محمد مبشر نذیر

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد مبشر نذیر
    محمد مبشر نذیر

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں ۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔(م۔ا)

    محمد مبشر نذیر

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ (م۔ا)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، تعارف"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، اہل سنت، اہل تشیع اور اباضی"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر،بریلوی، دیو بندی،اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، انکار سنت ، انکار ختم نبوت اور اسلام"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، سیاسی، عسکری، دعوتی اور فکری تحریکیں"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، سیاسی، عسکری، دعوتی اور فکری تحریکیں"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، فقہی مکاتب فکر"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    محمد مبشر نذیر

    زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، روایت پسندی، جدت پسندی اور معتدل جدیدیت"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچواں حصہ ماڈیولCS05:تصوف اور اس کے ناقدین کے تعارف پر،چھٹا حصہ ماڈیولCS06:دینی، سیاسی، عسکری،دعوتی اور فکری تحریکوں کے تعارف پر اور ساتواں حصہ ماڈیولCS07:روایت پسندی، جدت پسندی،معتدل جدیدیت،اور فکری، ثقافتی، معاشی اور قانونی مسائل کے تعارف پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-page-ilhad-aik-taruf-copy

    دنیا کے ہر مذہب میں خدا کے تعارف‘ اس کے اقرار‘ اس سے انسان کے تعلق اور اس تعلق کے حامل انسان کی خصوصیات کو مرکزیت حاصل ہے۔ مختصراً‘ مذہب خدا کا تعارف اور بندگی کا سانچہ ہے۔ جدید عہد مذہب پر فکری یورش اور اس سے عملی روگردانی کا دور ہے۔ لیکن اگر مذہب سے حاصل ہونے والے تعارفِ خدا اور تصور خدا سے انکار بھی کر دیا جائے تو فکری اور فلسفیانہ علوم میں’خدا‘ ایک عقلی مسئلے کے طور پر بھی موجود رہتا ہے۔ خدا کے مذہبی تصور اور اس سے تعلق کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جدیدیت نے اپنی ابتدائی تشکیل میں ایک مجہول الٰہ کا تصور دیا تھا جس کی حیثیت ایک فکشن سے زیادہ نہیں تھی۔الحاد سے عام طور پر خدا کا انکار مراد لیا جاتا ہے اور دہریت اس کی فکری تشکیلات اور تفصیلات پر مبنی ایک علمی مبحث اور تحریک ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں الحاد کا تعارف‘ پس منظر‘ اسباب کو بیان کیا گیا ہے اور کتاب کے تین حصے کیے جا سکتے ہے۔پہلے حصے کو محمد دین جوہر نے تالیف کیا ہے ‘ جس میں ہم عصر الحاد پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔دوسرے  حصے کو محمد مبشر نذیر نے ترتیب دیا ہے جس میں مسلم اور مغربی معاشروں پر الحاد جدید کے اثرات کو تفصلاً بیان کیا گیا ہے اور اس حصے میں سات ابواب ہیں۔ اور تیسرے حصے کو حافظ محمد شارق نے مرتب کیا ہے جس میں الحاد اور جدید ذہن کے سوالات کو بیان کیا گیا ہے اور تیسرے حصے میں مزید مصنف نے چار حصے مرتب کیے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ الحاد ایک تعارف ‘‘ محمد دین جوہر‘ محمد مبشر نذیر اور حافظ محمد شارق کی تصنیف کردہ ہے۔آپ سب  تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2287 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :