ابوہریرہ اکیڈمی، لاہور

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابوہریرہ اکیڈمی، لاہور
    title-pages-aappbuhka-tahzeeb-wa-tamaddon
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    افراد اور اقوام کے رہن سہن، عادات وخصائل حتی کہ کھانے پینےکےآداب کوبھی تہذیب وتمدن اور ثقافت وکلچرمیں شمارکیاگیاہے۔ ہرمعاشرے اوراقوام کی عادات واطوار، بودوباش او رکھانے پینے کے انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تہذیب وتمدن انسانوں کی عزت وعظمت کامعیار ہی نہیں بلکہ افراد کو یکجا اورمتحدرکھنے میں اس کا بڑا دخل بھی ہے۔ جس طرح نظریا ت آدمی کو ایک دوسر ےکےقریب اور دور کرتے ہیں یہی قوت تہذیب وتمدن میں کارفرماہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب کو اپنایا وہ انہی میں سے ہوگا۔ لہذا ضروری تھا کہ امت کےتہذیب وتمدن کو نمایاں اورمسلم امہ کو ممتاز رکھنےکے لیے اس کو ایک ایسی فکریکسوئی اورحسن عمل سے آراستہ کیا جاتا جس کی کوئی نظیر پیش نہ کرسکے۔ اورپھر امت اس قوت کےساتھ اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میاں جمیل صاحب جوکہ ایک مشہور عالم دین ہیں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور تاریخ کے دیگراسلامی واقعات کی روشنی میں تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں کو اجاگرکرنےکوشش کی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-aap-saw-ka-hajj
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’آپ ﷺ کا حج ‘‘ مولانا میاں محمدجمیل ﷾(مصنف کتب کثیر ہ )کی کاوش ہے جس میں نے آسان طریقے سے اختصار کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے حج کا مسنون طریقہ بیان کیا ہے جس سے استفادہ کر کے حاجی کرنے والا سنت کے مطابق مناسک حج ادا کرسسکتا ہے۔ اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

    pages-from-aap-saw-ki-namaz-aur-us-ki-amli-tasveerain
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔جیساکہ اس بات میں شبہ نہیں کہ نماز ارکان ِاسلام سے ایک اہم ترین رکن خیر وبرکات سے معمور ، موجب راحت واطمینان، باعثِ مسرت ولذات اور انسان کے گناہ دھوڈالنے، اس کے درجات بلند کرنے والی ایک بہترین عبادت ہے مگر یہ امر بھی واضح رہے کہ نمازی اس کی خیر وبرکات سے کما حقہ مستفید اور اس کی راحت ولذت سے پوری طرح لطف اندوز تبھی ہوسکتاہے جب وہ اس کے معانی ا ور مطالب سے واقف ہو۔ زیر تبصرہ کتاب’’آپ ﷺ کی نماز اور اس کی عملی تصویریں‘‘محترم میاں محمد جمیل﷾ کی کا وش ہے۔ اس مختصر کتاب میں موصوف نے نماز کےروحانی اور معاشرتی فوائد اور قیام وسجود کی عملی تصاویر کے ذریعے نماز کے جملہ واحکام ومسائل کو آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ میاں صاحب اس کتاب کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیرسمعیت دیگر کئی کتب کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

    pages-from-anbiyaa-ka-treeqa-e-dua
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہےقرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آتا۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔آپﷺ اور انبیاء کی دعائیں اس قدر جامع اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہیں کہ ان کےہوتےہوئے بزرگوں کے تجربات اورمن گھڑت فضائل کے حوالے سےمصنوعی وظائف کرنا قرآن وسنت کی دعاؤں اوراذکار پر عملاً بے اعتمادی اور شرکیہ وذظائف اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺ سےبغاوت کاثبوت ہے۔ رب کریم نےانبیاء کےمسائل اور مصائب کے حوالے سےہماری مشکلات کا جو حل تجویز فرمایا ہے اس کے حضور ان سے زیاہ کوئی دعا اوروظیفہ مستجاب نہیں ہو سکتاہے ۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔دعاؤں کے حوالے سے بہت سے کتابیں موجود ہیں جن میں علماء کرام نے مختلف انداز میں میں دعاؤں کو جمع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ انبیاء کا طریقہ دعا‘‘ محترم میاں محمد جمیل﷾ کی کا وش ہے ۔اس مختصر کتاب میں موصوف نے انبیاء اور آپﷺکی مختصر اور ضروری دعاؤں کو پیش کرنے کےعلاوہ دعا کےاحکام آاداب اور اہمیت وضرورت کو بھی آسان فہم انداز میں پیش کردیا ہے ۔ میاں صاحب اس کتاب کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیرسمعیت دیگر کئی کتب کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

    title-pages-tazkra-w-khidmat-shaikh-ul-hadith-hafiz-muhammad-bhutwi-w-ulmae-bhutta-copy
    محمد طیب بھٹوی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷭ ، مولانا حافظ صلاحالدین یوسف وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’تذکرہ خدمات شیخ الحدیث حافظ محمد بھٹوی وعلمائے بھٹہ محبت‘‘ قاری محمدطیب بھٹوی ﷾کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں اولاً جماعۃ الدعوۃ ،پاکستان کے مرکزی رہنما شیخ التفسیر والحدیث مولانا حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کے والد گرامی شیخ الحدیث محمدبھٹوی ﷫ اورپھر موضع بھٹہ محبت کے 83 علما کی حالات قلمبند کیے ہیں ۔ حافظ محمدبھٹوی ﷫ کا تذکرہ فاضل مصنف نےخاصی تفصیل سے کیا ہے ا ور اس کے بعد تمام بھٹوی علماء کرام کے حالات بیان کیے ہیں ۔اس کتاب میں مذکور32،33 علماء وہ ہیں جو براہ راست شیخ الحدیث حافظ ابو القاسم محمد بھٹوی﷫ کے شاگرد ہیں ۔ اور تقریباً چھبیس علماء ایسے ہیں جن کا خاندانی تعلق بریلوی پیر پرست خاندانوں سے تھا مگر دین کا علم پڑھنے کی وجہ سے ان کے خاندان مسلک اہل حدیث قبول کرچکے ہیں ۔ان کے علاوہ کچھ نوعمر طلباء جو مختلف مدارس دینیہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ ان کے اسماء گرامی آخر میں مستقبل کے علماء کرام کےعنوان کےتحت لکھ دیے ہیں ۔(م۔ا)

    title-pages-jadu-ki-tabahkariyan-iska-sharie-ilaj-copy
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    علوم کی دنیا میں جادو ایک پرانا علم ہے۔ ابتدائے افرینش سے انسانی معاشرے میں اس کا وجود اور ثبوت پایا جاتا ہے۔ جناب موسیٰ کلیم اللہ کے مقابلے میں جادو کو فرعونی حکومت کی سرپرستی اور جادوگر کو انتہائی مراعات یافتہ طبقہ شمار کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے حاکم وقت فرعون کی نگرانی اور سرپرستی میں حضر کلیم اللہ کا مقابلہ کیا لیکن اصلیت اور حقیقت نہ ہونے کی وجہ سے علم نبوت کے سامنے پسپا اور ناکام ہوئے۔ اسی اثناء حضرت موسیٰؑ نے جادوگروں کو مخاطب کرتے ہوئے جادو کی حقیقت بے نقاب فرمائی تھی کہ جادو گر کبھی بھی حقیقی اور دائمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ جادو کا اثرات بڑے مہلک ہوتے مگر اس کا مؤثر علاج بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا موضوع ہی یہی ہے کہ جادو کے اثرات یا نقصانات کیا ہیں اور اس کا قرآن وحدیث کے مطابق حل کیا ہے؟۔ اس کتاب میں چھ ابواب ہیں‘ پہلے میں واقعات اور مشکلات کے بارے میں لوگوں کے تین قسم کے خیالات‘ جادو کے محرکات اور تاریخی وغیرہ رقم ہیں‘ دوسرے میں جادو کا شرعی علاج‘ وظائف وغیرہ‘ تیسرے میں حفاظتی تدابیر‘ چوتھے میں جادوگروں کے متعلق سوالات کے جوابات‘ پانچویں میں جنات کی حقیقت ‘ چھٹے میں نظر بد کے اثرات وغیرہ ‘ ساتویں میں نظام فلکی اور علم نجوم کی حقیقت  اور آٹھویں میں پامسٹری اور مسمریزم کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ جادو کی تباہ کاریاں ‘اس کا شرعی حل ‘‘ میاں محمد جمیل ایم اے کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

    title-page-daor-hazir-k-mali-moamlat
    حافظ ذوالفقارعلی
    مسلمان ہونےکےناطےہمارایہ پختہ اعتقاد ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ایسا نہیں خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی،سیاسی ہو یا اخلاقی،معاشرتی ہو یا معاشی جس کے متعلق دین میں اصولی رہنمائی موجود نہ ہو۔مگر بدقسمتی کی بات یہ ہےکہ آج مسلمانوں کی اکثریت دین سے بیگانگی کے باعث اسلام کےان سنہری اصولوں سےنابلد ہے جولوگ نماز روزہ کےپابند ہیں ان میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جس نے دین صرف عبادات،نماز،روزہ ،حج اور  زکوۃ کا نام سمجھ لیا ہے مالی معاملات کے بارہ میں احکام شریعت کواس طرح نظر انداز کیے ہوئے ہے کہ گویا ان کادین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے بالخصوص جدید معاملات کےمتعلق ان کاانداز فکر یہ ہے کہ یہ چونکہ دور حاضر کے پیداوار ہیں عہد رسالت میں ان کاوجود ہیں نہیں تھا اس لیے یہ جائز ہیں۔ان حالات میں اہل علم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات جدید ہ سمجھیں او رلوگو ں کی صحیح او رکما حقہ رہنمائی کریں۔یہ کتاب  دور حاضر کےمالی معاملات پر جتنے بھی سوالات واشکالات ہیں ان کاجواب ہے ۔

    title-pages-ziwal-e-maghrab
    اوسو الڈ سپنگلر
    بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ  دور مغربی تہذیب اور کلچر کا دور ہے۔معاشرہ انسانی کے تمام شعبوں میں تنظیم سازی  اسی کے مطابق کی جارہی ہے۔بلکہ اس میں کچھ کجی  یا کمی رہ جائے تو غلط متصور کیا جاتا ہے۔اور اس کی اصلاح کے لیے زور بھی دیا جاتا ہے۔تمام ادارے اسی  کےمطابق پروان چڑھائے جارہے ہیں۔اسی وجہ سے مادی مفادات کا بہاؤ بھی اسی کی طرف ہے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی باقی تہذیبوں کی طرح اسے بھی دوام نہیں مل سکتا۔انسانیت کی تاریخ نے ابھی تک اکیس سے زائد تہذیبیں دیکھیں ہیں۔ وہ سب اپنے دور میں حرف آخر سمجھی گئیں۔اور ان تہذیبوں کے موجدین نے بھی یہی نقارہ بجایا  کہ  ہم صحیفہ کائنات کی  آخری سطر ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک کہانی بن گئی ۔اسی طرح موجودہ مغربی تہذیب کے موجدین اور مقلدین اس کے سحر میں اس قدر اسیر نظر آتے ہیں  کہ وہ اس کے خلاف ایک حرف شکایت بھی سننا نہیں چاہتے۔ لیکن کچھ لوگ حقیقت بینی  کا رویہ اپنا کر اظہار صدق کی جرات کرہی دیتے ہیں۔ زیر نظر کتا ب میں مصنف نے ان اسباب  و عوامل کی طرف نشاندہی کی جو یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ مغربی تہذیب زوال  کے  قریب ہے۔ا س سلسلے میں وہ  مختلف تہذیبی مظاہر کو  زیر مطالعہ لے کر آئے ہیں۔ اور چونکہ مصنف مغربی تہذیب کی بقا اور دوام چاہتے ہیں اس لیے وہ ساتھ ساتھ  اس طرف بھی اشارہ کرتے جاتے ہیں کہ ان خامیوں کوکیسے دور کیا جائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے اور اس مصنف اور ناشر کی تمام کتابیں حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-zakat-key-masael-o-fawaed
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اور اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ زکوٰۃ کے مسائل وفوائد ‘‘سابق ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ،کنونئیر تحریک دعوت توحید ،پاکستان ،مدیر وبانی ابو ھریرہ اکیڈمی ،لاہور محترم میاں محمد جمیل ایم اے ﷾ کی   کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے زکوٰۃ کی اہمیت وفضیلت ،تاریخ ، فوائد وثمرات اور زکوٰۃ کے جملہ احکام ومسائل کو   قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں بڑے آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ہیں۔ اوردینی وعصری علوم کےمعیاری ادارے ابوھریرہ اکیڈمی چلانے کے علاوہ پاکستان میں دعوتِ توحید کوعام کرنے کے لیے ’’تحریک دعوت توحید‘‘ کی قیادت کرتے ہوئے شرک وبدعات کے خاتمے کےلیے بڑے فعال ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تصنیفی،تبلیغی واصلاحی خدمات کوشرفِ قبولیت سے نوازے اور کتاب ہذا کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

    title-pages-seerat-e-ibraheem-as
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ''اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔'' زیر نظر کتاب ''سیرت ابراہیم﷤'' قائد تحریک دعوت توحید میاں محمد جمیل ﷾ کی تصنیف ہے فاضل مؤلف نے آیات قرآنی اور احادیث کی روشنی میں حضرت ابراہیم﷤ کے تفصیلی واقعہ اور ان کی سیرت کو عام فہم انداز میں بیا ن کیا ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کو لوگوں کے عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (ا۔م)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-page-faham-ul-hadeeth-volume-001
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    حدیث پاک ،دین اسلام کا بنیادی اور اولین مصدر ہے احکام دین کی تفصیلات حدیث وسنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں لہذا دین کو جاننے کےلیے احادیث کامطالعہ ناگزیر ہے خداجزائے خیر دے محدثین کو جنہوں نے امت کی آسانی اور بھلائی کےلیے احادیث کو مرتب او رمدون کیازیر نظر کتاب فہم الحدیث مین حدیث کی معتبر کتابوں سےاحادیث صحیحہ کاانتخاب کیا گیا ہے اور ہرگوشئہ زندگی سے متعلق حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس میں حدیث کی روانی ،کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل اور نبوت کے معجزۂ خطابت کو حتی المقدور قائم رکھتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ احادیث کا ترجمہ اورتشریح اس انداز میں عام فہم ہو کہ عام آدمی سمجھ سکے اسی لیے ابتداء میں باب کامفہوم او رآخر میں باب کاخلاصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ فرقہ واریت کی بجائے حدیث کی تشریح او رمفہوم وہی بیان کیا جائے جورسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کامقصد ہے ۔واضح رہے کہ کتاب میں درج شدہ روایات پر محدثین،دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث علمآء کا اتفاق ہے ۔


    title-page-faham-ul-hadeeth-volume-002
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    حدیث پاک ،دین اسلام کا بنیادی اور اولین مصدر ہے احکام دین کی تفصیلات حدیث وسنت ہی سے معلوم ہوتی ہیں لہذا دین کو جاننے کےلیے احادیث کامطالعہ ناگزیر ہے خداجزائے خیر دے محدثین کو جنہوں نے امت کی آسانی اور بھلائی کےلیے احادیث کو مرتب او رمدون کیازیر نظر کتاب فہم الحدیث مین حدیث کی معتبر کتابوں سےاحادیث صحیحہ کاانتخاب کیا گیا ہے اور ہرگوشئہ زندگی سے متعلق حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس میں حدیث کی روانی ،کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تسلسل اور نبوت کے معجزۂ خطابت کو حتی المقدور قائم رکھتے ہوئے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ احادیث کا ترجمہ اورتشریح اس انداز میں عام فہم ہو کہ عام آدمی سمجھ سکے اسی لیے ابتداء میں باب کامفہوم او رآخر میں باب کاخلاصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ فرقہ واریت کی بجائے حدیث کی تشریح او رمفہوم وہی بیان کیا جائے جورسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کامقصد ہے ۔واضح رہے کہ کتاب میں درج شدہ روایات پر محدثین،دیوبندی ،بریلوی اور اہل حدیث علمآء کا اتفاق ہے ۔



    untitled-1
    حافظ ذوالفقارعلی
    بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اس چیز کو اہمیت دیں کہ ہمارے پیٹ میں جانے والا لقمہ حلال ذرائع سے حاصل شدہ ہے یا حرام ذرائع سے۔ کتاب و سنت میں نہایت شد و مد کے ساتھ حلال رزق کمانے اور کھانے پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ معاش و تجارت میں حلال و حرام کی تمیز روا  نہیں رکھتے۔ حافظ ذوالفقار معیشت و تجارت اور بینکاری کے موضوع پر ید طولیٰ ٰرکھتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ان کی علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس میں معیشت و تجارت سے متعلق نہایت سادگی کےساتھ بہت سے موضوعات آسان زبان میں ایک عام قاری کے لیے بیان کر دئیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سےعوام الناس اور کاروباری طبقہ دین قیم کی پاکیزہ اور روشن تعلیمات سے آگاہ ہوگا۔ اور یقیناً خرید و فروخت کے معاملات ان کے مطابق ادا کر سکے گا۔(ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 401 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :