دکھائیں کتب
  • 21 عورتوں کی 80 دینی خلاف ورزیاں (ہفتہ 25 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1626

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے او رانسان کی ہر شعبے میں مکمل راہنمائی کرتا ہے اسلام نے جس طرح مردوں کے لیے مفصل احکامات صادر فرمائے ہیں اسی طرح عورتوں کےمسائل کو بھی واضح اور واشگاف الفاظ میں بیان کیاہے نبی کریم ﷺ نے مردوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تربیت پر بھی زور دیا ہے ۔ کیونکہ ایک عورت کی تعلیم وتربیت سےایک پورا گھرانہ راہِ راست پرآسکتاہے ۔ لیکن دورِ حاضر میں عورتوں کی تعلیم وتربیت نہ ہونےکےبرابر ہے جس کانتیجہ ہےکہ عورتیں کفریہ شرکیہ عقائد، فحاشی وعریانی ، بےپردگی وبے حیائی ، ترکِ نماز، بدزبانی ، غیبت وچغلی، اور لعن وطعن ، قبروں اور مزاروں کے طواف کرنے ان کے نام کی نذر نیاز،تعوید گنڈے او ردیگر شرکیہ امور جیسے خطر ناک گناہوں میں مردوں کی نسبت بہت زیادہ مبتلا ہیں ۔ زیر نظر رسالہ ’’ عورتوں کی 80 دینی خلاف ورزیاں ‘‘ سعودی عرب کےنامور عالم دین شیخ عبد اللہ بن عبدالرحمٰن الجبرین کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے ۔ شیخ موصوف نے عورتوں کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ا س رسالہ میں عورتوں سے پائی جانے والی 80 قسم کی شرعی ودینی خلاف ورزیوں کو ذکر کیا ہے ۔خواتین اسلام اس کتاب کے مطالعہ سے اپنے آپ کو خطر ناک گناہوں سے بچا سکتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمان مرد وخواتین کوشریعت اسلامیہ کےمطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق دے ۔(م۔ا)

  • عورتیں مردوں کے لئے شدید ترین فتنہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنْ النِّسَاءِ.(صحيح بخاری ومسلم )’’میں نے اپنے بعد مردحضرات کے لئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ۔‘‘عورتوں کی فتنہ انگیزی یہ ایسی واضح بات ہے جس کے اندردو دانشمندوں کا کبھی اختلاف نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس فتنہ سے بچنے کے راستے ،وسائل وذرائع نبی کریم ﷺ نے بیان کردئیے ہیں جنھیں اختیار کرکے ہم اس فتنہ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ فتنہ خواتین او ران سے بچنے کی تدبیریں ‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم شیخ محمد صالح المنجد کے عربی رسالہ ’’ الابتلاء بفتنۃ النساء ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس رسالہ کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت جناب ابو عاصم فضل الرحمٰن فیصل ﷾ ( مدرس جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ ،مرید کے ) نے حاصل کی ہے ۔شیخ موصوف نے اس مختصر رسالہ میں قرآن واحادیث کی روشنی میں عورتوں کے فتنے کی وضاحت کی ہے اور ان احتیاطی تدابیر کو بیان کیا ہے جن کو اختیار کر کے عورتوں کے فتنہ سے بچا جاسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ رسالہ ہذا کے مصنف ، مترجم وناشر کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 23 مجالس خواتین (بدھ 18 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1305

    انسان شروع سےہی اس دنیا میں تمدنی او رمجلسی زندگی گزارتا آیا ہے پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک اسے زندگی میں ہر دم مختلف مجلسوں سے واسطہ پڑتا ہے خاندان ،برادری اور معاشرے کی یہ مجالس جہاں ا س کے اقبال میں بلندی ،عزت وشہرت میں اضافے او ر نیک نامی کا باغث بنتی ہیں وہیں اس کی بدنامی ،ذلت اور بے عزتی کاباعث بنتی ہیں انسان کو ان مجلسوں میں شریک ہو کر کیسا رویہ اختیار کرناچاہیے کہ جو اسے لوگوں کی نظروں میں ایسا وقار اور عزت وتکریم والا مقام بخش دے کہ لوگ اس کے مرنے کے بعد بھی اسے یادرکھیں ۔دنیا میں کچھ مجلسیں اور محفلیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں شریک ہو کر انسان اپنے دامن کوسعادت مندی کے موتیوں سے بھر لیتا ہے ۔ اجر وثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ او رکچھ مجلسیں ایسی ہوتی ہیں جن میں شریک ہونا اس کے لیے بدبختی کاباعث بن جاتا ہے او ر اس جھولی میں موجود پہلے موتی بھی بکھر کر ضائع ہوجاتے ہیں ۔ یوں پھولوں اور کلیوں کی بجائے وہ کانٹوں کا حقدار ٹھہرتا ہے۔اور جس طرح باغات اپنے پھلوں سے پہنچانے جاتے ہیں، پھول کلیاں، خواہ وہ چنبیلی ہو یا گلاب، اپنی خوشبو سے پہنچانے جاتے ہیں۔ خاندان اپنے افراد کے رویوں سے پہنچانے جاتے ہیں، اسی طرح مجالس اپنے شرکاء سے پہنچانی جاتی ہیں، خواہ وہ مجالس مردوں کی ہوں یاخواتین کی ۔ اگرمجالس میں حاضری اور کار گزاری کا ماحاصل مثبت، پسندیدہ ،مہذب اورافرادو معاشرے کےلیے باعث نفع و راحت ہو توسمجھا جاتا ہے کہ یہ مجلس قابل تعریف وستائش ہے ۔اگر مجلس اس کے برعکس ہوتو اس کو ہمیشہ برے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے شرکاء کو کو...

  • 24 مسلم خاتون حقوق ، فرائض اور اوصاف (ہفتہ 07 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1823

    امر میں کسی شک وشبہ کی  گنجائش نہیں  کہ  مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مسلمان عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ،بیوی ہو یا  بہن اپنے  گھر کو سنوارنے پر آئے تو جنت کا نمونہ بنادیتی ہے  اوراگر بگاڑنے کی ٹھان لے تو جنت  نشان گھرانے کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ۔ یہی وجہ  ہے کہ اسلامی تاریخ  کے ہر دور میں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بے حد زور دیا جاتا رہا ہے ۔مصر کے مشہور شاعر حافظ ابراہیم کے  الفاظ ہیں:’’کہ ماں ایک درسگاہ ہے اوراس درسگاہ کو اگر  سنوار دیا تو گویا ایک باصول اورپاکیزہ نسب والی قوم وجود میں آگئی۔‘‘دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی  تعلیمات ہی کا فیضان تھاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت  مآب مثالی خواتین پید ا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں  عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام  نے تقسیم کاری کے  اصول  پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ  وہ گھر میں رہتے ہوئے  اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض  ہے کہ وہ  معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے  اسلامی تعلیمات  کا جاننا از بس ضروری ہے   ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’مسلم خاتون‘‘مو...

  • 25 مسلمان عورت (منگل 24 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1688

    دین اسلام نے  عورت کواتنا اونچا مقام و مرتبہ دیا ہے جواسے پہلے کسی قوم وملت نے نہیں دیاتھا۔ اسلام نے انسان کوجو‏عزت واحترام دیا ہے اس میں مرد و عوت دونوں برابر کےشریک ہیں ۔ اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔لیکن افسوس کہ مغرب حقوق نسواں اور آزادی  کے نام پر عورت کو بے پردہ کرنا چاہتا ہے اور مسلمان خواتین کی عفت وعصمت کو تاتار کرنا چاہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسلمان عورت"دراصل علامہ فرید وجدی آفندی کی عربی کتاب "المراۃ المسلمۃ"کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کرنے کی سعادت ہندوستان کی شخصیت ابو الکلام آزاد کے حصے میں آئی ہے۔یہ کتاب انہوں نے قاسم امین کی عورت کی آزادی پر مشتمل  دو کتابوں "تحریر المراۃ"اور "المراۃ الجدیدۃ" کے جواب میں لکھی ہے۔قاسم امین  کی ان دو کتابوں کے منظر عام پر...

  • 26 مسلمان عورت (ابو الکلام آزاد) (ہفتہ 05 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2312

    قدرت نے مخلوقات کو مختلف جنسوں او رمختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے اورہر گروہ کے خاص فرائض اور خاص وظائف مقرر کر دیئے ہیں۔ ان تمام فرائض کی انجام دہی کے لیے چونکہ ایک ہی قسم کی جسمانی حالت اور دماغی قابلیت کافی نہ تھی۔ اس لیے جس گروہ کو جو ذمہ داری عطا فرمائی گئی اس کے موافق اس کو جسمانی اوردماغی قابلیت عطا کی گئی۔ بیشک انسان فطرتاً آزاد ہے، اور یہ آزادی اس کے ہر ارادی و غیر ارادی فعل سے ظاہرہوتی ہے لیکن آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ انسان کا اپنے حقیقی فرائض کو ادا کرنا نظام تمدن کا اصلی عنصر ہے۔ اسلام ایک عزت و عصمت او رپاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام نے عورت کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مستحکم بنایا۔ اسلام سے قبل عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"مسلمان عورت" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی بے مثال تصانیف میں سے ہے۔ موصوف نے کتاب ہذا میں حقوق نسواں، مسلمان عورت کے حقوق و فرائض، یورپ کی معاشرانہ زندگی اور پردہ جیسے اہم مسائل کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا آزادؒ کو غریق رحمت کرے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ ف...

  • 27 مسلمان عورت اور اس کا اخلاقی و معاشرتی کردار (پیر 30 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1716

    یہ بات مسلم ہے کہ عورت معاشرے کا ایک ایسا ناگزیر عنصر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلکہ سماجی اور تمدنی اصلاح و بقا کا انحصار تقریباً اسی نوع کی حیثیت پر ہے۔ عورت کی حیثیت، اس کا کردار و عمل اور اس کی حیات بخش صلاحیتیں معاشرے کے عروج و زوال کا سامان ہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کو انسانی معاشرے نے اُس کا صحیح حق نہیں دیا۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں بنیادی خرابی اس امر سے پیدا ہوئی کہ عورت اور مرد کے درمیان تخلیقی طور پر امتیاز رکھا گیا، اور عورت کو ہمیشہ کم تر اور کم اہم سمجھا گیا جبکہ مرد برتر اور اہم حیثیت کا حامل رہا۔ یہی وجہ تھی کہ قبل از اسلام عورت کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا، یہ صنف بھیڑ بکریوں کی طرح بکتی تھی، ظلم کی انتہا یہ تھی کہ لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، کیونکہ اس کی پیدائش نہ صرف منحوس تصور کی جاتی تھی، بلکہ باعث ذلت سمجھی جاتی تھی۔ البتہ اسلام جو ایک نظام حیات کے طور پر آیا تھا، نے اس مسئلہ پر خصوصی توجہ دی۔عورت کی عزت و شرف اور اہمیت و افادیت کے بارے میں اسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ مسلمان عورت اور اس کااخلاقی و معاشرتی کردار‘‘مولانا سلیم اللہ زمان کی ہے جو کہ عربی کتاب دکتور محمد علی الھاشمی کی ’’ المرأة المسلمة ‘‘ کا ترجمہ ہے۔جس میں عورت کا اپنے والدین،خاوند، اولاد، بہو، دماد،قرابت داروں، ہمسائیوں ، بہنوں اور سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کے تقاضوں کے حوالہ سے سیر حاصل بحث و گفتگو کی گئی ہے۔نیز یہ کتاب مسلمان عورت کے فر...

  • 28 معیاری خاتون (بدھ 04 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1694

    دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی  تعلیمات ہی کا فیضان تھاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت  مآب مثالی خواتین پید ا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں  عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام  نے تقسیم کاری کے  اصول  پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ  وہ گھر میں رہتے ہوئے  اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض  ہے کہ وہ  معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے  اسلامی تعلیمات  کا جاننا از بس ضروری ہے   ۔اور امر میں کسی شک وشبہ کی  گنجائش نہیں  کہ  مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مسلمان عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ،بیوی ہو یا  بہن اپنے  گھر کو سنوارنے پر آئے تو جنت کا نمونہ بنادیتی ہے  اوراگر بگاڑنے کی ٹھان لے تو جنت  نشان گھرانے کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ۔ یہی وجہ  ہے کہ اسلامی تاریخ  کے ہر دور میں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بے حد زور دیا جاتا رہا ہے ۔مصر کے مشہور شاعر حافظ ابراہیم کے  الفاظ ہیں:’’کہ ماں ایک درسگاہ ہے اوراس درسگاہ کو اگر  سنوار دیا تو گویا ایک باصول اورپاکیزہ نسب والی قوم وجود میں آگئی۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’معیاری خاتون‘‘مو...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1313
  • اس ہفتے کے قارئین: 3394
  • اس ماہ کے قارئین: 27922
  • کل قارئین : 47061870

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں