دکھائیں کتب
  • 51 صحیح بخاری میں اصول اجتہاد جلد اول (بدھ 09 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:2805

    اجتہاد ہر دور کی اہم ضرورت رہا ہے اور اس کی اہمیت بھی ہمیشہ اہل علم کے ہاںمسلم رہی ہے۔ اجتہاد اسلام کا ایک ایسا تصور ہے جو اسے نت نئی نیرنگیوں سے آشنا کر کے فکری جمود سے آزادی بخشتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں آپﷺ کی حیثیت اللہ احکم الحاکمین کی طرف سے صدق و وفا کے علمبردار مرشد الٰہی کی تھی۔ صحابہ اکرام ﷢ کو جو بھی مسئلہ درپیش آتا تو اس سے متعلق الہامی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کتاب وسنت کی روشنی سےپوری طرح مطمئن ہو جاتے، بعض اوقات اگر وحی نازل نہ ہوتی توآپ شریعت الٰہی کی تعلیمات میں غور وفکر کرتے اور یہ فکر ونظر آپﷺ کے ملکہ نبوت کے حامل ہونے کے باوصف ہر طرح کے مسائل کی عقدہ کشائی کرتا، جسے لغوی طور پر تو 'اجتہاد ' کہا جا سکتا ہے، لیکن ہوائے نفس سے پاک ہونے اور ملکہ نبوت کی ممارست کی بدولت یہ سنت رسولﷺ ہی کہلاتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عصمت اور الہامی تصویب کا نتیجہ ہوتا تھا۔ چونکہ خلفاے راشدین کے دور میں اسلامی خلافت کی حدود اس قدر وسیع ہو گئی تھیں کہ اس دور کی سپر پاورز 'روم وفارس ' بھی زیر نگیں ہو کر خلافت اسلامیہ تین براعظموں ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک پھیل چکی تھی ۔تو ہزاروں نئے مسائل بھی سامنے آتے رہے جن کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کی اہمیت روز برروز بڑھنے لگی تو تابعین میں اجتہاد کے دو مکاتب فکر 'اہل الاثر' اور 'اہل الرائے' کے نام سے معروف ہوئے۔ اہل الاثر کے سرخیل مشہور محدث اور فقیہ تابعی سعید بن مسیب کو قرار دیا جاتا ہے جن کا حلقہ اثر زیادہ تر حرمین شریف...

  • اسلام ایک ایسا عادلانہ آسمانی دین ہے جو انسانی زندگی کی ہمہ جہت ترقی کاضامن ہے۔خالق کائنات انسان کی جملہ ضرورتوں ، حاجتوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس لیے شریعت اسلامی میں ان تمام پہلوؤں کانہایت حسن و کمال کے ساتھ احاطہ کیا گیا ہےجن کے ذریعہ انسان کی رہنمائی ہوتی ہے اور اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔اور راست جہت میں سنورتا  اور ترقی کرتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو منصب قیادت پر سرفراز فرمایاہے۔یہ منصب   بہت ساری صلاحیتوں    اور خوبیوں کا متقاضی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم ترین یہ ہے کہ  پیش آمدہ مسائل کا  حل پیش کیا جائے۔اس سلسلے میں علمائے اصول جس علم سے استمداد لیتے ہیں اسے اصول فقہ کہتے ہیں۔  جس کا ایک گوشہ تسہیل وتیسیر، رفع حرج، تخفیف وترخیص، اعتدال و توازن ، تسامح  او راباحت کے اصولوں کا ہے۔اسلام نے بندوں کے مفادات و مصالح اور ضروریات کی مکمل رعایت رکھی ہے اس لیے مقاصد شریعت میں رفع حرج، دفع ضرر او رمصالح کو نمایاں مقام حاصل ہے۔فقہاء نے ان اصولوں کی روشنی میں امت کی ضرورتوں کا دائرہ متعین کرتے ہوئے ان کا حق پیش کرنے او ردین ،نفس، عقل، مال اور نسل کی حفاظت و رعایت رکھنے کے لیے ہر پہلو پر غور و خوض کیا  اور اپنے قیمتی اجتہادات پیش کئے ہیں۔زیر نظر کتاب اصلا ضرورت و حاجت کے اصولوں پر مبنی  منتخب مقالات کا مجموعہ ہے۔جو اسلامی فقہ   اکیڈمی (انڈیا) کے زیرنگرانی منعقدہ سالانہ پروگرام میں اہل علم نے پڑھے تھے۔بعد میں انہیں کتابی شکل میں پیش کر دیا گیا ہے۔(اصول فقہ)(ع۔ح)
     

  • 53 ضمیر کا بحران (اتوار 26 ستمبر 2010ء)

    مشاہدات:22261

    اہل حدیث کی دعوت یہ ہے کہ وحی الہی یعنی کتاب وسنت کو زندگی کا دستور العمل بنایا جائے  اور اسی کے مطابق اپنے عقیدہ وعمل کو ڈھالا جائے اس کے بالمقابل ارباب تقلید اپنے آئمہ وفقہاء کے اقوال وآراء او راجتہادات وفتاوی کی طرف دعوت دیتے ہیں خود ان کو بھی احساس ہے کہ ان کی دعوت میں قرآن وحدیث کو اولیت حاصل نہیں ہے اب بجائے اس کے کہ یہ اپنی اصلاح کریں اوراتباع سنت کو اپنانے کی فکر کریں اگر کوئی ان کو سمجھانے کی کوشش کرے ان کے عقائد واعمال کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے او رقرآن وسنت کی طرف رجوع کی ترغیب دے تو یہ اسی پہ سرچڑ ھ دوڑتے ہیں اور اس کے خلاف اپنے غیظ وغضب کا اظہار کرتےہیں ایسی ہی صورت حال مولانا محمد یوسف جے پوری رحمہ اللہ کی کتاب حقیقۃ الفقہ کے بارے میں دیکھنے میں آئی ہے کہ اس کے جواب میں اہل تقلید کے دیوبندی وبریلوی دھڑوں نے کتابیں لکھی ہیں جن میں علمی اور سنجیدہ اسلوب اپنان کے بجائے محض الزام تراشیوں اور دشنام طرازی سے کام لیا گیا ہے زیر نظر کتاب  اسی طرح کی دوکتابوں کا جواب ہے جس مین انتہائی مدلل اور علمی طریق سے اہل حدیث کا دفاع کیا ہے اور ارباب تقلید کے استدلال قلعی گھوبی گئی ہے ۔



     

  • 54 عرف و عادت (جمعرات 01 مئی 2014ء)

    مشاہدات:3602

    فقہ اسلامی کا ایک اہم ماخذ او رسرچشمہ عرف و عادت ہے ۔عرف سے مراد وہ قول یا فعل ہے جو کسی ایک معاشرہ کےیا تمام معاشروں کے تمام لوگوں میں روا ج پاجائے ۔اور وہ اس کے مطابق چل رہے ہوں۔فقہاء کے نزدیک عرف وعادت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔عرف شریعت اسلامیہ میں معتبر ہے او ر اس پر احکام کی بنیاد رکھنا درست ہے ۔کتب فقہ میں اس کی حجیت اور اقسام وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔زیر نظر کتاب ''عرف وعادت '' اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام آٹھویں فقہی سیمنیار منعقدہ اکتوبر 1995ء علی گڑھ میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے جس میں عرف وعادت کی حقیقت،عرف اور اس کی اقسام کااعتبار،عرف وعادت کے معتبر ہونے کی شرطیں، عرف وعادت سے متعلق فقہی قواعد،عرف او ر اقوال فقہاء میں تعارض کے حوالے سے تفصیلی مباحث پیش کی گئی ہیں۔(م۔ا)

     

     

  • اصطلاح فقہاء میں‘احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن غالب کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو اجتہاد کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص مسائل کا شرعی حل معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر علم کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں فقہ الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھنے والے علماء تو بہت مل جائیں گے لیکن فقہ الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن مسائل کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علماء کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر اجتہاد کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم اسلام کے ممتاز اور جید علماء کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف عصری علوم کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زی...

  • اصطلاح فقہاء میں‘احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن غالب کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو اجتہاد کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص مسائل کا شرعی حل معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر علم کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں فقہ الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھنے والے علماء تو بہت مل جائیں گے لیکن فقہ الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن مسائل کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علماء کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر اجتہاد کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم اسلام کے ممتاز اور جید علماء کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف عصری علوم کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زی...

  • فقہ اسلامی میں اجتہاد کا موضوع بیک وقت نہایت نازک اور نہایت اہم ہے ۔ اجتہاد کی ضرورت ہر دور میں مسلم رہی  ہے  اوردورِ جدید میں اس ضرورت کے بڑھ جانے کا  احساس شدید سے شدید تر ہوتاچلاجارہا ہے ۔ تاہم اس باب میں انتہائی احتیاط کو ملحوظ رکھنا بھی اتناہی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’عصر حاضر میں اجتہاد  اوراس کی قابل عمل صورتیں ‘‘شیخ زاید اسلامک سینٹر،لاہور،کراچی اور پشاور کی  بیس سالہ تقریبات کے ضمن میں شیخ زائد اسلامک  سینٹر،لاہور کےتحت ’’عصر حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابل عمل صورتیں‘‘ کے عنوان سے  ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔اس سیمینار میں  ملک کے نامور علماء اور ارباب فکر نے شرکت فرمائی اور مقالات پیش کیے ۔ ان مقالات میں اجتہاد کے موضوع پر بعض نہایت فکر انگیز نکتے سامنے آئے ۔ان مقالات کی اہمیت کے  پیش نظر  ڈاکٹر حافظ عبد القیوم صاحب نے  محمود احمد غازی،مولانا زاہد الراشدی،ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی اور ڈاکٹر طاہر منصوری کے مقالات کو  مرتب کیا اورشیخ زاید اسلامک سینٹرلاہور  نے دس سال  قبل  اسے کتابی صورت میں  شائع کیا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوطباعت کے لیے تیار کرنے والوں اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 58 عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید (بدھ 17 جون 2015ء)

    مشاہدات:3222

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘رہی ہے۔ موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔ امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید ‘‘امام الہند سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صاحب نے کیا ہے۔سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ان نامور مصلحین ومجددین میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں قرآن وسنت کی حقیقی تعلیمات کو متعارف کروایا۔آپ نے برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار قرآن وسنت اور حدیث وسیرت کو اساس قرار دیا۔آپ کے خاندان نے قرآن وسنت کی جو بے مثال خدمت کی ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 59 فقہ اسلامی تعارف اور تاریخ (جمعہ 03 فروری 2017ء)

    مشاہدات:3390

    فقہ اسلامی فرقہ واریت سے پاک ایک ایسی فکر سلیم کا نام ہے جو قرآن وسنت ِ رسول کی خالص تعلیمات میں سینچی گئی ۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی قرآن وسنت کے عملی احکام کا نام ہے ۔ کچھ قرآن اور سنت کے متعین کردہ ہیں اورکچھ احکام قرآن وسنت کےاصولوں سےمستنبط کیے ہوئے ہیں ۔ ان دونوں قسم کےاحکام سےمل کرفقہ اسلامی عملی قانون بن کر سامنے آتی ہے۔ اس لحاظ سے فقہ اسلامی ہی دراصل انسانی زندگی سے ہر قدم پر اور ہر لمحہ مربوط رہتی ہے ۔ اور یہ قرآن وسنت کی روشن تعلیمات کو نمایاں کرتی ہے ۔فقہ کا علم کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ فقہ اسلامی تاریخ اور تعارف ‘‘ اسلامی فقہ کےاجمالی تعارف وتاریخ پر مشتمل پروفیسر اختر الواسع کی گراں قدر تصنیف ہے اس کتاب کو انہوں نے نوابواب میں تقسیم کیا ہے ان ابواب میں انہوں نے فقہ اسلامی کے آغاز سے لے کےموجود دور تک کی عہد بہ...

  • جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟  اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔ان اصولوں کے وضع ہونے اور ان کے ترقی کی منازل تک پہنچنے میں ایک زمانہ اور وقت لگا ہے، جو کئی سو سالوں پر محیط ہے اور اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1312
  • اس ہفتے کے قارئین: 11159
  • اس ماہ کے قارئین: 31852
  • کل مشاہدات: 45324051

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں