#6736

مصنف : عبد الرحمن عبد الخالق

مشاہدات : 1804

اُدھاری کاروبار حقیقت پسندانہ جائزہ

  • صفحات: 74
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 2960 (PKR)
(اتوار 03 جولائی 2022ء) ناشر : مکتبہ السلام انتری بازار شہرت گڑھ سدھارتھ یوپی

اسلام میں جس طرح عبادات  وفرائض میں زور دیاگیا ہے  ۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات اورمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے  او راپنے  آپ کوشرعی  پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے  دین کی  وسعت  وجامعیت   ہےکہ  اس میں ہر طرح  کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود  ہے۔ ان میں  معاشی  زندگی  کے مسائل  او ران کے حل کو خصوصی اہمیت  کے ساتھ  بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی  انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔عصر حاضر میں بیع وشراء کی ایک مشہور ورائج صورت قسطوں پر بیع کی ہے جس میں  اگر نقد اور ادھار دونوں صورت میں  قیمت متساوی ہو تو بالاتفاق جائز ہے  لیکن نقدی کے مقابلے  میں ادھار یا بیع تقسیط کی قیمت زیادہ ہو تو ا س سلسلے میں علماء  کا اختلاف ہے۔ زیر نظر کتاب’’ ادھاری کاروبار کی حقیقت پسندانہ جائزہ ‘‘ کویت کے نامور عالم دین علامہ عبد الرحمن عبد ا لخالق رحمہ اللہ کی عربی تصنیف  القول الفصل في بيع الاجل   کا اردو ترجمہ ہے  ۔ترجمہ کی سعادت  جمشید عالم عبد السلام سلفی صاحب نے نے حاصل کی  ہے۔اس کتاب  میں   اضافی رقم پر مشتمل بیع  أجل (اُدھاری کاروبار)كے سلسلے میں نہایت تشفی بخش مدلل گفتگو کی گئی ہے۔(م۔ا)

عرضِ مترجم

5

مقدمۂ مؤلف

9

باب اوّل: بیعِ أجل ( ادھاری کاروبار) سے ہماری مراد کیاہے؟

11

ہرطرح کی تجارت حلال نہیں ہے

11

بیع اجل کی قسمیں :

12

بیعِ ناجز:

12

(الف) حرام صورت :

12

(ب) مشروع صورت:

13

بیعِ مؤجل

13

باب دوم:اضافی قیمت پر مشتمل بیعِ أجل کو جائز کہنے والوں کے دلائل

15

پہلی دلیل : اباحتِ اصلیہ

15

دوسری دلیل : اباحت ِ شرعیہ

15

تیسری دلیل: عقلی قیاس

15

چوتھی دلیل : شرعی قیاس

16

پانچویں دلیل :آیت دَین

16

چھٹی دلیل : ان کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُدھار خریداری کی ہے

17

ساتویں دلیل : ان کا کہنا  ہے کہ بلاشبہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور اُدھار دو اونٹوں کے عوض ایک اونٹ خریدا تھا

17

آٹھویں دلیل: ان کا کہنا ہے کہ اس میں آسانی اور فائدہ ہے

18

نویں دلیل : ان کا کہنا ہے کہ اُدھار بیچنے والا شخص خطرہ مول لینے والا ہوتا ہے

18

دسویں دلیل : ان کا دعویٰ ہے کہ اس بیع کی ممانعت  پردلالت کرنے والی حدیث توضیح طلب ہے

18

گیارہویں دلیل : ان کا دعویٰ ہے کہ جمہور علماء اس کے جواز پر متفق ہیں

19

باب سوم: جائز کہنے والوں کے دلائل کاجائزہ اور ان کےشبہات کا ازالہ

20

(1)اباحتِ اصلیہ :

20

(2)اباحتِ شرعیہ:

20

(3)عقلی قیاس:

21

(4) شرعی قیاس:

22

(5)آیت دَین

24

(6)ان کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُدھار خریداری کی ہے:

25

(7) باہمی تفاوت کے ساتھ حیوان کے بدلے میں حیوان کی بیع :

26

(8) ان کا دعویٰ ہے کہ اضافہ پر مشتمل بیعِ أجل میں آسانی اور فائدہ ہے:

29

(9) ان کا دعویٰ ہے کہ اُدھار بیچنے والا تاجر خطرہ مول لینے والا ہوتا ہے:

31

(10) حدیث ( مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَهٖ) کے باطل تاویل کی تردید :

32

(11) ان کے دعوے ” جمہور اہلِ علم اس حدیث کے خلاف ہیں“ کی حقیقت

36

باب : چہارم : اضافہ پر مشتمل بیعِ أجل کی چند صورتیں

42

پہلی صورت : تاجر کا بذاتِ خود اپنےفائدے کے لیے نقدی اور قسطوں پر تجارت کرنا

42

دوسری صورت :موجود قیمت کے عوض میں تجارتی قرض کی خرید وفروخت

43

تیسری صورت : تجارتی سہولیات فراہم کرنےوالی کمپنیاں

45

چوتھی صورت : سودی فریب بنام بیعِ مرابحہ

47

باب پنجم : بیع أجل کے بارے میں فیصلہ کن بحث

53

پہلی دلیل : نص شرعی ہے۔

53

دوسری دلیل : صحابی کا ایسا قول ہے، جن کا کوئی مخالف نہیں ہے۔

59

تیسری دلیل : صحیح قیاس ہے ۔

61

چوتھی دلیل : ” سَدُّ الذَّرائِع “ ہے

63

(الف) وسیع پیمانے پر سود خوری کا دروازہ کھولنا

65

(ب) قرض کی سہولت فراہم کرنا اور  لوگوں کا اس میں پھنسنا

67

(ج) لوگوں کا بچت کی فضیلت سے محروم ہونا نیز  مال ضائع کرنے اور فضول خرچی کرنے کی عادت ڈالنا

69

خاتمۂ کتاب

72

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1358
  • اس ہفتے کے قارئین 16920
  • اس ماہ کے قارئین 65222
  • کل قارئین71699379

موضوعاتی فہرست