہیں اس کی بدنامی ،ذلت اور بے عزتی کاباعث بنتی ہیں انسان کو ان مجلسوں میں شریک ہو کر کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے کہ جو اسے لوگوں کی نظروں میں ایسا وقار اور عزت وتکریم والا مقام بخش دے کہ لوگ اس کے مرنے کے بعد بھی اسے یادرکھیں ۔دنیا میں کچھ مجلسیں اور محفلیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں شریک ہو کر انسان اپنے دامن کوسعادت مندی کے موتیوں سے بھر لیتا ہے ۔ اجر وثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ او رکچھ مجلسیں ایسی ہوتی ہیں جن میں شریک ہونا اس کے لیے بدبختی کاباعث بن جاتا ہے او ر اس جھولی میں موجود پہلے موتی بھی بکھر کر ضائع ہوجاتے ہیں ۔ یوں پھولوں اور کلیوں کی بجائے وہ کانٹوں کا حقدار ٹھہرتا ہے۔اور جس طرح باغات اپنے پھلوں سے پہنچانے جاتے ہیں، پھول کلیاں، خواہ وہ چنبیلی ہو یا گلاب، اپنی خوشبو سے پہنچانے جاتے ہیں۔ خاندان اپنے افراد کے رویوں سے پہنچانے جاتے ہیں، اسی طرح مجالس اپنے شرکاء سے پہنچانی جاتی ہیں، خواہ وہ مجالس مردوں کی ہوں یاخواتین کی ۔ اگرمجالس میں حاضری اور کار گزاری کا ماحاصل مثبت، پسندیدہ ،مہذب اورافرادو معاشرے کےلیے باعث نفع و راحت ہو توسمجھا جاتا ہے کہ یہ مجلس قابل تعریف وستائش ہے ۔اگر مجلس اس کے برعکس ہوتو اس کو ہمیشہ برے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے شرکاء کو کو...

  • 102 مراۃ النساء ( صادق سیالکوٹی ) (ہفتہ 21 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1429

    اللہ تعالیٰ نے عورت کو معظم بنایا لیکن جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی لیکن جب اسلام کا ابر رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن ، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔ زیر تبصرہ کتاب’’مرآۃ النساء‘‘ ارض پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی﷫ کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں میں دور جاہلیت کی عورت کی حالت زار بیان کر کے اسلام میں اس کے اعزاز واکرام اور عزت ورفعت کا منظر دکھایا گیا ہے ۔ اور پھر اسلام کے وہ تقاضے بیان کیے گئے ہیں جو اس نے مسلمان وفا شعار عورت پر عائد کیے ہیں۔ اور جن کا پورا کرنا سکولوں کالجوں کی لڑکیوں اور تمام مسلمان عورتوں پر فرض ہے ۔(م۔ا)

  • 103 مرد و زن کی نماز میں فرق (ہفتہ 10 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:20968

    جس طرح دیگر اعمال میں اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں اسی طرح نماز پڑھنے کی ہیئت اور کیفیت میں بھی اللہ کے رسول کو نمونہ سمجھنا چاہیے-نماز کی ادائیگی میں مرد و زن کے جس فرق کو بیان کیا جاتا ہے اس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا یہی وجہ ہے ایک گروہ کے نزدیک مردو زن کی نماز میں کوئی فرق نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی فرق بیان نہیں فرمایا اور کچھ لوگ فرق کرتے ہیں اور اس چیزکی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی سوائے اپنی ذاتی توجیہات کے-تو اس کتاب میں مصنف نے  اس حوالے سے پائے جانے والے احناف کے شبہات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے دلائل کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جواب دیتے ہوئے کتاب وسنت کی روشنی میں صحیح مؤقف کی ترجمانی کی ہے-مثلا مرد اور عورت کے درمیان رفع الیدین کا مسئلہ،قیام کی حالت میں ہاتھ باندھنے کا مسئلہ،سجدے  کی کیفیت میں فرق اور تشہد میں بیٹھنے کے فرق کو کتاب وسنت کی روشنی میں حل کیا ہے-
     

  • 104 مسائل ستر و حجاب (منگل 27 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2631

    عورت کے لیے  پردہ اسلامی شریعت کا ایک  واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے ۔ اسلام نےانسانی فطرت کے عین مطابق یہ  فیصلہ کیا ہے کہ  عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی،صفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پر استوار ہوں اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے ۔اور عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر شہوانی  کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع پر متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسائل وستر وحجاب‘‘ شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی بعض تحریروں سے مقتبس ہے ۔جس میں   نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں احکام ستر وحجاب  کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے  ۔بالخصوص چہرے کےپردے کوبڑے  مدلل...

  • 105 مستورات کے مسائل (جمعرات 14 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1769

    دین کے اکثر مسائل مردوں اور عورتوں کے درمیان مشترکہ ہیں اور بعض مسائل ایسے ہیں جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں۔جن کو جاننا خواتین کے لئےانتہائی ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہو کراسلام کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عورتیں نہ تو خود مطالعہ کرتی ہیں اور نہ ہی کسی مستند عالم دین سے مسئلہ دریافت کرنے کی تکلیف گوارہ کرتی ہیں۔بعض باتیں بڑی شرم وحیا کی ہوتی ہیں جن کے دریافت کرنے میں حجاب محسوس ہوتا ہے لیکن ایسی باتیں جب دین اور شریعت سے متعلق ہوں تو ان کے دریافت کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شرع میں شرم نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مستورات کے مسائل"محترم محمد یونس خلیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انہی شرم وحیا والے عورتوں کے مخصوص مسائل کو بیان کیا ہے تاکہ مسلمان خواتین ان مخصوص مسائل کا مطالعہ کر کے ان پر عمل پیرا ہو سکیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول  ومنطورفرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 106 مسلم خاتون حقوق ، فرائض اور اوصاف (ہفتہ 07 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1828

    امر میں کسی شک وشبہ کی  گنجائش نہیں  کہ  مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مسلمان عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ،بیوی ہو یا  بہن اپنے  گھر کو سنوارنے پر آئے تو جنت کا نمونہ بنادیتی ہے  اوراگر بگاڑنے کی ٹھان لے تو جنت  نشان گھرانے کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ۔ یہی وجہ  ہے کہ اسلامی تاریخ  کے ہر دور میں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بے حد زور دیا جاتا رہا ہے ۔مصر کے مشہور شاعر حافظ ابراہیم کے  الفاظ ہیں:’’کہ ماں ایک درسگاہ ہے اوراس درسگاہ کو اگر  سنوار دیا تو گویا ایک باصول اورپاکیزہ نسب والی قوم وجود میں آگئی۔‘‘دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی  تعلیمات ہی کا فیضان تھاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت  مآب مثالی خواتین پید ا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں  عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام  نے تقسیم کاری کے  اصول  پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ  وہ گھر میں رہتے ہوئے  اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض  ہے کہ وہ  معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے  اسلامی تعلیمات  کا جاننا از بس ضروری ہے   ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’مسلم خاتون‘‘مو...

  • 107 مسلمان خواتین کے لیے نصیحتوں کے پچاس پھول (بدھ 10 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1328

    اس دنیا میں انسان اپنی عارضی قوت اور زوال پذیر ودولت پر فخر کیے بیٹھا ہے ، وہ اپنے آپ کوسمجھتا ہےکہ وہ سب لوگوں سے زیادہ باعزت اور باوقار ہے لوگوں کوباتوں کے ذریعے سب سے بہتر قائل کرسکتاہے ،سب سےزیادہ ہاتھ پاؤں مارسکتاہے بڑے مضبوط دلائل کا مالک ہے اس کےبڑے دوست واحباب اور بڑے حواری ہیں اسے کسی کی محتاجی نہیں۔ لیکن نادان! اسے کیا معلوم کہ جب زمانےکی ہوامصیبتیں لے کر آتی ہے تو اسے بھی پہنچ کر رہتی ہیں اورہوسکتا ہے کہ اس کی سہولتیں اسی کے لیے مصائب کی آخری کڑی ثابت ہوں اسکی سربراہی چلی جائے ، اس کی عزت ختم ہوجائے اور وہ اس بچے کی طرح بے سہارا ہوجائے جو اپنے باپ کی تلاش میں دوڑتا پھرتا ہے ،لوگوں کی مدد کاطالب ہو ،بدحالی کےایسے مقام پرپہنچ جائے کہ لوگوں سےرحم وکرم کی بھیک مانگنے والا بن جائے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسان جو اپنے خالق حقیقی رسے روگردانی کرنے والا ہے اللہ کی طرف نہیں آنے والا جو اللہ سے تعلق بنا کر نہیں رکھنے والا اور اسی رب کو اپنا ملجا وماویٰ نہیں سمجھنے والا وہ حیوان بن جاتا ہے۔اور مسلمان مرد اور مسلمان عورت کوامتیاز کا رتبہ تب ملتا ہے جب وہ اللہ کی ذات سے تعلق بناکر رکھتا ہے اپنی زندگی شریعت مطہرہ کے مطابق گزارتا ہے اورجن کواس کی بات پر عمل کرنے میں راحت اورسکون قلب نصیب ہوتا ہے۔دنیاوی زندگی پربھروسہ نہ ہونے کاعلم رکھتے ہوئے اورماحول ومعاشرہ اور وقت کے مصائب اور تکالیف کومدنظر رکھتے ہوئے یہ کسی انسان کےلیے مناسب نہیں کہ وہ غصے میں آکر آپے سے باہر ہوجائے یا کسی چیز کے نہ ملنے پرافسوس کرے کیونکہ یہ دنیا اس اخروی گھر کےبرابر نہیں...

  • 108 مسلمان عورت (منگل 24 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1690

    دین اسلام نے  عورت کواتنا اونچا مقام و مرتبہ دیا ہے جواسے پہلے کسی قوم وملت نے نہیں دیاتھا۔ اسلام نے انسان کوجو‏عزت واحترام دیا ہے اس میں مرد و عوت دونوں برابر کےشریک ہیں ۔ اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔لیکن افسوس کہ مغرب حقوق نسواں اور آزادی  کے نام پر عورت کو بے پردہ کرنا چاہتا ہے اور مسلمان خواتین کی عفت وعصمت کو تاتار کرنا چاہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان عورت"دراصل علامہ فرید وجدی آفندی کی عربی کتاب "المراۃ المسلمۃ"کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کرنے کی سعادت ہندوستان کی شخصیت ابو الکلام آزاد کے حصے میں آئی ہے۔یہ کتاب انہوں نے قاسم امین کی عورت کی آزادی پر مشتمل  دو کتابوں "تحریر المراۃ"اور "المراۃ الجدیدۃ" کے جواب میں لکھی ہے۔قاسم امین  کی ان دو کتابوں کے منظر عام پر...

  • 109 مسلمان عورت (ابو الکلام آزاد) (ہفتہ 05 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2318

    قدرت نے مخلوقات کو مختلف جنسوں او رمختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے اورہر گروہ کے خاص فرائض اور خاص وظائف مقرر کر دیئے ہیں۔ ان تمام فرائض کی انجام دہی کے لیے چونکہ ایک ہی قسم کی جسمانی حالت اور دماغی قابلیت کافی نہ تھی۔ اس لیے جس گروہ کو جو ذمہ داری عطا فرمائی گئی اس کے موافق اس کو جسمانی اوردماغی قابلیت عطا کی گئی۔ بیشک انسان فطرتاً آزاد ہے، اور یہ آزادی اس کے ہر ارادی و غیر ارادی فعل سے ظاہرہوتی ہے لیکن آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ انسان کا اپنے حقیقی فرائض کو ادا کرنا نظام تمدن کا اصلی عنصر ہے۔ اسلام ایک عزت و عصمت او رپاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام نے عورت کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مستحکم بنایا۔ اسلام سے قبل عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"مسلمان عورت" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی بے مثال تصانیف میں سے ہے۔ موصوف نے کتاب ہذا میں حقوق نسواں، مسلمان عورت کے حقوق و فرائض، یورپ کی معاشرانہ زندگی اور پردہ جیسے اہم مسائل کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا آزادؒ کو غریق رحمت کرے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ ف...

  • 110 مسلمان عورت جنت اور جہنم کے دوراہے پر (بدھ 13 جون 2012ء)

    مشاہدات:17794

    دینِ اسلام نے صنف نازک کو جو مقام عطا کیا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمان عورت  مغربی تہذیب کے عفریت کا نوالہ تر بن کر اپنی تہذیب سے بیگانہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں مرزا عمران حیدر صاحب نے خواتین کی اصلاح کے لیے زیر نظر کتاب میں بعض نگارشات مرتب کی ہیں۔ دین اسلام نے عورت کے لیے جنت کا حصول نہایت آسان بنایا ہے فرائض کی ادائیگی کے بعد وہ اپنے گھر کو سنبھالے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں۔  (ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 889
  • اس ہفتے کے قارئین: 11795
  • اس ماہ کے قارئین: 36323
  • کل قارئین : 47157608

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں