دکھائیں کتب
  • 51 فتاویٰ سلفیہ (بدھ 25 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1527

    دین اسلام جو اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے ۔جس کی اصلی روح قرآن اور حدیث ہیں۔ شرک و بدعات اور اوہام و خرافات اسلامی روح کے منافی ہیں۔ اسلام کی حقیقی اور اصلی روح کو برقرار رکھنے کے لئے ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے پیدا کئے، جنہوں نے نہ صرف دعوت و تبلیغ اور امر و نواہی کا فریضہ انجام دیا، بلکہ اس چشمہ صافی کی ہر طرح سے حفاظت بھی کرتے رہے۔اسلامی دعوت کے اہم عناصر میں ایک عناصر دین کے پچیدہ مسائل میں رہنمائی اور اس کی عقدہ کشائی بھی ہے۔ اس کا ایک اہم جزء فتویٰ نویسی بھی ہے۔برِّ صغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث کی علمی خدمات کے دائرہ میں ان کی فتویٰ نویسی بھی ایک اہم خدمت ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ سلفیہ‘‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسماعیل کی ان شگفتہ و دل پذیر تحریروں کا مجموعہ ہے،جو سوال و جواب کی شکل میں جماعت کے مختلف پرچوں، خصوصا ’’الاعتصام‘‘ لاہور میں شائع ہوتے رہے ہیں۔جن کا تعلق روز مرّہ کی زندگی میں پیش آنے والے مسائل سے ہے اور ہر آدمی کے لئے اسے جاننا بہت ضروری ہے۔سلفی صاحب کی پیدائش 1895ء میں تحصیل وزیر آباد کے گاؤں ’’ ڈھونیکے ‘‘ میں ہوئی۔ 20 فروری 1968ء کو اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے ۔ آپ بیک وقت مفسر، محدث، فقیہ، مؤرخ، ادیب اور محقق عالم دین تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر آئندہ ایڈیشن میں حسب ذیل تجاویز کو مد نظر رکھا جائے تو کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ بہت ساری جگہوں پر حوالہ جات ناقص ہی...

  • 52 فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری جلد۔1 (پیر 28 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:3144

    قرآن مجید خالق کائنات کی طرف سے انسانیت کے لیے حتمی اور آخری پیغام ِ ہدایت اور مسودۂ قانون ہے جسے ہادئ دوجہاں خاتم النبین ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جن کے بعد نبوت کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔کتاب وسنت او رسیر صحابہ ﷢ کا بغور مطالعہ کرنے سےپتہ چلتا ہے کہ فتویٰ دینا سنت اللہ،سنت رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سلف صالحین وائمہ دین کی سنت ہے ۔قرآن مجید میں ’’استفتاء، افتاء اور یسئلونک کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے جن مسائل، احکام، اور اشکالات کے متعلق صحابہ کرام ﷺ نے نبی اکرم ﷺ سے سوالات دریافت کئے اورآپ ﷺ کی طرف سے ان کے ارشاد کردہ جوابات فتاوائے رسول اللہﷺ کہلاتے ہیں۔ جو کتب احادیث میں بکثرت موجودہیں- اور اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالمِ دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں   شائع ہو چکے ہیں۔ زير تبصره كتاب ’’فتاوی ٰ شیخ الحدیث مبارکپوری ﷫‘‘ شارح مشکاۃ محدث دوراں شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوری ﷫ کےعلمی وفقہی فتاویٰ وتحریروں کا مجموعہ ہے۔ جنہیں موصوف کے پوتے فواز...

  • 53 فتاویٰ صراط مستقیم (اتوار 08 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:21871

    ’صراط مستقیم‘ برطانیہ سے شائع ہونے والا ایک علمی مجلہ ہے، اس رسالے کی ادارت مولانا محمود احمد میر پوری کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے کامل محنت کے ساتھ اس رسالے کو بام عروج تک پہنچایا۔ مولانا اس کا اداریہ لکھا کرتے اور سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ اپنے مختلف رشحات قلم سے اس کو مزین فرماتے۔ رسالہ میں دئیے گئے آپ کے سوالات کے جوابات کو کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ وہاں کے مسلمانوں کو زیادہ تر حلال و حرام، نکاح و طلاق، تعمیر مساجد، غیر مسلموں کےساتھ تعلقات اور نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ مولانا نے ان مسائل کے ساتھ پوچھے گئے دیگر تمام سوالات کے جوابات بھی بہت اچھے اندازمیں مرحمت فرمایا کرتے تھے۔ مولانا وہاں کے ماحول سے بخوبی آگاہ  تھے، اس لیے جوابات دیتے وقت انہوں نے تمام باتوں کو ملحوظ رکھا ہے اور نہایت واضح انداز میں جوابات دئیے ہیں جو ہر شخص کے لیے افادے کے باعث ہیں۔  (ع۔ م)
     

  • 54 فتاویٰ صراط مستقیم ( ڈاکٹر صہیب حسن ) (پیر 02 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1750

    مولانا عبد الغفار حسن رحمانی عمر پوری ﷫ ، خانوادہ عمر پور، مظفر نگر یو پی سے تعلق رکھنے والے معروف محدث تھے ۔آپ ہندوستان ، پاکستان اور سعودی عرب کی معروف جامعات سے منسلک رہے ۔ آپ کے تلامذہ میں دنیا بھر کے معروف علمائے دین شامل ہیں، اسی لیے آپ کو بجا طور پر استاذالاساتذہ کہا جاتا ہے۔آپ کے بیٹے ڈاکٹر صہیب حسن اور ڈاکٹر سہیل حسن سعودی جامعات سے تعلیم یافتہ ہیں اور صاحب تحریر وتصنیف علمی بصیرت کے حامل ہیں اور ان کاشمارہ جید علماء اور سکالرز میں ہوتا ہے ۔ڈاکٹر سہیل حسن ﷾ تو اسلامی یونیورسٹی میں عرصہ دراز سے خدمات انجام دے رہے او راس وقت اعلیٰ عہدٰے پر فائز ہیں۔ اور ان کے برادر اکبر ڈاکٹر صہیب حسن ﷾ نے جب مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی توانہیں یونیورسٹی کی طرف سے برطانیہ میں مبعوث کردیا گیا۔ جہاں وتقریباً عرصہ 36 سے برطانیہ میں علمی ودینی خدمات کے علاوہ تحریر وتقریر کے ذریعے دعوت وتبلیغ کا فریضہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں وکاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ فتاوی صراط مستقیم‘‘ ڈاکٹر صہیب حسن ﷾کے علمی مقالات وفتاوی ٰ جاتا ت پر مشتمل ہے موصوف طویل عرصہ سے مغرب میں مقیم ہیں اس لیے آپ مغربی دنیا میں اٹھنے والی تحریکوں کے پس پردہ محرکات کے رمز شناس ہیں۔ اس کتاب کا ایک حصہ انہی کی مختلف کانفرنسوں میں کی گئی تقریروں کا گلدستہ ہے ۔ امت مسلمہ کو طرح طرح کے خطرات سے آگاہ کرنے اوربچانے کے لیے انہوں نے کتنی بصیرت افروز باتیں کی ہیں اس کااندازہ اس کتاب کےمطالعہ سے ہوگا۔ موصوف نے دیار مغرب میں رہنے والے مسل...

  • 55 فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر (منگل 19 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3318

    یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہمارا ملک خالص کتاب وسنت پر مبنی مکمل اسلام کے تعارفی نا م کلمہ طیبہ کے مقدس نعرہ پرمعرض وجود میں آیا تھا۔ جس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ 1956ء، 1963ء اور پھر 1973ء کے ہر آئین میں اس ملک کانام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا جاتا رہاہے اور سر فہرست یہ تصریح بھی ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا اور کتاب وسنت کےخلاف کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا۔ 1973ء کے منظورشدہ آئین وہ آئین ہے جس پربریلوی مکتبِ فکر کے سیاسی لیڈرشاہ احمد نورانی،مولوی عبدالمصطفیٰ الازہری وغیرہما کےبھی دستخط ثبت ہیں۔اسی طرح جب صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے اسلامی نظام کی طرف پیش رفت کی ایمان پرور نوید سنائی تھی۔ جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب اس مملکت میں نظریاتی مقاصد ہی نہیں بلکہ در پیش سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اورتمدنی مسائل کے حل کی راہیں بھی کھل جائیں گی۔ مگر افسوس کہ احناف کے ایک گروہ نے تمام مذکورہ حقائق اور ملکی تقاضوں سے آنکھیں موندکر کتاب و سنت کو نظر انداز کرتے ہوئے فقہ حنفی کے نفاذ کا نعرہ بلند کیا اور ملتان کے قاسم باغ سے یہ مطالبہ کر دیا کہ چونکہ فتاویٰ عالمگیری ہماری مکمل قانونی دستاویز ہے اور اس کا ہر ہر فتویٰ قرآن وحدیث کا عطر اور جوہر ہے۔ لہذا اس کو عوام میں نافذ کردیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب"فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر"مفتی محمد عبید اللہ خان عفیف حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک منصفانہ تحقیقی تصنیف ہے۔ مفتی صاحب نے احناف کی معتبر ترین کتاب "فتاویٰ عالمگیری" کے فتاوجات کو قرآن سنت کے میزان میں رکھ کر یہ بات واضح اور ثابت ک...

  • 56 فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام جلداول (پیر 06 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:25338

    حافظ زبیر علی زئی کا شمار ان جید علما ء میں ہوتا ہے جو استنباط مسائل میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول تحقیق کے میدان کے بھی شہسوار تسلیم کیے جاتے  ہیں۔ آپ کے سامنے کتاب’ توضیح الاحکام‘ ان فتووں کا مجموعہ ہے جو شیخ محترم سے مختلف مواقعوں پر دریافت کیے گئے اور مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب کو دو جلدوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی جلد عقائد، طہارت، نماز، دعا اور جنازے کے مسائل سے عبارت ہے۔ دوسری جلد نکا ح وطلاق، جہاد، اخلاق و آداب اور خرید و فروخت جیسے مسائل سے پُر ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھر پور عرق ریزی کے ساتھ ایسے سوالات کے بالدلائل تفصیلی جوابات بھی جمع کیے گئے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اختصار کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔

    دوسری جلد اس کتاب کی دوسری جلد ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کیجئے

     

  • 57 فتاویٰ محمدیہ (جمعرات 23 جون 2011ء)

    مشاہدات:22832

    کتاب وسنت کی روشنی میں مسائل زندگی سے متعلق شرعی راہنمائی کا نام اصطلاحی زبان میں ’فتوی‘ہے۔علمائے امت کے فتاوی کی ہزاروں سے متجاوز کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں،جن سے خلق خدا مستفید ہو رہی ہے۔انہی میں ایک ’فتاوی‘مولانا عبیداللہ عفیف دامت برکاتہم کا بھی ہے جو عظیم محدث اور جلیل القدر فقیہ و مفتی ہیں   اور عرصہ دراز سے تدریس و افتاء میں مشغول ہیں۔جماعت اہل حدیث کے بزرگ ترین عالم و مفتی ہیں۔آپ مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں اور قر آن و حدیث اور ائمہ سلف کی کتابوں سے براہ راست استفادہ کرتے ہیں ۔آپ کے فتاوی قوی دلائل پر مشتمل ہو تے ہیں ۔لہذا علماء و عوام میں یکساں لائق اعتماد جانے جاتے ہیں ۔واضح رہے کہ مفتی جماعت مولانا مبشر احمد ربانی بھی مولانا عفیف کے شاگردوں میں شامل ہیں،جس سے استاذ کی جلالت شان کا اندازہ ہوتا ہے۔قارئین اس عظیم الشان فتاوی سے یقیناً بہت فائدہ اٹھائیں گے۔(ط۔ا)
     

  • 58 فتاویٰ ڈاکٹر یوسف القرضاوی جلد اول (جمعہ 19 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2513

    پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں خبر دینے کو فتویٰ کہتے ہیں۔ فتویٰ ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی دینی معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں فتویٰ نویسی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے؛ چونکہ ایک مسلمان کو دینی اوردنیاوی معاملات میں جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اس لیے مسلم معاشرہ میں اس کی موجودگی ضروری ہوجاتی ہے ۔نبی کریم کے دور سے لے کر اب تک علماء نے اس اہم ذمہ داری کو نبھایا اور ا س کے اصول ،شرائط اور آداب پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ فتاویٰ دراصل مسلم معاشرہ کے اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور سماجی مسائل کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص معاشرہ کے لوگ ایک مخصوص وقت اور حالات میں کن مسائل کا شکار تھے؟ معاشرتی تغیرات اور علمی وفکری اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟ ان مسائل کے حل کے لیے اس دور کے اہلِ علم نے کس نہج پر سوچ وبچار کی اور کن اصولوں کو پیش نظر رکھا ؟ نیز ان فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر کتنے گہرے اثرات مرتب کیے؛چنانچہ امام مالک  ،امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل،امام مالک،ابن تیمیہ اور برصغیر میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔بہت سے علماء کے فتاویٰ انقلابی اور فکری تحریکات کا باعث بنے۔تاہم بعض فتاویٰ مسلم معاشرہ میں فکری انتشار کا باعث بھی بنے اور یہ عمل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کے بعد شروع ہوا۔یہی وجہ ہے کہ بارہ سو سال میں اتنے فتاویٰ نہیں دیے گئے جتنے برصغیر کے دوسوسالہ غلام...

  • 59 قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل ۔جلد 1 (بدھ 27 اپریل 2011ء)

    مشاہدات:23259

    فضیلۃ الشیخ  حافظ عبدالمنان نور پوری  حفظہ اللہ  تعالی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔آپ زہدو ورع اور علم و فضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے اقران و اماثل میں ممتاز ہیں۔اللہ تعالی نے جہاں آپ کو علم و فضل کے دروہ عُلیا پر فائز کیا ہے ،وہاں آپ کو عمل و تقویٰ کی خوبیوں اور اخلاق و کردار کی رفعتوں سے بھی نوازا ہے ۔علاوہ ازیں اوائل عمر ہی سے مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونے کی وجہ سے آپ کو علوم و فنون میں بھی جامعیت یعنی معقول اور منقول دونوں علوم میں یکساں عبور اور دسترس حاصل ہے ۔تدریسی و تحقیق ذوق ،خلوص وللّٰہیت اور مطالعہ  کی وسعت گہرائی کی وجہ سے آپ کے اندر جو علمی رسوخ ،محدثانہ فقاہت اور استدلال و استنباط کی قوت پائی جاتی ہے ،اس نے آپ کو مرجع خلائق بنایا ہوا ہے۔چنانچہ عوام ہی نہیں خواص بھی،ان پڑھ ہی نہیں علماء فضلاء بھی ،اصحاب منبر و محراب ہی نہیں الہ تحقیق و اہل فتویٰ بھی مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع  کرتےہیں اور آپ  تدریسی و تصنیفی مصروفیات کے با وصف سب کو اپنے علم کے چشمہ صافی سے سیراب فرماتے ہیں ۔جزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین خیر الجزاء۔
    زیر نظر کتاب انہی سینکڑوں سوالات کے جوابات پر مستمل ہے جو ملک کے اطراف وجوانب سے بذریعہ خطوط آپ سے کیے گئے ۔اس میں عقائد سے لے کر زندگی کے تمام معاملات تک کے مسائل شامل ہیں ۔ہر سوال کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیا گیا ہے جس سے فاضل مؤلف کے قرآن و حدیث پر عبور ،نصوص کے استخصا ر ،تفقہ و استنباط کے ملکہ اور قوت استدلال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔
    یوں شرعی احکام و مسائل پر مشتمل یہ کتاب رہنمائے...

  • 60 مجموعہ فتاویٰ رد پرویزیت - جلد2 (جمعرات 22 مارچ 2012ء)

    مشاہدات:16321

    برصغیر میں عبداللہ چکڑالوی نے سب سے پہلے انکار حدیث کے فتنہ کی تخم ریزی کی، حافظ اسلم جیراجپوری اور غلام احمد پرویز نے اس کی آبپاشی کی اور اپنے افکار و نظریات کی بنیاد انکار حدیث پر رکھی۔ چنانچہ انھوں نے علی الاعلان کہا کہ حجت شرعیہ صرف قرآن کریم ہے دینی معاملات میں حدیث حجت نہیں، اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حدیث کا استہزا کیا اور اس کے لیے گستاخی کے جملے بولے۔ علمائے کرام نے فتنہ پرویزیت کا ادراک کرتے ہوئے ان کے لٹریچر کا بھرپور تعاقب کیا اور مسکت جوابات دئیے۔ تحریک رد پرویزیت کے سلسلے میں جو علمی تحقیقی کام ہوا اور ملک کےاخبارات وجرائد میں چھپا اس کی یکجا کتابی شکل اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ تاکہ علمی وتحریکی حضرات ایک مجموعے سے باآسانی استفادہ کر سکیں۔ (عین۔ م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1674
  • اس ہفتے کے قارئین: 8205
  • اس ماہ کے قارئین: 27498
  • کل قارئین : 47738015

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں