شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-al-balagh-al-mubeen-fi-ahkam-rabb-ul-alameen-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا  کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا  وغیرہ ایسے اعمال جو  شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"البلاغ المبین فی احکام رب العلمین واتباع خاتم النبین" حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی فارسی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا محمد علی مظفری صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں قبر پرستی کی حرمت اور شرک کی مذمت پر گفتگو کی ہے۔مولف کی اس کے علاوہ بھی متعدد کتب ہیں، جو تقلید کے خاتمے اور شرک کی مذمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-al-lataif-al-qudus-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رشدو ہدایت کے لیے انبیاء کرام کی ایک مقدس جماعت کو مبعوث فرمایا جو اللہ رب العزت کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق انسانوں کے عقائد و اخلاق کی اصلاح کرتے تھے۔ اسی طرح انبیاء کرام کے بعد ان کے جانثار حواری اور اصحاب نے اس مقدس فرض کو بخوبی سر انجام دیا اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام کو بذریعہ وحی احکامات کی ترسیل فرماتے تھے اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا اور دین اسلام کو مکمل اور کامل فرما کر تمام انسانیت کےلیے راہ نجات اور مشعل راہ بنا دیا گیا۔ انبیاء کرام اور رسل کے بعد دین کی دعوت و تبلیغ کا کام صحابہ کرام، تابعین عظام، محدثین اور علمائے دین پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے جنہوں نے اپنی شب وروز کی انتھک محنتوں  سے عوام الناس تک پہنچا کر حجت قائم کر دی۔ اللہ رب العزت اپنے برگزیدہ بندوں میں سے کچھ کو کشف و الہام کے ذریعے کچھ خبروں کی اطلاع فرما دیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب" الطائف القدس فی معرفۃ لطائف النفس" جو کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تصنیف ہے۔ اس رسالہ میں ان تمام الہامات کو ضبط کیا ہے جو اس زمانہ میں آپ کو وقتاً فوقتاً ہوتے رہے۔ چونکہ یہ رسالہ فارسی میں تصنیف شدہ تھا اس لیے لوگوں کی آسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو سید محمد فاروق القادری ایم۔ اے نے آسان فہم اردو زبان میں منتقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-hujja-tulllah-al-baaligha
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    شاہ ولی اللہ دہلوی برصغیر کی جانی مانی علمی شخصیت ہیں۔ شاہ صاحب بنیادی طور پر حنفی المسلک تھے۔ وہ دور برصغیر میں تقلیدی جمود کا دور تھا اور فقہ حنفی کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔شاہ ولی اللہ جیسے ماہر فقہ نے اسی مکتبہ فکر میں پرورش پائی تھی۔ لیکن جب آپ  حج کے لیے مکہ گئے تو وہاں سے عرب شیوخ سے درس حدیث لیا یہیں سے آپ کی طبیعت میں تفہیم دین بارے تقلیدی جمود کے خلاف تحریک اٹھی۔ وہاں سے تشریف لاکر سب سے پہلے آپ نے برصغیر کے عوام کو اپنی تحریروں سے یہ بات سمجھادی کہ دین کسی ایک فقہ میں بند نہیں بلکہ چاروں اماموں کے پاس ہے۔ یہ جامد تقلید کے خلاف برصغیر میں باضابطہ پہلی کوشش تھی۔ اس کے بعد شاہ صاحب نے  ساری زندگی قرآن و سنت کو عام کرنے کے لیے وقف کردی۔ پیش نظر کتاب ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ بھی موصوف ہی کی مشہور و معروف تالیف ہے جس میں آپ نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات،  سماجیات او راقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کے فرائض مولانا خلیل احمد بن مولانا سراج احمد نے ادا کیے ہیں۔ یہ اردو ترجمہ خاصا پرانا ہے اس لیے بہت سارے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو موجودہ اردو کتب میں متروک ہو چکے ہیں۔ اور کتابت بھی ہاتھ سے کی گئی ہے جس کی وجہ سے کتاب کا مطالعہ کرنا قدرے مشکل ہو گیا ہے۔ کتاب کی افادیت کی پیش نظر اس کو جدید اسلوب میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-aqad-al-jayyad-fi-ahkam-al-ijtihad-w-al-taqleed-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘رہی ہے۔ موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔ امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید ‘‘امام الہند سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صاحب نے کیا ہے۔سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ان نامور مصلحین ومجددین میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں قرآن وسنت کی حقیقی تعلیمات کو متعارف کروایا۔آپ نے برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار قرآن وسنت اور حدیث وسیرت کو اساس قرار دیا۔آپ کے خاندان نے قرآن وسنت کی جو بے مثال خدمت کی ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-aun-al-khabir-shrha-al-fouz-ul-kabir-fi-usool-al-tafsir
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ لیکن شاہ ولی اﷲ کا ایک بے مثال کارنامہ ''الفوز الکبیر فی اصول التفسیر ''ہے ۔شاہ صاحب کی علوم القرآن پر اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف ''الفوز الکبیر'' سند کا درجہ رکھتی ہےچونکہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب تھی اسی لئے اناً فاناً سارے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت پھیل گئی۔منیر الدین دمشقی اور مولانا سلمان ندوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے ۔ مفتی محمد سعید پالن پوری نے بھی اس کا عربی میں ترجمہ کیا، اور اردو و عربی میں شرح بھی لکھی۔اس کے علاوہ بھی کئی اہل علم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ۔ زیر نظر کتاب ''عون الخبیر شرح الفوز الکبیر'' مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی کی تصنیف ہے جو کہ فوز الکبیر کو تدریس کے دروان ان کے کیسٹوںمیں ریکارڈ شدہ دروس کو سن کر تیار کی گی ہے ۔فوز الکبیر کی یہ شرح طالبانِ علوم نبوت اور مدارس کےاساتذہ وطلباء کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے کیونکہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ میں شامل نصاب ہے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    pages-from-fiqhi-ikhtilafaat-ki-asliyat
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور ضابطہ اخلاق ہے جو زندگی کے ہر پہلوں کے متعلق مکمل رہنمائی کرتا ہے یہ بات بد قسمتی سے اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب سے یکسر ختم ہو چکی ہے‘جس کی بنیادی وجہ تعلیمات الہیہ سے انحراف یا پھر تحریفات و تاویلات کا طرز فکر ہے جس نے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ اسی طرح کی کچھ صورت حال امت مسلمہ کی بھی ہے جس کی وجہ سے آج امت مسلمہ مختلف جماعتوں، گروہوں، اور ٹولیوں میں بٹی ہوئی ہے، اس ختلاف کے اسباب کیا ہیں؟ اور ان کے ازالے کی کیا صورت ہو سکتی ہے، انہیں ہم چار بنیادی باتوں میں محصور کر سکتے ہیں، تعلق باللہ کی کمی، مقام نبوت سے نا آشنائی، مقصدیت کا فقدان اور مسلکی اختلافات کی حقیقت کو نہ جاننا، آج ہمارا تعلق اپنے خالق و مالک سے کمزور ہو چکا ہے، بلکہ رسمی بن کر رہ گیا ہے، اللہ تعالی سے تعلق کی بنیاد پر ہی دل باہم جڑتے ہیں، کتنے لوگ ہیں جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کا عمل آپ کی سنت کے خلاف ہوتا ہے، یاد رکھیں صحابہ کرام میں جو اتحاد پیدا ہوا تھا اس میں حب رسول کا بھی دخل تھا لیکن یہ خالی جذباتی محبت نہ تھی بلکہ انہوں نے آپ کو اپنی زندگی کا آئیڈیل اور نمونہ بنا لیا تھا، دوسری جانب کتنے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی محبت میں ایسا غلو کیا کہ خالق و مخلوق کا رشتہ اور فرق بھی ختم ہونے لگا۔اسی خدشہ کا اظہار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخیر وقت میں کیا تھا اور فرمایا:میری شان میں غلو مت کرنا جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں غلو کیا میں محض ایک بندہ ہوں لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو (صحيح البخاري)اگر ہمیں اتحاد امت مطلوب ہے مگر میں تو کہنا چاہوں گا ضرور ہونا چاہئے تو اس کے لیے ہمیں اللہ تعالی سے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا، پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو اپنی اصلی شکل میں ماننا ہوگا، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ فرق کو سمجھنا ہوگا اور کتاب و سنت کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنانا ہوگا کیوں کہ اسی بنیاد پر امت متحد ہوئی تھی اور آج بھی اسی کی بنیاد پر متحد ہو سکتی ہےخود صحابہ کرام کے بیچ اختلافات پائے جاتے تھے لیکن ان کے اختلافات نے کبھی عداوت کی شکل اختیار نہ کی ‘کبھی انتشار و افتراق کا سبب نہ بنے، وجہ صرف یہ تھی کہ سب حق کے متلاشی تھے، قرآن و حدیث ان کا مطمح نظر تھا، ائمہ اربعہ کے بیچ اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن ان کا دل ایک دوسرے کے تئیں بالکل صاف تھا، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کبھی رنجش پیدا نہ ہوئی ۔آج امت مسلمہ کو باہمی محبت کی ضرورت ہے، ظاہر ہے اس کے لیے وسعت نظری کی ضرورت ہے اور وسعت قلبی کی بھی۔ تنگ دلی اور تنگ نظری سے ہمیں نقصان ہی ہوا ہے اور ہو رہا ہے‘ بلکہ مجھےکہنے دیا جائے کہ ہمارے اختلاف کی وجہ سے غیر قومیں اسلام سے بدظن ہو رہی ہیں، اسلام پر سوالیہ نشان اٹھ رہا ہے۔ خدا راہ ذرا ہوش میں آئیے اور وقت کی نزاکت کے پیش نظر اختلافات سے نکل کر اتحاد و اتفاق کی طرف توجہ مبذول کر یں ۔اختلافات بہت ہو گئے، بیان بازیاں بہت ہو چکیں، اب متحد ہونے کی ضرورت ہے ، سب سے پہلے ہم اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کریں، ہمارا کام محض اللہ کے لیے ہو، ہمارے ہر عمل میں اللہ کی خوشنودی مطلوب ہو، اچھائیوں کو سراہیں اور کوئی غلطی ہے تو نیک نیتی کے ساتھ اور خیر خواہانہ انداز میں اسے ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کریں جب تک ایک دوسرے کےقریب نہ ہوں گے تلخیاں دور نہیں ہو سکتیں۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی موضوع کی ایک کڑی ہے کہ ’’اتحاد امت میں حائل رکاوٹیں اور اختلاف کے اسباب کی نشان دہی کی گی ہے اور ان اختلافات کا حل پیش کیا گیا ہے جس کو محدث الاثر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫نے(الانصاف فی بیان سبب الاختلاف)کے عنوان سے مرتب کیا۔ انہوں نے 5 ابواب میں کتاب کو تقسیم کیا جس میں پہلا باب ’’صحابہ اور تابعین میں فروعی اختلاف کے اسباب کا نام دیا‘‘دوسرا باب ’’فقہی مخسالک میں اختلاف کے اسباب ‘‘تیسرے باب ’’اہل حدیث و اہل الرائے کے درمیان اختلاف کے اسباب ‘‘چوتھا باب ’’چوتھی صدی سے قبل کے حالات‘‘اور پانچواں باب ’’چوتھی صدی ہجری کے بعد کے حالات ‘‘کے نام سے کتاب کو ترتیب دیا آخر میں شخیات ‘کتب‘مقامات‘قرآنی آیات کی فہرست اور احادیت مبارکہ کی فہرست دی ہے ۔جس سے امام موصوف کی علمی اور انقلابی فکر کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر وہ اتحاد امت کی ضرورت محسوس کر تے تھے ‘اس کتاب کی اہمیت و افادیت سے کوئی صاحب شعور انکار نہیں کر سکتا۔جیسا کہ :فاضل ‘ مترجم ’’محمد عبید اللہ بن خوشی محمد جو کہ علماء اکیڈمی محمکہ اوقاف پنجاب کے سرمایہ فخر ہیں اردو زبان میں ٹرانسلیٹ کرنی کی انتھک محنت کے بعد اپنی مراد کو پہنچنےمیں کامیاب ہو ئے اس کو’’فقہی اختلاف کی اصلیت ‘کا نام دیا یہ بات یاد رکھیں اس کتاب کے اس سے قبل کئی تراجمے ہو چکے ہیں مگر ہر ترجمہ کی افادیت اپنی ہوتی ہے اس کی جازبیت کے مدارج مختلف ہوتے ہیں چاہے کتنی ہی زبانوں یا کتنی ہی بار اس کے ترجمے کیوں نہ ہو جائیں قارئین کے دلوں پر جداگانہ اثر ہوتا ہے ہر مصنف کا اک ابنا خاص اسلوب بیان ہوتا ہے   مترجم موصوف نے شروع میں شاہ ولی اللہ محمدث دہلوی ﷫کا مختصر تعارف پیش کیا ہے مشکل مقامات کی وضاحت کی‘ عبارات میں تسلسل کو نہایت کی خوبصورت انداز میں ترتیب دیا ہے آخرمیں آشاریہ کا کام علماء اکیڈمی کے آفیسر تحقیق و مطبوعات نے تیار کیا ہے ‘ اس مو ضوع کا خلاصہ (شاہ ولی اللہ محمدث دہلوی ﷫کی مایا ناز تصنیف :حجۃ اللہ البالغہ کے تتمہ میں بھی موجود ہے ) علماء اکیڈمی محکمہ اوقاف   پنجاب نے مفید جانتے ہوئے   1981ء میں شائع کیا ۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو مؤلف( شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫اور مترجم ’’محمد عبید اللہ بن خوشی محمد﷫)کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ‘ان کے درجات و حسنات بلند فرمائے اس کتاب کو اتحاد امت کا ذریعہ بنائے۔ آمین(ظفر)

    pages-from-qisas-ul-ambiyaa-key-ramooz-aur-un-ki-hikmatain
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    قرآن مجید میں متعدد انبیاء کرام کے قصے مذکور ہیں۔یہ تمام قصے اجمالا اور تفصیلا ہر سورۃ کے اسلوب کے اقتضاء کے موافق مختلف طریقوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض قصے تو بہ تکرار بیان ہوئے ہیں اور بعض قصوں کے واقعات فقط ایک یا دو جگہ بیان ہوئے ہیں۔ ہمارے مفسرین نے جب قرآن مجید کی تفاسیر لکھیں تو ان میں سے بعض نے بنی اسرائیل سے مروی روایات کی مدد سے جو ان کے ہاں ان انبیاء کے متعلق مشہور تھیں، قرآن مجید کی تفسیر میں بیان کردیں۔اور اس طرح بد قسمتی سے اسرائیلیات ہمارے علم تفسیر کا ایک حصہ بن گئیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب "الفوز الکبیر" میں لکھتے ہیں کہ اسرائیلی روایات کو نقل کرنا ایک ایسی بلا ہے جو ہمارے دین میں داخل ہو گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "قصص انبیا کے رموز اور ان کی حکمتیں" حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی عربی تصنیف "تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء" کا اردو ترجمہ ہے،اردو ترجمہ محترم غلام مصطفی القاسمی صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے انبیاء کرام کے قصص سے مستنبط رموز اور حکمتوں کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-1-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-2-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-3-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-6-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-5-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-4-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-8--part-2--copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

    title-pages-majmua-rasail-imam-shah-wali-ullah-7-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ شاہ صاحب نے تصوف وسلوک ، فقہ واصول فقہ ، اجتہاد وتقلید کے حوالے سے کئی رسائل تالیف فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہ ‘‘ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے تصوف وسلوک کا فلسلفہ ، تاریخ تصوف اوراحکام شریعت کےاسرارورموز، فقہ ،تاریخ فقہ، اجتہاد، وتقلید، تفسیر، و اصول تفسیر، تاریخ علوم وفنون، نظریہ تعلیم اور وصیت نامہ پر مشتمل متعدد نادر ونایاب رسائل وکتب کا گرانقدر مجموعہ ہے۔ شاہ صاحب کے یہ سارے رسائل فارسی یا عربی زبان میں ہیں اور نایاب تھے تو شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ ) دہلی نے ان رسائل کا اردو تراجمہ کرواکر انہیں آٹھ ضحیم مجلدات میں شائع کیا ہے ۔ان رسائل میں تصوف کے حوالے سے بعض ایسے رسائل بھی ہیں کہ ان میں بیان کیےگئے شاہ صاحب کے نظریات سے ادارہ کا اتفاق نہیں ہے محض تحقیق وتنقید کرنے والے ریسرچ سکالرز کی سہولت کے لیے انہیں سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے کیونکہ عموماً شاہ صاحب کے یہ رسائل یکجا دستیاب نہیں ہوتے ۔(م۔ا)اس مجموعہ میں شامل رسائل کی فہرست حسب ذیل ہے : ہمعات، سطعات، لمعات،الطاف القدس، الخیر الکثیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید، الانصاف فی سبب الاختلاف، الفوز الکبیر فی اصول تفسیر، فتح الخیر بما لابد من حفظہ فی علم التفسیر، فیوض الحرمین، السرالمکتوم فی اسباب تدوین العلوم، چہل حدیث، شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوب، انفاس العارفین، مقدمہ در قوانین ترجمہ ، حجۃ اللہ البالغہ،الدر الثمین فی مبشرات النبی الامین، مکتوب مدنی ، القول الجمیل فی بیان سواء السبیل، انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ، البلاغ المبین، العقیدہ الحسنۃ، التفہیمات الالٰہیہ، البدور البازغہ وغیرہ ۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1758 مہمان آن لائن ہیں اور اراکین میں سے ایک رکن موجود ہے۔

  • arasheednaz

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں