پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
پروفیسر سید ابوبکر غزنوی
    title-pages-taqareer-w-khatabat-sayyad-abu-bakar-gazanwi-copy
    پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

    پروفیسر سید ابو بکر غزنوی﷫ پا ک وہندکے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو اپنےعلمی عملی اور اصلاحی کا رناموں کے بدولت منفر د و ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور جس کی دینی وسیاسی خدمات اس سرزمین میں مسلمانوں کے تاریخ کا ایک زریں باب ہیں۔اس خطۂ ارضی میں ان کے مورث اعلیٰ سید عبداللہ غزنوی ﷫اپنے علم وفضل اور زہد وتقویٰ کی وجہ سے وقت کے امام مانے جاتے تھے اور لوگ بلا امتیاز ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید داؤد غزنوی﷫ کی عملی وسیاسی زندگی بھی تاریخ اہل حدیث کا ایک سنہرا باب ہے ۔سید ابوبکر غزنوی ﷫ بھی ایک ثقہ عالم دین ،نکتہ رس طبیعت کے مالک اور دین کےمزاج شناس تھے ۔مولانا سید غزنوی فطرتاً علم دوست مطالعہ پسند اور کم آمیز قسم کےآدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کا بچپن دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کتاب ومطالعہ سے ان کا کتنا گہرا دلی تعلق تھا۔اردو فارسی ،انگریزی اور عربی زبان پرپوری دسترس رکھتے تھے انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے عربی کا امتحان دیا توصوبہ بھر میں اول رہے۔ پروفیسر ابوبکر غزنوی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں عربی کے لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز کو ڈگری کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو موصوف شعبہ عربی کے صدر بن کر وہاں منتقل ہوگئے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اورنٹیل کالج میں عربی کےخصوصی لیکچر بھی دیتےتھے۔ اس کے بعد جلد ہی انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور نے اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیے اور شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے وہاں اٹھ گئے ۔اس کے بعد بہالپور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور ابھی وہ یونیورسٹی کےاصلاح وترقی کے پرگراموں پر عمل کراہی رہےتھے اور یونیورسٹی کامعیار بلند ہورہا تھا کہ موت آگئی اور وہ اللہ کو عزیز ہوگئے۔مولانا سید ابوبکر غزنوی ﷫ کی ذات متعدد اوصافِ فاضلہ کامجموعہ تھی ۔اور سید صاحب جدید وقدیم علوم پر یکساں دسترس رکھتے تھے آپ کی شخصیت مغربی علوم وفنون اور تہذیب وتمدن سے خو ب آگاہ تھی ۔ سید صاحب نے اپنے خطبات اور تحریروں کے ذریعے دین کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تقاریر وخطبات سید ابو بکر غزنوی﷫ ‘‘سید صاحب کے مختلف تقایر وخطابات کا مجموعہ ہے ۔یہ خطبات مولانا نے مختلف اہم مواقع پر ارشاد فرمائے ان میں مولانا کو وہ خطبات بھی شامل ہیں جوانہوں 1965ء کی جنگ کےسلسلے میں ارشاد فرمائے تھے ۔اس مجموعہ میں پہلا خطبہ ماموں کانجن میں اہل حدیث کانفرنس منعقدہ اکتوبر 1975ء میں مولانا کی جانے والی علمی تقریر ہے۔سید صاحب کے ان خطبات کو فاران اکیڈمی نے 1995ء میں شائع کیا ۔اس مجموعہ میں شامل خطبات کے عنوانات حسب ذیل ہیں۔ اتباع رسولﷺ تبلیغ کاایک بھولا ہوا اصول،تعلیم وتزکیہ،اس دنیا میں اللہ کاقانون جزا وسزا،اقوام کے عروج وزوال کے بارے میں ضابطۂ الٰہی،اس دنیا میں عذاب الٰہی کی صورتیں،محمد انقلاب کے چند خط و خال،مسئلہ جہاد کشمیر۔ یہ سیدصاحب کا وہ خطبہ جمعہ ہے جوانہوں نے 20 اگست 1965ء کو دار العلوم تقویۃ الاسلام میں ارشاد فرمایا۔اس میں کتاب وسنت کی روشنی میں مسئلہ جہادِ کشیمر کی وضاحت کی گئی ہے،غزوۂ تبوک میں ہمارےلیے سامانِ عبرت ہے،یوم تشکر،فریضہ جہاد کے تقاضے،قوم سےخطاب وقت کی پکار،توحید کےتقاضے،شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت قرآن وسنت کی روشنی میں ۔یہ تقریرریڈیو پاکستان لاہور سےدوران جنگ نشر کی گئی۔ اللہ تعالیٰ مرتب وناشر کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور سید صاحب کے درجات میں اضافے کا باعث اور قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-khotbaat-e-jihaad
    پروفیسر سید ابوبکر غزنوی
    1965ء میں ہندوستان نے پاکستان پر جب چہار طرف سے حملوں کی بوچھاڑ کر دی تو بہت سارے مصلحین اسلام اور پاکستان نے تحریر و تقریر کے ذریعے سے عوام پاکستان میں جہادی رمق بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اس معرکہ حق و باطل میں بالآخر باطل نابود ہوا اور حق کو فتح نصیب ہوئی۔ زیر مطالعہ کتاب اسی دور کے ان خطابات پر مشتمل ہے جو پروفیسر ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمائے۔ جس میں انہوں نے کتاب وسنت کی صریح نصوص کے ذریعے جہاد کشمیر کی فرضیت و اہمیت اور ترک جہاد کی ذلت و رسوائی کو بیان کیا۔ مولانا نے تمام مسائل کا حل جہاد ہی میں مضمر قرار دیا۔ جہاد کشمیر سے متعلق ہمارے معاشرے میں بہت سے مختلف آراء گردش کرتی ہیں یہ کتاب کسی حد تک جہادکشمیر کے متعلق شبہات کو واضح کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

    title-pages-khutbat-w-maqalat-sayyad-abu-bakar-ghazanwi-copy
    پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

    پروفیسر سید ابو بکر غزنوی﷫ پا ک  وہندکے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو اپنےعلمی عملی اور اصلاحی کا رناموں کے بدولت منفر د و ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور جس کی دینی وسیاسی خدمات اس سرزمین میں مسلمانوں کے تاریخ  کا ایک زریں باب ہیں۔اس خطۂ  ارضی میں ان کے مورث اعلیٰ سید  عبداللہ غزنوی ﷫اپنے علم وفضل اور زہد وتقویٰ کی وجہ سے وقت کے امام مانے جاتے تھے اور لوگ بلا امتیاز ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید داؤد غزنوی﷫ کی عملی وسیاسی زندگی بھی تاریخ اہل حدیث کا ایک سنہرا باب ہے ۔سید ابوبکر غزنوی ﷫ بھی  ایک ثقہ عالم دین ،نکتہ رس طبیعت کے مالک اور دین کےمزاج شناس تھے ۔مولانا سید غزنوی فطرتاً علم دوست مطالعہ پسند اور کم آمیز قسم کےآدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کا بچپن دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کتاب ومطالعہ سے ان کا کتنا گہرا دلی تعلق تھا۔اردو فارسی ،انگریزی  اور  عربی زبان پوری دسترس رکھتے تھے انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے عربی کا امتحان دیا توصوبہ بھر میں اول رہے۔ پروفیسر ابوبکر غزنوی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں عربی کے لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز کو ڈگری کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو موصوف شعبہ عربی کے صدر بن کر  وہاں منتقل ہوگئے ۔اور اس  کے ساتھ ساتھ  یونیورسٹی اورنٹیل کالج میں عربی کےخصوصی لیکچر بھی دیتےتھے۔ اس کے بعد جلد ہی انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور نے اپنے دروازے ان کے لیے  کھول دیے اور شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے وہاں اٹھ گئے ۔اس کے بعد بہالپور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور ابھی وہ یونیورسٹی کےاصلاح وترقی کے پرگراموں پر عمل کراہی رہےتھے اور یونیورسٹی کامعیار بلند ہورہا تھا کہ موت آگئی اور وہ اللہ کو عزیز ہوگئے۔مولانا سید ابوبکر غزنوی ﷫ کی ذات متعدد اورصافِ فاضلہ کامجموعہ  تھی ۔اور سید صاحب جدید  وقدیم  علوم پر یکساں دسترس رکھتے  تھے آپ  کی شخصیت مغربی علوم وفنون اور تہذیب وتمدن سے  خو ب آگاہ تھی ۔ سید صاحب نے   اپنے  خطبات  اور تحریروں کے ذریعے  دین کے  تمام پہلوؤں کا  احاطہ کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات ومقالات سید ابو بکر غزنوی ‘‘ سید صاحب کے    مختلف مقالات  ومحاضرات کا مجموعہ   ہے جسے میاں طاہر صاحب نے مرتب کر کے  شائع کیا ہے ۔ان  خطبات  میں  ادب وآداب ،  معاشرت ،  مصیبت ،  سیاست وحکومت، جہاد او ر عبادات سمیت زندگی کا کوئی بھی  پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ایک اعلیٰ انسانی معاشرے کی تشکیل کے لیے  یہ تحریریں ایسا سرچشمہ فیض ہیں  جو نئی نسل کی تربیت اور کردار سازی کے لیے رہنما کا درجہ رکھتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ  مرتب وناشر کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور  سید صاحب  کے درجات میں  اضافے کا باعث اور قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-qurbat-ki-rahian-copy
    پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

    محبوب حقیقی اللہ ہی ہے۔اس کی محبت سب محبتوں پر غالب ہونی چاہئے۔اس کی محبت میں کسی غیر کی محبت کو شریک کرنا کفر اور شرک ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ سے ہٹ کر اوروں کو اس کا ہم پلہ بناتے ہیں۔ ان سے یوں محبت کرتے ہیں جیسے اللہ سے محبت کرنی چاہئے۔اور جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں انہیں شدید ترین محبت اللہ ہی سے ہوتی ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ اور میرا بندہ میری فرض کی ہوئی چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "قربت کی راہیں" جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم  مولانا سید ابو بکر غزنوی﷫ سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور  کی تصنیف  ہے، جس میں انہوں نے ان اعمال کو جمع فرما دیا ہے جن کے ذریعے انسان اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے، اور اس کا محبوب بندہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    title-pages-dawood-ghaznawi
    پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

    مولانا محمد داؤد غزنوی 1895 میں امرتسر میں پیدا ہوئے ـ آپ حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ کے صاحبزادے تھے ـ آپ نے '' صرف ونحو ، حدیث وتفسیر'' اپنے والد بزرگوار سے پڑھی ـ فقہ اور اصولِ فقہ حضرت مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری  سے پڑھی ـ فراغت کے بعد اپنے ہی بزرگوں کے قائم کردہ مدرسہ '' مدرسہ غزنویہ '' میں پڑھاتے رہے ـ 1919ء میں آپ نے سیاسی زندگی میں قدم رکھا ـ مدتوں آپ '' احرار'' کے ناظم اعلی ، جمعیہ العلماء کے نائب صدر اور کانگریس پنجاب کے صدر رہے ـتقسیم ہند کے بعد جماعت اہل حدیث کو شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی  کی رفاقت و معیت مین منظم کیا ـ فیصل آباد میں ایک مرکزی تعلیمی ادارہ '' جامعہ سلفیہ '' کی بنیاد رکھی ـ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اسلامی نظام کے حق میں اسمبلی کے اجلاسوں میں پرزور تقریریں کی ـ جامعہ اسلامیہ بہاولپور کی نصاب کمیٹی کے رکن رہے ـ 1953ء میں جب تمام مکاتب فکر کے 31 علمائے کرام نے 22 نکات پر مشتمل ایک دستوری خاکہ مرتب کیا تو مولانا غزنوی  بھی ان میں شامل تھے ـ شاہ سعود  نے رابطہ عالم اسلام کمیٹی اور مدینہ یونی ورسٹی کی مجلس مشاورت کا ممبر مقرر کیا ـ تحریک ختم نبوت '' مجلس عمل '' نے جسٹس منیر کے سوالات کا جواب دینے کے لیے مولانا غزنوری  ہی کو پنا وکیل مقرر کیا ـ قبل از تقسیم امرتسر میں ماہنامہ '' توحید '' جاری کیا ، جو علم و فضل کا شاہکارتھا مولانا غزنوی ہر ایک مکتب فکر کے بزرگ کی عزت کرتے ـ آئمہ دین سے انتہائی محبت رکھتے تھے ـ ان کی خدمات کو سراہتے تھے ـ ان کے حق میں بے ادبی کو سوء خاتمہ کی دلیل سمجھتے تھے –مولانا غزنوی  نہایت خوش اخلاق ، ملنساد اور مہمان نواز تھے ـ اتحاد بین المسلمین کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ـ یہ علم وفضل ، زہد و تقویٰ ، مذہب و سیاست کا بحربیکراں اور اتحاد و اتفاق کے علمبردار نے 16 دسمبر 1963ء کو وفا ت پائی ـ زیر نظر کتاب مولانا داؤد غزنوی کی حیات وخدمات پر اہم کتاب ہے جس میں نصف حصہ مولانا غزنوی کی وفات پر نامور علماء کے لکھے کے مضامین کا مجموعہ ہے جسے مولانا ابوبکر غزنوی ﷫نے مرتب کیا ہے اور نصف حصہ مولانا ابو بکر غزنوی کاتحریر کردہ اپنے خاندان اوروالد گرامی مولانا داؤد غزنوی کے حیا ت وخدمات پر ''سید وابی'' کے نام سے جامع تذکرہ ہے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-haqeeqat-e-zakat-copy

    عربی زبان میں  لفظ  ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت  میں  زکاۃ ایک  مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے  زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا ہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے اس کی ادائیگی فر ض ہے اور  دین اسلام  کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے  نقصانات  ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں  تفصیل سے اس کے احکام  ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ  یقینا کافر اور واجب القتل ہے  ۔یہی وجہ کہ  خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ﷺ نے  مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو  اسے درد ناک عذاب میں  مبتلا  کیا جائے گا۔جس کی  وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔اردو عربی زبان میں  زکوٰۃ کے  احکام ومسائل کےحوالے سے  بیسیوں  کتب موجود ہیں۔زیر تبصرہ ’’ حقیقت زکاۃ ‘‘ برصغیر پاک وہندکے  مشہور عالم دین  مفسر قرآن مولانا بو الکلام آزاد  کی تصنیف ہے جس میں انہوں  نے زکاۃ کی  فرضیت واہمیت ،فضیلت  ،ادائیگی زکاۃ کے فوائد اور زکوۃ  کے جملہ احکام مسائل کو  بیان کرنے کےبعد قرآن اور سوشلزم  کے عنوان سے بھی بحث کی  ہے ۔اور اس کتاب کے آخر میں  زکاۃ کے  حوالے سے  مولانا سید ابو بکر غزنوی    کا رسالہ بعنوان ’’اسلام میں  گردش دولت ‘‘بھی شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالی  زکوۃ ادا کرنے کی طاقت رکھنے والے  اہل اسلام کو اسے ادا کرنے کی  توفیق دے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہو اور اسلامی معاشرہ میں غربت وافلاس  کا خاتمہ ہوسکے ۔(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1323 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں