شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب
عبد الوہاب
1703-02-22
1791-02-11

نام: محمد۔
ولدیت: عبدالوہاب۔
نسب نامہ:
محمدبن عبدالوهااب بن علی بن محمدبن احمدبن راشدبن بریدبن محمدبن مشرف بن عمربن معضادبن ریس بن ذاخربن محمدبن علوی بن وهیب بن قاسم بن موسی بن مسعود بن عقبه بن شیع بن نشهل بن شداد بن زهیربن شهاب بن ربیعه بن ابی سودبن مالک بن حنظله بن مالک بن زیدمناة بن تمیم التیمی ان کو الوهیبی کہا گیا اور یہ ان کے دادا وھیب کی طرف نسبت ہےانکی والدہ محترمہ محمدبن عزازالمشرفی الوهیبی کی بیٹی ہیں۔
ولادت:
انکی ولادت 1115ھ بمطابق 1703 میلادی میں عینہ میں ہوئی۔ تعلیم و تربیت:شیخ محمدبن عبدالوھاب کے گھرکاماحول علم و فضل کی تحصیل کامرکزہی نہ تھابلکہ اخلاق فاضلہ اورموروثی شرافتوں کی ضیا پاشیوں کا بے مثال درخشدہ گہوارہ بھی تھا۔اس لیے وہ اس دور کی جاہلانہ کج رویوں سے محفوظ رہے اور والدین کی سرپرستی میں انکی تربیت اسلامی ماحول میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد مکرم سے حاصل کی۔عینیہ میں مدارس عربیہ نہ تھےاس لیے بچوں کو تحصیل علم کےلیے باھر دوسرے اداروں میں جانا پڑتاتھا۔لیکن شیخ محمدبن عبدلوھا ب کا اپنا گھرانہ بہترین مکتب تھا۔انہیں علم حاصل کرنے کےلیے باہر جانے کی ضرورت نہ تھی چنانچہ تحفیظ و تجوید کے بعد عام طور پر جتنے عرصہ میں کوئی بچہ ابتدائی تعلیم کے حصول سے فراغت حاصل کر تا ہےاس سے کہیں تھوڑے عرصے میں اپنی خداداد زہنی صلاحیتوں اور حیران کن دماغی نجابتوں اور قوت حافظہ کی بےپناہ کرشمہ سازیوں سے علوم قرآن،ادب عربی اور علوم دینیہ کے زیور سےمزین ہوئے۔ سن طفولیت کےبعد مزیدتعلیم کےحصول کاشغف اس قدرزیادہ ہوگیاکہ صحیحین اوردیگر امہات حدیث کی کتابوں کی اکثر احادیث کو حفظ کیا اورپھرجیسے جیسےعمرمنزلیں بڑھتی گئی ان کے علم و فضل میں اضافہ ہوتا چلاگیا ابھی 20سال کی عمرکی منزل تک رسائی حاصل نہ کر پائے تھے کہ انہیں اپنے شہر میں ایک بہترین عالم کی حیثیت سےدیکھا جانے لگا۔اور چشم بدور حاسدانہ نگاہوں کا نشانہ بن کئے۔جہاں ان کی علمی وسعت کاچرچا تھا وہاں انکے دلائل کا مانکپن اور حسن قابل فخر تھا۔لیکن اس کے باوجود تکبر اور غرو رکی اصطلاحات کی ابجد سے بھی انہیں کچھ تعلق نہ تھا۔
علامہ شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب نے حجاز تھامہ بصرہ زبیراور احساء وغیرہ کی طرف تحصیل علم کی خاطر اسفار کیے اورمشاہیر علماءکرام سے اجازت فی الحدیث حاصل کی۔ مکہ اور مدینہ کی طرف ایک سے زیادہ مرتبہ سفرکیا۔
اساتذہ:
شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب نے جن اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا ان کے نام درج ذیل ہیں۔1 ۔الشیخ عبداللہ بن سالم البصری المکی الشافعی۔
2 ۔الشیخ عبداللہ بن ابراھیم بن سیف(مدینہ منورہ کے فقہاءمیں سے ایک ہیں)
3 ۔الشیخ محمدبن حیاۃ بن ابراھیم تالسندی (بہت بڑے محدث ہیں اور مشاہیرعلم و عمل ان کے شاگردہیں)
4 ۔الشیخ عبداللہ بن فیروزالاحسانی ۔
تلامذہ:
محمدعبدالوھاب سے کسب فیض کرنےوالوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
مختلف بلاد وامصار سے لوگ شیخ کے پاس تحصیل علم کے لیے آتے تھے۔ان کے نام درج ذیل ہیں جومشہور ہیں۔
1 ۔الشیخ حسین بن عبدالوھاب۔
2 ۔الشیخ عبداللہ بن محمدبن عبدالوھاب۔
3 ۔الشیخ علی بن محمد بن عبدالوھاب۔
4 ۔الشیخ ابراھیم بن محمدبن عبدالوھاب
5 ۔انکے پوتے الشیخ عبدالرحمن بن حسین بن محمدبن عبدالوھاب ۔
6 ۔الشیخ سعیدبن حجی ۔
7 ۔الشیخ عبدالعزیز بن حصین
8 ۔الشیخ حمدبن معمر۔
اس کے علاوہ بھی شیخ سے استفادہ کرنے والے کم نہ تھے۔
تصانیف:
شیخ الاسلام محمدبن عبدالوھاب نے جوکتابیں تحریرکیں ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔چند ایک کتابوں اور رسائل کے نام درج ذیل ہیں۔
1 ۔کتاب مختصر الانصاف والشرح الکبیر۔
2 ۔کتاب مختصر ذادالمعاد ۔
3 ۔کتاب ثلاثہ الاصول۔4
4 ۔کتاب التوحید۔5 ۔کتاب کشف الشبهات۔6 ۔کتاب القواعدالاربع۔7 ۔کتاب اصول الایمان ۔8 ۔کتاب فضل الاسلام ۔9۔ کتاب مسائل الجاهلية۔10 ۔کتاب السیرة ۔11 ۔کتاب الهدی النبوی ۔12 ۔کتاب شروط الصلاة وارکانها۔13 ۔کتاب الکبائر۔14 ۔کتاب نصیحة المسلمین۔15 ۔کتاب بفسیر الفاتحة۔16۔ کتاب تفسرالشهادة۔
17 ۔التوحید۔18۔ کتاب الستة مواضع من السیرة۔
کلمات ثناء:
شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب  بارہویں صدی ہجری کے مجددین میں شمار کیے جاتےہیں۔جنہوں نے پوری محنت اور جانفشانی کے ساتھ سر زمین حجاز میں اس وقت احیاءاسلام کے لیےکوششیں کیں جب سرزمین حجازجاہلیت کے اندھیرے میں ڈوب چکی تھی اور شرک وبدعت کی وہی کیفیت پیدا ہوچکی تھی جورسول اللہﷺ کے زمانہ میں تھی انہوں نے اس کیفیت کو دیکھا تو تلملاگئے۔اوراپنی جداداد صلاحیتوں کو احیاء اسلام کے لیے وقف کر دیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دست مبارک پر لاکھوں انسانوں نےتوبہ کی اور فساق و فجار آغوش خداوندی میں داخل ہوکر اسلام کے سچے خادم بن گئے نجد کے مختلف علاقوں میں آپ کی مساعی سےبفضل اللہ وعونہ مسجدیں آباد ہوگئیں اور لوگ کتاب و سنت کے علوم کی تحصیل میں منہمک ہوگئے۔
جب ہم ان کےحالات پر تحریر کردہ کتابوں کامطالعہ کرتے ہیں توہمیں خوشی و مسرت محسوس ہوتےہے کہ شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب اپنی زندگی میں ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں اور ایک اسلامی ریاست میں اسلامی قوانین کا نفاز ہوجاتا ہے۔جہاں امر باالمعروف نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ حدود الٰہیہ کا بھی نفاذ ہوجاتا ہےاو رکوئی غیرشرعی کام دیکھنے میں نہیں آتا۔ان کی مساعی جمیلہ کے اثرات کا نتیجہ ہے کہ آج سرزمین نجدوحجازمیں ایک مثالی اسلامی ریاست کا قیام ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ متاخرین میں ان کی نظر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکتی۔ ان سے پہلے جتنے داعی اصلاحی پروگراموں کو لیکر میدان عمل میں رونق افروز ہوئے انکی کاوشوں کی شعاعئیں معاشرہ کی اجتماعی تاریکیوں کوختم نہ کر سکیں اور ان کی تحریکوں کے اثرات محدود دوائر سے آگے نہ نکل سکے لیکن عالم اسلام میں وہابی تحریک کو جوفروغ اور مقبولیت ہوئی اس سے دوسری اسلامی تحریکیں محروم نظر آتی ہیں۔
سنوسی اورمہدی کی تجدیدی مساعی کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انکی تحریکیں لیلائے مقصود سے ہمکنار نہ ہوسکیں۔اور اب عالم اسلام میں ان کی ادنی سی بھی جھلک نظر نہیں آتی۔
شیخ محمدبن عبدالوہاب باوقار جلیل القدر سلفی العقیدہ حنبلی المذہب متواضع لیکن باوقارعالم تھے۔علم فقہ حدیث تفسیرعلوم قرآن اور عربی ادب میں ممتاز حثیت کے مالک سمجھے تھے۔نہ صرف مسجد میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا بلکہ گھر میں بھی انتظام تھااور طلبگاران علم ان کی درس گاہ میں پہنچ کر علم و اخلاق کے موتیوں سے اپنے دامنوں کو بھرتے رہتے تھے۔
شیخ الاسلام ابتداء وعظ و تبلیغ میں مشغول رہے اسلام کی خوبیوں کا پرچار کرتے شرک و بدعت سے بچتے کی تاکیدفرماتے کتاب وسنت کی روشنی میں صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دیتے رہے جب لوگ ان کی باتوں کو قبول کر لیتے تو ان سے جنگ و جدال کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھتے البتہ جو لوگ اسلام کی صداقتوں کے قبول کرنے کو ضروری سمجھتے خلاصہ کلام یہ ہےکہ شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب کی دعوت الی اللہ سلف صالحین کے تقش قدم پرتھی اور ان پراسلام مخالفت کا الزام لگانا بالکل بے بنیادہے۔
جیساکہ بعض لوگوں کی طرف سے ان پر الزام عائدکیا گیا ہے کہ وہ اسلام کے مخالف تھے۔
وفات:
شیخ محمدبن عبدالوھاب کی طرف وفات 1206 ہجری بمطابق 1791 عیسویں میں ریاض کے قریب عینیہ میں ہوئی۔ابن غنمام کہتے ہیں کہ شوال کے مہینےمیں آپ بیمار ہوئے اور پھر اس مہینہ کی آخری تاریخوں میں آپ کا انتقال ہوا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حوالہ: شیخ الاسلام محمدبن عبدالوھاب از احمد عبدالغفور عطار ترجمہ صادق خلیل ۔۔۔۔ ویکیپیڈیا۔

    title-pages-islam-ki-amarat-ko-dha-dene-wale-dus-umoor-copy
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    اسلام سے خارج کر دینے والے امور کو نواقض اسلام کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہیں اور آدمی پر آگ واجب ہو جاتی ہے۔ ان کے پائے جانے کی صورت میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ خیرات تو کیا حتیٰ کہ کلمہ بھی فائدہ نہیں دیتا.... تاآنکہ ان سے توبہ نہ کر لی جائے۔ کیونکہ نواقض اسلام ہیں ہی وہ باتیں ہیں جن کی سب سے پہلے کلمہ پر ہی زد پڑتی ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ آدمی کو نواقض اسلام بھی معلوم ہوں۔ کچھ بھی ہو جائے ایسی بات کے تو آدمی قریب تک نہ جائے جس سے اس کا کلمہ ہی ضائع ہو جائے اور یوں اس پر سے اللہ کی رحمت کا سایہ اٹھ جائے اور پھر وہ جتنے بھی اعمال کرے سب کے سب مقبولیت سے محروم رہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے والے دس امور (نواقض الاسلام) ‘‘شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫ کا کتابچہ ہے اس میں انہو ں ایسے دس امور پیش کیے ہیں جن کا ارتکاب کر کے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔اگر انسان اسی حالت میں فوت ہوجائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔اس لیے ہر مسلمان مرد وعورت پر لازم ہے کہ وہ اسلام کو ختم کرنے والے امور کو اچھی طرح جان لے ۔ایسا نہ ہوکہ کوئی مسلمان ان کفریہ امور کا ارتکاب کر بیٹھے اور اسے خبر بھی نہ ہو کہ یہ کفر ہے۔ایسے امور کو جاننے کےلیے اس کتاب کامطالعہ ضرور کریں۔(م۔ا)

    title-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔124 مسائل ایسے تھے جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔مجدد الدعوہ شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوھاب نے ان تمام مسائل کو اس کتابچے میں جمع فرما دیا ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔موضوع کی افادیت کو سامنے رکھتے معروف عالم دین مولانا عطاء الرحمن ثاقب نے اس کا اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کے آسانی پیدا کردی ہے۔اللہ تعالی ان تمام حضرات کی محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    shirak-ka-murtakab-kafar-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔ آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں اور شرک وبدعات کے خلاف میدان کارزار میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔آپ نے خالصتا کتاب وسنت کی دعوت کو عام کیا اور لوگوں کو شرک وبدعات سے دور کرنے کے لئے کتب لکھیں۔آپ کی من جملہ کتب میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (شرک کا مرتکب کافر ہے) ہے۔جو آپ کی عربی کتاب (کشف الشبہات فی التوحید) کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم ابو بکر صدیق سلفی نے حاصل کی ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ان کتابوں کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنی کتب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،ان کتب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-mukhtasar-zad-ul-maad
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب
    سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب رحمہ اللہ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم رحمہ اللہ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے کياہے۔

    kitab-ul-tauheed-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔اس کتاب کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اس کتاب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،اس کتاب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ افادی حیثیت مسلم رہے گی۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-kitab-al-touheed-ma-takhreej-copy
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    اللہ  تبارک و تعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں  واحد اور بے  مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنی یہ کہ ہم اللہ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے  قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے  اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی  عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آتی ہے  ۔نیز  شرک اعمال  کو ضائع وبرباد کرنے  والا اور ثواب سے محروم  کرنے والا ہے ۔ پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ چنانچہ جس  کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں  اللہ کے علاوہ کسی  کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی  وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں  اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں  بےشمار خدمات  انجام دیں۔ ماضی میں  شیخ الاسلام  محمد بن الوہاب﷫  کی  اشاعت  توحید  کےسلسلے میں خدمات  بڑی  اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا  اس بات پر اتفاق ہ کہ  اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب  نہیں لکھی  گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت  کے افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم  نےاس کی شروحات بھی لکھی  ہیں اور  کئی علماء نے اس کتاب  کےمتعد د زبانوں  میں ترجمہ  بھی کیا  ہے۔اردو  زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے  جسے   سعودی  حکومت  اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں  شائع کر کے  فری تقسیم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’کتاب التوحید‘‘کا ترجمہ  علامہ محمدعثمانی  صاحب نے کیا ہے اور  شیخ الحدیث  مولانا حافظ محمداسلم شاہدروی﷾ نے کتاب التوحید کی تخریج اورمشکل مقامات کی توضیح اور کتاب کی پروف خوانی کے علاوہ اس پر   تفصیلی مقدمہ  بھی  تحریر کیا ہے  ۔ اللہ تعالیٰ مترجم  وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-kalma-e-toheed-ka-fikri-pehlu-copy
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم ﷺنے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی ﷫توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" کلمہ توحید کا فکری پہلو" امام التوحید شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم عبد الجبار سلفی  صاحب نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 303 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں