ام عبد منیب

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ام عبد منیب
    pages-from-aatish-bazi-aur-lighting-sirf-araaesh-aur-khail-ya
    ام عبد منیب

    آگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے جس کے چلنے سے حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے ۔آگ جب جل رہی ہواس کی زد میں جو چیز آئے وہ جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔آگ کی ایک چنگاری پورے شہر یا جنگل کوجلانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ انسان کے ازلی دشمن شیطان کواللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ۔اور شیطان روزِ اول ہی سے آگ اور آگ سے منسوب چیزوں کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جہنم جو آگ کاسب سے بڑا مرکز ومنبع ہے اس کاسب سے بڑا جہنمی خود شیطان ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے عذاب کا اصل گھر آگ ہی کو قرار دیا ہے ۔نیز ا س نے اس عذاب کے دینے میں کسی اورکو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کیا ۔آگ ہماری دشمن ہے اس آگ ہی سے ڈرانے   اور بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے ۔گو آگ ہماری ضرورت بھی ہے اور ضرورت کے وقت آگ سے کام لینا انسان کا حق ہے ۔ لیکن اسے بغیر ضرورت جلائے رکھنا اس سے پیا ر کرنا، کافروں کی طرح اپنی رسومات اور عادات کا حصہ بنانا کسی صورت بھی زیب نہیں دیتاہے۔ کیونکہ آگ بنیادی طور پرہماری دشمن ہے اور ہمارے دشمن شیطان کی پسندیدہ چیز ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں دنیاوی آگ کی دشمنی کابھی احساس دلایا اور اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’آتش بازی اور لائیٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟کو پیش کرکے   اس کےجائز اور ناجائز استعمال کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کوبھی بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین ( م۔ا)

    pages-from-islam-aur-rafahi-kam
    ام عبد منیب

    کسی شخص کی ذاتی ضرورت کےوقت اس کاکام کردینا یا معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں اور سہولتوں کو فراہم کرنے کی کوشش کرنا چاہے وہ کوشش مال کے ذریعے ہو۔ چاہے خدمت او رمحنت کےذریعے چاہے معاشرے کو اس کی ضرورتوں اوراس سہولتوں کےشعور کو عام کرنے کےلیے معلوماتی تحریریں فراہم کی جائیں، ان سب کا نام رفاہی کام ہے جسے خدمت خلق بھی کہا جاتاہے ۔اورانسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اسلام اور رفاہی کام ‘‘ محرمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے   رفاہی کام کی تعریف اور سابقہ شریعتوں میں رفاہی کاموں کا تصور بیان کرنےکے بعد شریعت محمدیہ میں رفاہی کا م کے تصور کو احادیث کی روشنی میں پیش کیاہے اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

    title-pages-ashyae-zroriyat-ka-islami-mayar-copy
    ام عبد منیب

    اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مقصد انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی کوسکو  ن اور مسرتِ دوام سے  ہمکنار کرنا ہے ۔اسلامی  تعلیمات کے مطابق اشیائے ضرورت صرف اس حد تک  اختیار کرنی چاہییں کہ جہاں پہنچ کر انسان خروی زندگی کی فلاح کے مقصد سے غفلت کاشکار نہ ہو۔جس موڑ پر آکر اشیائے ضرورت انسان کو اپنے پنجے میں جکڑ کر فرائض سے غافل کردیں ان  سے رُک جانا بہتر ہے ۔اشیائے ضرورت کی اہمیت  اگر ہے  تو  اتنی ہی کہ جتنی ہمیں ہمارے  نبی اکر م ﷺ کی حیات طیبہ سے  ملتی ہے  جس کے  نقوش صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین  کے گھروں اوررہن سہن میں ملتے ہیں۔انہی  کی مختصر جھلک  محترمہ ام  عبد منیب صاحبہ نے  کتابچہ  ہذا میں پیش کی ہے۔اس کتاب کے تمام مندرجات کاتعلق حلال وحرام یا جائز وناجائز کے  نقطۂ نظر سے  نہیں بلکہ اسے   دنیاوی ساز وسامان کے بے لگام رجحان کوصحیح رخ دینے  کےلیے  لکھا گیا ہے۔لہذا اسے اسی خیال سے  پڑھا اور سمجھا جائے۔حقیقت یہی  ہے کہ  موت کے بعد ہر انسان نے  اپنےہر لمحے اور ہر چیز کاحساب اللہ رب العزت کے  حضور پیش کرناہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں  اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کی  توفیق   عطا فرمائے  اور اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-itkaaf-aur-khawateen-2
    ام عبد منیب

    رمضان میں اعتکاف سنت ہے۔ نبی کریمﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں اعتکاف فرمایا اور آپ کے بعد ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہی تھیں۔اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف مسنون ہے لیکن ضروری ہے کہ اعتکاف اس مقصد سے ہو جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ انسان مسجد میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت کے لیے گوشہ نشین ہو، دنیا کے کاموں کو خیر باد کہہ کر اطاعتِ الٰہی کے لیے کمر باندھ لے اور دنیوی امور سے بالکل دست کش ہو کر انواع و اقسام کی اطاعت  و بندگی بجا لائے، نماز اور ذکر الٰہی کا کثرت سے اہتمام کرے۔ رسول اللہﷺ لیلۃ القدر کی تلاش و جستجو کے لیے اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ دنیوی مشاغل سے بالکل دور رہے، خریدو فروخت کا بالکل کوئی کام نہ کرے، مسجد سے باہر نہ نکلے، جنازہ کے لیے بھی نہ جائے اور نہ کسی مریض کی بیمار پرسی کے لیے جائے۔ بعض لوگوں میں جو یہ رواج پا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والوں کے پاس دن رات آنے جانے والوں کا تانتا باندھا رہتا ہے اور ان ملاقاتوں کے دوران ایسی گفتگو بھی ہو جاتی ہے جو حرام ہے تو یہ سب کچھ اعتکاف کے مقصود کے منافی ہے۔ہاں اعتکاف کے دوران گھر کا کوئی فرد ملنے کے لیے آئے اور باتیں کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺاعتکاف میں تھے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ملاقات کے لیے تشریف لائیں اور انہوں نے آپ سے کچھ باتیں بھی کیں۔خلاصہ کلام یہ کہ انسان کو چاہیے وہ اپنے اعتکاف کو تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا لے۔اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے، گھر میں نہیں ہوتا ۔ مسجد کے علاوہ کہیں بھی اعتکاف کرنا صحیح نہيں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :’’ جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو عورتوں سے مباشرت نہ کرو ‘‘ البقرة ( 187 ) ۔ فرمان الٰہی کے   اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں کہ   اگر خواتین نے اعتکاف کرنا ہو تو وہ بھی مسجد میں ہی کریں۔عورتوں کے لیے گھرمیں اعتکاف کرنا جا‏ئزنہيں کیونکہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے نبی ﷺسے مسجد میں اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے انہیں اجازت دے دی ۔ گویا اعتکاف کرنے کی جگہ میں مرد اور عورت کےلیے کوئی تخصیص نہیں ہے لہذا عورت بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرے گی۔ کیوں کہ قرآن حکیم اوراحادیث نبویہ میں عورت کےلیے   کوئی تخصیص نہیں بتائی گئی۔ زیرنظر کتابچہ ’’ اعتکاف اور خواتین ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے خواتین کےلیے   اعتکاف کرنے کی شرعی حیثیت اور آداب وشرائط کو عام فہم انداز میں قرآن وحدیث کی روشنی میں   پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ محترمہ کی تمام دینی واصلاحی اور دعوتی کاوشوں کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    pages-from-april-fool-2
    ام عبد منیب

    بے شک جھوٹ برے اخلاق میں سے ہے ,جس سے سب ہی شریعتوں نے ڈرایا ہے ،جھوٹ نفاق کی نشانی ہے اور اللہ کے رسولﷺنے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔ آپ ﷺکے فرمان کے مطابق جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولے یا خاموش رہے، مزید براں اللہ کے رسول ﷺنے اس شخص پرخصوصی طور پر لعنت فرمائی ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے۔ آج کل لوگ مزاح کے نام پر انتہائی جھوٹ گھڑتے ہیں اور لوگوں کو جھوٹے لطائف سنا کر ہنساتے ہیں ۔ آپ ﷺکے اقوال مبارکہ کی روشنی میں اپریل فول جیسی باطل رسوم وروایات کو اپنانے اور ان کا حصہ بن کر لمحاتی مسرت حاصل کرنے والے مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کر کے وہ غیر مسلم مغربی معاشرے کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں جس کی رو سے لوگوں کو ہنسانے،گدگدانے اور انکی تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے جھوٹ بولناانکے نزدیک جائز ہے جبکہ آپ ﷺکے فرمان کے مطابق جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انہیں تفریح فراہم کرنااور ہنسانا سخت موجبِ گناہ ہے۔کتاب وسنت میں جھوٹ کی شدید ممانعت آئی ہے.اوراس کی حرمت پراجماع ہے.اورجھوٹے شخص کیلئے دنیا وآخرت میں برا انجام ہے۔ اپریل فول منانے کی روایت کو بدقسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے،اور ہر سال نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوں پر فخرکرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں۔آج اپریل فول کا یہ فتنہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کے اخلاق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے جسے وہ یہود و نصاریٰ کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب واقرباء کو بے وقوف بنانے کے لیے مناتے ہیں۔ اپریل فول کا جھوٹ اور مذاق بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اپریل فول کاشکار ہونے والے کئی لوگ ان واقعات کے نتیجے میں شدید صدمے میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کئی مستقل معذوری کا شکار ہوکرہمیشہ کے لیے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہوجاتے ہیں ، کتنے گھروں میں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور کتنے خوش وخرم جوڑے مستقلًا ایک دوسرے سے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہوجاتے ہیں اور مذاق کرنے والے ان سارے ناقابل تلافی صدمات اور نقصانات کا کسی طور پر بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے۔مسلمانوں کے لیے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقینا سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’اپریل فول‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی   بگھڑے ہوئے معاشرے کے لیے ایک اصلاحی تحریری کاوش ہے جس میں نے انہوں نے اپریل کی تاریخ اور حقیقت کو کواضح کرتے ہوئے قرآن واحادیث اور علمائےکرام کے فتاویٰ کی روشنی میں اس کا شرعی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی ٰ موصوفہ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔(آمین)

    title-pages-iman-ki-adna-shakh-copy
    ام عبد منیب

    اسلامی تہذیب شائستگی اور وقار کی حامل ہے ۔ایک مسلمان شعوری طور پر مسلمان بھی ہو اور پھر وہ کسی کے  خلاف تہذیب حرکت کا ارتکاب کر ے یہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہونا چاہیے۔دور حاضر میں  مسلمانوں کی اکثریت مغربی ممالک کی اس حوالے  سے بہت تعریف کرتی  ہے  کہ ان کےہاں گلیاں ،سرکیں اور دکانیں وغیرہ  بہت صاف ہوتی ہیں اور وہ لوگ ایک دوسرے  پر کوئی اعتراض اورایک دوسرے کوروک ٹوک نہیں کرتے  لیکن وہ ایمان جیسی عظیم  نعمت  سے  محروم ہیں ۔ فرمان نبوی کے  مطابق  کے 60یا70 سے  زیادہ شاخیں ہیں ۔ جن میں افضل شاخ توحید  کا اقراراور  اس کی ادنی ٰ شاخ رستے سےتکلیف دینے والی چیز کا ہٹا دینا ہے ۔زیرنظرکتابچہ’’ایمان کی ادنی ٰ شاخ راستے سےتکلیف داہ چیز کا ہٹا دینا‘‘ میں  محترمہ ام عبد منیبہ  صاحبہ نے  ایمان  کی ادنیٰ  شاخ کو موضوع بحث  بناتے ہوئے   بڑے عام انداز میں  اس  فرمان نبوی ’’الایمان بضع وسبعون  او بضع ستون.....‘‘  کی  وضاحت کی  ہے اللہ تعالی ٰ ان  کی اس کاوش کوعوام الناس کے لیے  فائد مند بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-biddat-kia-he-copy
    ام عبد منیب

    بدعت کا مطلب بغیر کسی مثال کے کسی چیز کووجود میں لانا ہے ۔ لیکن شریعت کی  اصطلاع میں  ہر وہ کام جسے ثواب یا برکت کاباعث یا نیکی سمجھ کر کیا جائے   لیکن شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہ  ہو۔  یعنی نہ تویہ کام خود رسول اللہﷺ نے کیا  ہواور نہ ہی کسی  کو کرنےکا  حکم  دیا  ،نہ ہی اسے کرنے کی کسی  کواجازت دی ۔اس کے برعکس جوکام رسول اللہ ﷺ نے ایک بشرکی  حیثیت سے بشری ضروریات پوری کرنے کے لیے  کیے  ،آپ  ﷺ نے جو وسائل یا ضروریاتِ زندگی استعمال کیں ،دنیاوی امور میں  آپ ﷺ  نے جو تدبیریں اختیار کیں ان میں قیامت تک نئے  وسائل ،نئی چیزیں اورنئے تجربوں سےفائدہ اٹھانا بدعت نہیں۔بدعت  کورواج دینا صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور بدعات وخرافات کرنے  والے   کل قیامت کو حوض کوثر  سے  محروم کردیئےجائیں گے ۔ جس کی وضاحت  فرمان ِنبوی  میں  موجو د ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’بدعت کیا  ہے ‘‘ محترم امہ عبد منیب صاحبہ  کاخواتین کے ایک اجتماع میں   بیان کیاجانے وہ  خطاب ہے جسے  انہوں نے   خواتین کی ترغیب پر  مرتب   کر کے کتابی صورت میں  افادۂعام کےلیے شائع کیا ہے  ۔اللہ تعالی ٰ اسے عوام الناس کی  اصلاح  او ر بدعت کے خاتمے کا   ذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-badni-taharat-k-masial-copy
    ام عبد منیب

    طہارت و پاکیزگی اسلام کے اولین احکام میں سے ہے۔ اسلام میں اس کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت بیان کی گئی  ہے۔طہارت جسمانی بھی  ہوتی ہے اور روحانی و ذہنی بھی۔ نبی کریم ؐنے ارشاد فرمایا :’’ طہارت نصف ایمان ہے‘‘۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام عبادات کرنے سے پہلے  ایک خاص قسم کی طہارت و پاکیزگی کا اہتمام کرنا لازم اور ضروری  ہے۔ اسلام نے طہارت وپاکیزگی کے اصول مقرر کر دئیے ہیں ۔ نبی کریم ؐنے اپنی تعلیمات کے ذریعے ان کی حدود بھی مقرر فرما دی ہیں۔ جس طرح نفس کی پاکیزگی ایک بہت بڑی نعمت ہے اسی طرح جسمانی پاکیزگی بھی گراں قدر نعمت ہے اور انسان پر اللہ کی نعمت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک انسان کا نفس اور اس کا جسم دونوں ہی پاکیزگی و طہارت کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔ نماز جواسلام میں ایک  سب سے اہم اور فرض عبادت ہے اس کی درست ادائیگی کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا کہ نمازی کا بدن ،کپڑے اور نماز پڑھنے کی جگہ ہر قسم کی نجاست اور آلودگی سے پاک ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب  " بدنی طہارت کے مسائل"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  عورتوں کے لئے بالخصوص اور مردوں کے لئے بالعموم بدنی طہارت مثلا وضو ،غسل اور تیمم وغیرہ جیسے موضوعات  کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ اکثر لڑکیاں اور لڑکے بالغ ہوجانے کے باوجود شرعی طہارت کے مسائل سے نابلد ہوتے ہیں۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    title-pages-barat-aur-bari-copy
    ام عبد منیب

    ہمارا معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود غیر اسلامی  رسوم ورواج میں بری طرح جکڑچکا ہے،اور ہندو تہذیب کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہنے کے سبب  متعدد ہندوانہ رسوم ورواجات کو اپنا چکا ہے۔کہیں شادی بیاہ پر رسمیں تو نہیں بچے کی ولادت پر رسمیں،کہیں موسمیاتی رسمیں تو کہیں کفن ودفن کی رسمیں۔الغرض ہر طرف رسمیں ہی رسمیں نظر آتی ہیں۔اسلامی تہذیب وثقافت کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ہے۔الا ما شاء اللہ۔انہیں رسوم ورواج میں سے ایک قبیح ترین رسم بری اور برات کی ہے،جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ان رسوم ورواج میں اسلامی  تعلیمات کا خوب دل کھول استخفاف کیا جاتا اور غیر شرعی افعال سر انجام دیئے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  "برات اور بری"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں     نےبرات اور بری میں کی جانے والی ہندوانہ رسومات پر روشنی دالی ہے اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی  ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    title-pages-bismillah-duadawashifa-copy
    ام عبد منیب

    بسم اللہ  الرحمن الرحیم کلام رب العالمین کی پیشانی کا وہ مقدس ومنزہ طغریٰ  ہے جسے اللہ تعالیٰ نے  اپنے کلام کےافتاح کے لیے منتخب فرمایا۔ اور امام کائنا ت  خاتم النبین   حضرت محمدﷺ اسی کلام ِمبارک سے اپنے ہر کام کاآغاز فرماتے اور ہر مسلمان کوبھی اپنے کاموں کا  آغاز اسی سے کرنےکی تلقین فرمائی۔ زیر نظر کتاب ’’بسم اللہ دعا ، دوا اور شفاء‘‘محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے   اس افتتاحیہ کلام کی اہمیت وافادیت ، اور  مسلمان کااس کےساتھ قلبی وروحانی تعلق کیساہونا  چاہیے۔ اور اس کے لغوی مفہوم کو  بڑے آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے  ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ان کے لیے صدقہ جاریہ اور آخرت میں نجات کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

    pages-from-bachao-apne-ap-ko-aur-ghar-walon-ko-jahannam-ki-aag-se
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے اچھائی اور برائی ،خیر وشر،نفع   ونقصان میں امتیاز کرنے اور اس میں صحیح فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ہے ۔اچھے کام کرنے اور راہِ ہدایت کو اختیار کرنے کی صورت میں اس کے بدلے میں جنت کی نوید سنائی ہے ۔ شیطان اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کے لیے   جہنم کی وعید سنائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت اختیار کرنے کےلیے اپنے انبیاء کرام کو   مبعوث فرمایا تاکہ انسانوں کو شیطان کے راستے سے ہٹا کر رحمٰن کے راستے پر چلائیں۔تاکہ لوگ اپنے آپ کو جہنم سے بچا کر جنت کا حق دار بنالیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(سورۃ التحریم :6)’’اے ایمان والوں اپنے آپ کوجہنم کی آگ سے بچاؤ جس کاایدھن لوگ اورپھتر ہیں ‘‘اس لیے   گھر کے ذمہ دار کی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے گھر والوں کو ایسے اعمال کرنے کا کہےکہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے بچا جاسکے۔ زیرنظر کتاب ’’ بچاؤ اپنے آپ کو اور گھر والوں کوجہنم کی آگ سے ‘‘ میں محترمہ ام عب منیب صاحبہ نے یہ واضح کیاہے کہ اہل میں کون لوگ شامل ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل کو بچانے کا حکم کیوں دیا؟انبیاء کرام نے اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچانے کا فریضہ کس طر ح ادا کیا اور ہمیں یہ فریضہ کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو   اہل ایمان کےلیے جہنم سے آزادی کے ذریعہ بنائے ( آمین) م۔ا)

    title-pages-bache-ki-sehat-aur-ihtyati-tadabeer-copy
    ام عبد منیب

    بچے اللہ کا عطیہ ۔ نرم ونازک ،پیارے ،معصوم ،دلکش ،ہنستے ،مسکراتے، خوشبوؤں اور محبتوں کی رونق ،کون سے  والدین ہیں جو یہ نہیں چاہتے وہ سدا بہار رہیں مسکراتے رہیں نظر بد سے دور رہیں   لکین اکثر اوقات والدین کی اپنی غفلت لاپرواہی یا بے سمجھی  بچوں کے  معذور یا بیمار بننے کا سبب بن جاتی ہے ۔فرمان نبوی  ہے :’’ تم میں سے ہر ایک شخص ذمہ دار ہے  اور اپنی رعیت کا جواب دہ  ہے ، امیر اپنی رعیت کا جواب دہ ہے  ۔ آدمی اپنے گھر والوں پر نگران  ہے  ، عورت اپنے خاوند کےگھر اور اس کی اولاد پر نگران ہے  ۔غرض تم  سے ہر شخص کسی نہ کسی پر ذمہ دار  بنایا گیا ہے  اور وہ اپنی رعیت کا جواب دہ ہے ‘‘۔بچوں کی  نگرانی  کاایک تقاضہ یہ بھی ہے ہ بچے  کو جسمانی  ،ذہنی اوراخلاقی بیماریوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے ۔انسان کوجتنے تحفظات در کار ہیں  ان میں  سر فہرست صحت کا تحفظ  ہے ماں کو  چاہیے  کہ بچے کی صحت بر قرار رکھنے والے اصول اور تدابیر سے آگاہی حاصل  کرے ۔لیکن بچے کی جسمانی نگہداشت سے زیادہ ضروری چیز اس  کی اخلاقی نگہداشت اور تربیت ہے ۔ اگر جسمانی  لحاظ سے کوئی بے احتیاطی ہو جائے تو صرف جسم کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اخلاقی لحاظ سے کوئی عیب پیدا ہوجائے تویہ دنیا میں اس بچے کی بدنامی اور والدین کی رسوائی کاباعث ہوتا ہے جب کہ آخرت میں یہ کھلم کھلا جہنم کی آگ میں جھونک دیتا ہے۔ماں پاب کا یہ فریضہ ہے کہ  بچے کی اخلاقی تربیت میں اپنی پوری کوشش کریں اور اسے  پختہ ایمان کے ساتھ  ساتھ  اچھی عادات اور شریفانہ تہذیب کا عادی بنائیں۔زیر نظر کتابچہ ’’بچے کی صحت اور احتیاطی تدابیر‘‘ بچوں کی تربیت  کے سلسلے میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی  کاوش ہے  جس  میں انہوں نے  ایک ماں کے لیے  بچوں کی صحت کو برقرار رکھنے  کے لیے  جن تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے  انہیں بڑے احسن انداز میں   بیان کرتے ہوئے یہ بھی بتایا ہے  کہ بچوں کی جسمانی  تربیت  اوران کی  صحت کاخیال رکھتے ہوئے  ان کی اخلاقی وروحانی تربیت کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔یہ مختصر کتابچہ خواتین بالخصوص ماؤوں کےلیے  لائق مطالعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اسے  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا) 

    pages-from-bahu-aur-damaad-par-susraal-key-haqooq
    ام عبد منیب

    اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے ۔خاندان کااستحکام ہی تمدن کے کےاستحکام کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کارشتہ ظہور میں آتاہے۔اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت،احترام،وفا،خلوص،ہمدردی، ایثار ،عدل،احسان، اور باہمی تعاون کادرس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کابنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کاشریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’بہو اور دماد پر سسرال کے حقوق‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے۔اس میں انہوں نے قرآن وحدیث سےسسرال کے حقوق وفرائض کے بارے میں جو تفصیلات یا اشارات ملتے ہیں ان کو یک جا کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ وہ مربو شکل میں سامننے آجائیں ۔قرآن وحدیث وہ پیمانہ ہےجس پر ہم اپنی زندگی کی عمارت استوار کرنے کے پاپند ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے۔آمین (م۔ا)

    title-pages-bemar-ki-namaz-copy
    ام عبد منیب

    بیماری عذر کی حالت کا نام ہے ۔ جس میں انسان اپنے  کام معمول کےمطابق نہیں کرسکتا ۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے  بندوں پر یہ کمال شفقت ہے کہ  اس نے  انسان کواس کی  استطاعت سے بڑھ کر کسی بھی  حکم کا پابند نہیں بنایا۔عبادات ادا کرنے کےلیے  اس نے عذر کی حالت میں تخفیف کردی ۔ نماز روزانہ  پانچ دفعہ  کا معمول  ہے ۔ اس لیے بیماری کی حالت میں سب سے  زیادہ اسی کے  مسائل معلوم کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے  ۔زیر نظر کتابچہ ’’ بیمار کی نماز‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے  ۔جس میں انہوں  نے  بیمار شخص کے لیے  طہارت   حاصل کرنے کے مسائل بیان کرنے کے بعد مختلف بیماریوں  میں  انسان کو  کس طرح  نماز  ادا کرنی چاہیے  ا ن کو  آسان فہم انداز میں بحوالہ  مختصرا بیان کیا ہے  ۔ اللہ  تعالیٰ محترمہ کی تمام مساعی جمیلہ  کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-bewiyon-k-bahmi-talukat-copy
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ ٰ ہی کی حکمت بالغہ ہے۔اس نے اپنی حکمت کے تحت سابقہ شریعتوں میں بھی اور  ہمارے نبی کریمﷺ حضرت محمد ﷺ کی شریعت میں بھی مردوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرسکتے ہیں۔تعدد ازواج نبی ﷺ ہی کا خاصہ نہ تھا۔حضرت یعقوب   کی دو بیویاں تھیں۔حضرت سلیمان بن دائود   کی ننانوے بیویاں تھیں۔ایک بار اس اُمید سے کہ آپ ایک رات میں ان سب کے پاس گئے کہ ان میں سے ہر ایک ایک بچے کو جنم دے گی۔جو بڑے ہوکر اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے  امت محمدیہ کے   مردوں کے   لیے ایک وقت میں چار بیویوں کورکھنے کی اجازت دی ہے ۔جس  کےبہت فوائد اور اس میں  کئی حکمتیں مضمر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ بیویوں کے باہمی تعلقات‘‘ محترم ام عبدمنیب  صاحبہ کی  کاوش  ہے  جس میں انہوں نے  تعدد  ازدواج  کے پس منظر اور اس کے فوائد،خدشات،سوکنوں کےباہمی تعلقات کو  آسان فہم  انداز میں  بیان کرنے کے بعد  ان کی  آپس میں  اصلاح  کے   حوالے  قرآن  وحدیث کی  روشنی  میں چند مفید   نسخے  پیش کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-bewiyon-k-darmiyan-adal-copy
    ام عبد منیب

    اسلام دین فطرت  ہے ،اس  میں انسان کی روح اور جسم دونوں کے تقاضےپورے کرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نےکافی وشافی احکامات دئیے ہیں۔ تعدّدِ ازواج کاقانون اس کی جیتی جاگتی  مثال ہے۔ عدل کی شرط کے ساتھ مرد کویہ اجازت دی گئی ہ کہ  وہ  بیک وقت چار بیویاں اپنے عقد میں رکھ سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ  نے مردکو  دو تین چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دے کر  اسے کوئی اضافی سہولت ،عیش وعشرت کا موقع یا کوئی اعزاز وانعام  عطا نہیں کیا  جیسا کہ غیر مسلموں یا اسلام کےاحکامات سے  نابلد مسلمانوں کی اکثریت کاخیال ہے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مرد ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے  وہ  خود کو ذمے داریوں کے شکنجے میں دو بیویوں کی صورت دوگنا ،تین بیویوں کی صورت میں تین گناہ اور چار بیویوں کی صورت میں  چار گنا جکڑ لیتاہے ۔اگر وہ اپنی  بیویوں میں  عدل وانصاف اور مساوات کا خیال نہیں رکھتا  تو وہ گناہگار  ٹھرتاہے ۔ جو شخص اپنی بیویوں  کے حقوق ادا کرنے  میں غفلت برتتا ہے  یا  جان بوجھ کر  ان کے حقوق غصب کرتاہے ۔احادیث میں اس کے لیے  اللہ تعالیٰ  کی طرف سے شدید پکڑ کی وعید سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص کی دوبیویاں ہوں اوران کے درمیان عدل نہ کرے  توقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک  حصہ گرا ہوا (فالج زدہ) ہوگا۔‘‘(سنن ابی داؤد) زیر  نظر کتاب ’’  بیویوں کےدرمیان عدل ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کی  کاوش ہے  جس میں انہوں نے  بیویوں کے درمیان  تمام امور میں عدل کرنے کے حکم   کو قرآن وحدیث کی روشنی میں  آسان فہم انداز میں بیان کیا  ہے ۔اللہ تعالیٰ  اسے اہل ایمان کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    pages-from-tahaffuz-e-namoos-e-risalat-aur-hum
    ام عبد منیب

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب   نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت   ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ زیر نظر کتابچہ ’’ تحفظ مامو س رسالت اور ہم ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے   گستاخانِ رسول سے نبٹنے کے لیے اس بات کواجاگر کیا ہے کہ اگر مسلمان ممالک کے حکمران صرف ایک دن کےلیے ان لمبی زبانوں او رخاکے بنانے والوں کے ممالک سے معاشی بائیکاٹ کرتے تو دشمن بغیر کسی جنگ کے سدھا ہوجاتا اوریہ سب اپنے کرتوں سے بازآجاتے۔بحر حال حکومتی سطح پر کچھ کرنے کی بجائے عام غیور مسلمانوں کوزیر نظر سطور میں انفرادی سطح پر علاج سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسلام دشمن قوتوں کی تمام سازشوں سے امت مسلمہ کو محفوط رکھے ۔آمین(م۔ا)

    pages-from-tasveer-aik-fitna
    ام عبد منیب

    اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،کیونکہ یہ شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دی۔مغرب کی بے دین   حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئیے جاتے،اور سیرت کی کتب میں ضرور  اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ﷢ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تصویر ایک فتنہ‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےتصویرکےنقصانات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بالخصوص ان امورکی نشاندہی کی ہے کہ جن کے کرنے سے انسا ن شرک کا مرتکب ہوجاتا ہے لیکن اسےاس   کا احسا س نہیں ہوتا ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی   تدریسی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو لوگوں کےلیے شرک سے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-taqseme-warasat-aur-hamara-muashra-copy
    ام عبد منیب

    فوت ہونے والا شخص  اپنےپیچھے  جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے  اسے  ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا  عورت  کی اشیاء اور  وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے  یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا  ملتا ہے شرعی  اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے  ہیں ۔  رسول اللہﷺ نے  اس علم کی اہمیت کو بیان  کرتے ہوئے فرمایا: ’’علم میراث سیکھو اور دوسروں کو  بھی سکھاؤ کیوں کہ مجھے بھی فوت کیا جائے گا اور علم ِمیراث قبض کرلیا جائے گا۔ یہاں تک  کہ دوآدمی مقررہ حصے  میں اختلاف کریں گے  اور کوئی ایسا آدمی  نہیں پائیں گے  جو ان میں فیصلہ کرے ‘‘(مستدرک حاکم) اسلام  اللہ  کا عطا کردہ پسندیدہ دین ہے ۔ اللہ تعالیٰ علیم وحکیم،خبیر وبصیر ،عادل  ومنصف ہے  ۔چنانچہ اس  نے کسی شخض کی موت کےبعد اس کی چھوڑی ہوئی اشیاء اور وسائل آمدنی کےبارے میں جو ہدایات دی ہیں  ان میں والدین اور شتہ داروں کےلیے عدل اور خیر خواہی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ایک مسلمان  کے لیے ایمان لانے کے بعد اللہ  کےحکم کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ضروری ہے لیکن ہمارے موجود ہ معاشرے میں تقسیمِ جائیداد کےبارے  میں بہت سی غلط فہمیاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’ تقسیم وراثت اور ہمارا معاشرہ ‘‘ محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  کاوش ہے جس میں انہوں نے اپنے   مخصوص  عام  فہم انداز میں  علم میراث؍علم الفرائض کی اہمیت  اور  اس  تقسیم  وراثت کے  سلسلے میں جو ہمارے  درمیان  کتاہیاں  پائی جاتی ہیں    ان کی   نشاندہی  کرتے ہوئے  ورثاء کے حصص کو  بیان کیاہے  ۔ اللہ تعالیٰ ان کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  ۔ اورکتاب ہذا  کو ہمارے معاشرے میں   تقسیم وراثت کے لیے   پائی جانے والی کوہتاہیوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

    pages-from-jismani-harkaat-aur-shaistagi
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی مخلوقات پیدا کیں ان سب میں انسان اس کی شاہکار تخلیق ہے خوبصورت ایسا ہ کہ اس کے بارے میں خود رب العالمین نے فرمایا:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم(التین:4) اس کا نازک اور خوبصورت جسم ہر وقت محوِ حرکت ہے۔ ربِ کریم نے انسان کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں ایک امتیازی حیثیت دی ہے اوراسے وہ کچھ عطا کیا ہے جو مخلوقات میں کسی کو نہیں دیا۔انسان کے امتیازی اوصاف کی وجہ سے انسان اچھائی برائی کا مکلف بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ بھی۔انسان کے بعض افعال وحرکات میں انسان جانوروں سےمشابہ ہے لیکن جانوروں میں علم،عقل اوراختیار نہیں ہے جب کہ انسان کوجو چیز جانوروں سےممتاز کرتی ہے وہ اس کے افعال وحرکات میں شائستگی اور تہذیب ہے ۔کیوں کہ اسلام نے انسانی افعال وحرکات کو ایک خاص ضابطے کے اندر رکھنے کی تلقین کی ہے ۔انسانی جسم بہت سے اختیاری اوغیر اختیاری افعال میں ہر وقت مصروف رہتاہے ۔اسلام نے ان افعال کو بھی شائستگی کا حسن عطا کیا ہے تاکہ انسان حیوانوں سے ممتاز ہوسکے۔ زیر نظرکتابچہ’’جسمانی حرکات اور شائستگی ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریری کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے انسان کی اختیاری اورغیراختیاری حرکات کوبیان کرنےکے ساتھ ساتھ   بڑے احسن انداز میں اس کےمتعلق اسلامی تعلیمات کو بھی پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو لوگوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    pages-from-haj-mein-chehrey-ka-parda
    ام عبد منیب

    قرآن حکیم میں عورت پر باہر نکلتے وقت جلباب (ایسا کپڑا جو اس کے جسم ،سر پاؤں اور زینت کوڈھانپ لے ) کو اوڑھنا فرض قرار دیا گیا ہے ۔ لہذا عورت جب احرام کی حالت میں باہرنکلتی ہے تو بھی اس جلباب سے جسم اور چہرہ ڈھانپنا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں دورانِ حج جلباب نہ اوڑہنے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔دوران ِ احرام عورت پر نقاب(سلا ہوا وہ مخصوص کپڑا جوصرف چہرے کوچھپانے کے کام آتاہے ) باندھنا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح دستانے یا زغفران سےرنگے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے یاجس طرح مرد پر دوران ِ احرام سر ڈھانپنایا سلے ہوئے کپڑے پہننا یا ٹخنے ڈھانپ لینے والے جوتے پہننا ممنوع ہے۔ نقاب ایک مخصوص کپڑے کا نام ہے حجاب کا نام   نہیں۔ دورانِ احرام عورت پر نقاب باندھنا ممنوع ہے لیکن حجاب دورانِ حج ہو یا اس کے علاوہ ہر حالت میں اس پر فرض ہے۔ لہذا وہ دورانِ احرام بھی حجاب (چہرے کاپردہ) کرنے کی پابند ہے۔ جیسا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوران ِحج اپنی جلباب(بڑی چادر) کو مردوں کےسامنے پر چہرے پر ڈال لیتی تھیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اسی مذکورہ مسئلہ کو قرآن واحادیث اور علمائے اسلام کے فتاویٰ کی روشنی میں اختصار کےساتھ عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

    title-pages-hadood-ki-hikmat-nafaz-aur-taqaze-copy
    ام عبد منیب

    حدوداللہ  سےمراد وہ امور ہیں جن کی  اللہ تعالیٰ نے حلت وحرمت بیان کردی ہے  اوراس  بیان کے بعد اللہ کے  احکام اورممانعتوں سے تجاوز درست نہیں ۔   اللہ تعالیٰ کی  قائم کردہ حددو سے  تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے   اپنے  آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے   عذاب مہین کی  وعید  سنائی ہے ۔زیر نظر کتاب ’’حددو کی حکمت  نفاذ اور تقاضے‘‘معروف  مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے حد کی لغوی واصطلاحی تعریف، قوانین شرعیہ میں حدود کامفہوم، حدود آرڈیننس اور اسلامی جہوریہ پاکستان، حدود آرڈیننس اور خواتین،اسلامی حدودکے نفاذ کی برکات   وغیرہ جیسے موضوعات کو  آسان فہم انداز میں  بیان کیا  ہے ۔۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام  تدریسی  وتصنیفی اور دعوتی  خدمات کو  قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ  بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن،لاہور میں  بمع فیملی  مقیم رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-hadees-nabvi-key-chand-muhafiz
    ام عبد منیب

    اپنے اسلاف کے حالات او ران کے کارناموں سے واقفیت حاصل کرنا اس لیے ضروری کہ بعد میں آنے والے ان کے نقوشِ قدم پر چل سکیں اور زندگی میں ان سے راہنمائی حاصل کی جاسکے اوراسلاف کے کارناموں کو زندہ رکھا جا سکے ۔ اس سلسلے میں برصغیر کے کئی سیرت نگاروں نے   ائمہ محدثین اور دیگر ائمہ اسلاف کی حیات وخدمات کے حوالے کتب لکھی ہیں۔اور اردو زبان میں عام فہم انداز میں صوفیا کرام اور نام نہادبزرگوں پر تو بہت کچھ لکھا جاتاہے لیکن اسلام کے اصل محسن اور سنت رسولﷺ کے امین اور محافظ ہستیوں کے حالات لکھنے کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے۔جس کی وجہ   سے ہماری نئی نسل اور بڑے بھی محدثین کے نام اور ان کے حالات وخدمات سے واقف نہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’حدیث نبوی کے محافظ‘‘ محترمہ ام منیب صاحبہ کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے بچوں کے رسالہ نور کے لیے عام فہم انداز میں محدثین کی حیات وخدمات پر لکھے تھے۔ جسے قارئین کے اصرار پر اس سلسلےکو کتابی صورت میں شائع کیا گیاہے۔جس میں گیارہ محدثین کے حالات ِزندگی اور آخر میں فنِ حدیث کی اصطلاحات کااشاریہ بھی شامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو عوام الناس کےلیےمفید بنائے (آمین)

    title-pages-hurmat-wale-mahine-copy
    ام عبد منیب

    جب سے اللہ نے زمین وآسمان پیدا فرمائے ہیں مہینوں کی کل تعداد بارہ ہے اور ان میں سے چار حرمت والے ہیں ۔ اللہ  تعالیٰ نے   قرآن مجید میں حرمت والے مہینوں کا ذکرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو‘‘سورہ توبہ :36) حدیث میں ان   حرمت والے مہینوں کی  وضاحت نبی کریم ﷺ نے  یوں بیان  فرمائی کہ :’’ زمانہ گھوم گھما کر اپنی ہئیت پر آگیا ہےجس پر اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی تھی۔سال کےبارہ مہینے ہیں جن میں چارمہینے والے  حرمت والے ہیں ۔تین اکٹھے ہیں یعنی ذو القعدہ ذو الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے جو جمادى ثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے‘‘(بخاری مسلم)زیر نظر کتابچہ’’ حرمت والے مہینے‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کی  کاوش  ہے  جس  میں انہوں  حرمت والے چاروں مہینوں  کے احکام وفضائل کو مختصرا آسان اندازمیں  بیا ن کیا  ہے ۔(م۔ا)

     

    title-pages-hifze-haya-aur-azdawaji-zindagi-copy
    ام عبد منیب

    حیا ایمان کاشعبہ ہے اور ایمان سب سے زیادہ مقدم ومحبوب نعمت  ہے لہذا ایمان کی نگہداشت اور حیا کےلیے ضروری ہے کہ حیا کی بارش سےاسے  مسلسل سینچنے کا عمل جاری رکھا جائے۔ جب کسی انسان کےاندر حیا کا آبِ حیات کم ہوجائے تو یہ خطرےکی علامت ہے کہ اس کا ایمان کم ہوگیا  ہےرسول اللہ ﷺ نے  فرمایا: الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ(مستدرکحاکم)’’حیا اور ایمان باہم جڑے ہوئے ہیں جب ان میں سے ایک اٹھتا ہے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے‘‘موجودہ معاشرے میں یہ خیال پایا جاتاہے کہ نکاح کےبعد حیا کی ضرورت نہیں رہتی  جو جی چاہے کرو جیسا چاہو پہنو، جیسی چاہو باتیں کرو یہ خیال سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ نکاح تو حیا اور عفت کوبرقرار رکھنے کا محفوظ ترین قلعہ ہے اور  حیا توکنوار پنے اور ازدواجی زندگی دونوں حالتوں میں عمر بھر کی عادت کےطور پر اپنائے رکھنا ضروری ہے۔رسول اللہ ﷺ کےبارے میں صحابہ کرام ﷢ بیان کرتے ہیں کہ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ (صحيح بخاري ومسلم) ’’آپ ﷺ کنواری دوشیزہ سے بڑھ حیا دار تھے۔ آپ ﷺ کو اگر کوئی کام ناگوار گزرتا تو(حیا کےباعث اس کا نام نہ لیتے) بلکہ آپﷺ کے چہرے سے پتا چل جاتا(کہ آپ ﷺ کو فلاں کام ناگوار گزرا ہے‘‘ حیا کےبارے میں رسول اللہﷺ کے جتنے بھی ارشادات ہیں وہ ہر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ مرد اور عورت کےلیے  ہیں ۔زیر تبصرہ کتابچہ’’ حفظِ حیا اور ازدواجی زندگی ‘‘ محترمہ ام  عبد منیب کا مرتب شدہ ہے  جس میں ا نہوں حیاکی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے   ایک لڑکی کی شادی کے بعد   اسے کس قدر حیادار  رہنا چاہیے اسے  بڑے آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ ان کی اس کاوش کوعامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

    title-pages-hifze-haya-aur-mahram-rishtadar-copy
    ام عبد منیب

    حیا ایک ایسی صفت ہے جو کسی  شخص میں جتنی  زیادہ ہوگی  اس کو  وہ اتنا ہی فحش ومنکر سے درو رکھے گی ۔ارشاد نبوی  ہے :’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جوجی چاہے کر‘‘ کچھ کیفیاتِ قلبی ایسی ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ان میں جتنا زیادہ مبالغہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ایمان اور اسلام میں نکھار آتاہے  حیاان میں  سے ایک اہم صفت ہے نبی اکرمﷺ کے حیا کےبارے  میں ایک صحابی کہتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی  سے بھی زیادہ باحیا تھے ‘‘اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ  نے حضرت موسیٰ  رضی اللہ عنہ   واقعہ کےضمن میں شیخ کبیر کی لڑکی کے حیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء ’’ان دولڑکیوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی‘‘اس سے معلوم ہوا کہ  حیا خواتین کی سیرت کا  لازمی حصہ ہے ۔اس لیے اگر  مرد اور عورت میں  حیا کی کثرت ہے تویہ اس کےلیےخیر وبرکت کا باعث ہے   ۔لیکن آج دور ِحاضر میں  حیا کا جذبہ دم توڑ تا جارہا ہے ،معاشرہ کھلم کھلا بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ محرم رشتوں کے درمیان شرم وحیا اور لحاظ کی جو  مضبوط دیوار تھی وہ اب عام گھرانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔با پ بھائی خود اپنی بیٹی اور بہنوں کو ہر قسم کی زیب وزینت خود کرواتے اور دیکھ کر انہیں داد دیتے ہیں  جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف  ہے۔زیر نظر کتاب ’’ حفظِ حیا اور محرم رشتہ دار ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی اصلاح معاشرہ  کے سلسلے میں  اہم کاوش  ہے جس میں انہوں نے  حیا کی تعریف اور اس سلسلے  معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں سے اگاہ کرتے ہوئے محرم  مرد اور عورتوں کی ذمہ داریوں  کو بڑے احسن اندا ز میں   شرعی دلائل کی روشنی میں واضح  کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ اسے  عوام الناس کےلیے  نفع بخش  بنائے (آمین)(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-hifaz-e-haya-aur-kanwari-larkiyaan
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے۔ان خوبیوں میں سے ایک اہم ترین خوبی شرم وحیا ہے۔شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے۔ دین اسلام نے حیاء کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے تاکہ مومن باحیاء بن کر معاشرے میں امن وسکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی  کو دیکھا جو اپنے بھائی کوسمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو آپ ﷺ نے سنا تو ارشاد فرمایا:اس کو چھوڑدو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ء ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کاسبب ہے اور بے حیائی جفاء(زیادتی) ہے اور جفا ءدوزخ میں جانے کا سبب ہے ۔حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کا ثبوت ملتاہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کی بیٹی جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلانے کے لئے آئیں تو ان کی چال وڈھال میں بڑی شائستگی اور میانہ روی تھی۔ اللہ رب العزت کو یہ شرمیلا پن اتنا اچھا لگا کہ قرآن مجید میں باقاعدہ اس کا تذکرہ فرمادیا۔ جو شخص حیاء جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنا بھی فضول ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب شرم وحیا ء نہ رہے تو پھر جو مرضی کر۔ زیر تبصرہ کتاب " حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے عورتوں کو شرم وحیاء کا پیکر بننے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-hifaz-e-haya-guftagoo-aur-tehreer
    ام عبد منیب

    انسان کے دل میں ہر وقت مختلف قسم کے خیالات و جذبات ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔یہی جذبات وخیالات جب کسی کام کا تانا بانا بنتے ہیں تو وہ نیت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اور جب نیت اپنے اعضاء وجوارح کو عملی جامہ پہنانے پر پوری طرح چوکس کر دیتی ہے تو یہ عزم کہلاتا ہے۔اگر انسان کے دل میں خیالات وجذبات ،ایمان اور عمل صالح کے تحت اپنا تانا بانا بنتے اور باہر نکل کر کچھ کرنے کے لئے مچلتے ہیں تو انسان کی زبان سے خیر بھرے الفاظ کا اخراج ہوتا ہے لیکن جب انسان کی دل میں فحش قبیح اور گناہ آلود جذبات وخیالات ابھر رہے ہوتے ہیں تو زبان سے بھی گندے اور گناہ پر مبنی الفاظ نکلتے ہیں۔اسلام نے ہمیں سچی اور اچھی بات کہنے،اور فحش گوئی و بے ہودہ گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حفظ حیا ،گفتگو اور تحریر‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں   نے اپنی گفتگو اور تحریر میں حیاء کی حفاظت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور بے حیائی وفحش گوئی کی مذمت کی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-khareedain-aur-jeetain
    ام عبد منیب

    خریدیں اور جیتیں آج کل اشتہاری دنیا کا مقبولِ عام بول ہےجس کے اندر اس قدر کشش ہےکہ ہر بچہ اور بوڑھا ، مرد عورت اس کی طرف بے تابانہ کھنچا چلا آتاہے جیسے ہی ٹی وی سے یہ آواز سنائی دیتی ہے تمام ناظرین ہمہ تہ دید ہوجاتے ہیں۔بڑے بڑے عقل مند تعلیم یافتہ صارفین بھی ان اشتہاری بولوں کو سن کر اپنی عقل ودانش سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔روزانہ ہزاروں اشتہار سکرین پر بار بار نمودار ہوتے ہیں ۔ اخبارات ورسائل کےپورے پورے صفحے پر قبضہ کیے صارفین کامال ہتھیانے کےلیے انعامات کی دوڑ میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہوتے ہیں ۔مصنوعات تیار رنے والی کمپنیاں انعامات اور جیتنےکے جو اشتہارات دیتی ہیں ۔ انہیں انعامی سکیمیں کہاجاتا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے توانعامات کی اس دوڑ کے بہت سے شرعی ،معاشرتی،معاشی اورنفسیاتی نقصانات ہیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے مختلف کمپنیوں کی طرف سے اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے جو ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں ان کےنقصانات اور ان کا شرعی دلائل کی روشنی میں جائز ہ پیش کیاہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو عوام النا س کےلیے نفع بخش بنائے، آمین۔ (م۔ا)

    pages-from-darhi-marad-moman-mann-ka-shuaar
    ام عبد منیب

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ داڑھی مرد مومن کا شعار ہے‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں     داڑھی کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے فطرت کا عطیہ قرار دیا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-dua-azkar-aur-ungalian-copy
    ام عبد منیب

    نبی کریم ﷺنے فرمایا: "دعا عبادت کا مغز ہے۔"یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کو یہ ہر گز پسند نہیں  کہ دعا جیسی اہم اور خالص عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے۔دعا کے لئے معیار ،نبی کریم ﷺکا اسوہ حسنہ ہے  جو ہمیں بتاتا ہے کہ نبی کریم ﷺدعا کیسے کیا کرتے تھے اور کن الفاظ سے کرتے تھے۔ہماری پیدائش سے لیکر موت تک  جو بھی الجھنیں ،پریشانیاں یا ضرورتیں ہمیں پیش آ سکتی ہیں ،اس کے لئے نبی کریم ﷺکی دعاؤں پر مشتمل الفاظ موجود ہیں۔آپ بعض دعائیں ایک ایک دفعہ پڑھتے تھے تو بعض ایک سے زائد بھی پڑھا کرتےتھے،جس کی گنتی کے لئے وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو استعمال میں لاتے تھے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ دعا اذکار اور انگلیاں ‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں    نے دعا کی  اہمیت وفضیلت  پر روشنی ڈالتے ہوئے نبی کریم کی مسنون دعائیں جمع فرما دی  ہیں۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-dam-krna-aur-krana-copy
    ام عبد منیب

    دم کرنے کو عربی زبان میں "رقیہ "کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،اسی طرح دم میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " دم کرنا اور کرانا "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے دم کے انہی مسائل کو بیان کیاہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ ﷫ کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-devar-aur-behnoi
    ام عبد منیب

    دیور اور بہنوئی یہ دونوں رشتے بھی بڑے عجیب ہیں۔ایک رشتہ بہن کا خاوند ہے تو دوسرا خاوند کا بھائی ہے۔خاوند اور بہن دونوں ہی انتہائی قریبی رشتے ہیں۔اس لئے دیور اور بہنوئی کی اہمیت بھی مسلم ہے۔موجودہ معاشرے میں ان سے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے کہ سالی کا بہنوئی سے اور دیور کا بھابھی سے ہنسی ،مذاق اور بے تکلفی اور بعض اوقات تو یہ مذاق بے ہودگی اور بے حیائی تک جا پہنچتا ہے۔اسلامی معاشرت میں باہمی ادب واحترام اور شائستگی کو اولیت حاصل ہے،اس لئے بیہودہ گفتگو یا غیر شائستہ مذاق کی کسی رشتے کے ساتھ کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دیور اور بہنوئی"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےدیور اور بہنوئی کے ساتھ تعلقات کی حدود وقیود اور ان سے شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس عورت کے لئے نامحر م ہی رہتے ہیں ،جن سے پردہ کرنا از حد ضروری اور فرض ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-rehmat-al-aalameen-ki-janwaron-pr-shafqat-copy
    ام عبد منیب

    ہمارے  پیارے نبیﷺ  کی آمد سے  قبل عرب کےلوگ بڑے جاہل تھے ۔ وہ بہت  سے ایسے  کام کرتے  جو کھلم کھلا ظلم تھے جانوروں پر بھی  وہ طرح طرح  کے ظلم کرتے تھے ۔ ان ہی مظالم میں سے  ایک یہ تھا کہ جب وہ سفر کرتے  راستے میں کھانے کا سامان  ختم ہو جاتا  تو زندہ جانور  کے جسم  سے گوشت  کاٹ کر کچابھون کر کھاجاتےاوراسی اگر سفر کےدوران پانی  نہ  ملتا تویہ  لوگ اونٹ کا کوہان چیر کر اس میں  سے  پانی نکال کرپی جاتے اور بھی اس طرح کے کئی ظلم  جانوروں پر کرتے ۔ لیکن جب  رحمت کائنات نبی کریم ﷺکی آمد ہوئی تو آپ  ﷺ نے  جانوروں کے معاملے میں لوگوں کوسمجھایا ،انہیں ہدایات دی اور  ان بے زبانوں پر ظلم کاسلسلہ بندکروایا ۔اس طر ح آپ کی  ذات گرامی  جانوروں کے لیے  بھی رحمت بن کر آئی۔اس لیے جانوروں پرترس کھانا، ان  کی خوراک کاخیال رکھنا ،خصوصا بھوک میں ان کو  کھلانا پلانا، ان کوتنگ کرنےسے باز رہنا،ان کی طاقت  کے مطابق ان پر  بوجھ لادنا،زخمی یا بیمار ہونے کی صورت میں انہیں آرام دلانا ایک مسلمان پر فرض ہے ۔اور پیار ے  نبی ﷺ کی سنت بھی  ۔زیر نظر کتاب ’’ر حمۃ اللعالمین کی جانوروں پر شفقت‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی  تالیف ہے  جس میں انہوں نے   نبی ﷺکی آمدسے  قبل  عرب کے  جانوروں پر مظالم کاذکر کرتے ہوئے  نبی ﷺکی  جانوروں کے متعلق شفقت  ورحمت اور ان کے ساتھ حسنِ معاملہ  اور دیگر احکامات کو سیرت نبویہ اور احادیث کی روشنی میں  بڑے احسن انداز سےں  بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

    title-pages-rasme-mehndi-aur-mayon-copy
    ام عبد منیب

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے   پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش   آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے   لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص   برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں    اور ان  رسومات میں بہت   زیادہ   فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے   جوکہ صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔شادی بیاہ کے  موقعہ پر  اداکی جانے والی رسومات میں سے   مائیوں اور مہندی دو جڑواں رسمیں ہیں ۔جنہیں  بیاہ کے موقع پر ہندو لوگ کرتے ہیں ۔ یہ دونوں رسمیں ہمارے  معاشرے میں عام ہیں حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور ہند کافر ہیں ۔ مسلمان اور کافر کی رسمیں ایک جیسی کبھی نہیں ہو سکتیں ۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ مسلمان صرف مائیوں اور مہند ی ہی نہیں   اور بھی بہت سے ہندوانانہ رسومات ادا کرتے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ ’’ رسم مہندی اورمایوں‘‘ اصلاح معاشرہ  کے  سلسلے میں  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  کاوش  ہے جس میں انہوں نے   مہندی اورمایوں کے علاوہ دیگر رسومات کا تعارف کروانے کےبعد  ان رسومات کا   شرعی جائزہ  پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی  اس کاوش کو مسلمانوں میں  رائج ہندوانہ رسومات  کے خاتمے کا ذریعہ بنائے  ( آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-rishte-aur-hadood-copy
    ام عبد منیب

    اسلام ایک پاکیزہ  دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ایک مسلمان خاتون کے لئے عفیف وپاکدامن ہونے کا مطلب یہ کہ وہ ان تمام شرعی واخلاقی حدود کو تھامے رکھے جو اسے مواقع تہمت و فتنہ سے دور رکھیں۔اور اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ان امور میں سے سب سے اہم اور سرفہرست چہرے کو ڈھانپنا اور اس کا پردہ کرنا ہے۔کیونکہ چہرے کا حسن وجمال سب سے بڑھ کر فتنہ کی برانگیختی کا سبب بنتا ہے۔امہات المومنین اور صحابیات جو عفت وعصمت اور حیاء وپاکدامنی کی سب سے اونچی چوٹی پر فائز تھیں،اور پردے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ان کا طرز عمل یہ تھا کہ وہ پاوں پر بھی کپڑا لٹکا لیا کرتی تھیں،حالانکہ پاوں باعث فتنہ نہیں ہیں۔اور پردہ کرنے میں اس بات کا علم ہونا ضروری ہے کہ سے پردہ کیا جائے اور کس سے نہ کیا جائے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " رشتے اور حدود"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  انسان کے رشتوں اور ان کے ساتھ  پردہ جیسے تعلقات  وغیرہ کو مکمل تفصیل سے بیان کر دیا ہےکہ کون کونسے رشتے محرم ہیں اور کون کونسے غیر محرم ہیں۔محترم  محمد مسعود عبدہ ﷫  تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-rishtey-kiyoon-nahin-milte
    ام عبد منیب

    انسان کی ان بنیادی ضرورتوں میں ایک ہے جو انسان کو معاشرے کے آغاز سے ہی درکار ہیں۔ سچ تو یہ کہ یہ ضرورت ہی حضرت ِ انسان کی پہلی ضرورت تھی ۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ کی تخلیق کی ، ان میں روح پھونکی تو حوا کی صورت میں ان کی اس معصوم خواہش کو پورا کردیا ۔اس سب سے پہلے انسانی تعلق کے بعد انہیں جنت جیسا بے مثال گھر دیا گیا۔ ہبوط دنیا سے لے کر آج تک یہ سلسلہ چل رہا ہے او رتاقیامت چلتا رہےگا۔انسان کی یہ ضرورت کسی دور میں بغیر کسی لمبی چوڑی تمہید کے والدین کے کسی کو صر ف اتنا کہہ دینے سے پوری ہوجاتی تھی کہ فلاں بیٹا یا فلاں بیٹی میری ہے ۔ اور مناسب موقع پر منگنی یانکاح کے ذریعے بات پکی کر لیتے ۔دور حاضر میں پرانی اقدار دم توڑ رہی ہیں ۔مادیت بلند معیارِ زندگی اور حصول تعلیم نے نکاح کا معیار بھی بدل دیا ہے ۔ ہرکام کاروباری انداز اختیار کر گیا ہے ۔ ہر انسان مصروف ہے اس لیے رشتوں کی تلاش کےلیے بہت سے ادارے کام کررہے ہیں ۔اور اخبارات ورسائل میں ضرورت رشتہ ، تلاش رشتہ، شتہ مطلوب ہے کے نام سے   اشتہارات ایک عام معمول ہے ۔اس کے باوجود رشتوں کی تلاش دورحاضر کا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ جس کی وجہ یقینا اسلامی تعلیمات سے دور ی ہے ۔ زیر نظر کتاب’’رشتے کیوں نہیں ملتے ؟‘‘معروف کالم نگار اور مصنفہ کتب کثیرہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے   ہمارے معاشرے میں رشتوں کے حوالے پائی جانے والی ، رکاوٹو ں اور مشکلات اور مصائب کو بیان کرکے  شریعت اسلامیہ میں موجود انتخاب رشتہ اور شادی بیاہ کی تعلیمات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے ۔عائلی معاملات کی اصلاح کےلیے اس کا مطالعہ مفید ہوگا ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ ­­­­­علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا )

    title-pages-ramzan-ul-mubarak-aur-hamare-islaf-copy
    ام عبد منیب

    روزہ اسلام کا ایک  بنیادی رکن ہے اور رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ  اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے   ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم   کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی   ہے ۔روزہ  کے  احکام ومسائل  سے   ا گاہی  ہر روزہ دار کے لیے  ضروری ہے  ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لوگ ان احکام ومسائل سےلا علم ہوتے ہیں،بلکہ بہت سے افراد تو ایسے بھی ہیں جو بدعات وخرافات کی آمیزش سے  یہ عظیم عمل برباد کرلینے تک پہنچ جاتے ہیں ۔   کتبِ احادیث میں ائمہ محدثین نے   کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے    رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔ زیر  نظر کتاب’’ رمضان المبارک کے  فضائل واحکام‘‘شارح مشکاۃ  مولانا عبید اللہ محدث مبارکپوری﷫ کی   تالیف لطیف ہے ۔اس میں  ماہِ رمضان کے احکام  ومسائل  بڑے آسان فہم انداز میں  مختصر مگر جامع بیان کیے  گئے ہیں۔ محترم جناب  حافظ ندیم  ظہیر﷾ (مدیر ماہنامہ اشاعۃ الحدیث،حضرو) نے اس کتاب کی تخریج وتحقیق کی ہے اور  وضاحت طلب مقامات پر اختصار کے ساتھ جامع نوٹ بھی لکھ دیے  ہیں۔ صاحب کتاب نے  بعض بعض عربی عبارات کا ترجمہ نہیں کیا تھا  تو ندیم  صاحب نے ان عبارات کا ترجمہ بھی کردیا ہے ۔اور اس کتاب میں حافظ زبیر علی زئی﷫ کا ایک مضمون’’ صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال‘‘ میں شامل  اشاعت ہے ۔جس میں بعض الناس کے اعتراضات کے مکمل جوابات ہیں اور اس موضوع پر ایک منفرد جامع تحریر ہے۔اللہ تعالیٰ مؤلف،محقق اور ناشر کی کی  کاوشوں کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-rung-aur-ranghenian-copy
    ام عبد منیب

    وسیع نیلگوں آسمان،کالے اور سفید بادلوں کے گالے،چاند کی سنہری چاندنی،سورج کی شفاف روشنی،لال ،نیلے،پیلے،ارغوانی ،جامنی ،سبز،سرمئی ،دودھیارنگ کے پھول ،پھل اور اناج،دور تک پھیلی سر سبز وشاداب فصلوں کی ہریالی،کالے، خاکستری،گیروا اور ہلکے سبز رنگ پہاڑ،رنگا رنگ چہچہاتی چڑیاں اور طوطے،سفید برفانی اور کالا سیاہ ریچھ الغرض کائنات کے یہ رنگ اور رنگینیاں ان کے خالق کی قدرت اور وجود پر دلالت کرتی ہیں۔یہ رنگ اتنے زیادہ ہیں کہ انسانی عقل نہ تو ان کا احاطہ کر سکتی ہے اور نہ ہی ہر رنگ کے لئے کوئی نام وضع کر سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  " رنگ اور رنگینیاں"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے کائنات کے خوبصورت رنگوں کو جمع فرما کر ان میں سے کچھ پر مذہبی چھاپ کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔اور ان رنگوں کے خالق کو پہچاننے کی دعوت دی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    pages-from-rozah-aur-jadeed-tibbi-masael
    ام عبد منیب

    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کراداکرتی ہے ۔ نفس کی طہارت ، اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام او ر نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی طلب روزے کے بنیادی اوصاف میں سے ہیں۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ ہم روزےکو قرآن وسنت کی روشنی میں رکھنے ، افطار کرنے اور اس کے شرائط وآداب کو بجا لانے کا خصوصی خیال رکھیں۔دورِ سلف کی نسبت دورِ حاضر میں بہت سے جسمانی بیماریاں رونما ہورہی ہیں نیز طب میں جدید آلات اور دوا کے استعمال میں گوناگوں طریقے منظر عام آچکے ہیں بوقت ضرورت ان سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بن چکا ہے۔روزے کے عام احکام ومسائل کے حوالے سے اردوزبان میں کئی کتب اور فتاوی جات موجود ہیں لیکن روزہ او رجدید طبی مسائل جاننےکےلیے اردو زبان میں کم ہی لٹریچر موجود ہےکہ جس سے عام اطباء او ر عوام الناس استفادہ کرسکیں۔ زیر نظر کتابچہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نےانہی لوگوں کی آسانی کے لیے مختصراً ترتیب دیاہےموصوفہ نے مختلف اہل علم کے فتاویٰ جات سے استفادہ کر کے اسے آسان فہم انداز میں مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور محترمہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین( م۔ا)

    pages-from-zinda-ka-murda-key-liye-hadiya-aur-isaal-e-sawab
    ام عبد منیب

    دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ   بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ   قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا  کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’زندہ کامردہ کے لیے ہدیہ اور ایصال ثواب ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے مختلف اہل علم اور   فتاویٰ جات سے استفادہ کرکے   مذکورہ مسئلہ کی شرعی حیثیت کوواضح کیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح م معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے،آمین۔ (م ۔ا)

    pages-from-zakaat-key-haqdar-kaun
    ام عبد منیب

    زکاۃ اسلام کابنیادی رکن ہے ، جس کےبغیر اسلام اور ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔زکاۃ نماز ،روزے اورحج کی طرح فرض عبادت ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا ہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دین اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ﷺ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ جس طرح نماز، روزے اور حج کا وقت مشروع ہے اوران کا طریقہ بھی شریعت نے طے کردیا ہے اسی طرح کتنے مال پر کتنی مدت بعد،کس شرح سے زکاۃ عائد ہوتی ہے اور زکاۃ کےمال کےمستحق کون ہیں ان سب امورکو شریعت نے طے کردیا ہے۔زکاۃ ادا کرنا اپنی جگہ اہم عبادت ہےلیکن اس کےحق دار کون ہیں اور کن لوگوں کا اس پر حق نہیں ہے ۔یہ جاننا اس عبادت کی ادائیگی کےلیے بھی ضروری ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’زکاۃ کےحق دار کون؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب کی اہم کاوش ہے جس میں انہوں نےزکوٰۃ کی اہمیت   وفضیلت بیان کرنےکے بعد مصارف زکوٰۃ اورزکاۃ کے جملہ احکام مسائل کو عام فہم انداز سے قرآن حدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ جس سے عام قارئین بھی مستفید ہو سکتے ہی۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی تمام تحریری کاوشوں کو قبول فرمائے۔ (آمین) م۔ا)

    title-pages-salgirah-copy
    ام عبد منیب

    سالگرہ کااصل  نام  برتھ ڈئے ہے ۔جس کامطلب ہے پیدائش کا دن ۔ یہ  ایک  رسم ہے جو تقریب  کے شکل میں  ادا کی جاتی  ہے ،سالگرہ کام کا مطلب ہے  زندگی  کے گزشتہ سالوں میں ایک  اور گرہ لگ گئی  یعنی موصوف ایک سال زندگی کا مزید گزار چکے ہیں۔  برتھ ڈے کو عربی میں  یوم المیلاد،ہندی میں  جنم دن  اور اردو میں سالگرہ کہتے ہیں ۔كتاب و سنت كے شرعى دلائل سے معلوم ہوتا ہے كہ سالگرہ منانا بدعت ہے، خواہ وہ نبی کریمﷺ کی ہو یا کسی عام آدمی کی ہو،جو چیز نبی کریمﷺ کے لئے منانا جائز نہیں ہے وہ کسی دوسرے کے لئے کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ یہ دين ميں نيا كام ايجاد كر ليا گيا ہے شريعت اسلاميہ ميں اس كى كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس طرح كى دعوت قبول كرنى جائز ہے، كيونكہ اس ميں شريک ہونا اور دعوت قبول كرنا بدعت كى تائيد اور اسے ابھارنے كا باعث ہوگا۔زیر نظر کتابچہ’’سالگرہ‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کی  اصلاح معاشرہ  کے سلسلہ میں ایک  اہم کاوش ہے جس میں  انہو ں نے  سالگرہ  منانے کا آغاز اوراس تقریب میں کی جانے والی خرافات  کو بیان کرتے ہوئے اس کاشرعی  جائزہ بھی  پیش کیا ہے  ۔اللہ تعالیٰ  اس کتابچہ کو  عوام الناس کے لیے   نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    title-pages-satar-w-hijab-aur-khawateen-copy
    ام عبد منیب

    عورت کے لیے  پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرہ امتیاز اور قابل فخر  دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ مردکی تمام تر جنسی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے  سلسلے میں  معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم  کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس  کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم  کی رو سے عورت پر پردہ  فرض ِعین ہے  جس کا تذکرہ  قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے  اور  کتبِ احادیث میں اس کی  صراحت موجو د ہے  ۔کئی  اہل علم نے  عربی  واردو زبان  میں  پردہ کے  موضوع متعدد کتب  تصنیف کی ہیں۔زیر کتابچہ’’ ستر وحجاب  اور خواتین‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے  جسے انہوں  جید علماء کرام کے  فتاوی  جات سے   ستروحجاب  کے متعلق  فتا ویٰ  کا  انتخاب کرکے ان کا آسان فہم ترجمہ پیش کیا ہے  ۔اللہ محترمہ کی اس کاوش  کو  قبول فرمائے اور  خواتینِ اسلام کو اس سے  استفادہ   کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    title-pages-sajda-e-sahaw-copy
    ام عبد منیب

    سہو بھول جانے کو کہتے ہیں، جب کبھی نماز میں بھولے سے ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی لیکن ایسا نقصان آ جاتا ہے جس کی تلافی نماز میں ہی ہو سکتی ہے اس نقصان کی تلافی کے لئے شریعت  نے    یہ طریقہ بتایا کہ  کہ آخری قعدے کے تشہد کے بعد  سلام  پھیرنے سے  قبل  یا بعد میں  دوسجدے کیے جائیں ۔ سجدۂ سہو رب کریم کی  مسلمانوں پر مہربانی،نرمی اور آسانی کامظہر ہے۔اگر نماز میں کسی  کمی و بیشی  یا بھول چوک  کی   وجہ سے  پوری  نماز ہی  باطل قرار دے  دی جاتی توپھر از سر نو نماز پڑھنا پڑتی۔زیر تبصرہ کتابچہ  ’’سجدہ سہو‘‘  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے ترتیب دیا ہے  جس  میں انہو  ں جن  امور کی وجہ سےسجدہ سہو کیا  جاسکتاہے ان کو بیان کرنے کےساتھ ساتھ سجدہ سہو کےطریقوں کو احادیث نبویﷺ اور علمائے  اسلام کےفتاوی کی روشنی میں بڑے   آسان انداز میں  بیا ن کیا اللہ  تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے او رمرتبہ کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

     

    pages-from-sehri-aftari-aur-aftariyaan
    ام عبد منیب

    سحری اور افطاری یہ دونوں کھانے روزے جیسی اہم عبادت کالازمی جزو ہیں۔شریعت نے روزے کے ساتھ یہ دوکھانے مقرر کر کے یہ باور کرا دیا کہ راہبوں اور جوگیوں کایہ خیال کہ جتنا زیادہ طویل فاقہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ نفس پاک ہوتا ہے یہ قطعی غلط ہے۔سحری کا وقت طلوع فجر سے قبل فجر کی اذان ہونے تک ہے ۔ جان بوجھ کر سحری ترک کرنا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی ہے۔اور افطاری روزہ ختم ہونے کی علامت ہے ۔چاہے ایک گھونٹ پانی یا ایک رمق برابر کھانے کی چیز ہی سے افطار کیا جائے ۔افطاری کا وقت سورج غروب ہونے پر ہے ۔جیسے کہ حدیث نبوی ہے ’’ جب رات آجائے دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار روزہ افطار کرلے ‘‘(صحیح بخاری)اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہے ہیں گے ۔ تب تک یہ دین غالب رہے گا کیوں کہ یہود اور نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتےہیں‘‘۔(سنن ابوداؤد) زیر تبصرہ کتابچہ’’ سحری ،افطاری اور افطاریاں‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا ہے جس میں انہوں نے سحری کی اہمیت وضرورت اور اس کے احکام ومسائل اور افطاری کےاحکام ومسائل اور روزہ افطار کروانے کی فضیلت اور عصر حاضر میں افطار پارٹیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس سلسلے میں معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں اور فضول خرچیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے فائد ہ مند بنائے۔ آمین (م۔ا)

    title-pages-safar-aur-sawari-pr-namaz-copy
    ام عبد منیب

    سفر انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے،جس کے بغیر کوئی بھی اہم مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔انسان متعدد مقاصد کے تحت سفر کرتا ہے اور دنیا میں گھوم پھر کر اپنے مطلوبہ فوائد حاصل کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جس نے ان انسانی ضرورتوں اور سفر کی مشقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رخصتیں اور گنجائشیں  دی ہیں۔مثلا مسافر کو حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،جس کی بعد میں وہ قضاء کر لے گا۔اسی طرح مسافر کو نماز قصر ونماز جمع پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ  چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر کے  اور دو دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح  سفر کے اور بھی متعدد احکام ہیں جو مختلف کتب فقہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " سفر اور سواری پر نماز "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  سفر کے انہی احکام کو بیان کیا ہے کہ نماز قصر کب ہو گی اور کتنے دنوں تک ہو گی اور کیا سواری پر نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں کی جا سکتی ہے۔محترم  محمد مسعود عبدہ ﷫تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-sanghar-khane-copy
    ام عبد منیب

    بیوٹی پالر سے مراد ایسے  مقامات ہیں جہاں عورتیں ،مرد اور بچے اپنے جسم کے فطری حسن اور فطری رنگ و روپ کی بجائے اضافی زیب وزینت اور من پسند رنگ وروپ حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ایسے بیوٹی پالرز کا خیال سب سے پہلے رومی قوم میں پیدا ہوا جو لوگ روح کی بجائے جسم کے عیش، آرام ،اس کی لذتوں اور آرائش کو ترجیح دیتے تھے۔وہ اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے زر خرید لونڈیوں کی جسمانی نگہداشت کرتے ،انہیں طرح طرح کے فیش کروا کر سجاتے بناتے اور پھر ان کے اپنی  نفسانی خواہشات پوری کرتے تھے۔موجودہ زمانے کے بیوٹی پالر بھی انہی قباحتوں اور برائیوں کو اپنے اندار لئے ہوئے ہیں،اور ان کی آڑ میں ہونے والے بے حیائی کے واقعات دیکھ اور سن کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  "سنگھار خانے "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے لئے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے ،اور برائی وبے حیائی کے ان اڈوں سے دور رہنے کی ترغیب دی ہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-soteli-maan-aur-ulaad-copy
    ام عبد منیب

    ’’ ماں ‘‘ محض ایک لفظ نہیں  بلکہ محبتوں  کا مجموعہ ہے۔ ’’ ماں ‘‘کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھاوں  اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے ۔ ایک عظمت کی دیوی اور سب کچھ قربان کردینے والی ہستی کا تصور ذہن میں  آتا ہے۔ ’’ ماں ‘‘ کے لفظ میں  مٹھاس ہے۔ انسانی رشتوں  میں  سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ماں  کی ہے۔ ماں  خدا کی عطا کردہ نعمتوں  میں  افضل ترین نعمت ہے۔ تہذیبی روایات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے ہر دن کو ہماری ماں  کی  دعاوں کے سائے میں  طلوع ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم اور دوسرے تمام الہامی صحیفوں  میں  ’’ماں ‘‘ کا تقدس سب کی مشترکہ میراث ہے۔لیکن یہ ماں جب اللہ کے اٹل فیصلے کے مطابق اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو بچے کی دنیا اجڑ جاتی ہے ۔انسان ایک دم لٹا پتا سا،بے سہارا ،بکھرا بکھرا سا اپنے آپ کو خالی خالی سا محسوس  کرتا ہے۔اللہ تعالی نے اس کا متبادل رشتہ سوتیلی ماں کا رکھا ہے۔سوتیلا یا سوتیلی کا لفظ ہی ایسا ہے کہ جسے سن کر کسی بھی ذہن میں کبھی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔مگر بعض سچائیاں ایسی ہیں کہ انہیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  " سوتیلی ماں اور اولاد "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  سوتیلی ماں کے اپنی سوتیلی اولاد کے ساتھ اچھے رشتے کے حوالے سے گفتگو کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ معاشرے میں یہ کوئی اچھا رشتہ نہیں سمجھا جاتا ہے لیکن اگر شریعت کے مطابق اس کو بسر کیا جائے تو اولاد کو حقیقی ماں کا پیار بھی مل سکتا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’ مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-soogh-aur-taziyat-kitabo-sunnat-ki-roshni-main-copy
    ام عبد منیب

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے میں ہندوانہ رسوم ورواجات کا چلن عام ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ ہندو مذہب سے مسلمان ہوئے ہیں اور ہمیشہ سے ہندووں کے ساتھ رہتے بستے چلے آ رہے ہیں۔وہ مسلمان تو  ہو گئے لیکن ان کے عام رسم ورواج ہندوانہ ہی رہے۔بعض ہندوانہ رسمیں اسلامی پیوندکاری کے ساتھ جاری وساری ہیں۔انہی ہندوانہ رسول ورواجات میں سے ایک میت کے تیسرے دن کھانے کا اہتمام کرنا ،مولوی صاحب سے ختم پڑھوانا اور تبرکا چنے اور پھل مکھانے تقسیم کرنے کا عمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  " سوگ اور تعزیت "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  سوگ اور تعزیت کرنے کے مسنون طریقے پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    pages-from-shadi-shohar-aur-singhaar
    ام عبد منیب

    بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی ،شوہر اور سنگھار"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-shadi-ki-rasomat-dawatain-aur-unme-shirkat-copy
    ام عبد منیب

    شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’شادی کی رسومات ‘‘ اصلاح معاشرہ  کے سلسلے  میں محترمہ  ام عبد منیب  صاحبہ کی کاوش  ہے  جس میں انہوں  شادی  بیاہ  کا مسنون طریقہ بیان کرنے کے بعد  اس  موقع پر ناجائز رسومات  اور  ہندوانہ رسوم ورواج اور خرافات کو عام فہم  انداز میں   پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محترمہ  کی  اس کاوش کو اہل اسلام کےلیے    فائد مند بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    title-pages-sahafat-aur-iski-akhlaqi-iqdar-copy
    ام عبد منیب

    انسان ازل سے حالات سے باخبر رہنے کا خواہش مند رہا ہے اس کی یہ خواہش مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے پوری ہوتی رہی ہے۔ شروع میں تحریریں پتھروں اور ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں، پھر معاملہ درختوں کی چھال اور چمڑے کی طرف بڑھا۔ زمانہ نے ترقی کی تو کاغذ او رپریس وجود میں آیا۔ جس کے بعد صحافت نے بے مثال ترقی کی، صحافت سے بگڑی ہوئی زبانیں سدھرتی ہیں، جرائم کی نشان دہی اور بیخ کنی ہوتی ہے، دوریاں قربتوں میں ڈھلتی ہیں، معاشرتی واقعات وحوادثات تاریخ کی شکل میں مرتب ہوتی ہیں۔ بالخصوص نظریاتی اور اسلامی صحافت معاشرہ کی مثبت تشکیل ، فکری استحکام، ملکی ترقی کے فروغ ، ثقافتی ہم آہنگی ، تعلیم وتربیت اصلاح وتبلیغ ، رائے عامہ کی تشکیل ، خیر وشر کی تمیز اور حقائق کے انکشاف میں بہت مدد دیتی ہے۔صحافت ایک امانت ہے، اس کے لیے خدا ترسی ، تربیت واہلیت اور فنی قابلیت شرط اول ہے۔ فی زمانہ بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا ہے جن میں دینی اور اخلاقی اہلیت نہیں، اصول اور کردار کے لحاظ سے وہ قطعاً غیر ذمہ دار اور مغربی یلغار کی حمایت اور لادینی افکار کو نمایاں کرنے میں سر گرم ہیں۔ موجودہ دور کی صحافت میں گنے چنے افراد کے علاوہ اکثریت لکھنے والے سیکولر اور لبرل ہیں۔ یہ لوگ مغرب کی پوجا کرتے ہیں او رانہیں کے افکار کو اجاگر کرتے ہیں، دین اورمذہب کے خلاف لکھنا ان کا شیوا بن چکا ہے ۔ لادینیت اور لامذہبیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔حالاں کہ صحافت ایک مقدس اور عظیم الشان پیشہ ہے، جس کے ذریعے ملک وملت کی بہترین خدمت کی جاسکتی ہے ۔ اسلامی صحافت قوم کے ذہنوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ان کی فکری راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لاتی ہے، برے کاموں سے روکتی اور اچھے کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " صحافت اور اس کی اخلاقی اقدار"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ اور محترمہ مریم خنساء دونوں کے مشترکہ مضامین پر مشتمل  تصنیف ہے ۔ یہ درحقیقت کوئی مستقل کتاب نہیں ہے بلکہ مختلف اوقات میں صحافت کے حوالے سے لکھے گئے مضامین پر مشتمل ہے۔اللہ نے محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    title-pages-sadqa-kiyon-aur-kise-dain-copy
    ام عبد منیب

    صدقہ ایک مستحب اور نفلی عبادت ہے  جس کے تعلق تزکیہ نفس سے بھی ہے اور تزکیہ مال سےبھی۔ اللہ کی راہ  میں خرچ کیا گیا مال تبھی صدقہ کہلا سکتا  ہے اوراس پر اجر مل سکتا ہے جب کہ وہ مشروع آداب وشرائط کے ساتھ دیا  جائے ۔ ایک مسلمان ایمان لانے کےبعد ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس کی  خوشنودی ،اس کی تعظیم، اس کی عبادت اوراس کی رحمت حاصل کرنے کےلیے  کرنے کا پابند ہے ۔ صدقہ چونکہ مالی عبادت اور ایک نیک عمل ہے لہٰذا یہ اللہ کے علاوہ اور کسی کےلیے کرنا حرام ہے ۔جوشخص حلال کمائی میں سے  ایک کھجور کےبرابر صدقہ کرے  تو اللہ اس کواپنے ہاتھ میں لیتا  ہے پھر صدقہ دینے  والے  کےلیے  اسے  پالتا ہے  جیسے تم میں سے کوئی اپنابچھڑا پالتا  یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کےبرابر ہوجاتا ہے۔ اور حرام کمائی سے دیا ہوا صدقہ اللہ تعالیٰ قبول  نہیں کرتا ۔ زیرنظرکتابچہ ’’ صدقہ کیوں اور کسے  دیں‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے  جس میں انہوں نے صدقہ کا معنی  مفہوم اور صدقہ دینے کے آداب وفوائد اور صدقہ کے مستحقین کو  بیان کرنے کےعلاوہ  صدقہ  کے جملہ احکام ومسائل کو   بڑے آسان  فہم انداز میں  دلائل کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام دعوتی ، تدریسی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-sila-rehmi-aur-uske-amli-pehlu-copy
    ام عبد منیب

    صلہ رحمی سے مراد ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنا، دکھ، درد، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنا، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ الغرض اپنے رشتہ کو اچھی طرح سے نبھانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا، ان پر احسان کرنا، ان پر صدقہ و خیرات کرنا، اگر مالی حوالے سے تنگدست اور کمزور ہے  تو اس کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔صلہ رحمی میں اپنے والدین، بہن بھائی، بیوی بچے، خالہ پھوپھی، چچا اور ان کی اولادیں وغیرہ یہ سارے رشتہ دار صلہ رحمی میں آتے ہیں۔ اپنے والدین کے دوست احباب جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہوں، ان سب کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ جب ان رشتہ داروں کا خیال نہیں رکھا جائے گا، ان کے حقوق پورے نہیں کیے جائیں گے، ان کی مدد نہیں کی جائے گی تو یہ قطع رحمی کہلاتی ہے۔ یعنی اپنے رشتہ داروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنا۔ صلہ رحمی ہرطرح کی جا سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ مثلاً ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کرے، ان کے ساتھ اچھی گفتگو کرے، ان کے گھر جا کر حال احوال دریافت کرے۔ ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے، غمی خوشی میں شریک ہو۔ یہ ساری باتیں صلہ رحمی میں آتی ہیں۔  اور قیامت کے دن صلہ رحمی کے متعلق پوچھا جائے گا کہ ہم نے ان رشتوں کے تقدس کا کتنا خیال رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
    الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُّوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُولَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ(البقرة، 2 : 27)’’یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات جوڑنے کا حکم دیا ہے، اگر اس کے خلاف کریں گے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہونگے۔ اسی طرح بے شمار آیات میں اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺنے بھی احادیث مبارکہ میں آپس میں صلہ رحمی کا حکم دیا ہےاور صلہ رحمی کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کیا ہے اور قطع رحمی پر وعید سنائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں صلہ رحمی کا خیال رکھیں، ایسا نہ ہو کہ جو رشتے دار غریب ہوں، غربت کی وجہ سے ان سے تعلقات ختم کر لیں، جیسا کہ آجکل رواج ہے کہ اگر بعض رشتہ دار غریب ہوں اور بعض امیر تو امیر لوگ ان غریب رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں، اور ان کو اپنا رشتہ دار سمجھنا اور کہنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اپنےدوست احباب کے سامنے اپنا رشتہ دار قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ جیسے اولاد جب جوان ہوتی ہے تو اپنے والدین کو گھر سے نکال دیتی ہے، ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتی، یہ ساری چیزیں گناہ کبیرہ ہیں اور اس کی سزا قیامت کے دن ملے گی، نبی کریم ﷺنے فرمایا والدین اولاد کے لیے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی، جس نے ان کی خدمت کی اس نے جنت کو پا لیا ورنہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔  زیر نظر کتابچہ’’صلہ رحمی اور اس کے عملی پہلو‘‘ محترمہ ام عبد منیب اور ان کی لخت جگر   مریم  خنسا  کی   مشترکہ کاوش ہے  جس  میں انہوں نے صلہ رحمی کے معنی ومفہوم اور عملی پہلوؤں  ، قطع رحمی کی سزا اور اس کی  صورتیں  ،  قطع رحمی  کا سد باب  اور اسلامی  قانون کو     عام  فہم  انداز میں   بیان کیا ہے  ۔ اللہ تعالی ٰ اسے عوام الناس کی اصلاح  کا ذریعہ بنائے  اور  ہمیں صلہ رحمی کا صحیح مفہوم سمجھنے کی توفیق اور صلہ رحمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین ) کیونکہ اسی میں اتفاق و اتحاد ہے اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی ہے۔(م۔ا)

    title-pages-sinaf-mukhalif-ki-mushabihat-aik-muhlak-bemari-copy
    ام عبد منیب

    دور  ِحاضر میں  مغرب میں ظاہری طور پر مرد اور عورت کا فرق  مٹ چکا ہے  مساوات کے جنون  میں عورتیں  مردوں کی طرح اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے اورکام کرنے کےجنون میں  مبتلا  ہوچکے ہیں۔لوگ  آپریشن کروا کر اور زنانہ  یا مردانہ ہارمونز کے انجکشن لگوا کر اپنی  جنس تبدیل کروا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تخلیق کردہ  قوانین  فطرت میں بے  جار ردوبدل کرنےکی  گستاخانہ ،مشرکانہ اور سفاکانہ  حرکات جاری ہیں۔صنف نازک کی مشابہت کا  مطلب یہ ہے کہ مردکاعورت کی اورعورت کا مرد کی نقالی کرنا مرد کازنانہ چیزیں اور عادتیں جب کہ عورت کامردانہ چیزیں اور عادتیں اختیار  کرنا ہے۔مشابہت ایک شرعی اصطلاح  ہے جسے  تشبہ بھی  کہا جاتاہے  ۔اگر کوئی شخص اپنا لباس ،حلیہ  ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار   اپنی  صنف یا ہم پیشہ لوگوں کے علاوہ  کسی اورکا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار  اپنا لے  تو اسے  تشبہ یا مشابہت کہا جاتا ہے  اسلام نے مشابہت یا  تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ارشاد  نبوی ہے  من  تشبه  بقوم فهو منهم(سنن ابو داؤد) ’’جس  نے کسی کی مشابہت اختیار کی  وہ انہی  میں سے   ہے ‘‘ایک اور حدیث میں  نبی کریم ﷺ نے مخنث مردوں پر اور اسی طرح مرد بننے والی عورتوں پر  بھی لعنت کی ہے۔اس لیے  صنف مخالف کی مشابہت حرام اورممنوع کام  ہے ۔اس کی روک تھام کےلیے  اسلامی حکومت او رمسلمان شہروں کےسربراہوں،امیروں،عاملوں اور کوتوالوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت علاقوں اورلوگوں میں دین  کی تعلیمات عام کریں ،انہیں ممنوعات اور منکرات سے روکیں اور معروف کاموں کی تلقین کریں۔ مسلمان امراء کو چاہیے  کہ مصنوعات تیارکرنے والی کمپنیوں پر یہ پابندی عائدکریں  کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں  کے لیے الگ  الگ شرعی    احکام کے مطابق اشیاء تیار کریں۔اگر پھربھی باز نہ آئیں تو پھر انہیں سزادیں  جو رسول اللہ ﷺ نے  صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کودی ۔سیدنا ابو ھریرہ ﷜  سے روایت ہے کہ  نبیﷺکے پاس ایک مخنث کو لایاگیا جس نے ہاتھ پاؤں پر میں مہندی لگائی ہوئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے   دیکھ کر فرمایا : یہ ایسا کیو ں کرتا ہے   ۔صحابہ کرام ﷢ نے عرض کیا: یہ عورتوں کی مشابہت کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے  اسے  نقیع(چراہ گاہ) کی طرف بگا دینے کا حکم دیا  ۔ اور اسی طرح صحابہ کرام کے  دورِ خلافت میں میں بھی عورتوں کی نقالی کرنے والے مردوں کو یہی سزا دی جاتی  رہی ۔زیر نظر کتابچہ  ’’ صنف مخالف کی مشابہت  ایک  مہلک  بیماری ‘‘محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں  انہوں نے  صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے کی  شرعی حیثیت   اور اس کے مہلک  نتائج واثرات  کو پیش کرنے  کے ساتھ ساتھ   ان امور کو بھی ذکر کیا ہے  جن کی مشابہت سے  ایک  مسلمان کو گریز کرنا چاہیے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات  ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-taraz-e-rahaesh-alag-ya-mushtarka
    ام عبد منیب

    برصغیر پاک وہند میں بسنے والے بہت سارے مسلمان ہندو تہذیب سے متاثر نظر آتے ہیں ۔حالانکہ اسلام ایک مکمل دستور زندگی اور ضابطہ حیات ہے۔اس کی اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے،اوررہنے سہنے کے اپنے طور طریقے ہیں ،جو ہندو تہذیب سے یکسر مختلف ہیں۔ہندو تہذیب میں نسل در نسل ایک ہی گھر میں رہنے کی روایت ہے۔ان کی نزدیک عورت کا نہ کوئی پردہ ہے اورنہ کوئی مقام ومرتبہ،وہ عورت کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں ،جس پر خاوند سمیت گھر کے تمام افراد اور تمام رشتہ داروں کی خدمت لازم اور واجب ہے۔بسااوقات ایک ایک عورت کے کئی کئی خاوند ہوتے ہیں۔لیکن اسلام ایک غیرت وحمیت پر مبنی ایک پاکیزہ مذہب ہے جو عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیتا ہے اور اسے خاوند کے علاوہ تمام غیر محرم مردوں سے پردہ کرنے کی تلقین کرتا ہے،جس کےلئے الگ سے گھر ہونا از حد ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ طرز رہائش الگ یا مشترکہ ‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں  نے الگ طرز رہائش اختیار کرنے کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی ہے،تاکہ ایک مسلمان عورت پردے کی پابندی کر سکے اور ایک اسلامی طرز زندگی گزار سکے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-aourat-aur-ghar-main-dawat-e-deen-copy
    ام عبد منیب

    گھر وہ مرکز ہے جہاں نسلِ انسانی اپنی پیدائش کے پہلے مرحلے سے  لے کر مکمل شباب کے پہنچنے تک تربیت ِ جسم اور تربیبت فکر حاصل کرتی ہے ۔اللہ تعالیٰ نےگھر میں ہر بچے  اور باپ کوجسمانی اورفکری تربیت کا  ذمہ دار ٹھرایا ہے اور انہی کو گھر میں رکنِ اعظم کی حیثیت حاصل ہے ۔ یہی  اس ادارے کےسربراہ اور ناظم ہیں ۔انہی دو کے کندھوں پر دیگراہل خانہ کی  مسؤلیت کا بوجھ ڈاگیا ہے ۔ اگر اس دار العمل میں  دی گئی مہلت ِعمل کو ہم نےاسلامی ہدایت کی روشنی میں اختیار نہ کیا تو انجام رسوائی اور عذاب ِ  الیم ہوگا۔اوراگر اسلامی ہدایات کےمطابق فکر وعمل کوپابند کر دیا تو انجام کامیابی،مسرت او ر انعام پر منتج  ہوگا۔فرمان نبویﷺ ہے :’’ ۔ کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔ امام نگران ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ابن عمر  رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘صحیح بخاری:893) اس حدیث میں  مذکورہ ذمہ داری اپنے عموم میں زندگی کے  تمام شعبہ جات پر مشتمل ہے ۔ مرد کی ذمہ داری مادی وسائل کے  فراہم کرنے تک محدود نہیں اور نہ  ہی عورت کا فریضہ گھریلو کام کرنے ،صفائی کرنے اور کھانا وغیرہ  تیار کرنے تک محدود ہے بلکہ مرد اور عورت دونوں اپنا اپنا دائرہ کار الگ الگ ہونے کے  باوجود اجتماعی طور پر ایمانی اور معاشرتی تربیت کے ذمہ دار ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’عورت اورگھر میں دعوت دین‘‘ محترمہ  ام عبدمنیب صاحبہ کی  تصنیف ہے جس میں انہوں نے  عورت کی ذمہ داریاں(دعوت دین ) اسلامی سلطنت کے ذیلی ادارے گھریلو ریاست کے  حوالے سے بیان کی گئی ہیں۔ کہ  عورت اپنے  گھر میں رہتے ہوئے اپنے  بچوں کی تعلیم وتربیت کے ساتھ  ساتھ دعوت ِدین کی ذمہ داری کیسے  ادا کرسکتی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو خواتین ِاسلام کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    title-pages-aourat-wafat-se-ghusal-w-takfeen-tak-copy
    ام عبد منیب

    انسان کی زندگی اس دنیا کی ہویا آخرت کی دونوں کےآغاز میں عجیب وغریب مماثلت پائی جاتی ہے ۔اگردنیا   کے سفر کا نقظۂ آغاز 9 ماہ تہ بہ تہ اندھیرے  ہیں تو آخرت کےسفر کا نقطۂ آغازبھی قبر کے تہ بہ تہ اندھیرے ہیں ۔اگر دینا میں  قدم رکھتے ہی انسان کو غسل دیا جاتا ہے تو آخرت کے سفر میں  قبر میں قدم رکھنے سے پہلے غسل  کا اہتمام کیاجاتا ہے۔دنیا کے سفر کےمرحلہ میں اگر انسان کے کانوں میں اذان واقامت  کے ذریعہ اس کی روح کو تسکین پہنچائی جاتی ہے  تو آخرت کے اس مرحلہ میں صلاۃ جنازہ اور مغفرت کی دعاؤں سے انسان کی روح کومسرت پہنچائی جاتی ہے ۔بحر حال  انسان کی فلاح  اسی میں  ہے کہ  دنیا کاسفر ہویا آخرت کا تمام مراحل کو قرآن وسنت کی ہدایات کےمطابق سرانجام  دیا جائے ۔زیرنظر کتابچہ’’عورت وفات سے غسل وتکفین تک‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے ۔جس میں انہوں نے  عورت میت  کانزع سے  لے کر غسل ،تکفین وتدفین  اور تعزیت  وغیرہ کے احکام ومسائل کو  احادیث  رسول ﷺ کی  روشنی میں  پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-aurtain-aur-bazar
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ نے بازار کو ناپسندیدہ ترین جگہ قرار دیا ہے ۔کیونکہ بازار جھوٹ   ،فریب، دھوکہ بازی اور فتنہ اور شیطان کےانڈے دینےاور بچے دینے کی جگہ ہے جیسے سیدنا سلمان فارسی ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’توبازار میں سب سے پہلے داخل ہونے والا نہ ہو اور نہ ہی اس سے سب سے آخر میں نکلنے والا،اس لیے کہ اس میں شیطان انڈے اور بچےدیتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم :4251)اور اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ﷜ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ:’’تمام جگہوں میں سے اللہ کی محبوب ترین جگہیں مساجد ہیں اور اللہ کی سب سے زیادہ ناپسندیدہ   جگہیں بازار ہیں۔‘‘(صحیح مسلم:430)اس لیے فضول بغیرکسی ضرورت کے بازاروں میں جاکر اپنا ٹائم ضائع کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور بالخصوص اور عورتوں کا آزادانہ بے پردہ ہوکر بغیر محرم کے بازاروں میں جانا فتنے سے خالی نہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ عورتیں اور بازار ‘‘معروف مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے عور توں کا بے پردہ ہوکر ،زیب وزینت کر کے بازار میں جاکر خریداری کرنے کے   نقصانات اور خرابیوں اور دور حاضر میں بازاروں میں پائے جانے والے   موجود فتنوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔خواتین کے لیے اس کتابچہ کا مطالعہ   انتہائی مفید ہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

    pages-from-ghazz-e-basar-ghair-mehram-aurton-se-nazar-bachana
    ام عبد منیب

    اللہ تعالی انسان کاخالق ہے اور اس کی کمزرویوں سےمکمل طور پر واقف ہے ۔اس لیے اس نے جہاں انسان کی بشری کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے وہاں اپنے نازل کردہ صحیفہ ہدایت میں ان کمزوریوں کے شافی وکافی علاج بھی بتادیئے ہیں ۔تاکہ انسان بے مہار   محرکات کے سامنے بند باندھ سکے ۔انہی انسانی کمزوریوں میں سے ایک اہم مسئلہ نظر کا فتہ ہے ۔اس لیے شریعت نے غض بصر کے واضح احکامات اور فوائد بیان کیے ہیں ۔غصِ بصر اسلام کےصحیفہ قانون ..منبع ہدایت ..ام الکتاب قرآن حکیم کا وہ محکم اور پاکیزہ اصول ہے جس کو اپنا نے سے انسانی معاشرہ فش ومنکر خباثتوں سےنجات پاکر پاک وصاف ہوجاتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’غض بصر‘‘معروف مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے غض بصر کے احکام ومسائل اور اس کے فوائد وحکمتیں سادہ انداز میں قرآن وحدیث   کے دلائل کی روشنی میں بیان کردی ہیں ۔جس سے مستفید ہوکر نظر کے فتنہ اور اس کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتاہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-ghair-mehsoos-shirak-copy
    ام عبد منیب

    اللہ  تعالی ٰ نے بار بار انسان کو  اپنے کلام مجید میں مختلف انداز سے یہ یاد دلایا ہے کہ اس  کے علاوہ کوئی دوسراالٰہ  اس کائنات میں نہیں   ۔ اس نے اپنے   اسماء وصفات اوراپنی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرانا ایک ایسا جرم قرار دیا   ہے جو کسی  طور پر بھی قابل معافی نہیں ۔اور شرک ایسا سنگین جرم ہے کہ جس کا ارتکاب اگر  انبیاء بھی کریں  توان کے  تمام اعمال ضائع ہو جائیں۔شرک کی  موجود گی میں چونکہ تمام اعمال ضائع ہوجاتے  ہیں  اس لیے  اس  سے  محتاط رہنے اور بچنے  کے لیے  اس کی ہر کیفیت اور  ہر نوعیت  کو انتہائی باریک بینی سے سمجھنا ضروری  ہے ۔زیر نظر کتاب  ’’غیر محسو س ‘‘ معروف  مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں    نےسادہ عام انداز میں  شرک کی تعریف ،اقسام اور اس کی تباہ کاریوں کی طرف توجہ  دلاتے  ہوئے  بالخصوص ان امورکی نشاندہی کی ہے  کہ  جن کے کرنے سے انسا ن  شرک کا مرتکب ہوجاتا ہے لیکن اسےاس   کا  احسا س نہیں ہوتا ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام  تدریسی  وتصنیفی خدمات کو  قبول فرمائے اور اس کتاب کو  لوگوں کےلیے  شرک  سے نجات کا ذریعہ  بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی  مقیم رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    title-pages-quran-khawani-copy
    ام عبد منیب

    قرآن خوانی  فارسی زبان کا  لفظ ہےجس کامطلب ہےقرآن پڑھنا ۔ہمارے  معاشرے  میں اس سے مراد کسی حاجت برآری یا مردے کوثواب  پہنچانےکے لیے  لوگوں کاجمع ہو  کر  قرآن   مجید پڑھنا۔ قرآنی خوانی کےلیے لوگوں کوکسی مخصوص وقت پر بلایا جاتا ہے  جس جس میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ فلاں مقصد کےلیے  قرآنی خوانی  ،یٰسین خوانی  یا آیت کریمہ وغیرہ  پڑھوانا ہے ۔ ساتھ حسبِ مقدور دعوت کابھی اہتمام کیا جاتاہے ۔لوگ اس میں باقاعدہ تقریب کےانداز میں آتے ہیں،حاضرین  میں  علیحدہ علیحدہ تیس پارے  بانٹ دیے جاتے ہیں ۔پڑھنے کےبعد  دعوت  اڑائی جاتی ہے ۔ بعض لوگ ختم بھی پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ  رشتہ داروں کی بجائے مدارس کےبچوں کوگھر میں بلالیتے ہیں اور بعض مدرسہ میں ہی بیٹھ کر قرآن خوانی کرنے کا کہہ دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ  گھروں میں سیپارے  بھیج دیتے ہیں۔ مردوں کو ثواب  پہنچانے والے اس طرح  کےتمام امور  شریعت کےخلاف ہیں  اور محض رسم ورواج کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت  یہ ہے کہ  اس  قرآن  خوانی کا  میت  کوثواب نہیں  پہنچتا۔ البتہ  قرآن  پڑھنےکے بعد میت کے لیے  دعا   کرنے سے  میت کو فائدہ  ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور  قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں  کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ  کےلیے دعا کرنا  بشرطیکہ  دعا  آداب  وشروط قبولیت  دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا  تو اس  کی طرف سے  روزے  رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے  چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر تبصرہ  کتابچہ ’’ قرآن خوانی ‘‘ محترم  ام عبد منیب  صاحبہ کی  اصلاح  عقائد کےسلسلے میں اہم  کاوش ہے  جس میں انہو ں نے قرآن  واحادیث اور علماء کرام کے  فتویٰ کی  روشنی میں ثابت کیا ہے کہ   جو  شخص قرآن خوانی یا  مختلف قسم کےاوراد وظائف پڑھ کرکسی دوسرے کے لیے  ایصالِ ثواب کرتا ہے یا غیر مسنون طریقے سے ان سب کاذکر اور تلاوت کرتا ہے تویہ سب امور رسول اللہ ﷺکی سنت سے انحرف ہے۔اللہ تعالی ٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-qurbani-key-masael
    ام عبد منیب

    قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جائے ۔تخلیق ِانسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن   مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس   عمل کوقیامت تک کےلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔ اللہ تعالی کےہاں   کوئی بھی عبادت کا عمل تب ہی قابل قبول ہوتا ہے کہ جب اسے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ تمام اہل اسلام کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ۔عبادات میں سے اہم عبادت عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کواللہ تعالی کی رضا کے لیے ذبح کرنا ہے اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی کتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ قربانی کے احکام مسائل ‘‘ محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے عام فہم انداز میں قربانی کے جملہ احکام ومسائل کو بیان کردیا ہے۔ قارئین اس سے استفادہ کر کے قربانی کےسلسلے میں   معاشرہ میں پائی   جانے والی کتاہیوں کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کے لیے اسے مفید بنائے۔آمین( م۔ا)

    pages-from-qaza-namaz-aur-qaza-umri
    ام عبد منیب

    اللہ تعالی نے ہر مسلمان پر وقت مقررہ پر نماز ادا کرنا فرض قرار دے دیا ہے۔اگر کوئی مسلمان کسی شرعی عذر کی بناء پر وقت مقررہ پر نماز ادا نہ کر سکے تو اجازت ہے کہ وہ اپنی اس رہ جانے والی نماز کو بعد میں قضا کر کے پڑھ لے۔اور اگر کسی مسلمان نے کئی روز یا کئی ماہ یا کئی سال تک نماز نہ پڑھی ہو تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا عمل ہے۔ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے توبہ کرے اور بارگاہ الہی میں آ کر وقت پر نمازیں پڑھنا شروع کر دے۔اتنے لمبے عرصے تک جان بوجھ کر نماز نہ پڑھنے سے توبہ واجب ہو جاتی ہے اور ان رہ جانے والی نمازوں کی قضا نہیں ہو گی۔بعض لوگوں نے ایک خود ساختہ اصطلاح "قضا عمری " گھڑ رکھی ہے ۔اور زیادہ عرصے تک نمازیں نہ پڑھنے والے کو اس خود ساختہ اصطلاح کے مطابق قضا کرنے کا فتوی دیتے ہیں،حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " قضا نماز اور قضا عمری "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے قضا نماز کی حقیقت بیان کرتے ہوئےقضا عمری کی خود ساختہ اصطلاح کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ ﷫ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-qayam-ul-lail-aur-murawija-shab-bedarian-copy
    ام عبد منیب

    قیام اللیل کا  مطلب عشاء کی نمازِ فرض کے علاوہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز ادا کرنا ہے ۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے اس عبادت کا غالب حصہ نمازتہجد  سے  ہے ۔ لہٰذا تہجد اور قیام اللیل دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف کےطور پر قرآن وحدیث میں استعمال ہوئے ہیں۔اور رمضان کی راتوں کا یہی  وہ قیام  ہے جسے تراویح بھی کہا جاتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے  رمضان البارک میں  قیام  کرنے کی بڑی  فضیلت  بیان کی ہے ۔ ارشا د نبوی  ہے : «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»لیکن دور حاضر میں  قیام اللیل جیسی عظیم  نفلی عبادت  کو شب بیداریوں کی رنگا رنگ اقسام اختیار کرکے  اسے رواجی  چیزوں کی  گرد سےدھندلا دیاگیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’ قیام اللیل  اور مروجہ شب بیداریاں‘‘ میں  محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ  نے   کوشش کی  ہے کہ  قیام اللیل کو کتاب وسنت کی روشنی میں  واضح کیاجائے اور رواجی  چیزوں کی گرد  کوالگ کرکے  یہ دکھایا اور بتایا جائے کہ اس وقت کی مروجہ شب بیداریوں میں  قرآن  وسنت کے مطابق کیا ہے اور کیااس کے مطابق نہیں ہے۔تاکہ خلوص اور زندہ جذبے کے ساتھ اس  عبادت کوادا کرنے والے لاعلمی میں غلط  کو صحیح سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں تو اس سے بچ کر  قیام اللیل کے مقاصد ،منافع اور فوائد کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ  محترمہ کی اس کاوش کو عوام الناس  کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    pages-from-lottary
    ام عبد منیب

    سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(بخاری:2059) دور حاضر میں مال حرام کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔۔ زیر تبصرہ کتاب " لاٹری"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لاٹری کی حرمت،لاٹری کی مختلف شکلیں ،لاٹری کی ابتداء ،مسلم ممالک میں لاٹری کی آمد ،پاکستان میں لاٹری اور لاٹری سے متعلق متعدد دیگر موضوعات پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-laiesa-azzakar-o-kal-unsaa
    ام عبد منیب

    آج سے تقریبا تین سو برس قبل پورپ میں جدید تحریک نسواں کا آغاز ہوا۔ جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مرد اور عورت میں سماجی ذمہ داریوں اور تخلیقی صلاحیتوں کےلحاظ سے کوئی فرق نہیں ۔اگر مرد صدر یا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو عورت بھی بن سکتی ہے ۔اگر مرد پر معاشی بوجھ ڈالا گیا ہے تو عورت بھی یہ بوجھ اٹھا سکتی ہے ۔اگر مرد جہاز اڑا سکتا ہے ،غوطہ زنی کر سکتا ہے ، مشینیں ٹھیک کر سکتا ہے ،کرکٹ ،اسکوائش ،پولو،ہاکی ،جوڈو کراٹے کھیل سکتاہے ،اگر مرد کار چلانے ،گھوڑے دوڑانے اور خود اپنی ٹانگوں کے بل دوڑنے کا مقابلہ کر سکتا ہے توپھر عورت پر ان تمام پیشوں اور مشغلوں کےدروازے بند کیوں؟اور جب عورت بھی مردکی طرح انسان ہے توپھر اس پر ایسی معاشرتی پابندیاں کیوں عائد کی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گومرد اور عورت کو ایک ہی نوع قرار دیا ہے لیکن صنفی لحاظ سے دونوں میں فرق رکھا ہے۔ یہ فرق طبی،طبعی ،سماجی نفسیاتی ،جذباتی غرض ہر لحاظ سے ہے اور اس فرق کو دنیا کاکوئی انسا ن ختم نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:’’َلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى‘‘اس کی واضح دلیل ہے۔ زیر نظر کتاب محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس تخلیقی فرق ہی کی تائید میں مرتب کی ہے ۔کتاب کے پہلے حصے میں مغربی معاشرے کے دانشووروں ،فلسفیوں، ڈاکٹروں، سائنس دانوں اور ماہر نفسیات کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ نیز عورت اور مرد میں جسمانی اور عادات کے لحاظ سے جس نوعیت کابھی فرق پایا جاتا ہے اسے بیان کیا گیا ہے ، اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ قرآن وسنت میں تخلیقی فرق کہاں کہاں ہے او ر اس تخلیقی فرق کی وجہ سے دونوں کی ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے اور ذمہ داریوں کے فرق کی وجہ سے دونوں کے لیے شرعی احکام میں بھی فرق رکھا گیا ہے۔اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عام انسانی حقوق کے لحاظ سے دونوں کوبرابر کی سطح پررکھا ہے۔ نیز ایمان وعمل او رجزا وسزا کے لحاظ سےبھی دونوں کے لیے برابری رکھی ہے لیکن دونوں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ اور ہمارا مسلمان معاشرہ اس حقیقت سے اگاہ ہو جائے کہ مرد اور عورت کی ذمہ داریاں مختلف ہیں، انہیں ایک جیسی ذمہ داریاں نہیں دی جاسکتیں۔(م۔ا)

    pages-from-maah-e-zilhajjah-key-fzael
    ام عبد منیب

    ماہ ذوالحجہ   قمری تقویم کے لحاظ سے سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے ۔ چونکہ اس ماہِ مبارک میں حج جیسا عظیم فریضہ انجام دیا جاتا ہے اس لیے اس کا نام حج ہی کی مناسبت سے مشہور ہے ۔اس ماہ ِمبارک میں عشرہ ذوالحجہ کے ایام بڑے ہی اہمیت وفضیلت والے ہیں۔جسے نبی کریم ﷺ نے سال بھر کے دیگر ایام سے افضل قرار دیا ہے ۔اور اسی طرح اس میں ایام تشریق جیسے اہم دن بھی شامل ہیں ۔اس میں بنیادی عبادات نماز، روزہ، صدقہ، حج ،قربانی جیسی اہم عبادات کی جاتی ہیں اس لیے   اس کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہےکہ آپ ﷺنےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ماہ ذوالحجہ کے فضائل‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے ماہ ذوالحجہ کی فضائل ومسائل کو قرآن حدیث کی روشنی میں عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ جس سے عام قارئین بھی مستفید ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ محترمہ کی   تمام دینی ،تبلیغی،تحقیقی وتصنیفی خدمات کوشرف قبولیت سے نوازے ۔آمین(م۔ا)

    title-pages-mahe-muharram-aur-murawija-biddaat-copy
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بعض مہینوں کوبعض پر فضیلت عطا کی ہے ۔چنانچہ ماہِ محرم کو بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی خصوصیات عطا کیں جو اس کے فضائل کی حامل بھی ہیں اور اسے دوسرے مہینوں کےمقابلے میں ممتاز بھی کرتی ہیں۔اور ماہِ محرم کو اسلامی تقویم کے تمام مہینوں میں سے اولیت اور آغاز کا  مقام حاصل ہے۔اس ماہِ مبارک میں روزے رکھنا  بڑی فضیلت کا باعث ہے ۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے  کہ :’’رمضان کے بعد سب مہینوں سے افضل روزے اللہ  کے مہینے محرم کے روزے ہیں‘‘ (صحیح مسلم )محرم کے کسی بھی دن یا رات میں کوئی خاص عبادت ،خاص نماز، خاص وظیفہ خاص دعا پڑہنے کی کوئی دلیل قرآن وسنت سے نہیں ملتی سوائے نو،دس کے روزے کے۔زیر نظر کتابچہ ’’ماہ محرم کے فضائل اور مروجہ بدعات‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی  اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے جس  میں ا نہوں نے   اختصار کے ساتھ  قرآن وحدیث کی روشنی میں ماہ ِمحرم کی حرمت وفضیلت بیان  کرنے کےبعد اس مہینے میں معاشرے  میں پائی جانے والی مروجہ بدعات وخرافات کی حیثیت کوواضح کیا ہے کہ یہ محض من گھڑت  روایات پر مبنی ہیں جن کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اس ماہ  میں  کی جانے شیعی بدعات کی قرونِ اولیٰ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کوعوام الناس کی اصلاح   کا ذریعہ بنائے  اور ہمیں ہر گمراہی سےبچائے اور اپنے رسول ﷺ اوران کے صحابہ کرام﷢ کی سچی محبت اور دوستی عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-mehram-marad-aur-un-ki-zemma-dariyaan
    ام عبد منیب

    چونکہ عورت کمزور دل ، حساس طبیعت ،عجلت پسند اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینے والی ہوتی ہے ۔ لہذا رب العالمین نے اس کی بھلائی کی خاطر اس کی زندگی کےتمام امور کو اس کے محرم مردوں کے حوالے کیا ہے تاکہ عیار وشاطر اور فتنہ پرور لوگوں کے داؤد پیچ سےمحفوظ ر ہے ۔ محرم مردوں کی حیثیت اپنے خاندان کی عورتوں کے لیے سر پرست ،کیفیل ،نگران ، ناظم المور اور بعض صورتوں میں مربی کی بھی ہے زیر نظر کتاب ’’ محرم مردوں کی ذمہ داریا ں ‘‘ معروف مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے ۔ جس میں انہوں نے محرم اور غیر محرم رشتوں کومختصراً بیان کرنے بعد کے   قرآن واحادیث کے دلائل کی روشنی میں محرم مردوں اور محرم خواتین کی ذمہ داریوں کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالی مصنفہ کی   اس کاوش کو اصلاح معاشرہ کا ذریعہ بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-makhlot-taleem-copy
    ام عبد منیب

    کسی بھی قوم کو مجموعی طور پر دین سے روشناس کرانے، تہذیب وثقافت سے بہرہ ور کرنے اور خصائل فاضلہ وشمائلِ جمیلہ سے مزین کرنے میں اس قوم کی خواتین کا اہم، بلکہ مرکزی اور اساسی کردار ہوتا ہے اور قوم کے نونہالوں کی صحیح اٹھان اور صالح نشوونما میں ان کی ماؤں کا ہم رول ہوتا ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچے کا اولین مدرسہ ہے۔ اس لیے شروع ہی سے اسلام نے جس طرح مردوں کے لیے تعلیم کی تمام تر راہیں وا  رکھی ہیں ان کو ہر قسم کے مفید علم کے حصول کی نہ صرف آزادی دی ہے، بلکہ اس پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں قرنِ اول سے لے کر آج تک ایک سے بڑھ کر ایک کج کلاہِ علم وفن اور تاجورِ فکر وتحقیق پیدا ہوتے رہے اور زمانہ ان کے علومِ بے پناہ کی ضیاپاشیوں سے مستنیر و مستفیض ہوتا رہا، بالکل اسی طرح اس دین حنیف نے خواتین کو بھی تمدنی، معاشرتی اور ملکی حقوق کے بہ تمام وکمال عطا کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی حقوق بھی اس کی صنف کا لحاظ کرتے ہوئے مکمل طور پر دیے؛ چنانچہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بہ شانہ دخترانِ اسلام میں ایسی باکمال خواتین بھی جنم لیتی رہیں، جنھوں نے اطاعت گزار بیٹی، وفاشعار بیوی اور سراپا شفقت بہن کا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنے علم وفضل کا ڈنکا بجایا اور ان کے دم سے تحقیق و تدقیق کے لاتعداد خرمن آباد ہوئے۔لیکن اسلام بے پردگی اور مخلوط نظام تعلیم کی ہر گز حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔جب لڑکے اور لڑکیاں دونوں ایک ساتھ تعلیم حاصل کررہے ہوں، پھر دونوں کی نشست گاہیں بھی ایک ساتھ ہوں اور ان سب پر طرفہ یہ کہ عریاں ونیم عریاں بازو، لب ہائے گلگوں، چمکتے ہوئے عارض، چشم ہائے نیم باز، بکھری ہوئی زلفیں؛ بلکہ سارا سراپا ”انا البرق“ کا منظر پیش کررہا ہو،تو کیا فریق مقابل اپنے ذوقِ دید اور شوقِ نظارہ کو صبر وشکیبائی کا رہین رکھے گا یا بے تابانہ اپنی نگاہوں کی تشنگی دور کرنے کی سوچے گا؟ پھر جب جمالِ جہاں آرا پوری تابانیوں کے ساتھ دعوتِ نظارہ دے رہا ہو، تو اس کی دید کی پیاس بجھے گی کیوں؟ وہ تواور تیز تر ہوجائے گی اور جام پر جام چڑھائے جانے کے باوصف اس کا شوقِ دیدار ”ہَلْ مِنْ مَزِید“ کی صدائے مسلسل لگائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب  " مخلوط تعلیم"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  مخلوط تعلیم کے نقصانات اور تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    pages-from-mehfooz-maashra
    ام عبد منیب

    دورِ حاضر میں مخلوط معاشرہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے ۔مخلوط معاشرے کی ابتدا کہاں سے ہوئی ؟ یہ جاننا ایک مشکل امر ہے لیکن اس دعوے میں کوئی اشتباہ اور باک نہیں ہے کہ اس کی ابتدا ان معاشروں میں ہوئی جن میں الہامی تعلیمات سے انتہائی زیادہ روگردانی کے جراثیم پھیل گئے او ر انہوں نے الہامی تعلیمات کے برعکس ہرکام انجام دینا اپنے اورلازم کرلیا۔غیر مسلم معاشرے مشرق کے ہوں یا مغرب کے ان میں نہ تو خوف آخرت پایا جاتا ہے نہ توحید کا اقرار ،ان کی مذہبی رسومات وروایات میں مخلوط معاشرہ کسی نہ کسی سطح پر ضرور پایا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی زندگی میں مخلوط ،معاشرے کا در آنا ایک المیہ ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے   واضح کیا ہے کہ قرآن وحدیث میں مخلوط معاشرے سے بچاؤ کے لیے وسیع پیمانے پر احکامات بیان کیے گئے ہیں اور ان کےایک ایک جزو کی تفصیل بھی موجود ہے تاکہ مخلوط معاشرے کے ایمان پرمسموم اثرات سے فرد اور جماعت دونوں محفوظ رہیں۔اللہ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    pages-from-maraz-aur-ilaaj-ahadees-ki-roshani-mein
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ۔عبادت صحت مند روح اور تندرست جسم کے ساتھ ہی کی جاسکتی ہے ۔لہٰذا ضروری ہےکہ انسان صحت مند رہے اور صحت مندی کی طرف لے جانے والے ذرائع اور طب سے واقف ہے ہو۔ طب سے مراد جسمانی اور ذہنی بیماریوں کاعلاج کرنا ہے ۔طب ایک شریف ولطیف فن ہے جوپہلے انسان کے ساتھ ہی معرض وجود میں آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسان آدم ﷤ کوحلال وحرام کی تمیز بتاکر طبِ روحانی کے ساتھ ساتھ   طب ِجسمانی کا علم بھی بتادیا،کیونکہ حلال غذا اور حلال کمائی سےجسم تندرست رہتا ہے۔اس کےبرعکس حرام غذا ار حرام کمائی سے جسم اور روح کو مہلک اور خبیث بیماریاں گھن کی طرح چمٹ جاتی ہیں۔نبی کریم ﷺ نے روحانی بیماریوں کا علاج کثرت ِتلاوت ،ذکر واذکار اوروظائف کی صورت میں بتایا ہے تو جسمانی بیماریوں کاعلاج بھی   بتایا ہے جسے طب نبوی کا نام دیا گیا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مر ج اور علاج احادیث کی روشنی میں ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی طب نبوی ﷺ سلسلے میں مختصرا   ایک اہم کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے بیماری کی صورت میں علاج کرنے کی شرعی حیثیت کوبیان کرنےکےبعد   طب ِنبویؐ کی روشنی میں بعض اشیا کے خواص اور بیماریوں کا علاج انتہائی عام فہم انداز میں بیان کیا ہے جس سے عام قاری بھی استفادہ کرکے اپنی روحانی وجسمانی بیماریوں کا علاج کرسکتاہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ محترمہ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اوراس کتاب کوعوام الناس لیے فائدہ مند بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    pages-from-masael-taharat-aur-khawateen
    ام عبد منیب

    پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّھور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ، اور پاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے- اللہ تعالی نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراھیم اور اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں-" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالی اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے- ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی طہارت کے لیے تزکیہ نفس کے وہ تمام طریقے جن کی تفصیل قرآن وحدیث میں ملتی ہے ان کا اپنے نفس کو پابند بنانا ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی کے لیے بھی ان تمام تفصیلات سے اگاہی ضروری ہے جو ہمیں کتاب وسنت مہیا کر تی ہے ۔جسمانی طہارت کے مسائل معلوم کرتے ہوئے   خواتین جھجک محسوس کرتی ہیں ۔ لیکن ایسے ہی مسئلہ کےبارے میں ایک خاتو ن نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو سید ہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا : انصار کی عورتیں کیا ہی اچھی   ہیں جو دین کےمسائل معلوم کرتے ہوئے شرم نہیں کرتیں۔(صحیح مسلم ) زیر نظر کتابچہ’’مسائل طہارت او رخواتین‘‘ سعودی دار الافتا کے خواتین سے متعلق مسائل طہارت پر مشتمل ہے ۔جسے مریم خنساء نے عربی سےاردو زبان میں   منتقل کیا ہے تاکہ اس سے اردو دان خواتین بھی مستفید ہوکر طہارت کے مسائل سے اگاہ ہوسکیں۔اللہ تعالی مرحومہ کی اس کاوش کو   قبول فرمائے اور اسے خواتین ِاسلام کےلیے نفع بخش بنائے ۔آمین( م۔ا)

    pages-from-mashkook-ashiyaa-se-parhaiz
    ام عبد منیب

    کسی چیز کو حلال یاحرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔دنیا کا کوئی بزرگ ، کوئی نبی ،کوئی ولی ،کوئی قانون ،کوئی اسمبلی کوئی عدالت حرام کوحلال اور حلال کوحرام قراددینے کا اختیار نہیں رکھتی اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تووہ شرک کاارتکاب کرتاہے ۔اللہ تعالی نے مسلمانوں پر جو احکام کئے ان کی تین اقسام ہیں۔حلال،حرام اور مشتبہات جس کی وضاحت قرآنو احادیث میں موجود ہے ۔حرام وہ تمام چیزیں یا کام ہیں جن کے کرنے سے شریعت اسلامیہ نے روک دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نےبڑی   وضاحت کےساتھ حرام اشیاء کا ذکر کیا ہے جیساکہ فرمان الٰہی ہے :قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُم(الانعام:120) اور حلال سے مرادکسی چیز کے استعمال یا کسی کام کے کرنے میں شرعا کھلے عام اجازت ہے۔اور مشتبہات یعنی مشکوک کام سے مراد وہ امور ہیں جن کے متعلق کبھی حرام ہونے کا شبہ ہوتا ہے اور کبھی حلال ہونے کاگمان ۔معاملہ شک ہی میں اٹکا رہتا ہے ۔جب کسی چیز کے حرام یا حلال ہونے کا قرآن وسنت سےواضح ثبوت نہ ملے تو اس صورت حال میں شک والے کام یا چیزکوچھوڑ دینے کاحکم ۔ زیر نظر رسالہ ’’مشکوک اشیاء سے پرہیز‘‘ محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے مشکو ک اشیاء کے متعلق ایک مسلمان کا کیا طرزِ عمل ہونا چاہیے اسے قرآ ن وحدیث کی روسے   احسن انداز میں   واضح کرنےکی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو لوگوں کے نفع بخش بنائے ۔(آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

    title-pages-mutalika-khawateen-aur-inke-masail-copy
    ام عبد منیب

    انسانی زندگی  میں  ظروف ،حالات اورمزاج کے لحاظ سے کبھی یو ں  بھی ہوتا ہے  کہ  میاں بیوی کا باہم نباہ ناممکن ہو جاتا ہے  او ردونوں کے لیے  باہم مل کر زندگی  کی گاڑی   چلانا ایک ناگوار اورانتہائی دہ  صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ ایسے  مرحلے   میں  اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ برے دل  بے تعلق اور کھوٹی نیت کے ساتھ باہم جڑے رہنے اور زندگی کے جائز وحقیقی لطف کےحاصل کرنے  اور حقوق وفرائض کودل جمعی سےادا کرنے کے اجروثواب سےمحرومی  کی بجائے  علیحدگی  اختیار کرلیں۔لیکن جس طر ح گھر کے معاملات  کا سربراہ مرد کو بنایا گیا ہے اسی طرح طلاق کی گرہ بھی  مرد کے ہاتھ رکھی گئی ہے  ۔ طلاق کے  بعد عورت نے واپس اسی گھر آنا ہوتا ہے  جہاں سےوہ نکاح کےوقت رخصت کی گئی تھی تو اس کو مختلف مسائل کاسامنا کرنا  پڑتا ہے ۔مطلقہ کا بہترین حل تواس کا نکاح  ہی ہے  لہٰذا اس کے  رشتہ داروں اور سہیلیوں  کےذریعے اسے  کسی مناسب جگہ پر نکاح کےلیے آمادہ کرلینا ہی بہتر ہے ۔ اگر  ایسانہ ہوسکے تو عورت  کے اولیا کوچاہیے کہ اس خاتون  کےلیے ایسی رہائش کا  انتظام کریں جو  اس کے لیے  الگ گھر کے تصور کو پورا کرتی ہو۔کیونکہ الگ گھر  ہر عورت  کی فطری خواہش ہوتی ہے ۔اگر بے  سہارا  یا مطلقہ خواتین دوسرا نکاح نہ کریں یا اولاد نہ  ہو تو اس  صورت میں انہیں چاہئے کہ اپنے لیے کوئی تبلیغی ،تعلیمی یا اسلام  کی حدود میں   رہتے ہوئے رفاہی  کام شروع کردیں ۔اور اسی   طرح  ایسی خواتین اپنے  خاندان کےبچوں کو اپنے  زیر تربیت رکھ  کر اجر بھی کما سکتی ہیں  اور یہ بہترین مصروفیت  ہے جس میں  دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مضمر ہے ۔یادر ہے بچےکو گود لے کر   اس کا نسب بدل دینا گناہ ہے   لیکن گھر میں رکھ  کر اس کی  تربیت کرنا اسلامی  معاشرے کی جانی پہچانی  نیکی ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’ مطلقہ خواتین اوران کے مسائل‘‘محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی  کاوش ہے۔جس میں  انہوں  نے طلاق کی شرعی حیثیت اور اس کے احکام ومسائل قرآن واحادیث میں  بیان کرنے کےساتھ  مطلقہ  اور بے سہارا خواتین کواچھی زندگی بسر کرنے کےلیے   مفید   تجاویز اور ہدایات    پیش کی  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ ان  کی  تمام دینی واصلاحی خدمات کو  قبول فرمائے ۔( آمین)۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات  ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-mangani-aur-mangaitar
    ام عبد منیب

    منگیتر منگنی سے ماخوذ ہے ۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین باہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیں گے ۔ اس عہد کا نام   ہمارے معاشرے میں منگنی ہے او رایسے لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے کا منگیتر کہا جاتاہے ۔منگنی کابظاہر مقصد تو صرف اتنا ہے کہ لوگوں پریہ عیاں ہو جائے کہ فلاں کے بیٹے کی فلاں کی بیٹی سے   نکاح کی بات ٹھر گئی ہے ۔لہذا کوئی دوسرا پیغام بھیجنے یاایسا وعدہ لینے کی غلطی نہ کرے ۔لیکن دور حاضر میں اتنی پر تکلف ،مہنگی اور مشکل رسومات کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا سوائے   ریا کاری یا نمود ونمائش کے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ منگنی اور منگیتر ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے منگنی کےسلسلے میں   ہمارے معاشرے میں   پائی جانے والی ہندوانہ رسومات کا ذکر تے ہو ئے   اس کے متعلق شرعی احکام ومسائل کودلائل کی روشنی میں   پیش کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے   مروجہ رسوم ورواج سے   بچا جاسکتا ہے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔آمین( م ۔ا)

    pages-from-mehar-bivi-ka-awwuleen-haq
    ام عبد منیب

    کارِ را زِ حیات میں مرد کے لیے عورت او رعورت کے لیے مرد کی احتیاج ایک جانی پہچانی حقیقت ہے ۔ اس احتیاج کو ہر معاشرے اور ہر قوم میں ایک اہم مقام حاصل ہے البتہ اس کے طریقے ہرایک کے ہاں اپنے اپنے ہیں ۔ اسلام میں نکاح مردوعورت کے درمیان عمر بھر کی رفاقت ،محبت اور مودت کے مضبوط عہد وپیمان کا نام ہے ، جسے نباہنے کےلیے مرد اور عورت کی نیت ،قول اور عمل تمام عمر مسلسل اور بھر پورکر دار کرتے ہیں۔ نکاح کے اس اہم مرحلے پر اسلام مرد پر عورت کا یہ حق عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی حیثیت کے مطابق عورت کے سماجی مرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ا س کے لیے احترام محبت اور مسرت کامظہر کوئی   نہ   کوئی ہدیہ پیش کرے اسی ہدیے کا نام مہر ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ مہر بیو ی کا اولین حق ‘‘معروف کالم نگار اور مصنفہ کتب کثیرہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے ۔ جس میں انہوں نے مہر کی شرعی حیثیت ، مہر کی مقدار ، مہر کی مختلف صورتیں ،مہر کس کی ملکیت،مہرکی اقسام وغیرہ کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو   قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا )

    title-pages-merathan-race-copy
    ام عبد منیب

    پاکستانی تاریخ کے ایک معروف ڈکٹیٹر اور آمر صدر پرویز مشرف کے دور میں  پاکستان کے دل شہر لاہور میں ایک  میرا تھن  ریس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مردوں اور لڑکوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور لڑکیوں نے بھی حصہ لیا۔شرم وحیا کا جامہ اتار  کر اس ریس میں شریک ہونے والی خواتین کو دیوث حکمرانوں نے سڑکوں پر ہزاروں ملکی وغیر ملکی تماشائیوں کے سامنے دوڑا کر اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیا  اور یہ باور کروایا کہ وہ اسلام کے نظام ستر وحجاب  پر یورپ کے غلیظ،گندے ،ماں بہن کی تمیز سے عاری گلی سڑی تہذیب کو ترجیح دیتے ہیں۔حالانکہ اسلام خواتین اسلام  کو گھر میں ٹک کر بیٹھنے کی تلقین کرتا ہے اور انہیں اپنی زیب وزینت کو غیر محرم مردوں کے سامنے منکشف کرنے سے منع کرتا ہے۔غیر محرم مردوں کے سامنے اپنی زیب وزینت کا اظہار کرنے والی عورتوں کو زانیہ  قرار دیا گیا ہے اور جب تک وہ اپنےگھر واپس نہیں لوٹ آتی اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں بھیجتے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’  میرا تھن ریس‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جہاں بے غیرت حکمرانوں کی مذمت کی ہے وہیں مسلمان ماوں اور بہنوں سے شرم وحیا کے پیکر بننے کی بھی درخواست کی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    title-pages-nazarmanat-man-na-copy
    ام عبد منیب

    اسلامی شریعت میں نذر ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہےکسی خیر کے کام کا عہد کرلینا۔یعنی نذریا منت ایک وعد ہ ہے  جو اللہ تعالیٰ سےکیا جاتا ہے ۔ لہذا تمام وعدوں کے نسبت اس وعدے کو پورا کرنا زیادہ اہم اور قابل ترجیح ہے ۔ اگرچہ عہد کوئی بھی ہو اسے پورا کرنا مسلمان پر لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(الاسراء:34) ’’اور عہد پورا کرو بے  شک  عہد کے متعلق سوال کیاجائے گا‘‘۔ نذرماننے میں قسم  کھانے کامفہوم خود بخود شامل ہے  لہذا یہ ایک  وعدہ ہے  کہ جس کے متعلق قسم کھائی جاتی ہے کہ اسے  ضرور پورا کروں گا۔نذ ر ماننا  فرض نہیں  لیکن  جب کوئی نذر مان لے  توپھر اسے پورا کرنا فرض ہے  ہوجاتا ہے اور نذرپوری نہ کرنا سخت گناہ ہے ۔زیرنظر کتابچہ ’’نذر(منت) ماننا‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے  ۔جس میں  انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں کی نذر کی مشروعیت اور اس کی شرائط،جائز  وناجائز نذر اور  اس کے جملہ احکام ومسائل کوبڑے  احسن انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالی اس کتابچہ کو  ہمارے  معاشرے میں نذر یا منت کے متعلق جو بہت  سے غلط عقائداور غلط انداز پائے جاتے  ہیں ان کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-naswani-baal-aur-unki-araish-copy
    ام عبد منیب

    جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے سر ،بھنوؤں اور پلکوں کے بال موجود ہوتے ہیں۔پورے جسم پر ہلکے ہلکے نرم نرم روئیں نظر آتے ہیں۔سر کے بال ساتویں دن منڈوا دینے کا حکم ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔لیکن یہ کٹانے یا منڈوانے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔زیر ناف ،بغل،مونچھ اور داڑھی کے بال جوانی کے آمد پر نمودار ہوتے ہیں،اور ساری عمر صاف کرنے ،کاٹنے یا مونڈنے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔عورت کی فطرت میں آرائش،اس کے بعد نمائش اور نمائش کے بعد ستائش وصول کرنے کا جذبہ رکھ دیا گیا ہے۔چنانچہ زمانہ قدیم ہی سے خواتین بنتی سنورتی چلی آرہی ہیں۔شریعت اسلامیہ نے بھی خواتین کو ان کا یہ فطری حق عطا کیا ہے،لیکن چند حدود وقیود کے ساتھ،تاکہ بے جا  بننےسنورنے کا جذبہ معاشرے اور خود اس عورت کے لئے فتنہ کا باعث نہ بن سکے۔ زیر تبصرہ کتاب  " نسوانی بال اور ان کی آرائش "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے عورتوں کو اپنے بالوں کی آرائش وزیبائش کے لئے  شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-nara-bazi-copy
    ام عبد منیب

    دور حاضر میں نعرہ بازی کسی انجمن،جماعت یا ادارے کے نظریات ومقاصد کی تشہیر کا سب سے آسان ،پرکشش اور عمومی ذریعہ بن چکا ہے۔یہ ایک ایسا ذریعہ تشہیر ہے کہ جس پر زیادہ لاگت یا خاص محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔گو یہ کام  اکیلا آدمی بھی کر سکتا ہے،لیکن دو چار ہم نوا مل جائیں تو پھر کیا ہی کہنے !نعرے بازی کے لئے کسی پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔مطلوبہ نعرہ کسی بچے کو سکھلا کر اس سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔نعروں کے الفاظ ترتیب دیتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہےکہ اس کے الفاظ کم سے  کم اور پر کشش ہوں،جو عوام کے دلوں میں تیر کی طرح اتر جائیں اور لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔لیکن اگر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل سراسر  طلب شہرت ، جھوٹ  اور انا خیر منہ جیسے متکبرانہ طرز عمل پر مبنی ہوتا ہے ،جس سے نبی کریم نے  سختی سے منع فرمایا ہے۔اور ایسا کرنے والوں کے سخت وعیدیں سنائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " نعرہ بازی "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے نعرہ بازی کی حقیقت کو منکشف کرتے ہوئے اس سے بچنے کی ترغیب دی ہے،کیونکہ یہ کام سراسر شریعت کے منافی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-namaz-me-pari-jane-wali-duaen-copy
    ام عبد منیب

    نماز دین ِ اسلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے ۔  قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے  کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے  ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے ۔نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس پر  کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ  اور  اس  میں  پڑھی  جانے والی  دعاؤں کو جانا اور سیکھناہر مسلمان مرد وزن کےلیے  ازحد ضروری ہے کیونکہ  نماز کے آداب وشرائط  اوراس میں پڑھے جانے والے کلمات اور  دعائیں تو ہی ہماری پوری زندگی کے دکھوں کا مداوا ہیں ۔ وہ  ہمیں اپنے خالق ومالک کے حضور  میں مانگنے کی روزانہ پانچ وقت   ایسی مشق کراتے ہیں کہ اگر نماز دلی رغبت سے  سمجھ کر پڑھی جائے  تویہ  ناممکن ہے کہ کشکول ِ حیات خالی رہے ۔زیر تبصرہ  کتاب ’’ نماز میں پڑھی  جانے دعائیں‘‘معروف  مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے   اذان ، وضو ، تکبیر  تحریمہ سے    سلام  پھیرنے   تک   نماز میں  پڑھی  جانے والی دعائیں اور نمازکے بعد   کے  اذکار کو  بمع   ترجمہ حوالہ جات    کے سا تھ  اس  کتاب میں جمع کردیا ہے۔تاکہ   تمام مسلمان بہن بھائی اس سے   مستفید ہوکر نماز کے تمام مسنون کلمات اوران کے مطالب ومفہوم  سے  واقف  ہوجائیں۔اللہ تعالی ٰ  مسلمانوں کو نماز کی  حظاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن،لاہور میں  بمع فیملی  مقیم رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-nikah-me-wali-ki-haisiyat-copy
    ام عبد منیب

    اسلام نے ولی سربراہ خاندان کویہ حق  عطا کیا ہے  کہ اگر سربراہِ خاندان اپنے  علم ،تجربہ اور خیر خواہی کے تحت یہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں فرد کےفلاں  کام سے خاندانی وقار مجروح ہوگا ۔یااس فرد کودینی ودنیوی نقصان پہنچے گا تو وہ  اسے اس کام سے بالجبر بھی  باز رکھ سکتاہے۔ البتہ جوحقوق اسلام نے فرد کوذاتی حیثیت سے عطا کیے ہیں سربراہ کاجان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا یا افراد پر ان کے حصول کے حوالے  سےپابندی عائد کرنا درست نہیں اور اسلام میں  اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ولایت ِنکاح کا  مسئلہ یعنی جوان لڑکی  کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے  کہ کسی نوجوان لڑکی  کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ  وہ والدین کی اجازت  اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار  اختیار کرکے  کسی عدالت میں یا کسی  اور جگہ  جاکر  از خود کسی  سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی  صحت کے لیے  ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے  ۔ لیکن  موجودہ دور میں مسلمانوں کے  اسلام سے  عملی  انحراف نے جہاں شریعت  کے  بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے  سے بھی  اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے  -علاوہ  ازیں ایک فقہی  مکتب فکر  کے  غیر واضح موقف کو بھی  اپنی بے راہ روی  کے جواز کےلیے  بنیاد  بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’نکاح میں ولی کی حیثیت‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش  ہے جس میں انہو ں نے ولی کے  معنی  ومفہوم کو  بیان کرنے کےبعد  نکاح میں ولی کی  اہمیت وضرورت اور  بغیر ولی کے نکاح  کرنے کا نقصان اور اس  نکاح کی شرعی  حیثیت کو  قرآن وحدیث اور  فقہاء  ومحدثین عظام کی آراء اور اقوال کی روشنی میں  آسان فہم انداز  میں بیان کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اوراسے  عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے  (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-nia-chandhamari-rawayat-aur-royat-e-halal-copy
    ام عبد منیب

    اسلامی کلینڈر میں سن ہجری کو بنیاد بنا کر قمری تقویم بنائی گئی جو کہ عین فطرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی تعداد کو بھی چاند کے ساتھ منسلک کیا ہے نا کہ سورج کے ساتھ ۔اس لیے شرعی احکامات پر جب طائرانہ نظر دوڑائی جاتی ہے تو تمام شرعی معاملات جن کا تعلق تاریخ بندی سے ہوتا ہے ان کی ادائیگی قمری کلینڈر سے ہی ممکن ہے عیسوی سے ناممکن ہے۔جیسے رمضان کے روزے ہوں یا عید الفطرو عیدالاضحیٰ،ادائیگی زکوۃ کا مسئلہ ہو یا ایام حج کا گویا کہ بہت ساری فرضی اور نفلی عبادات قمری کلینڈر کے بغیر ناممکن ہیں۔لیکن بنیادی مشکل جو آج کے دور میں نظر آتی ہے وہ اختلاف مطالع کی وجہ سے لوگوں کا متذبذب اور مشکوک ذہن ہے کہ یہ کیا سلسلہ ہے کہ ایک ہی اسلامی تہوار میں  اسلامی دنیا میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اپنے اس کتابچہ میں اس حساسیت کو شریعت کی روشنی میں پیش کیا ہے کہ اختلاف مطالع کی باقاعدہ شرعی حیثیت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور صحابہ کے دور میں بھی کئی مطالع کا ثبوت پایا جاتا ہے اور اس کے مطابق  لوگ احکامات الہٰیہ کی ادائیگی کے پابند ہوں گے۔اسی طریقے سے رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت ،ان کے کیے ہوئے فیصلے کو تسلیم کرنا اور ان کی تحقیق کےمطابق کیے گئے اعلان کوقبول کرتے ہوئے اپنے اپنے مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے شرعی احکامات کی بجا آوری کی جائے اسی میں ہی امت مسلمہ کی خیر ہے۔(راسخ)

    pages-from-walfajar-fajar-ki-tibbi-aur-rohani-barkaat
    ام عبد منیب

    صخر الغامدی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اے اللہ ! میری امت کے بکور یعنی دن کے پہلے حصے میں برکت دے دے۔"یہ وہ دعائے برکت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے اللہ رب العزت سے مانگا۔دنیا کے مہذب اور غیر مہذب ،دانش ور اور کم علم ،شہری ودیہاتی سب انسان یہ حقیقت جانتے اور محسوس کرتے ہیں کہ صبح کا وقت اپنی برکات اور ثمرات میں دن کے دوسرے تمام اوقات سے منفرد بھی ہے اور افضل واعلی بھی۔رات کو زندگی کا ہنگامہ تھم جاتا ہے ،اور انسان ایک پرسکون اور اطمینان بخش نیند سو کر صبح نئی زندگی اور نئی توانائی کے ساتھ کارزار حیات میں اترتا ہے۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ذہن اپنے ارادوں اور ولولوں کو باہم متفق پاتا اور کچھ کر گزرنے کے لئے کمر ہمت باندھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ والفجر (فجر کی طبی اور روحانی برکات)‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےفجر کے وقت اٹھنے کی طبی وروحانی برکات کو جمع کر دیا ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-waleema-aik-masnoon-dawat
    ام عبد منیب

    ولیمہ ایک دعوت ہے جو رشتہ ازدواج سےمنسلک ہونے کی خوشی میں مسلمان مرد کی طرف سےکی جاتی ہے اس دعوت میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں مثلاً دعوت ولیمہ کرنےسے لوگوں کومعلوم ہوجاتا ہے کہ ولیمہ کرنے والے مرد نے نکاح کیا لہٰذا اس پر کو ئی شک نہیں کر سکتا کہ نامعلوم وہ کون سی اور کیسی عورت کے ساتھ رہ رہا ہے او ر دعوت ولیمہ کرنے میں بیوی کی عزت افزائی کااظہار پایا جاتا ہے ،دوستوں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی دعوت کرنے سے خوشی کالطف دوبالا ہوجاتا ہے،شادی خانہ آبادی یعنی نئے گھر کے آغاز پر مل کر اظہار محبت اور برکت حاصل کی جاتی ہے ،بہت سےنادار ، بھوکے اور مفس لوگوں کوکھانا مل جاتا ہے اور وہ بھی اس خوشی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔حدیث نبوی کے مطابق سب سے برا ولیمہ وہ ہے جس میں مالداروں کوبلایا جائے او رناداروں کودعوت نہ دی جائے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ ولیمہ ایک مسنون دعوت‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ   کی اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے جس میں انہوں اپنے دعوتی واصلاحی اندازمیں مسنون دعوت ولیمہ کو بیان کرنے کےساتھ دعوت ولیمہ کے سلسلے میں کیے جانے والے غیرشرعی امور اور قباحتوں،رسوم ورواج کی بھی نشاندہی کی ہے اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

    pages-from-valentine-day
    ام عبد منیب

    محبت ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میںبیشتر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے اسی طرح معاشرہ میں ہر فرد اس کامتلاشی نظر آتا ہے اگرچہ ہرمتلاشی کی سوچ اورمحبت کے پیمانے جدا جدا ہوتے ہیں جب ہم اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تویہ بات چڑھتے سورج کے مانند واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام محبت اوراخوت کا دین ہے اسلام چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت،پیار اوراخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کوغلط رنگ دے کرمحبت کے لفظ کو بدنام کردیا گیا او ر معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں پید ہو چکی ہیں اسکی ایک مثال عالمی سطح پر ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ کا منایا جانا ہے ہر سال۱۴ فروری کو عالمی یومِ محبت کےطور پر ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ کے نام سے منایا جانے والا یہ تہوار ہر سال پاکستان میں دیمک کی طر ح پھیلتا چلا جارہا ہے ۔ جو کہ اہل مغرب کے اوباش طبقے کا پسندیدہ تہوار ہے ۔اس د ن جوبھی جس کے ساتھ محبت کا دعوے دار ہے اسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا ہے۔ زیر نظر مختصر کتابچہ ’’ویلنٹائن ڈے ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے اس کتاب میں ویلنٹائن ڈے کی تاریخ ،اس کے فروغ میں میڈیا کا کردار، ویلنٹائن ڈے کی شرعی حیثیت جیسے موضوعات کو مختصرا بیان کیا ہے اللہ مصنفہ کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی اس کاوش کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

    pages-from-tv-ghar-mein-kiyoon
    ام عبد منیب

    دور ِ حاضر میں میڈیا کے جتنے ذرائع موجود ہیں ٹی وی ان سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے ۔ یہ صرف متعلقہ مواد ہی پیش نہیں کرتا بلکہ آواز کے ساتھ ساتھ تصویر دے کر چہرےکا لب ولہجہ اورمطلوبہ منظر کشی بھی بصارت کے ذریعے عوام کےذہنوں میں منتقل کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی قوتِ تاثیر دیگر تمام ذرائع سے کئی گنا زیادہ ہے اس میڈیا کے اتنا مؤثر ہونے کے باوجود دنیا بھر کے ممالک میں تفریح کے نام سے فکری وعملی تخریب پر ابھارنے والا مواد پیش کیا جارہا ہے ،سوائے چند ایک معلوماتی یاتعلیمی پروگرامز کے ۔ٹی وی میڈیا کےپھیلائے ہوئے دینی ،اخلاقی او رمعاشرتی نقصانات زبانِ زدِعام ہیں ،وہ چاہے مغرب کے دانش ورہوں یا مشرق کے علمائےاسلام،یورپی عوام ہوں یا ایشیائی باشندے۔ٹی وی بہت سے کبیرہ گناہوں کامجموعہ ہے محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے زیر تبصرہ کتاب’’ٹی وی گھر میں کیوں؟‘‘ میں ٹی وی کے نقصانات او راس کی وجہ سے انسان جن گاہوں کا شکار ہوتاجاتا ہے ان کومحترمہ نے بڑے احسن انداز میں قرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا )

    title-pages-parde-ki-aout-se-copy
    ام عبد منیب

    اسلامی  معاشرے میں  نامحرم مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے حجاب میں رہنا ایک جانا پہچانا طریقہ ہے  جس کا مقصد  مرد وعورت کےدرمیان ناجائز خواہشات کےہر داعیے کو روکنا ہے۔ان میں سب سے پہلے خطرناک چیز نظر ہے جونامحرم مرد عورت پر پڑتے ہی  اپنے  صاحب  کےدل میں ایک طوفان بپا کردیتی ہے ۔ ناجائز  تعلقات کاآخری فعل زنا ہے  جسے اللہ تعالیٰ نے کلیۃً حرام قرار  دیا اورلاتقربوا الزنا  فرماکر اسی فعل بد سے  بچانے کےلیے  محرم  پر نظر اٹھانے سے لے کر اس آخری فعل تک  جو جو مرحلے  آتے ہیں ۔جو چیزیں اسباب بنتی ہیں ۔ان سب کوحرام  قرار دیا گیا۔اس لیے  نامحرم مرد اورعورت کے درمیان حجاب اسلامی معاشرے کا معروف طریقہ ہے اور حجاب کےاحکام نازل ہونے کے ساتھ ہی اس  پر صحابیات اور صحابہ نے فوری عمل کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن دور ِ حاضر میں اکثریت اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ  اجنبی مرد اورعورت کے درمیان کسی درمیان کسی دیوار کپڑے یا کسی اور چیزکی آڑ ہونا یا عورت  کا اپنے چہرے کوڈھانپ کر اجنبی مرد کے  سامنے آنا اسلامی طریقہ نہیں بلکہ ایجا ملا ہے۔ پردے کی شرعی  حیثیت ،اہمیت وفرضیت کے سلسلے کئی  اہل علم نے اردو وعربی زبان  میں   مستقل کتب تصنیف  کی ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’پردے کی اوٹ  سے ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جسے  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ نے  اپنے   آسان فہم انداز میں   مرتب کیا ہے ۔جس میں انہوں نے پردے کے جملہ احکام ومسائل کواحادیث نبویہ اورآیات قرآنیہ کی روشنی میں  بیان کیا ۔اللہ اس کتابچہ  خواتینِ اسلام کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-chnd-sortain-aik-naam-copy
    ام عبد منیب

    قرآن مجید عالم انسانیت کی وہ عظیم ترین کتاب ہے جو اللہ کا کلام ہے اور عربی زبان میں تقریباً 23 برس کے عرصے میں آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ قرآن کے نازل ہونے کے عمل کو وحی کا نازل ہونا بھی کہا جاتا ہے اور یہ کتاب اللہ کے فرشتے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت محمد صل الله علیه وآله وسلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے جس کا مواد تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے۔ اس کی ترتیب نزولی نہیں بلکہ حضرت محمد صل الله علیه وآله وسلم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله عنه رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسے یکجا کیا گیا۔ اس کام کی قیادت سیدنا  زید بن ثابت رضی الله عنه رضی اللہ عنہ نے کی۔ قرآن ایک بڑی کتاب ہے۔اس کی آیات کی تقسیم نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زندگی میں فرما چکے تھے اور یہ راہنمائی کر چکے تھے کہ کس آیت کو کس سورت میں کہاں رکھنا ہے۔ اسے سات منزلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور تقسیم سیپاروں کے حساب سے ہے۔ سیپارہ کا لفظی مطلب تیس ٹکروں کا ہے یعنی اس میں تیس سیپارے ہیں۔ ایک اور تقسیم سورتوں کی ہے۔ قرآن میں 114 سورتیں ہیں جن میں سے کچھ بڑی اور کچھ چھوٹی ہیں۔ سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ ہے۔ سورتوں کے اندر مضمون کو آیات کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ قرآن میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " چند سورتیں ایک نام"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے قرآن مجید کی آیات ،سورتوں اور پاروں کی معلومات کو جمع فرما دیا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    title-pages-chanda-fund-copy
    ام عبد منیب

    چندہ یا فنڈز ایسی رقم کو کہا جاتا ہے جو انفرادی یا اجتماعی رفاہی کاموں پر خرچ کرنے کے لیے دی جائے یا لی جائے۔پوری دنیا میں پائی جانے والی بہت ساری تنظیمیں جن کا تعلق ویلفیئر  یا انسانی حقوق سے متعلقہ ہے وہ اپنی اور تنظیمی ضروریات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو وسائل پہنچانے کے لیے چندہ یا فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم پر زور دیتے ہیں ۔مختلف مذاہب میں مختلف تہواروں کے موقع پر اس کام کو بڑے ذوق شوق اور اعلیٰ جذبات کے ساتھ توجہ مرکوز کی جاتی ہے جس میں خاص طور پر مذہبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی تنظیمیں بھی میدان میں اتر آتی ہیں۔محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اس حساس موضوع پر قلم اٹھایا اور اس حوالے سے شرعی راہنمائی پیش کی ہے کہ ہمارے ہاں پایا جانے والا چندہ یا فنڈز اکٹھا کرنے کا نظام کن حالات کا شکار ہے اور شرعی اعتبار سے یہ کام کن لوگوں کے لیے جائز اور کس حد تک اور کس طریقے سے جائز بنتا ہے اس کو بڑی عمدہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔کیونکہ ہمارے ملک میں چندہ اور فنڈز کے ساتھ چلنے والے اداروں کی ایک لمبی فہرست ہے  جن کا سلسلہ معاش چندہ اور فنڈز پر چلتا ہے۔فنڈز اور چندہ پر چلنے والی ان تنظیموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ بات واضح ہو سکے۔1۔خالص دینی تنظیمیں:یہ وہ تنظیمیں ہیں جو دین کی دعوت کے ساتھ ساتھ رفاہ عامہ کا کام بھی سنبھالے ہوئے ہیں2۔بے دین رفاہی تنظیمیں:یہ عام طور پر غیرملکی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے مختلف این جی اوز کی شکل میں موجود ہیں جن کو اتحادی ممالک  امداد مہیا کرتے ہیں3۔غیر ملکی رفاہی تنظیمیں:جو کہ کسی ملک میں بذات خود مداخلت کر کے اس کے کسی نہ کسی نظام کو متاثر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جیسے کہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیاں مختلف عریاں اور فحش اشتہارات کے ذریعے،مختلف ثقافتی فنکشن اور طائفوں کے ذریعے کرتے ہیں۔مصنفہ نے اس حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے کہ آیا اس چندہ اور فنڈ کے نظام کو شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کس حد تک اور کس طریقے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ اس ذریعے سے حاصل ہونے والے تعاون کو درست سمت دی جا سکے۔(م۔ا)

     

    title-pages-kasmatics-copy
    ام عبد منیب

    بننے سنورنے کا رجحان دور حاضر میں ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اور کاسمیٹکس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو جسم کو فطری حسن کی بجائے اضافی حسن،دل کشی،رنگ ،جاذبیت  وغیرہ کے لئے یا من مانا انداز اور رنگ وروپ دینے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔مثلا اسکن کئیر کریمیں ،لوشن،پاؤڈرز ،اسپرے پرفیوم ،لپ سٹک وغیرہ وغیرہ اور ان کے علاوہ  بے شمار چیزیں اس میں شامل ہیں۔لیکن ان میں سے متعدد چیزیں ایسی ہیں جو شرعی تقاضوں پر پورا نہیں اترتی ہیں ،مثلا نیل پالش لگا لینے سے ناخنوں تک پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے وضو اور غسل مکمل نہیں ہوتا ہے اور طہارت حاصل نہیں ہوتی ہے۔لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان چیزوں کے استعمال میں شرعی تقاضوں کا بھی خیال رکھے اور فضول خرچی جیسے معاملات سے اجتناب کرے۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ کاسمیٹکس ‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے استعمال کی چیزوں کے حوالے سے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    pages-from-kafiron-key-tehwaar-aur-hamara-taraz-amal
    ام عبد منیب

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اوردستور زندگی ہے۔اس کی اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنےرہنے سہنے کے طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کافروں کے تہوار اور ہمارا طرز عمل‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے کافر اقوام کے بے شمار تہواروں کو جمع کر کے مسلمانوں کو ان بچنے اور ان میں شرکت نہ کرنے کی ترغیب دی ہے،کیونکہ غیر اسلامی تہوار منانا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-kitab-ul-ilam-min-sahi-ul-bukhari-ma-ilmi-nukaat
    ام عبد منیب

    امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔ جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے ۔اور بعض اہل علم نے صحیح بخاری کے بعض خاص حصوں کی شرح بھی کی ہے جیسے کتاب التوحید از احافظ عبد الستار حماد ﷾،کتاب الجہاد از مولاناداؤد راز﷫ اسی طرح زیر تبصرہ کتاب ’’کتاب العلم من الصحیح البخاری مع علمی نکات‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نےہر حدیث کا ترجمہ پیش کرنے کےبعد اس حدیث میں موجود مشکل الفاظ کے معانی کالم کی صورت میں تحریر کیے ہیں او ر ہر حدیث سے حاصل شدہ علمی نکات کو نمبروار اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے جس سے طالبانِ علومِ حدیث آسانی سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔تفہیم حدیث کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-kisi-dosre-ka-bacha-ghod-lena-copy
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نےدنیاکی  ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی بلکہ اس نے فرق رکھا ہے  اور یہ فرق بھی اس کی تخلیق کا کمال ہے کسی کو اس نے صحت  قابلِ رشک عطا کی  کسی کو علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا،کسی کودولت کم دی کسی کوزیادہ دی ،کسی کو  بولنے کی صلاحیت غیرمعمولی عطا کی ، کسی کو کسی ہنر میں طاق بنایا، کسی کودین  کی رغبت وشوق دوسروں کی نسبت زیادہ  دیا کسی کو بیٹے دئیے، کسی کو بیٹیاں ، کسی کو بیٹے بیٹیاں، کسی کو اولاد  زیادہ دی ، کسی کوکم اور کسی کو دی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت اور خواہش رکھ دی  ہے ۔ زندگی کی گہما گہمی اور رونق اولاد ہی کےذریعے قائم ہے ۔ یہ اولاد ہی ہےجس کےلیے  انسان  نکاح کرتا ہے ،گھر بساتا ہے اور سامانِ زندگی حاصل کرتا ہے لیکن اولاد کے  حصول میں انسان بے بس اور بے اختیار ہے  ۔ اللہ تعالیٰ نےاس نعمت کی عطا  کا مکمل اختیار اپنےہاتھ میں رکھا۔اس اولاد سےمحروم والدین کوجان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ  نے جس کےلیے  جومناسب جانا وہی اسے  دیا۔ لہذا  اولاد کی محرومی کی صورت میں انہیں شکوہ شکایت یا ناشکری کرنے کی بجائے قناعت اور شکر سے کا م لینا چاہیے ۔اگر علاج معالجہ کا مسئلہ ہو تو اس کے لیے   کوشش وکاوش  جاری رکھی جاسکتی ہے ۔لیکن غیرشرعی طریقوں سے حصول اولاد کی کوشش کرنا  جائز  نہیں۔دنیا کے  قدیم جاہلی معاشروں  سے لے کر دور ِ حاضر  کے ہر معاشرے میں بے اولاد والدین نے اپنی محرومی کا ازالہ کرنے کےلیے  مختلف صورتیں ایجاد کیں جن میں  بعض   درج  ذیل ہیں۔کسی مفلس والدین کے ہاں بچہ پیدا ہوتے ہی یا پیدا ہونے سے پہلے ہی  خرید لیا  اور ہمیشہ  کے لیے اس کی ولدیت اور نام ونسب  کا حق محفوظ کرلیا۔بعض لوگ کسی  رشتہ دار  یا غیر آدمی کا بچہ لے کر اس کی ولدیت اپنے نام سے جوڑ لیتے ہیں اوراس بناوٹی بیٹے یا بیٹی کووہ تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں جو سگی اولاد کو  حاصل  ہوتے  ہیں۔بعض مرد اپنے سگے بھائی یا  اپنے چچا زاد بھائی  کا بیٹا یا بیٹی گود لے کر  اس کی ولدیت اپنے نام کے ساتھ نتھی کرلیتے  ہیں ۔ ہندوؤں میں بھی اس کی  مختلف صورتیں موجود ہیں۔اور اہل عرب کےہاں جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ کسی دوسرے کابچہ بڑی عمر کاہوتا یا چھوٹی عمر کا اس کے اصل والدین سے معاہدہ کر کے اس  کاحق ولدیت اپنے نام کرالیتے اور معاہدے کا اعلان کعبہ میں یا معتبر افراد کی موجودگی میں کیاجاتا ۔ لیکن اسلام نے ان  تمام   طریقوں کو ختم کردیا اور اللہ  تعالیٰ نے حکم دیا:کہ لے پالک بچوں کی نسبت ان کے حقیقی باپوں ہی کی طرف کی جائے ، جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئے ہیں ۔ اور اگر ان کےحقیقی باپوں کاعلم نہ ہو تو وہ پھر وہ دینی بھائی اور متبنی بنانے والے اور دیگر مسلمانوں کے دوست ہیں ۔ اللہ تعالینے اس بات کو حرام قرار دے دیاکہ بچے کی لے پالک بنانےوالے کی طرف حقیقی نسبت کی جائےبلکہ بچے کے لیے بھی اس بات کو حرام قرار دے دیا کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے ، البتہ اگر زبان کی کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ سبحانہ و تعالی نے واضح فرمایا ہے کہ یہ حکم عین عدل و انصاف پر مبنی ہے ، یہی سچی بات ہے ، اس میں انساب اور عزتوں کی حفاظت بھی ہے اور ان لوگوں کےمالی حقوق کی حفاظت بھی ، جو ان کے زیادہ حق دار ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :﴿وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذ‌ٰلِكُم قَولُكُم بِأَفو‌ٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ ﴿٤﴾ ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَو‌ٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورً‌ا رَ‌حيمًا ﴿٥﴾... سورةالاحزاب"اورنہ تمہارے لے پالکوں کوتمہارے بیٹے بنایا ، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالی توسچی بات فرماتا ہے اور وہ سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ مومنو! لے پالکوں کو ان کے( اصلی ) باپوں کےنام سے پکارا کرو کہ اللہ کےنزدیک یہ بات درست ہے۔ اگر تم کو ان سےباپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سےغلطی سےہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دل سے کرو ( اس پر مؤاخذہ ہے )اوراللہ بڑا بخشنے ولا نہایت  مہربان ہے ۔‘‘نبی ﷺ نے فرمایاہے :مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ، (سنن ابی داؤد: 5115)’’جو شخص اپنےباپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعو ی کرے یا (کوئی غلام ) اپنے آقاؤں کی بجائےدوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالی کی مسلسل لعنت ہو ۔‘‘اللہ سبحانہ وتعالی نے منہ لولے بیٹے کے دعوے کو ،جس کو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، مسترد کردیا ، اس لیے اس سے متعلق وہ تمام احکام بھی ختم ہوگئے ، جن پر زمانہ جاہلیت میں عمل ہوتا تھا اور پھر اسلام کے ابتدائی دور تک ہوتا رہا ۔ زیر نظرکتابچہ ’’  محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  کی  کاوش ہے جس میں انہوں نے کسی  دوسرےکا بچہ گود لینے کی شرعی حیثیت اور اسے کے احکام ومسائل اور  اس سلسلے میں پیش  آنے مفاسد کا  آسان فہم  میں  ذکر کیا ہے  اوراولاد سے  محروم والدین کےلیے اس کی متبادل صورتیں بھی پیش کی ہیں۔اللہ تعالیٰ  مصنفہ کی اس  کاوش کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    title-pages-kia-ap-zakat-le-sakte-hain-copy
    ام عبد منیب

    اسلامی نظام حیات میں زکوۃ ایک اہم ترین فرض ہے کہ جس کی ادائیگی پر شریعت نے بہت سختی سے حکم دیا ہے اور صاحب نصاب ہونے کے باوجود اگر کوئی زکوۃ ادا نہ کرے تو قاضی اس سے زبردستی بھی زکوۃ وصول کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔لیکن ان سب احکامات کے باوجود ایک اور چیز جو بڑی حساس ہے کہ زکوۃ کا مستحق کون ہے ؟ کون زکوۃ لے سکتا ہے اور کون نہیں؟محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نےشریعت کی روشنی میں اس پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ شریعت نے جو مصارف زکوۃ بیان کیے ہیں ان کو عملی شکل میں کس انداز سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جس طریقے سے زکوۃ دینے  والے کے لیے کچھ شرائط ہیں اسی طرح زکوۃ لینے والے کے لیے بھی کچھ حدود و قیود کا تعین کیا گیا ہے۔اس مختصر کتابچہ میں مصنفہ نے مصارف زکوۃ اور زکوۃ کے مستحقین کو شرعی راہنمائی مہیا کی ہے  کہ وہ کب دوسروں سے صدقات و زکوۃ وصول کر سکتے ہیں اور کس انداز میں اس کو خرچ کریں تاکہ وہ لوگوں پر بوجھ بننے کی بجائے خودداری والی زندگی بسر کر سکیں۔(م۔ا)

     

    title-pages-ghada-ghari-copy
    ام عبد منیب

    اللہ تعالی نے انسان کو خوب صورت اور احسن سیرت وعادات پر پید اکیا ہے۔اس کی فطرت میں حیا،خود داری ،غیرت ،تحفظ ذات،تحفظ مال، اور تحفظ ناموس کا جذبہ رکھ دیا ہے۔لیکن جب انسان شرف وامتیاز کی ان خوبیوں کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹ دیتا ہے تو وہ ذلت وحقارت کی ایسی پستی میں گر جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس سے گھن کھا تی ہے اور اس کے نام پر نفرین بھیجتی ہے۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں ایسی تمام بد عادات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے،انہی قبیح عادات میں سے ایک گدا گری بھی ہے۔ اسلام گدا گری کی مذمت کرتا ہے اور محنت کر کے کمائی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔محنت میں عظمت ہےجو شخص اپنے ہاتھ سے کما کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ،وہ دراصل ایک خود دار ،غیرت مند انسان ہے اور اسی کو صالح اعمال کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔انبیاء کرام اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتے تھے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " گدا گری"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ رحمھا اللہ  کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے گدا گری  کی مذمت ،اس کے انسانی معاشرے پر برے اثرات،غیرت وخودی کی موت اور دیگر نقصانات وغیرہ پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-ghar-ghar-hasti-copy
    ام عبد منیب

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جو اپنے پیرو کاروں کو ہر شعبہ حیات میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔اسلام گھر بسانے ،اسے جنت کدہ بنانے ،بیوی اور بچوں کے حقوق ادا کرنے ،اولاد کی اچھی تربیت کرنے ،ہمسائیوں کا خیال رکھنے ،شوہر کی خدمت کرنے ،گھریلو سامان اور اپنی عزت کی حفاظت کرنے سمیت ایک بہترین اسلامی گھر کے تمام اصول بتاتا ہے۔اگر اسلام کے ان بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کر لیا جائے تو یہ دنیا انسان کے جنت بن جاتی ہے اور اگر ان عمل نہ کیا جائے تو یہ دنیا انسان کے لئے جہنم کدے کا منظر پیش کرنا شروع کر دیتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  " گھر گھر ہستی"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے بڑے ہی خوبصورت انداز میں ایک اسلامی  گھر میں انجام دی جانے والی تمام ضرورتوں  اور شرعی احکام کو جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب دراصل ان مختلف مضامین پر مشتمل ہے جو مختلف رسائل میں لکھے یا خواتین کے احساس دلانے پر سپرد قلم کر دیئے گئے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
pages-from-rasoolullah-saw-ka-dastar-khawaan

اللہ رب العزت نے آنحضرت ﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا، آپ ﷺ سراپا رحمت اور اخلاق کریمانہ کی عملی تصویر تھے، کتاب الٰہی قرآن مجید کے عملی مظہر تھے، آپ ﷺ نے جہالت میں ڈوبی ہوئی امت کو جہاں علم و حکمت کا شعور بخشا وہیں انہیں اعلیٰ طرز معیشت سے بھی ہمکنار کیا۔ شریعت اسلامیہ ہی وہ واحد شریعت ہے جس میں ہر چیز کوعدل و انصاف کے ترازو میں رکھ کر توازن برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس کی بے شمار خصوصیات و خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں آپﷺ نے لوگوں کو احکام الٰہی کا پابند بنایا وہاں آپﷺ نے حسن معاشرت اور کھانے پینے کے آداب سے بھی روشناس کیا تا کہ ایک مثالی معاشرے کی تکمیل ہو سکے۔ موجودہ دور میں ہمارے محفلیں، تقریبات وغیرہ جہاں کھانے کا اعلیٰ انتظام تو ہوتا ہے مگر کھانے کے وقت ایک عجیب سا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اچھے اخلاق و کردار کا مجموعہ ہے آپﷺ نے کبھی کھانے میں عیب نہیں نکالا اگر خواہش ہوتی تو کھالیتے ورگرنہ چھوڑ دیتے، آپؐ کا دسترخواں امیر و غریب کے لیے یکساں ہوا کرتا تھا، آپﷺ نے فرمایا: کھانوں میں سے برا کھانا ایسا ولیمہ ہے جس میں اغنیاء کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے(مسلم)۔ زیر نظر کتاب" رسول اللہ ﷺ کا دستر خواں" فضیلۃ الشیخ محمود نصّار کی کھانے کے آداب پر بے مثال تالیف ہے۔ فاضل مؤلف نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے کے آداب، دعوت ولیمہ، عقیقہ کے مسائل، آپؐ کے پسندیدہ کھانے اور کھانے کے دوران جن برے اخلاق سے منع فرمایا ہے ان مسائل کو بڑی جامعیت کے ساتھ احاطہ تحریر میں لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول و منظور فرمائے اور ان کے درجات حسنہ میں بلندی کا سبب بنائے۔ آمین(عمیر)

title-pages-sayyada-khadijatul-kubrarabehaisiyat-zoja-al-nabipbuh-copy

سیدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی  ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ ؓنے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ ؓسے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان  کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام  المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہابیان کرتی  ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات  ہجرت سے  قبل  عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیر نظر کتابچہ’’سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بحیثیت زوجۃ النبیﷺ‘‘ عربی کے ممتاز ادیب محمد موفق کی سیدہ خدیجہ ؓ کی سیرت پر عربی کتاب کا ترجمہ ہے  ترجمہ کی سعادت  محترمہ  مریم  خنساء نے  حاصل کی  اور اس کے شروع  میں  عکس ِحیات خدیجہ کے  نام سے  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے کچھ اضافہ کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ خواتینِ اسلام کو  سیدہ خدیجہ  اوردیگر امہات المومنین  جیسی سیرت اپنانے کی   توفیق عطا فرمائے  ( آمین) (م۔ا)

pages-from-hamara-nizam-aur-nisabi-saleebain

ہمارا نظام تعلیم اور نصابی صلیبیں"1997ء کی پہلی جماعت سے لے کر بی اے تک کے لازمی نصاب کے اس تجزئیے اور تبصرے پر مشتمل مقالے کا نام ہے جسے بی اے کی طالبہ محترمہ مریم خنساءرحمھا اللہ نے بی اے کے پیپرز کی تیاری کے دوران مرتب کیا۔اس مقالے کو مرتب کرنے والی بہن کے دل کو اللہ تعالی نے غیرت دینی سے نواز ا تھا ،جو بر وقت اسلام کے خلاف کی جانے والی ہر سازش ،ہر حرکت اور ہر لفظ کو بھسم کر دینے کا عزم رکھتی تھیں۔اور ایسا ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ ان کو یہ جذبہ موروثی طور پر ملا تھا۔ان کے والد محترم مولانا محمد مسعود عبدہ ﷫اور ان کی والدہ محترمہ ام عبد منیب رحمھا اللہ کے جذبات بھی اسی آتش سوزاں سے حرارت پذیر تھے۔اس کتاب سے پہلے بھی آپ کے متعدد مضامین ماہنامہ "بتول" اور ہفت روزہ "الاعتصام "میں چھپتے رہے ہیں۔یہ مقالہ مولفہ کی زندگی ہی میں دار الکتب السلفیہ نے 1999ء میں شائع کر دیا تھا،اور پھر ان کی وفات کے بعد تقریبا چودہ سال بعد اسے دوبارہ مشربہ علم وحکمت کے تحت شائع کیا گیا ۔اس مقالے میں موصوفہ نے پاکستان کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کی خامیوں اور عیوب کی نشان دہی کی ہے،اور اس کی اصلاح کے لئے مفید اور کارآمد تجاویز پیش کی ہیں۔ان کا پیش کردہ یہ جائزہ 1997ء میں مرتب کیا گیا تھا،اب 2014ء میں آ کر نصاب میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں ،لیکن اب بھی بہت زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے۔موجودہ نصاب میں زیادہ زیادہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ اہالیان پاکستان کو اسلامی معلومات سے بے بہرہ ہی رکھا جائے اور انہیں جدید دنیوی علوم ہی پڑھانے پر اکتفاء کیا جائے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہماری حکومتوں کو یہ توفیق دے کہ وہ صحیح اسلامی اور درست نصاب تیار کر سکیں اور اپنے بچوں کی بہترین راہنمائی کر سکیں۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 160 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں