دکھائیں کتب
  • اسلام امن پسند مذہب ہے اور مکمل ضابطہ حیات ہے، جس کے ذریعہ انسان بشریت کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے، تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔ اسلام اور اسلامی نظام ِ حیات‘ ایک پاک وصاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے۔ اسلام نے جاہلیت کے رسم ورواج اور اخلاق وعادات کو جو ہرقسم کے فتنہ وفساد سے لبریز تھے‘ یکسر بدل کر ایک مہذب معاشرے اور تہذیب کی داغ بیل ڈالی‘ جس سے عام انسان کی زندگی میں امن چین اور سکون ہی سکون در آیا۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پرامن معاشرے کے قیام کے لئے جو پہلی تدبیر اختیار کرتا ہے‘ وہ ہے: انسانی جذبات کو ہرقسم کے ہیجان سے بچانا‘ وہ مرد اور عورت کے اندر پائے جانے والے فطری میلانات کو اپنی جگہ باقی رکھتے ہوئے انہیں فطری انداز کے مطابق محفوظ اور تعمیری انداز دیتاہے‘اسلام یہ چاہتا ہے کہ عورت کا تمام ترحسن وجمال‘ اس کی تمام زیب وزینت اور آرائش وسنگھار میں اس کے ساتھ صرف اس کا شوہر شریک ہو‘ کوئی دوسرا شریک نہ ہو‘ عورت اپنی آرائش اور جمال صرف اپنے مرد کے لئے کرے۔اگر دیکھا جائے تو عورت درحقیقت تمام تر سنگھار وآرائش مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اس کی خصوصی توجہ کے حصول کے لئے ہی کرتی ہے ۔ عورت کے حسن وجمال کو اس کی زیب وزینت کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شوہر کی دل بستگی اور توجہ کے لئے محدود کردیا ہے‘ تاکہ وہ اپنی ساری توجہ اپنی بیوی کی طرف مرکوز رکھے اور اس کی عورت غیروں کی ہوس ناک نظروں سے محفوظ ومامون رہے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا...

  • 12 لباس ، ستر، حجاب اور زینت و زیبائش (جمعہ 05 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:4951

    اللہ تعالی کے احکام اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات کو پس پشت ڈال کرجس طرح آج ہم روشن خیالی کو اپنا رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ قرآن اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری ہے۔ دین سے اس دوری کی وجہ سے ایک عا م مسلمان کےلیے حق کی تلاش مشکل ہوگئی ہے۔ بطورمسلمان ہم اپنی اسلامی اقدار اورتہذیب وتمدن کو بھولتےجا رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا اس معاملےمیں سونےپرسہاگے کا کام کررہے ہیں۔غیرمسلموں کی تقلیدمیں ہم اتنے عجلت پسند واقع ہوے ہیں کہ بغیرسوچےسمجھے ان کےنقش قدم پرچلنا شروع کردیتے ہیں۔ لباس،ستر،حجاب اورزینت وزبائش کےمتعلق احکام قرآن میں موجود ہیں اور اس بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمودات کتب احادیث میں دیکھے جا سکتے ہیں۔فہم قرآن انسٹی ٹیوٹ نے احکام الہی اورفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اکٹھاکرکے یہ کتابچہ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ آپ بآسانی احکام الہی اورفرامین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگاہ ہوسکیں۔ اورتہذیب مغرب کی چکاچوند کےبہکاوے سے اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکیں۔ اور بہترین اسلامی طرززندگی کو اپناشعار بنا سکیں۔ (ع۔ح)
     

  • 13 لباس اور پردہ (جمعرات 03 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2212

    اسلام کا ایک اعزاز اورامتیاز یہ ہے کہ یہ ایک مکمل دین ہے ،اس میں دین ودنیا کی جامعیت بھی ہے اورزمانے اور زندگی کےہرشعبے کےلیے مکمل رہنمائی بھی۔اس کا جس طرح ایک نظام ِعبادت ہے اسی طرح ایک نظام زندگی اور دستور العمل بھی ہے ۔اس نظامِ زندگی میں سیاست ومعیشت سے لے کر تہذیب وتمدن اور معاشرت تک سارے ہی معاملات کے لیے ہدایات اور تعلیمات دی گئی ہیں لیکن المیہ یہ ہےکہ مسلمان صرف نام کےمسلمان رہ گئے ہیں ۔ اور انہوں نے اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی سے اسلام کو نکال باہر کیا ہے اور غیروں کی نقالی اوران کی دریوزہ گری ہی کو اپنا شعار بنالیا ہےحالانکہ اسلام نے غیروں کی مشابہت اور نقالی سے سختی کےساتھ منع فرمایا ہے ۔ مگر اب نقالی کی یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ اسے غلط اور گناہ سمجھنا بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔انہی امورِمتروکہ میں ایک مسئلہ لباس، پردہ ومعاشرت کا ہےحالانکہ انسانی معاشرت میں لباس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اسی سے کسی قوم یا کسی مذہب کے ماننے والوں کا تشخص قائم ہوتا ہے اور برقرار رہتاہے ۔ زیر نظر کتاب’’ لباس اور پردہ‘‘ کا پہلا حصہ لباس ہی کےاحکام ومسائل اور آداب پر مشتمل ہے جو مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کامرتب شدہ ہے ۔ اور دوسرا حصہ پردہ کےموضوع پر سعودی عرب   کے جید عالم دین شیخ صالح العثیمین﷫ کا ہے اوراس سلیس ورواں اردو ترجمہ عالمِ اسلام کے ممتاز سکالر محترم جناب ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے کیا۔ جسے دار السلام نے یکجا شائع کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت مفید کاوش ہے اور ایک منفرد اندازکی حامل ہے۔اللہ تعالیٰ مؤلفین وناشرین...

  • 14 مسائل ستر و حجاب (منگل 27 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2569

    عورت کے لیے  پردہ اسلامی شریعت کا ایک  واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے ۔ اسلام نےانسانی فطرت کے عین مطابق یہ  فیصلہ کیا ہے کہ  عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی،صفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پر استوار ہوں اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے ۔اور عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر شہوانی  کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع پر متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسائل وستر وحجاب‘‘ شیخ  الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی بعض تحریروں سے مقتبس ہے ۔جس میں   نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں احکام ستر وحجاب  کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے  ۔بالخصوص چہرے کےپردے کوبڑے  مدلل...

  • 15 مسلمان عورت کا پردہ اور لباس (جمعرات 19 فروری 2009ء)

    مشاہدات:18574

    عورت کےلیے پردہ اسلامی شریعت کا ایک واضح حکم ہے اور اس کامقصد بھی بالکل واضح ہے اسلام نے انسانی فطر ت کےعین مطابق یہ فیصلہ کیاہے کہ عورت او رمرد کے تعلقات پاکیزگی وصفائی اور ذمہ داری کی بنیادوں پراستوار ہوں اور اس میں کہیں کوئی خلل نہ آنےپائے اسی بناء پر ان تمام اسباب ومحرکات پر مکمل قدغن لگائی ہے جوغلط کا بیش خیمہ ہیں انہی میں سے ایک چہرے کاپردہ بھی ہے کہ اسی سے فتنے جنم لیتے ہیں زیرنظر کتاب شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے افادات پرمشتمل ہے جس میں یہ بتایاگیا ہے کہ نماز میں عورت کالباس کیسا ہونا چاہیے ضمناً اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نماز اور غیرنماز میں عورت کے پردے میں کیا فرق ہے انتہائی علمی اور لائق مطالعہ کتاب ہے

     

  • 16 پردہ (جمعہ 14 مئی 2010ء)

    مشاہدات:21199

    عورت کے لئے پردے کا شرعی حکم اسلامی شریعت کا طرہ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت و تکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔اس لئے دختران اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ایک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے جس کی تفسیر و تشریح کے لئے فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل بحث کی ہے۔ انہوں نے پردہ کی لاریب شرعی حیثیت کو واجب، مستحب اور متنازعہ مسئلہ بنانے والوں کے دلائل پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے اس کو غیر حقیقت پسندانہ بحث قرار دیا اور ثابت کیا کہ اس قسم کے بودے دلائل قرآن و سنت کے اٹل فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔


     

  • 17 پردہ (مولانا مودودی) (بدھ 15 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3276

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ پردہ‘‘ عالم ِاسلام کے معروف دانشور اور عظیم سکالر سید ابوالاعلیٰ مودودی ﷫ کی عورت کے تاریخی کردار پر عظیم الشان اور بے مثال تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے ایک صالح اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں پردے کی اہمیت ، پردے کے بارے میں صحیح اسلامی احکامات اور ان کی حدود،آ...

  • 18 پردہ محافظ نسواں (اتوار 19 فروری 2012ء)

    مشاہدات:19584

    زیر نظر کتاب ہیئۃ کبار العلماء سعودی عرب کے رکن الشیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید کی ممتاز کتاب ’’حراسۃ الفضیلۃ‘‘ کا ترجمہ و تفہیم ہے۔ شیخ محترم نے اس کتاب میں دورِ حاضر میں پردے پر وارد ہونے والے الزامات واعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ پردہ عورتوں کی عصمت کا اصل محافظ ہے۔ اس کتاب کو اردوقالب میں منتقل کرنے کی سعادت الشیخ محمد یوسف طیبی صاحب نے حاصل کی ہے۔ قابل مصنف نے کتاب کو دو فصول پر تقسیم کیا ہے۔ پہلی فصل میں عورت کی فضیلت و عظمت پر مبنی دس اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جو فضیلت نسواں، حفاظت نسواں اور مؤمنات و مسلمات کی ثابت قدمی کی ترغیب پر مشتمل ہیں اور دوسری فصل میں ایسے اصولوں کا بیان ہے جو عورتوں کو ذلت وخواری کی طرف بلانے والوں کی سازش فاش کرتے ہیں اور عورتوں کو خبردار کرنے کے متعلق ہیں تاکہ وہ ان میں ملوث نہ ہو جائیں۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں عورت کے موضوع پرلکھی گئی دو صد کتابوں کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ پردے کے موضوع پر یہ ایک اچھوتی تحریر ہے جس کو عالم عرب میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ عصر حاضر کے حوالے سے پردے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر یہ کتاب اردو زبان میں پیش خدمت ہے۔ خواتین اسلام کے لئے یہ قابلِ قدر تحفہ ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 19 پردے کی اوٹ سے (بدھ 17 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1616

    اسلامی  معاشرے میں  نامحرم مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے حجاب میں رہنا ایک جانا پہچانا طریقہ ہے  جس کا مقصد  مرد وعورت کےدرمیان ناجائز خواہشات کےہر داعیے کو روکنا ہے۔ان میں سب سے پہلے خطرناک چیز نظر ہے جونامحرم مرد عورت پر پڑتے ہی  اپنے  صاحب  کےدل میں ایک طوفان بپا کردیتی ہے ۔ ناجائز  تعلقات کاآخری فعل زنا ہے  جسے اللہ تعالیٰ نے کلیۃً حرام قرار  دیا اورلاتقربوا الزنا  فرماکر اسی فعل بد سے  بچانے کےلیے  محرم  پر نظر اٹھانے سے لے کر اس آخری فعل تک  جو جو مرحلے  آتے ہیں ۔جو چیزیں اسباب بنتی ہیں ۔ان سب کوحرام  قرار دیا گیا۔اس لیے  نامحرم مرد اورعورت کے درمیان حجاب اسلامی معاشرے کا معروف طریقہ ہے اور حجاب کےاحکام نازل ہونے کے ساتھ ہی اس  پر صحابیات اور صحابہ نے فوری عمل کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن دور ِ حاضر میں اکثریت اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ  اجنبی مرد اورعورت کے درمیان کسی درمیان کسی دیوار کپڑے یا کسی اور چیزکی آڑ ہونا یا عورت  کا اپنے چہرے کوڈھانپ کر اجنبی مرد کے  سامنے آنا اسلامی طریقہ نہیں بلکہ ایجا ملا ہے۔ پردے کی شرعی  حیثیت ،اہمیت وفرضیت کے سلسلے کئی  اہل علم نے اردو وعربی زبان  میں   مستقل کتب تصنیف  کی ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’پردے کی اوٹ  سے ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جسے  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ نے  اپنے   آسان فہم انداز میں   مرتب...

  • 20 پردے کی شرعی حیثیت (ہفتہ 15 مئی 2010ء)

    مشاہدات:17591

    موجودہ دور میں مسلمانوں کی اکثریت یہود و نصاریٰ کی نقال اور ان کے رسم و رواج کی دلدادہ ہو چکی ہے۔ معاشرتی و تمدنی آزادی کے خوگر قرآن و سنت کے احکام سے آزادی اور بے زاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی لادینیت اور الحاد کا نتیجہ ہے کہ بیگم عابدہ حسین (سابقہ وزیر بہبود آبادی) کا بیان اخبارات میں چھپا تھا کہ پردہ منافقت ہے۔ عورت کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں ، ہیومن رائٹس کمیشن وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں۔ ستر و حجاب اسلام کا انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ اس مختصر سے کتابچے میں صرف پردے کے شرعی حکم کی بحث ہے۔ لمبی لمبی فقہی ابحاث کو نہیں چھیڑا گیا کیونکہ مقصود اپنی مسلمان ماؤں، بہنوں تک پردے کی اہمیت اجاگر کرنا ہے اور بے حجابی و بے پردگی سے نفرت دلانا ہے۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2165
  • اس ہفتے کے قارئین: 11574
  • اس ماہ کے قارئین: 39823
  • کل قارئین : 46537307

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں