دکھائیں کتب
  • 71 مقاصد شریعت عصری تناظر میں (اتوار 31 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2553

    اسلام ساری انسانیت کے لیے آیاہے، ہرزمانے کے لیے ہے، اور ہر خطے میں اس کی تعلیمات کے مطابق ایک پرسکون معاشرے کی تشکیل عمل میں آسکتی ہے ۔اسلام انسان کی  بنیادی ضرورتوں کا رکھوالا ہے ۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ اسلام انسانیت کی نجات کا ضامن ہے ، اسلام دین کی حفاظت کرتا ہے، جان کی حفاظت کرتا ہے،عقل کی حفاظت کرتا ہے،عزت کی حفاظت کرتا ہے،اور مال کی حفاظت کرتا ہے ۔ اصولِ فقہ کے ذیلی مباحث میں ایک عنوان " مقاصد شریعت "  بھی آتا ہے۔اس موضوع پر  متعدد قدیم وجدید علماء نے کتب لکھی ہیں۔ جن  میں مقاصد شریعت پر گفتگو کی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مقاصد شریعت، عصری تناظر میں "ڈاکٹر جمال الدین عطیہ صاحب کی  تصنیف ہے ، جسے ایفا پبلیکیشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے  مقاصد شریعت سے متعلقہ مسائل،مقاصد کا جدید تصور اور  مقاصد کی حیویت اور فعالیت،  وغیرہ جیسی مباحث بیان فرمائی ہیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک تحقیقی اور علمی تصنیف ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • 72 مقلدین آئمہ کی عدالت میں (جمعرات 11 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:853

    تقلید کا معنی لغت میں پیروی ہے اور لغت کے اعتبار سے تقلید، اتباع، اطاعت اور اقتداء کے سب ہم معنی ہیں۔ تقلید کے لفظ کا مادہ "قلادہ" ہے۔ جب انسان کے گلے میں ڈالا جائے تو "ہار" کہلاتا ہے اور جب جانور کے گلے میں ڈالا جائے تو "پتہ" کہلاتا ہے۔ اصولین کے نزدیک تقلید کے اصطلاحی معنی:دلیل کا مطالبہ کئے بغیر کسی امام مجتہد کی بات مان لینے اور اس پرعمل کرنے کے ہیں۔قاضی محمدعلی لکھتے ہیں: "التقلید اتباع الانسان غیرہ فیما یقول او یفعل معتقدا للحقیقة من غیر نظر الی الدلیل"۔ (کشف اصطلاحات الفنون:۱۱۷۸) ترجمہ: تقلید کے معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کی قول و فعل میں دلیل طلب کیئے بغیر اس کو حق سمجھتے ہوئے اتباع کرے۔ گویا کہ تقلید کرنے والے کو مقلد کہا جاتا ہے۔عقلی احکام میں تقلید جائز نہیں، جیسے صانع عالم (جہاں کا بنانے-والا) اور اس کی صفات (خوبیوں) کی معرفت (پہچان)، اس طرح رسول الله صلے الله علیہ وسلم اور آپ کے سچے ہونے کی معرفت وغیرہ. عبید الله بن حسن عنبری سے منقول ہے کہ وہ اصول_دین میں بھی تقلید کو جائز کہتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے اس لئے کہ الله تعالٰیٰ فرماتے ہیں کہ "تمہارے رب کی طرف سے جو وحی آئی اسی پر عمل کرو، اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو، کس قدر کم تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو۔

  • 74 پیغام حرم (منگل 02 جون 2015ء)

    مشاہدات:1203

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امت ِاسلامیہ کے جسم کوجن امراض او رمشکلات نے کمزور کیا ہے ان میں بدعات وخرافات اور رسومات  قبیحہ کے علاوہ اوہام پرستی ، کنبہ پروری ، ، پیر پرستی قبر پرستی جیسے امراض کی طرح شخصیت پرستی اور تقلید جامدبھی مرض لا علاج بن گیا ہے  قرآن وحدیث   نے اتفاق واتحاد کی جس شدت سے تاکید کی ہے اس گروہی عصبیت نے ائمہ کرام اور بزرگوں کے اقوال کوبلا دلیل  واجب العمل قرار دے کر امت میں  انتشار اور افتراق پیدا کردیا ہے۔اس  اذیت ناک بیماری نے  پوری دنیا میں تباہ کاریاں مچائیں اور اس کے اثرات دور دور تک پہنچے ۔یہاں تک کہ رشد وہدایت کا مرکز کعبۃ اللہ  بھی ان جراثیم سے پاک نہ رہ سکا ۔تاریخ کے  صفحات  پر یہ بات موجود ہے کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ  وحدت ِانسانیت کے اس بین الاقوامی اور دائمی اسٹیج پر بھی  اس  شخصیت پرستی اور گروہ بندی نےبیک وقت چار مصلے نبوادیئے۔ ( إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) ۔ارباب ِتقلید جوتاویل بھی چاہیں کریں مگر ان کے پاس ایک بھی ایسی دلیل نہیں جس سے وہ اس تقلید مطلق کاجواز ثابت کر سکیں اور انسانیت کو اس سے مطمئن کر سکیں۔اسلام کی اصلی اور حقیقی روح اتباع کتاب وسنت ہے اور شرک ، بدعات وخرافات اور تقلید اسلامی روح کے منافی عناصر ہیں ۔ اور اسلام کی اس   حقیقی روشنی کوبرقرار رکھنے کےلیے  ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے  بندے  پیدا کیے  جنہوں نے  اسلام اور شریعت ِاسلامیہ کےخلاف پیدا ہونے والے فتنوں کو واش...

  • 75 کتاب الرسالہ (اصول فقہ و حدیث) (پیر 27 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3867

    فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔ تمام مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ) کے اہل علم نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کر کے کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب صاحب مسلک امام محمد بن ادریس شافعی ﷫کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی امجد علی صاحب رامپوری﷫ نے کیا ہے۔امام شافعی﷫ کی یہ کتاب اصول فقہ واصول حدیث کے فن پر سب سے پہلی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے حدیث اور فقہ کے اصول قرآن وحدیث کی روشنی میں مرتب فرمائے ہیں۔ یہ کتاب...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1463
  • اس ہفتے کے قارئین: 2988
  • اس ماہ کے قارئین: 34952
  • کل مشاہدات: 45364163

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں