سید ابو الاعلی مودودی

35 کل کتب
دکھائیں

  • مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے اپنی کتاب میں قرآن کریم میں بار بار ذکر ہونے والی چار اصطلاحات کو موضوع سخن بنایا ہے-وہ چار اصطلاحات یہ ہیں:1-الہ2-رب3-عبادت4-دین-مصنف نے اپنی کتاب میں ان چار اصطلاحات کی اہمیت اور ان کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا مقصد اور مختلف امم سابقہ کے حالات کو پیش کر کے مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے-قرآن کریم میں ان اصطلاحات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک لغوی اور شرعی وضاحت  کو آیات قرآنی سے واضح کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان چار اصطلاحات کو سمجھے بغیر قرآن کریم کو سمجھنا ناممکن ہے-ان اصطلاحات سے ناواقفیت یہ نقصان ہو گا کہ نہ تو توحید وشرک کا پتہ چلے گا اور نہ عبادت اللہ کے لیے خاص ہو سکے گی اور نہ ہی دین اللہ کے لیے خالص رہے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ایمان لانے کے باوجود عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل ہو جائیں گے-

     

  • 2 اسلام دور جدید کا مذہب (منگل 28 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:20493

    انسانی زندگی ہرلمحہ متحرک اورمعتبرہے ۔دنیامیں ہروقت نت نئے مسائل ومعاملات ظہورپذیرہوتے رہتے ہیں جن کاحل درکارہوتاہے ۔دورجدیدایک ایسے نظام حیات کامتقاضی ہے جوتمام معاملات زندگی کاحل پیش کرسکے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایسامذہب صرف اورصرف اسلام ہے جواگرچہ آج سے ڈیڑھ ہزاربرس پہلے  مکمل ہواتاہم آج بھی تروتازہ اورشگفتہ ہے اورزندگی کے ہرگوشے سے متعلق ہدایت وراہنمائی دینے کی صلاحیت رکھتاہے ۔زیرنظرکتابچہ میں عظیم اسلامی مفکرمولاناسیدابوالاعلی ٰ مودودی نے اسی حقیقت کوبڑے ہی مؤثراورسائینٹیفک طریقے سے اجاگرکیاہے جس سے اسلام کی حقانیت لکھ کرنظروبصرکے سامنے آجاتی ہے ۔

     

  • 3 ترجمہ قرآن مجید(مولانا مودودی) (منگل 04 فروری 2014ء)

    مشاہدات:23843

    اردو زبان میں قرآن حکیم کے متعدد تراجم ہو چکےہیں لیکن مولانا مودودی کا ترجمہ ان میں منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔وہ خود فرماتے ہیں کہ ’’اردو زبان میں قرآن مجید کے جتنے ترجمے ہو چکے ہیں ان کے بعد اب کسی شخص کے لیے محض برکت وسعادت کی خاطر ایک نیا ترجمہ شائع کرنا وقت او رمحنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں ہے۔اس راہ میں مزید کوشش اگر معقول ہوسکتی ہے تو صرف اس کی صورت میں جبکہ آدمی طالبین قرآن کی کئی ایسی ضرورت کو پورا کرے جو پچھلے تراجم سے پوری نہ ہوتی ہو۔‘‘اس کے بعد انہوں نے اپنے ترجمے کا اسلوب یہ بیان کیا ہے کہ ترجمے کو پڑھتے ہوئے ایک عام ناظر قرآن کا مفہوم ومدعا بالکل صاف صاف سمجھتا چلا جائے اور اس سے وہی اثر قبول کرے جو قرآن اس پہ ڈالتا چاہتا ہے اس لیے میں نے لفظی ترجمے کا طریقہ چھوڑ کر آزاد ترجمانی کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ادبی اعتبار سے یہ ترجمہ انتہائی اعلیٰ مقام کا حامل ہے اور آزاد ترجمہ ہونے کے باوجود الفاظ قرآن سے قریب ترہے۔امید ہےکہ طالبین قرآن اس سے مستفید ہوں گے اور قرآنی مطالب سے واقفیت حاصل کر کے اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے۔(ط۔ا)

  • 4 سنت کی آئینی حیثیت (یونیکوڈ) (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22519

    انکار سنت کا فتنہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔

    انکار سنت کا یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ ا...

  • 5 سیرت سرور عالم جلد۔1 (ہفتہ 16 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2831

    ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں   بے شمار سیرت نگار وں نے   سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول   آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر نظر کتاب ’’سیرت ِ سرورِ عالم ‘‘ سید ابو الاعلی مودودی کی   سیرت النی ﷺ پر جامع کتاب ہے جس کی ترتیب و تکمیل میں مولانا عبد الوکیل علوی ﷾(تلمیذ عبد اللہ روپڑی ) مولانانعیم صدیقی نے اہم کردار ادا کیا ۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے   جلداول   منصب نبوت ،نطام وحی،بعثت آنحضورﷺ اور ماقبل بعثت کے   ماحول او ر دعوت کی مخاطب قوم او ر عرب کےمختلف گروہوں کے احوال پر مشتمل ہے او ردوسری جلد نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے لے کر ہجرت مدینہ تک کےاحوال واقعات کے متعلق ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کے مؤلف مرتبین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 6 دعوت دین کی ذمہ داری (جمعرات 04 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2218

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں  بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "دعوت دین کی ذمہ داری " جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا سید ابو الاعلی  مودودی﷫  کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دعوت دین کی ذمہ داریوں،مبلغین کے اوصاف اور اس کے طریقہ کار پر بڑی مفید اور شاندار بحث کی ہے۔مبلغین اسلام کے لئے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے۔اللہ تعالی اسے مولف ﷫سے قبول فرمائے اور ہمیں دعوتی ذمہ داریوں سے  کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

     

  • 7 یہودیت قرآن کی روشنی میں (اتوار 02 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3317

    حضرت نوح ﷤ کے بعد حضرت ابراہیم ﷤ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نےاسلام کی عالمگیر دعوت پھپلانے کےلیے مقرر کیا تھا ۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کی طرف لوگوں کو دعوت دی ۔حضرت ابراہیم﷤ کی نسل سے دوبڑی شاخیں نکلیں۔ ایک حضرت اسماعیل ﷤ کی اولاد جوعرب میں رہی۔قریش اور عرب کے بعض دوسرے قبائل کاتعلق اسی شاخ سے تھا۔دوسرے حضرت اسحاق ﷤ کی اولاد جن میں حضرت یعقوب، یوسف، موسیٰ،داؤد، سلیمان،یحییٰ ،عیسیٰ﷩ اور بہت سے انبیاء پیدا ہوئے ہوئے۔حضرت یعقوب کا نام چونکہ اسرائیل تھا اسی لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔حضرت یعقوب﷤ کےچار بیویوں سے بارہ بیٹے تھے۔حضرت یو سف ﷤ اور ان کے بعد بنی اسرائیل کو مصرمیں بڑا اقتدار نصیب ہوا۔مدت دراز تک یہی اس زمانے کے مہذب دنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے۔اور ان ہی کاسکہ مصر اوراس کے نواح میں رواں تھا۔اصل دین جو حضرت موسیٰؑ اور اسے پہلے اور بعد کے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا ۔ان انبیاء میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا اورنہ ان کےزمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔یہ مذہب اس نام کے ساتھ بہت بعد کی پیدا وار ہے ۔یہ اس خاندان کی طرف سے منسوب ہے جو حضرت یعقوب﷤ کے چوتھے بیٹے یہودا کی نسل سے تھا ۔حضرت سلیمانؑ کے بعد جب ان کی سلطنت دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تو یہ خاندان اس ریاست کامالک ہوا جو یہودیہ کےنام سے موسوم ہوئی اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں نے اپنی الگ ریاست قائم کرلی جو سامریہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ پھر اسیریا نے نہ صرف یہ کہ سا...

  • 8 فضائل قرآن (ہفتہ 08 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1807

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن   اور حاملین قرآن کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا:«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے :«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر 

    تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

    فضائل ومحاسن ، آداب و خصائص 

  • 9 اسلامی ریاست (اتوار 30 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:4218

    اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی  جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی  دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار  صرف اللہ تعالیٰ کےلیے  خالص  ہو جائے اور  شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩  اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم  بھی کی  اور اسے  معیاری شکل میں چلایا بھ...

  • 10 پردہ (مولانا مودودی) (بدھ 15 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2689

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن   کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ پردہ‘‘ عالم ِاسلام کے معروف دانشور اور عظیم سکالر سید ابوالاعلیٰ مودودی ﷫ کی عورت کے تاریخی کردار پر عظیم الشان اور بے مثال تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے ایک صالح اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں پردے کی اہمیت ، پردے کے بارے میں صحیح اسلامی احکامات اور ان کی حدود،آ...


  • 0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

    0 کل کتب
    دکھائیں

    اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

    ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1780
    • اس ہفتے کے قارئین: 13793
    • اس ماہ کے قارئین: 34180
    • کل مشاہدات: 43574057

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں