صفی الرحمن مبارکپوری

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
صفی الرحمن مبارکپوری
    title-page-alrheeq-ul-makhtoom
    صفی الرحمن مبارکپوری
    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے آپ صلی  اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی سے ہدایت میسر آسکتی ہے ’’وان تطیعوا تہتدوا‘‘(القرآن) اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کامطالعہ کیا جائے او راپنے کرداروعمل کو اس کے مطابق ڈھالا جائے زیر نظر کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘میں انتہائی دلآویز اور مؤثر پیرائے میں رسو ل اکر م صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت پاک  کو بیان کیا گیا ہے کتاب کے علمی مقام ومرتبہ  کے لیے اتنا کافی ہے کہ سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں یہ اول انعام کی مستحق قرار پائی ہے امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے دلوں میں اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عملاًاپنانے کا جذبہ پیدا ہوگا۔


    inkarehadeeshaqyabatil-copy
    صفی الرحمن مبارکپوری
    منکرین حدیث کے تمام بنیادی شبہات کے دو ٹوک جواب پر مشتمل علمی و تحقیقی کتاب ہے۔ جس میں منکرین حدیث کی طرف سے پیش کئے جانے والے نام نہاد دلائل اور احادیث پر اعتراضات کا محکم براہین کی روشنی میں بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ فتنہ انکار حدیث کے جائزے پر مشتمل اس کتاب میں ظنیات کی بحث، انکار حدیث کے اصولی دلائل، حجیت و کتابت حدیث، احادیث کے متفرق و متضاد ہونے کی حقیقت، اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور منصب رسالت کی حیثیت، نماز پنجگانہ اور منکرین حدیث، عذاب قبر اور ثواب قبر جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
    title-page-tajalliat-e-nubuwat-copy
    صفی الرحمن مبارکپوری
    اس کتاب میں مصنف رحمہ اللہ نے کمال ہنر مندی سے سیرت کے تمام تر وقائع کو ایسی نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے مطالعے سے دل ودماغ پر ایک پاکیزہ نقش قائم ہوجاتا ہے اس کتاب میں مصنف رحمہ اللہ نے دعوت اسلامی کے تمام مراحل اور اس کی پیش آمدہ دشواریوں کا مناسب تذکرہ کیا ہے تکالیف اور مصائب کے بحرانوں میں کس طرح وحی الہی نصرت الہی کے راستے پیداکرتی ہے اس کا ایمان افروزبیان ملتا ہےنیز مصنف نے واقعات سیرت کی صحت میں مستند ماخذوں تک رسائی حاصل کی ہے اردوزبان میں سیرت کی یہ پہلی  مختصر مگر جامع کتاب ہے جس میں واقعات کی صحت کے ساتھ اس کی مکمل تخریج موجود ہے

    title-pages-tajalliyat-e-nabuwat
    صفی الرحمن مبارکپوری
    سیرت نبویؐ انتہائی پاکیزہ اور بلند پایہ موضوع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام سے آج تک اس موضوع پر لکھنے لکھانے اور پڑھنے پڑھانے کا بڑا اہتمام ہوتا آیا ہے۔ حتیٰ کہ آپؐ کی ذات گرامی کو یہ استثناء حاصل ہے کہ آپ کی حٰات مقدسہ اور خدمات جلیلہ کے تذکرے کو کم و بیش پانچ لاکھ سوانح نگاروں نے کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہ کام گہرے ایمان و محبت اور والہانہ جذبۂ فنا و فدائیت کا نتیجہ ہے مگر ہوتا یہ رہا ہے کہ عموماً اس موضوع پر لکھتے ہوئے اصولِ سیرت پر مرتب شرائط و ضوابط کا اہتمام نہیں کیا جاتا بلکہ جو چیز افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کی نظر میں جچ جاتی ہے اس کو داخلِ کتاب کر لیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ماضی قریب کے عظیم سیرت نگار مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی تصنیف لطیف ہے۔ آپ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ آپ کی کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ کو رابطہ عالمِ اسلامی کے تحت منعقد ہونے والے بین الاقوامی انعامی مقابلہ سیرت نگاری میں اوّلیت کا شرف حاصل ہے۔ تجلیات نبوت، درأصل دینی مدارس، ہائی سکولوں کے طلبہ اور عامہ المسلمین کے استفادے کیلئے ایک متوسط بلکہ قدرے مختصر کتاب ہے۔ اس کتاب میں قابل مصنف کے اصولِ سیرت نگاری پر مرتب شرائط و ضوابط کو کما حقہ مدّ نظر رکھا ہے۔ سیرت کے تمام تر وقائع کو نئی ترتیب اور تازہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے اور واقعاتِ سیرت کی صحت میں مصنف نے مستند ماخذوں تک رسائی حاصل کیا ہے اور اس تلاش و جستجو کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کے ہاں اصولِ دین سے متصادم کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ سیرت نگاری کے اس فن میں صحتِ واقعات کی تلاش میں یہ اختیار اور ضبطِ لائق تحسین ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ واقعات کی تخریج و تصحیح اور ممتاز سکالر محسن فارانی کے پیش کردہ جدید و قدیم نقشوں نے اس کتاب کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ ادارہ دار السلام بھی لائق مبارکباد ہے کہ اس نے اس کتاب دلکش کی طباعت و اشاعت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ (آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-razam-e-haq-o-batil-rudaad-e-manazra-banaras-1978
    صفی الرحمن مبارکپوری

    ہندوستان کی علمی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام اور اس کی سچی تعلیمات کے خلاف جب بھی کسی گستاخ نے زبان کھولی یا اپنی ہفوات کو تحریر کی شکل دی تو اس کا دندان شکن، مسکت اور تسلی بخش جواب کے لئے علماء اہل حدیث ہمیشہ صف اول میں رہے۔اس سلسلے میں آریہ،سناتن دھرمی،قادیانی اور عیسائیوں سے مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب کے مناظرے اور مقدس رسول، حق پرکاش اور ترک اسلام کو بطور نمونہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "رزم حق وباطل، روداد مناظرہ بجرڈیہہ بنارس" دراصل جبرڈیہہ بنارس میں ہونے والے ایک مناظرے کی روداد ہے جو 23 تا 26 اکتوبر 1978ء میں منعقد ہوا اور اس میں اہل حدیثوں کی طرف سے سیرۃ النبیﷺ پر عالمی انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کے مولف مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب جبکہ بریلویوں کی طرف سے مولانا ضیاء المصطفی قادری نے شرکت کی۔ اس مناظرے میں مولانا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب نے دلائل کے ساتھ فریق مخالف کا منہ بند کر دیا اور حق کو واضح کر دیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-azabe-qabar-ka-bayan
    صفی الرحمن مبارکپوری

    شاید ہی  اسلام کاکوئی  حکم اور مسئلہ ہو کہ  جومختلف مسالک کے فلسفیانہ اور تخیلاتی بھنور میں پھنس کر  اپنے  اصل حلیے کو نہ کھو  چکا ہو انہی مسائل میں سے  ایک مسئلہ  عذاب قبر کا  مسئلہ ہے جس کے بارے میں لوگ افراد وتفریط کا شکار ہیں اور  منکرین حدیث کی طرح  منکرین عذابِ قبر  کے  عقیدہ  کے حاملین  بھی  موجود ہیں جس کی کوئی بھی  معقول دلیل موجود نہیں اس کے برعکس اثبات  قبر پر بہت سی  آیات قرآنیہ اور سینکڑوں احادیث موجود ہیں۔فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق موت کے بعدکا مرحلہ آخرت کی ہی پہلی سیڑھی اور زینہ ہے  اس مرحلہ میں موت سے لے کر یوم البعث کے  قائم ہونےتک جو کچھ قرآن کریم اور صحیح احادیث میں ثابت ہے اس  پرایمان لانالازمی  ہے ۔عذاب ِ قبر دین اسلام کے  بنیادی  عقائد میں  سے  ایک  اہم  عقیدہ  ہے عقلی وعلمی گمراہیوں میں غرق ہونے  والے  اور بے دین افراد اگرچہ  عذاب قبر کا  انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی  ہے  کہ اس کے  برحق ہونے پر کتاب  وسنت میں  دلائل کے انبار موجود  ہیں اسی لیے  جملہ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے اور وہ اسے برحق مانتے  ہوئے  اس  پرایمان رکھتے ہیں ۔اس مسئلے  پر  امام  بیہقی ،امام ابن قیم ، اما م جلال الدین سیوطی ، اورامام ابن رجب ﷭  جیسے کبار محدثین اور آئمہ  کرام نے  باقاعدہ کتب  تالیف فرمائی  ہیں ۔ زیر نظر  کتابچہ’’عذاب قبر ‘‘معروف  عالم دین  مو لانا  صفی الرحمن  مباکپوری  اور  مولانا  ابو عبد اللہ  جابر دامانوی ﷾ کی مسئلہ  اثبات  عذاب قبر  پر اہم تحریر یں ہیں۔جس  میں  انہوں نے عذاب قبر کے متعلق جو مختلف شکوک شبہات  ونظریات محض عقلی بنیادوں پر پائے جاتے  ہیں کتاب وسنت کی روشنی میں  منکرین عذاب قبر کا  کافی وشافی جواب دیا گیا ہے  اور دلائل وبراہین سے ثابت کیا گیا ہے کہ  عذاب قبر برحق ہے ۔  محمد یٰسین  راہی ﷾ (مدیر  اداہ  تبلیغ  اسلام، جام پور)  نے ان دونوں تحریروں کو یکجا کرکے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں حق کے  اتباع کی  توفیق عطا فرمائے او رباطل سےمکمل طور پر اجتناب کی  توفیق دے ( آمین ) ( م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-fitna-e-qadianiat-aur-sanaullah-amratsari
    صفی الرحمن مبارکپوری
    شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔ مولانا نے جہاں دین اسلام کے لیے اور بہت سی خدمات انجام دیں وہیں قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزائیت کے رد میں جس مردِ حق نے سب سے زیادہ مناظرے کیے، کتب تصنیف کیں اور مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکارا، اسے دنیا فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے نام سے جانتی ہے۔ مولانا محترم نے قادیانیت کے رد میں جو کتب اور رسائل لکھے ہیں، ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: تاریخ مرزا، الہامات مرزا، نکاح مرزا، نکاتِ مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، چیستان مرزا، محمد قادیانی، بہاء اللہ اور مرزا، فاتح قادیان، فتح ربانی اور مباحثہ قادیانی، شاہ انگلستان اور مرزا قادیان، مکالمہ احمدیہ، صحیفہ محبوبیہ، تحفہ احمدیہ اور بطش قدیر بر قادیانی تفیر کبیر وغیرہ۔ پیش نظر کتاب کا موضوع مولانا ثناء اللہ امر تسریؒ کے ان کارناموں اور خدمات کا تعارف ہے جو موجودہ صدی میں ملت اسلامیہ کے خلاف اٹھنے والی خطرناک ترین تحریک، قادیانیت کے رد و ابطال میں آپ نے انجام دی تھیں۔(ع۔م)

    title-pages-qadianiat-apnay-ainay-main
    صفی الرحمن مبارکپوری
    يہ عقیدہ کہ جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبرہیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدکوئی نبی نہ آئے گااسلام کابنیادی ترین عقیدہ ہے ،جسے تسلیم کیے بغیرکوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پشین گوئی فرمائی تھی کہ امت میں تیس چھوٹے دجال ظاہرہوں گے جودعویٰ نبوت کریں گے ۔ہندمیں مرزاغلام احمدقادیانی بھی اسی پشین گوئی کامظہرتھا۔جس سے نبوت کاجھوٹادعوی ٰ کیااورردائے نبوت یہ ہاتھ ڈالنے یک ناپاک جسارت کی علمائے اسلام نے مسلمانوں کوقادیانی دجال کے فتنے سے بچانے کے لیے بھرپورکردارااداکیااوراس ضمن میں بے شمارکتابیں لکھیں ۔زیرنظرکتاب معروف عالم اورسیرت نگارمولاناصفی الرحمٰن مبارکپوری نے تحریرکی ہے ۔اورقادیانیت کے تارویودبکھیرکررکھ دیتے ہیں جس سے قادیانی فتنے کی حقیقت طعشت ازہام ہوجاتی ہے ۔


    title
    صفی الرحمن مبارکپوری

    عقیدہ عذاب وثواب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں-عالم برزخ کیا ہے؟ اور عذاب قبر کیا ہے؟ زیر تبصرہ کتاب(قرآن مجید اور عذاب قبر) الرحیق المختوم کے مصنف ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسی معرکۃ الآراء مسئلے سےمتعلق تمام حقائق  کو سپرد قلم کیا گیا ہے۔اللہ تعالی مصنف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-mukhtasar-seerat-un-nabi-saw-safi-mubarakpuri
    صفی الرحمن مبارکپوری

    سیرت کا موضوع گلشن سدابہار کی طرح   ہے جس کی سج دہج میں ہر پھول کی رنگینی وشادابی دامان نگاہ کوبھر دینے والی ہے۔ یہ گل چیں کا اپنا ذوق انتخاب ہے کہ وہ کس پھول کو چنتا اور کس کو چھوڑتا ہے مگر حقیقت یہ ہےکہ جسے چھوڑا، وہ اس سے کم نہ تھاجسے چن لیا گیا ۔بس یوں جانیےکہ اس موضوع پر ہرنئی تحقیق وتوثیق قوس قزح کے ہر رنگ کو سمیٹتی اور نکھارتی نظر آتی ہے۔ سیرت طیبہ کا موضوع اتنا متنوع ہے کہ ہر وہ مسلمان جو قلم اٹھانےکی سکت رکھتاہو،اس موضوع پر لکھنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ ہر قلم کار اس موضوع کو ایک نیا اسلوب دیتا ہے، اور قارئین کو رسول اللہﷺ کی زندگی کے ایک نئے باب سے متعارف کرواتا ہے ۔ پھر بھی سیرت پر لکھی گئی بے شمارکتب کسی نہ کسی پہلوسے تشنگی محسوس کراہی دیتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مختصر سیرۃ النبی ﷺ‘‘ مولانا صفی الرحمن مبارک پوری صاحب کی تصنیف کردا ہے جس میں انہوں نے ذخیرہ احادیث اور مصدقہ تاریخی واقعات کی قوی شہادتوں سے سیرت طیبہﷺ کے موضوع پر نہایت ہی قابل تحسین اور خوبصورت کتاب تألیف کی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(شعیب خان)

    title-page-ehl-e-tasawuf-ki-karistaniyaan
    عبد الرحمن عبد الخالق
    مشہور زمانہ کتاب "الفکر الصوفی" کے مصنف کی خطرناک صوفیانہ افکار کے رد میں ایک مختصر کاوش ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ صوفیانہ افکار امت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ تزکیہ نفس، احسان، سلوک کے خوشنما الفاظ میں چھپائی گئی شریعت کے متوازی طریقت کے نام سے دین اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی صوفیت کی اصل حقیقت کو جاننے کیلئے اس کتاب کا مطالعہ ازحد مفید ہے۔ اس کتاب میں اہل تصوف کے ساتھ بحث و گفتگو کا ایک مختصر نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ طالب علموں کو ان کے ساتھ بحث و گفتگو کی تربیت حاصل ہو جائے اور وہ یہ سیکھ لیں کہ اہل تصوف پر کس طرح حجت قائم کی جا سکتی ہے یا انہیں کس طرح صراط مستقیم کی طرف لایا جا سکتا ہے۔

    untitled-1
    ابن حجر العسقلانی
    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

    title-pages-blogh-ul-maraam-1-copy
    ابن حجر العسقلانی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ مسائل واحکام کا یہ نہایت اہم او ر گرانقدر مجموعہ علماء او رطلباء کےلیے یکساں مفید ہے ۔ اپنی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر یہ کتاب دنیا بھر کےمدارسِ اسلامیہ میں داخل نصاب ہے ۔ اور کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ہیں ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ بلوغ المرام کا ترجمہ ومختصر شرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ کا ہے جوکہ نہایت خوبصورت ہے ۔ ہر حدیث کےنیچے پہلے لغوی تشریح اور پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح وتفہیم آسان ہوجائے ۔زیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ، تخریج وتحقیق اور راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں ۔جس سے اس کتاب کی افادیت واہمیت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والے اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کوقبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

    title-pages-blogh-ul-maraam-2-copy
    ابن حجر العسقلانی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ مسائل واحکام کا یہ نہایت اہم او ر گرانقدر مجموعہ علماء او رطلباء کےلیے یکساں مفید ہے ۔ اپنی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر یہ کتاب دنیا بھر کےمدارسِ اسلامیہ میں داخل نصاب ہے ۔ اور کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ہیں ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ بلوغ المرام کا ترجمہ ومختصر شرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ کا ہے جوکہ نہایت خوبصورت ہے ۔ ہر حدیث کےنیچے پہلے لغوی تشریح اور پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح وتفہیم آسان ہوجائے ۔ زیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ، تخریج وتحقیق اور راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں ۔جس سے اس کتاب کی افادیت واہمیت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والے اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کوقبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

    title-page-eisayat-copy
    رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    یہ کتاب علامہ شیخ رحمت للہ بن خلیل الرحمٰن کیرانوی عثمانی رحمہ اللہ کی مایہ ناز کتاب "اظہار الحق" کا جامع اختصار ہے۔ جسے "مختصر اظہار الحق" کے نام سے ڈاکٹر محمد عبد القادر ملکاوی نے مرتب کیا ہے۔ اس وقت عیسائی مشنریاں دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص دین اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پھیلانے کی تگ و تاز میں مصروف ہیں۔ 9/11 کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والے تغیرات کے نتیجے میں صلیبی دنیا برملا اسلام دشمنی پر اتر آئی ہے۔ یہ کتاب اپنے مواد کے اعتبار سے دشمنان دین و ملت کے سامنے ایک ٹھوس بند کی حیثیت رکھتی ہے۔ عیسائیت کیا ہے؟ اور اہل تثلیث نے مختلف ادوار میں بائبل میں کیا تغیر و تبدل کیا ہے؟ پورے دلائل کے ساتھ یہ سب کچھ اس کتاب میں واضح کر دیا گیا ہے۔ سو خود پڑھنے کے ساتھ یورپ و مغرب کو دعوتِ اسلام کے لیے یہ کتاب ایک گراں قدر خزینہ ہے۔

     

    pages-from-qubbey-aur-mizaraat-ki-tameer-aik-shari-jaeza
    محمد بن ابراہیم عبد اللطیف

    یغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ شرکیہ امور سے بچنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت اسی قدر مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہے اور اپنے پیغمبر کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے۔ آپﷺ نے واضح الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو کان کھول کر سن لو تم سے پہلی امت کے لوگوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم قبروں کو مساجد نہ بنالینا۔میں تم کو اس سے روکتا ہوں اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں یہود و نصاریٰ کے اس مشرکانہ عمل پر لعنت کرتےہوئے فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ ہے نبی کریم ﷺ نے سختی سے اس سے منع فرمایا اور اپنی وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے بچنے کی تلقین کی۔ صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا اور پھر ائمہ کرام اور محدثین نے لوگوں کو تقریر وتحریر کے ذریعے اس فتنہ عباد ت ِ قبور سے آگاہ کیا ۔مملکت سعودی عرب کے بانی ملک عبدالعزیز ﷫ اوران کے جانشین نے جب ارض سعودی عرب سے قبے مزارات کو ختم کیا تو شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبر دارں، درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنانے والوں نے حجاز کانفرنس میں ملک عبد العزیز﷫ سے مسخ شدہ مزاروں کودوبارہ بنانے کامطالبہ کیا جس کے جواب میں توحید کے عملبردار شاہ عبد العزیز﷫ نے تاریخی کلمات کہے کہ: شریعت سے مزاروں او ردرباروں کی تعمیر کرنا ثابت کردیں تو میں گرائے گئے مزارات کو سونے اور چاندی سے دوبارہ تعمیر کروا دوں گا ۔اس چیلنج آمیز مطالبے سے مخالفین سناٹے میں آگئے اور انہیں لب ہلانے کی جرأت نہ ہوئی۔ ملک عبدالعزیز کے بعد ان کےصاحبزادے سعود بن عبد العزیز کے دور سلطنت میں علمائے بدعات وخرافات نے پاک وہند کے مشہور عالم جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیہ پاکستان کے صدر محمد عبد الحامد قادری بدیوانی کی صدارت میں قبوں اور مزارات کو تعمیر کرنے کا مطالبہ پھر دہریا اور اس میں جان پیدا کرنے کےلیے ممانعت کی صریح اور دوٹوک نصوص کو چھوڑ کر کچھ الجھے ہوئے واقعات وشبہات سے دلائل کی ایک ریتلی عمارت تیار کی اور اسے ملک سعود کی خدمت میں تحریری صورت میں پیش کیا۔ملک سعود نے یہ رسالہ پاتے ہی دار الافتاء ریاض کے حوالے کیا۔ دار الافتاء کے اس وقت کے مسؤل شیخ محمد بن ابراہیم بن عبد اللطیف آل الشیخ نے ’’شفاء الصدور فی الرد علی الجواب المشکور‘‘ کے نام سے اس رسالہ کا مکمل اوربھرپور جواب لکھا کہ اس مسئلہ پر بحث ونظر کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہا۔ زیر نظر کتاب ’’قبے اور مزارات کی تعمیر کی شرعی حیثیت‘‘ اسی مذکورہ رسالہ کا اردو ترجمہ ہے۔اس اہم رسالہ کو سیرت نبوی پر اول انعام یافتہ   کتاب الرحیق المختوم کے مصنف مولانا صفی الرحمان مبارکپوری﷫ نےعربی سے اردو قالب میں منتقل کیا اور کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے ’’دار السلام‘‘ نے افادۂ عام کے لیے اسے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو لوگوں کی اصلاح اور شرک کے خاتمے کاذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-mukhtasir-izhar-al-haqq-copy
    رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ آپ علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی و‌مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہم کے حلقۂ فکر کے ایک فرد تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولانا کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور تحریرکے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ ١٨٥٤‌ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی ١٨٥٧‌ء میں مولانا کیرانوی حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے جس میں دیگر کئی لوگوں کے علاوہ ان کے ساتھی حافظ محمد ضامن شہیدہوئے اور مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ زخمی ہوئےانگریز کی فتح کے بعد مولانا کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں موصوف نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق کے نام سے تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرےکئے، وہاں سے اظہار الحق شائع بھی ہوئی۔ زیر نظر کتاب ’’مختصر اظہار الحق‘‘ علامہ رحمت اللہ بن خلیل الرحمن کیرانوی ہندی کی عیسائیت کے رد میں لکھی گئی مایہ ناز تالیف " اظہارالحق " کا جامع اختصارہے۔ اس کتاب میں عیسائیت کی حقیقت , اہل تثلییث کی طرف سے بائبل میں مختلف ادوارمیں کئے گئےتحریف وتغیرکا بیان اورعیسائی مشنریوں کے ذریعہ اسلام کے خلاف پھیلائے جانے والے باطل شکوک وشبہات وریشہ دوانیوں کا مکمل رد پیش کیا گیا ہے ۔کتاب اظہار الحق کا یہ اختصار جامعہ الملك سعود، ریاض سعودی عرب کے استادڈاکٹر محمد عبدالقادر ملکاوی نے کیا ہے اور اسکو اردو قالب میں عالم اسلام کے مایہ ناز سیرت نگار ومصنف کتب کثیرہ مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫نے ڈھالا ہے ۔اس کتاب کو وزارت اوقاف سعودی عرب نے بڑی تعداد میں شائع کر کےتقسیم کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تیار کرنے میں شامل تمام افراد کی کاوشوں کوقبول فرمائے ۔(آمین) اصل کتاب اظہار الحق کااردو ترجمہ ’’ بائیبل سے قرآن تک‘‘کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوچکا ہے اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔(م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-zaad-e-rah-copy

سفر انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے،جس کے بغیر کوئی بھی اہم مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔انسان متعدد مقاصد کے تحت سفر کرتا ہے اور دنیا میں گھوم پھر کر اپنے مطلوبہ فوائد حاصل کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جس نے ان انسانی ضرورتوں اور سفر کی مشقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رخصتیں اور گنجائشیں دی ہیں۔مثلا مسافر کو حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،جس کی بعد میں وہ قضاء کر لے گا۔اسی طرح مسافر کو نماز قصر اور جمع کرکے پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر کے اور دو دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح سفر کے اور بھی متعدد احکام ہیں جو مختلف کتب فقہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ زاد راہ ‘‘ محمد طیب محمد خطاب بھواروی کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتابچہ میں رسول اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کےدرخشان پہلو جو سفر اور آداب سفر سے متعلق ہیں انہیں اس میں آسان فہم انداز میں یکجا کردیا ہے ۔جس کےاستفادہ سے جہاں ایک مؤمن کی زندگی میں رسول اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کا رجحان پیدا ہوگا وہاں خالص کتاب وسنت کی روشنی میں سفر اوراس کے آداب کے تمام متعلقات نکھر کر سامنے آجائیں گے۔اللہ تعالیٰ شیخ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (رفیق الرحمن)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 277 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :