نا معلوم

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
نا معلوم
    title-2
    نا معلوم

    اللہ تعالی نے مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ایک ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔زیر نظر کتاب(اسلام میں داڑھی کا مقام) WWW.AHLULHADEETH.NET ویب سائٹ سے ڈاون لوڈ کی گئی ہے اور اس پر کسی مولف کا نام مکتوب نہیں ہے۔ لیکن یہ اپنے موضوع پر ایک شاندار تصنیف ہے۔اس میں داڑھی رکھنے کے وجوب کے دلائل کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ فائدے کی غرض سے اسے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ (راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-aik-majlis-ki-3-talaq-ulmai-ahnaf-ki-nazar-me
    نا معلوم
    زیر نظر رسالہ میں طلاق ثلاثہ سے متعلق چند مفتیان احناف کی آرا پیش کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا محمد عبدالحلیم قاسمی کے  تین خطوط شامل کیے گئے ہیں جو کہ نہایت سبق آموز ہیں۔ پہلا خط ہفت روزہ ’اہل حدیث‘ سے لیا گیا ہے۔ دوسرا ملتان کے حالات او ر اسی خط کا ذکر کر کے مولانا محترم کو لکھا گیا پہلا جواب پہنچتے کچھ تاخیر ہو گئی تو اگلا خط لکھ کر ارسال کر دیا گیا۔ مولانا نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا تامل دونوں خطوط کا جواب ارسال فرما دیا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-tareef-ahle-sunnat-aur-masnoon-traweeh-copy
    نا معلوم

    آج کل  فرقہ بندی اس قدر عام ہے کہ ہرمسلمان پریشان ہے ۔کچھ لوگ اس صورت  حال سے تنگ آکر اسلام سےدور   ہو  رہے ہیں ۔ اور کچھ لوگ تمام فرقوں کو درست سمجھتے ہیں ۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے جہاں  اپنی امت کے  فرقوں کا ذکر کیا ہے وہاں صرف ایک فرقے کو جنتی کہا ہے ۔اور مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا  لیکن  اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ  اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا  اقرار کرنا ضروری  ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی   مسلمانوں کو  اس تقلیدی  گروہ بندی سے نجات  دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔نبی کریم ﷺنے اپنی زبان ِرسالت سے  جس ایک فرقہ کو  جنتی کہا  وہ  اہل سنت والجماعۃ ہے ۔اب اہل سنت کی صحیح تعریف  کیا ہے یہ ساری بحث اس زیر تبصرہ رسالہ ’’تعریف اہل سنت  اور مسنون تراویح ایک دلچسپ  علمی مکالمہ‘‘ میں ایک مکالمہ کی صورت میں    پیش کی  گئی ہے ۔اس کتابچہ کےمطالعہ سے  اصلی اور نقلی  اہل سنت کا فرق واضح ہوجائے گا۔ قارئین تعصب کی عینک اتار کر  تلاش حق کے جذبے سے   اس کتابچے کو پڑھیں دل ٹھک جائے تو راہِ حق کوقبول کرنے میں ہر گز دیر نہ کریں اس کتابچے پر اگرچہ  اسے مرتب کرنے والے کا نام  نہیں ملا لیکن  میرا خیال یہ ہے کہ یہ   حافظ عبداللہ بہاولپوری ﷫  کا مرتب کردہ  ہے  جسے   مولانا  عبدالقدوس سلفی﷾ نے یو ای ٹی ، لاہور میں اپنے زمانہ طالب علمی  کےدوران  اس  پر پیش  لفظ لکھ کر شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ  اس کتابچہ کو مرتب کرنے اور شائع کرنے والوں کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین ) (م۔ا)

    title-pages-talash-e-haqq-aik-tehriri-munazira
    نا معلوم

    اہل حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں ،نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت او رایک تحریک کا نام ہے زندگی کےہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے بے شمار لوگ اور کئی نامور علماء اوراہل علم نے مسلک حقّ اہل حدیث کی حقانیت کو دیکھ کر اپنا مسلک ترک کے مسلک اہل حدیث اختیار کیا۔ اس حوالے سے کتاب ''ہم اہل حدیث کیوں ہوئے '' از محمد طیب محمدی ﷾ لائق طالعہ ہے یہ کتاب ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیر نظر کتاب''تلاش حق '' بھی ایک حنفی عالم دین کا حنفیت کو چھوڑ کر مسلک اہل حدیث ا ختیار کرنے کی داستان پر مشتمل ہے یہ کتاب وہ خط وکتابت ہے جو مدتوں سابق حنفی عالم دین مولوی نواب محی الدین اور سید مسعود بی۔ ایس۔ سی کے مابین تقلید شخصی اور دیگر بہت سے اختلافی مسائل پر ہوتی رہی سید مسعود بی ایس سی نے مولوی محی الدین کے اشتعال انگیز سوالات کے جوابات اس احسن انداز اور پختہ دلائل وبراہین کی روشنی میں دئیے کہ بالآخر مولوی محی الدین صاحب نے طویل خط وکتابت کے بعد حنفیت کوچھوڑ کر اہل حدیث ہونے کااعلان کردیا ۔کتاب کے شروع میں مولانا محی الدین کا وہ خط بھی شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے حنفیت کو چھوڑ نے کے اسباب اور اپنے اہل حدیث ہونےکی داستان تحریر کی ہے اور آخر میں محترم مسعود بی۔ ایس ۔سی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جن کے ساتھ باہمی مراسلت ان کے اہل حدیث ہونے میں معاون بنی ۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہربھولے ہوئے کو سیدھی راہ دکھائیں او ر قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائیں۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    pages-from-deeni-taleem-ki-ahmiyyat-o-fazilat-aur-hasool-e-ilam-key-baaz-aham-adaab
    نا معلوم

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دار ارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کی جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم، توضیح وتشریح، تعمیل واتباع، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "دینی تعلیم کی اہمیت وفضیلت اور حصول علم کے بعض آداب" محترم سید حسین بن عثمان عمری مدنی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دینی تعلیم کی اہمیت وفضیلت کو بیان کرتے ہوئے حصول علم کے بعض آداب کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-risaala-e-hurmat-e-mutta
    نا معلوم

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔انسان کی عزت وآ برو کی حفاظت کےلیے دین اسلام نے نکاح کا حکم دیا ہے۔تاکہ حصول عفت کےساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی جاری رہے۔ایک فرقہ (اہل تشیع )کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پر بھی رائج ہےجو اگر چہ اسلام کے آغازمیں جائز تھاتاہم آپﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی اسے بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ ناجائز و ممنوع قرار دے دیاتھا۔مگر اہل تشیع اپنے باطل نظریات و افکار سے اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرتے آئے ہیں۔ ان کااصل مقصد دین حنیف کا خاتمہ اور اپنے خود ساختہ عقائد کا پرچارہے۔ زیر تبصرہ کتاب"رسالہ حرمت متعہ"جس میں مصنف کتاب ہذا نے نصو ص صریحہ و احادیث صحیحہ عقل و نقل سے حرمت متعہ ثابت کی گئی ہےاور واضح کر دیاگیاہےکہ متعہ ایک ایسا فعل ہےکہ جس کو کوئی باعزت اور دیندار انسان اپنے اور اپنی اولاد کے لیے پسند نہیں کر سکتا۔نیز اہل تشیع کے جواز متعہ پر دلائل و براہیں کا رد کیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہےکہ وہ اہل اسلام کو اس گمراہ فرقے سے محفوظ رکھے۔ آمین( عمیر)

    title-pages-soye-haram
    نا معلوم
    اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے ان میں سے ایک حج و عمرہ ہیں۔یہ اللہ کی طرف عائد کردہ وہ فریضہ ہے جسے ہر مسلمان پر  سال میں ایک بار یا زندگی میں   ایک بار بشرط استطاعت  ادا  کرنا لازم ہے۔اس  کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔حج کی قبولیت سے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ لیکن جس طرح باقی فرائض اسلام ادا کرنے کے لیے  کچھ آداب و احکام ہیں ایسے ہی حج کے بھی ہیں۔انہی میں سے حج کے مختلف مقامات  و شعائر پر ادعیہ  ماثورہ پڑھنا بھی ہے۔ذیل کے کتابچے میں الفتح ٹریول والوں نے  حج میں پڑھی جانے والی یہی  دعائیں نقل فرمائی ہیں۔مثلا طواف کے سات چکروں ، صفاء و مروہ اور منیٰ و عرفات  وغیرہ پر۔(ع۔ح)
    title-pages-abdul-qadir-jeelani-aur-ghayarwi-shareef
    نا معلوم
    شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں آپ کی دینی خدمات ہی آپ کا تعارف ہیں۔ آپ کی علمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ امام ابن قدامۃؒ جیسی عظیم شخصیت کا شمار آپ کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ ان کو غوث اعظم قرار دیتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ حالانکہ مافوق الاسباب مدد فقط اللہ تعالیٰ سے مانگی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ان کے نام پر گیارہویں شریف کا بھی اہتمام کرتے ہیں ہمارے ہاں ہر ماہ چھوٹی گیارہویں شریف اور سال کے بعد بڑی گیارہویں شریف کا پورے زور و شور کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں شیخ عبدالقادر جیلانی کے تعلق سے گیارہویں شریف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس مختصر سے کتابچہ میں شیخ عبدالقادر جیلانی کی بعض تعلیمات و ہدایات لکھنے کے بعد گیارہویں میں بارہ سے زائد شرعی مخالفتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    نا معلوم

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-quran-majeed-ki-tafserain-chouda-baras-me-copy
    نا معلوم

    تفسیر کا معنی بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے   اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھادیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن مجید کی تفسیریں چودہ سو برس میں ‘‘خدابخش لائبریری، انڈیا کےزیر اہتمام 1989ء میں قرآنیات کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمنار میں نامور 41 اہل علم کے   تفسیر، تاریخ تفسیر،تذکرہ مفسرین اور علوم قرآن پر پیش کیےگئے مضامین ومقالات کامجموعہ ہے۔ جسے خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری آف پٹنہ کی انتظامیہ نے مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا۔ یہ کتاب اہل علم اورطالبان ِعلوم نبوت کے لیے مفسرین اور کتب تفاسیر کے تعارف کے حوالے سے قیمتی تحفہ ہے اللہ تعالی ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-quran-kareem-k-akhri-teen-paron-ki-tafseer
    نا معلوم
    اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی    کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے۔ قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی جہاں اور اعتبارات سے بہت زیادہ اہمیت ہے وہیں تفصیلی احوال جنت و جہنم اور دیگر احکامات الٰہیہ نے ان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی کے پیش نظر زیر مطالعہ کتاب میں قرآن کریم کے آخری تین پاروں کا ترجمہ و تفسیر اور دیگر احکام و مسائل کو بالبداہت بیان کر دیا گیا ہے۔ شروع میں قرآن کریم کی فضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے بعد آخری تین پاروں کا متن کے ساتھ مکمل اردو ترجمہ قم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آخر میں ان پاروں سے مستنبط شدہ احکام کو نہایت عمدہ اور سہل انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-qanoot-e-nazila-ki-duain-2
    نا معلوم

    نازلہ مصیبت کو کہتے ہیں اور قنوت دعا کو، اس لیے قنوت نازلہ کا معنی ہے۔ مصائب میں گھر جانے اور حوادث روزگار میں پھنس جانے کے وقت نماز میں اللہ تعالیٰ سے ان کے ازالہ و دفعیہ کی التجا کرنا اور بہ عجزو انکساری ان سے نجات پانے کے لیے دعائیں مانگنا۔پھر مصیبتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً دنیا کے کسی حصہ میں اہل اسلام کے ساتھ کفار کی جنگ چھڑنا ان کے ظلم و ستم کا تختہ مشق بن جانا، قحط اور خشک سالی میں مبتلا ہونا، وباؤوں اور زلزلوں اور طوفان کی زد میں آ جانا وغیرہ۔ ان سب حالتوں میں قنوت نازلہ پڑھنی مسنون ہے اور نبیﷺ، صحابہ کرام اور سلف امت کا یہی معمول تھا ۔ اس کا مقصد فقط یہی ہے کہ مسلمان اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ خدا سے معافی مانگیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اہل اسلام پر رحم و کرم فرمائے اور ان کو ان مصائب اور تکالیف سے نجات دے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد امام سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.. الخ سے فارغ ہو کر بلند آواز سے دعاء قنوت پڑھے اس کے ہر جملہ پر سکوت کرے اور مقتدی پیچھے پیچھے بآواز بلند آمین کہتے رہیں۔ آں حضرت ﷺاور آپ کے صحابہ کرامؓ سے یہی طریقہ ثابت ہے – قنوت نازلہ سےمقصود مظلوم ومقہور مسلمانوں کی نصرت وکامیابی اور سفاک وجابر دشمن کی ہلاکت وبربادی ہے اس مقصد کو جو بھی دعا پورا کرے وہ مانگی جاسکتی ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں قنوت نازلہ کےحوالے سے کچھ دعائیں جمع کردی گئی ہیں تاکہ قارئین کے لیے انہیں یاد کرنے میں آسانی رہے اور ائمہ مساجد کافروں سے برسر پیکار دنیا بھر کے مجاہدین کی نصرت وکامیابی او ران کے مصائب میں کمی کےلیے اپنی نمازوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ   عالمِ اسلام کےمسلمانوں کی حالت پر رحم فرمائے اور دنیا بھر   کےمجاہدین کی مدد ونصر ت فرمائے۔ آمین( م۔ا)

    Title Page---Mutanazia Masayal K Qurani Faislay
    نا معلوم
    ہمارے ہاں بہت سے دینی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے ہرفرقہ والا اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے مخالف کو گمراہ قرار دیتا ہے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ عوام قرآنی تعلیمات سے ناآشنا ہے حالانکہ عقیدہ سے متعلق بعض مسائل ایسے ہیں کہ قرآن میں ان کا دوٹوک حل موجود ہے زیر نظر کتاب میں بعض اختلافی مسائل کے بارے میں قرآنی آیات پیش کی گئی ہیں جن سے اختلاف کاواضح فیصلہ ہوجاتا ہے اس سلسلہ میں عقیدہ کے چار اہم مسائل یعنی مسئلہ علم غیب ،مسئلہ حاضر وناظر،غیراللہ  کی پرستش اور سفارش  او رمسئلہ مختار کل پرروشنی ڈالی گئی ہے ۔


    pages-from-makhaarij-e-huroof-ka-naqsha
    نا معلوم

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے یہ قاعدہ مرتب کیا گیا ہے جس میں حروف کے مخارج کو ایک لسٹ میں جمع کرتے ہوئے اس کا ایک نقشہ بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس قاعدے پر مولف کا نام موجود نہیں ہے۔ اس میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ، حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی کی انتہائی آسان اور سہل انداز میں پہچان کروائی گئی ہے۔ یہ قاعدہ بچوں اور بڑوں سب کے انتہائی مفید اور شاندار ثابت ہوا ہے۔ اللہ تعالی مولف کی ان خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-mukhtasir-difa-aale-ishab-copy
    نا معلوم

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے ۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور صحابہ کرامؓ کا دفاع کرتے رہیں ہیں۔ یقیناً شکوک وشبہات پھیلانا اور بدگمانیوں کو ہوا دینا انبیائے کرام کے دشمنان کا بہت پرانا وسیلہ ہے لیکن ان کا دفاع کرنا بھی امت کے علماء کا وطیرہ رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی  صحابہ کرامؓ پر کیے جانے والے شبہات کا دفاع کیا گیا ہے اور ان شبہات کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ وجہ اختلاف و نزاع  ہیں‘ اور پھر ان پر نبی کریمﷺ کے بعد اس امت کے بہترین لوگوں کے متعلق عقائد کی بنیادیں قائم کی گئی ہیں اور ان علماء کرام کے ردود بھی بیان کیا گیا ہے اور استدلال کے فاسد ہونے کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب ’’ مختصر دفاع آل اصحاب ‘‘  ادارۂ قسم الدراسات والبحوث جمعیت آل واصحاب کی عظیم کاوش ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے  وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

    pages-from-mukhtasar-seerat-e-albani
    نا معلوم

    علامہ شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫ عصر حاضر میں مسلمانوں کے نامور علماء کرام میں سے ہیں۔آپ علم حدیث کے ان نمایاں علماء کرام میں سے شمار کئے جاتے ہیں،جو فن جرح وتعدیل میں یگانہ روز گار شمار کئے جاتے ہیں۔آپ مصطلح الحدیث میں حجت مانے جاتے ہیں۔ان کے بارے میں اہل علم فرماتے ہیں کہ انہوں نے حافظ ابن حجر﷫ اور حافظ ابن کثیر﷫ وغیرہ جیسے علماء جرح وتعدیل کے دور پھر سے زندہ کردیا ہے۔زیر تبصرہ مضمون " مختصر سیرت محدث امام مجدد محمد ناصر الدین البانی﷫"محترم طارق علی بروہی کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے اس عظیم الشان محدث اور عالم دین کی زندگی اور سیرت کو قلمبند کیا ہے،تا کہ حدیث کے طالب علم ان کی مانند اپنی زندگی کو خدمت حدیث میں کھپا دیں اور حدیث مبارکہ میں محدثین کے اصولوں کو پیش نظر رکھیں۔اللہ تعالی مولف کو جزائے خیر سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-masoud-bsc-ki-jamat-al-muslimeen-pr-aik-nazar-copy
    نا معلوم

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔قدیم زمانے میں نجد عراق میں کوفہ کا شہر گمراہ فرقوں کی جنم بھومی اور آماجگاہ تھا۔مثلا خوارج ،روافض ،جہمیہ ،مرجئہ ،معتزلہ وغیرہ ۔انہی فرقوں میں سے ایک  نام نہاد جماعت المسلمین بھی ہے جوکراچی کی پیداوار ہے ۔اس جماعت کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے "جماعت المسلمین " کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے "حزب اللہ "کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجر﷫سمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مسعود  بی ایس سی کی جماعت المسلمین پر ایک نظر "جمعیت اہل حدیث بہاولپور کی طرف سے شائع کی گئ ہے جس پر کسی مولف کا نام موجود نہیں ہے۔اس کتاب میں جماعت المسلمین کے تمام باطل نظریات کا مدلل رد کیا  گیاہے اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔اللہ تعالی جمعیت اہل حدیث کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

    title-page-munkereen-e-hadees-aur-masla-taqdeer-copy
    نا معلوم
    اس کتاب میں مسئلہ تقدیر پر منکرین حدیث کے بے بنیاد شبہات و اعتراضات پر جامع و مدلل رد و تنقید ہے۔ اہم مباحث میں دین اور مذہب میں فرق , خلق و امر کی بحث , لفظ گمراہی کا لغوی و اصطلاحی معنی , قانو ں , تدبر قرآن , تقدیر میں پرویزی کا معنی , تشریح اور طریقہ کا ر , ہدایت و ضلالت کی بحث , تقدیر پر ایمان کا باہمی تعلق , عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول , انسان میں نیکی اور بدی کی تمیز , ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر , تقدیر اور تدبیر کا باہمی تعلق , منکرِ تقدیر کا اقرار تقدیر جیسے تمام مسائل شامل ہیں۔
    title-pages-parwaiz-k-bare-me-ulma-ka-mutafika-fatwa-ma-izafat-e-jadeeda-copy
    نا معلوم

    عصر حاضر کے فتنوں میں سے جو فتنہ اس وقت اہل اسلام میں سب سے زیادہ خطرناک حد تک پھیل رہا ہے وہ انکار حدیث کا فتنہ ہے۔ اس کے پھیلنے کی چند وجوہات عام ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ منکرین حدیث نے روافض کی مانند تقیہ کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ یہ براہ راست حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ خود کو اہل قرآن یا قرآنی تعلیمات کے معلم کہلاتے ہوئے اپنے لٹریچر میں قرآن ہی پر اپنے دلائل کا انحصار کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین کو یہ ذہن نشین کرانے کی سعی کرتے ہیں کہ ہدایت کے لئے تشریح کے لئے ' تفسیر کے لئے ، سمجھنے کے لئے اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کافی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے اس کے علاوہ کسی دوسری کتاب کی ضرورت نہیں۔قرآنی تعلیمات کے یہ معلم اپنے لیکچرز اور لٹریچر میں  کسی دوسری کتاب کی تفصیل اور گہرائی میں نہیں جاتے لیکن وہ چند مخصوص قرآنی آیات کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے اپنے سامعین و ناظرین و قارئین کو یہ باور کرانے کی بھر پور جدوجہدکرتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ پائی جانے والی دیگر کتب اختلافات سےمحفوظ نہیں جبکہ قرآن میں کوئی بھی کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف قرآن ہی منزل من اللہ ہے چونکہ دوسری کتابوں میں روایات میں ، اسناد میں اور متون اقوال میں اختلافات بکثرت ہیں لہذا یہ دوسری کتابیں نہ تو منزل من اللہ ہیں نہ مثل قرآن ہیں نہ ہی اس لائق ہیں کہ انہیں پڑھا جائے اور ان کی روایات پر عمل کیا جائے۔ تحریف قرآن وانکار حدیث کےداعی مسٹر  غلام احمد پرویز صاحب ہیں، جن کی گمراہی پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" پرویز کے بارے میں علماء کا متفقہ فتوی مع اضافات جدیدہ "مدرسہ عربیہ اسلامیہ ، نیو ٹاؤن کراچی کے شعبہ تصنیف کی کاوش ہے، جس میں غلام احمد پرویز کے بارے میں علماء کرام کے فتاوی کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    2
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب’’سنت نبوی پر عمل واجب اور اس کا انکار کفر ہے‘‘ سعودی عرب کے معروف عالم دین مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز﷫ کی تالیف ہے ،جس میں انہوں مستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے اور منکرین حدیث کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
pages-from-islam-ka-siyasi-nizam-kb-kaleyar

دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاوت کا نتیجہ ہے۔اس نظریے نے ایک جانب اگر یورپیوں کو ‏کلیسا کے استبداد کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا تو دوسری جانب یورپی استعماروں نے اسلامی دنیا میں اپنے نظریے کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو بھی اسلامی نظام کی ‏حاکمیت سے محروم کر دیا۔اردو زبان میں تقریبا تمام اسلامی علوم پر کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن سیاسیات پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا سیاسی نظام" مفتی محمد سراج الدین قاسمی کی مرتب کردہ اور ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں انہوں نے اسلام کے سیاسی نظام کے موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 486 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :