محمد بن جمیل زینو

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد بن جمیل زینو
    title-pages-arkaan-islam-o-imaan
    محمد بن جمیل زینو
    زیر نظر کتاب عالم عرب کے مشہور داعی او رعالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو کی تحریر کردہ ہے۔مصنف فرقہ واریت کے زہر سے پاک ہیں اور ہر انسان کی بھلائی اور خیر خواہی کے جذبے سے سرشار ہیں۔انہوں نے صرف قرآن کریم اور احادیث رسول ہی کو پیش نظر رکھاہے اور اس دنیا میں دین کے مطابق کامیاب زندگی بسر کرنے کے تمام اصول و آداب وضاحب سے بیان کر دیے ہیں۔فاضل مؤلف نے قرآنی آیات اور نبوی فرامین کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ رب ذوالجلال کی وحدت،یکتائی،بڑائی اور کبریائی کے آگے سر جھکا دینا ہی انسان کی سب سے بڑی عزت اور کامیابی ہے۔انہوں نے تمام ارکان ایمان پر شرح و بسط سے روشنی ڈالی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ارکان اسلام اور ان کے متعلقات کو بھی قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کیا ہے ۔ضرور ی عقائد و اعمال سے واقفیت کے لیے یہ کتاب انتہائی مفید ہے جو ہر گھر اور لائبریری میں موجود ہونی چاہیے ۔

    title-pages-islami-aqeeda-sawalan-jawaban
    محمد بن جمیل زینو
    زیر تبصرہ رسالہ فضیلۃ الشیخ محمد بن جمیل زینو کے اسلامی عقائد بارے لکھے گئے نہایت جامع کتابچے ’خذ عقیدتک من الکتاب والسنۃ الصحیحۃ‘ کا ترجمہ ہے۔ جسے شیخ الحدیث عبدالستار حماد نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ رسالہ میں توحید اور دیگر عقائد نہایت عام فہم انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ رسالے کا اسلوب سوالاً جواباً ہے جو خاصا مفید اور دلچسپ ہے۔ ہر جواب کے ساتھ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے دلیل دی گئی ہے تاکہ پڑھنے والے کو جواب کے صحیح ہونے کا اطمینان ہو جائے، اس لیے کہ ’عقیدہ توحید‘ ہی انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی و سعادت کی بنیاد ہے۔ رسالہ کے آخر میں موضوع کی مناسبت سے عقیدہ توحید سے متعلق علامہ عبدالرزاق ملیح آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا نہایت جامع مضمون، جو انہوں نے 1925ء میں ’کتاب الوسیلۃ‘ اردو ایڈیشن کے مقدمے کے طور پر لکھا تھا، شامل کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    islamiaqeedakitabosunnatkiroshnimain-copy
    محمد بن جمیل زینو
    عقیدے کے موضوع پر بے شمار تصنیفات موجود ہیں اور لکھی جا رہی ہیں جن میں کچھ متقدمین یونانی فلسفے سے متاثر ہیں یا پھر متکلمانہ اور مناظرانہ اسلوب بیان کی حامل ہیں اور بعد ولوں میں کچھ جدید رجحانات کی وجہ سے متاثر ہو کر بعض لوگوں نے سائنس کی نت نئی موشگافیوں کو لے کر عقائد کو ثابت کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے اکثر مصنفین افراط وتفریط کا شکار ہو گئے کیونکہ سائنس غیبی امور سے متعلق گفتگو نہیں کر سکتی جبکہ عقیدے میں اکثر امور کا تعلق غیب سے ہی ہے اس لیے عقیدے کو سمجھنے کے لیےسب سے بہترین چیز قرآن اور حدیث ہی ہے جس میں نہ تو نت نئی موشگافیوں کو عمل دخل ہے اور نہ ہی افراط وتفریط اور نہ اٹکل پچو سے کام لیا گیا ہے بلکہ جس اللہ کی ذات کے بارے میں عقیدہ اور فرشتوں کے بارے میں عقیدہ ہونا چاہیے وہ خود اللہ رب العزت نے بیان کر دیا ہے جو کہ بالکل برحق اور سچ ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں اسلام اور ایمان کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کے بعد اللہ تعالی کے بندوں پر کیا حقوق ہیں اور بندوں کے اللہ تعالی پر کیا حقوق ہیں اس چیز کو واضح کیا ہے اور اسی طرح توحید کی اقسام،شرک کی اقسام،کلمہ طیبہ کی شرائط،عقیدہ توحید کی اہمیت،قبولیت عمل کی شرائط،اسلام کے حکموں کے مطابق دوستی اور دشمنی کے اصول،اللہ کے دوست اور شیطان کے دوست کون لوگ ہیں،اور اسی طرح توحید کے فوائد کے ساتھ ساتھ شرک کے نقصانات کو بھی بیان کیا ہے-اور سب سے بڑھ کر خوبی یہ ہے ان تمام بحثوں کو الگ الگ موضوع کے تحت سوال وجواب کی صورت میں بیان کیا ہے جس سے کسی بھی بات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

    title-pages-islami-muashrat-copy
    محمد بن جمیل زینو

    اللہ تعالی نے  کائنات کو عدم سے وجود عطا کیا اور اس میں اشرف المخلوقات  حضرت انسان کو پیدا کیا اور انسانوں کےلیے مقصد حیات اپنی عبادت متعین فرمایا۔انسانوں کی راہنمائی کی غرض سے  انبیاء و رسل کومبعوث فرمایا۔انبیاء کرام ؑ نے  عہد الست کی یادہانی کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا عظیم فریضہ بھی سرانجام دیا جس  کےنتیجے  میں ایک  ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے  جو  اسلامی معاشرت کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔اسلامی معاشرت کی بنیاد تقویٰ، مساوات ،اخوت، انصاف ،ایثار، دوسروں کی جان ،مال،عزت کی حفاظت اور تکریمِ انسانیت کے بلند اصولوں پر قائم ہے ۔بلاشبہ اسلامی معاشرت  ایک عظیم معاشرت  ہے ،جس کی عظمت کا اندازہ اس  بات  سےلگایا جاسکتا ہے  کہ  انبیاء  کرام  نے توحید ورسالت کے بعد سب سے  زیادہ توجہ اور اپنی تمام ترتوانیاں اصلاح معاشرہ کے لیے وقف کیں۔اسلامی معاشرت کے فیوض وبرکات اور ثمرات سے متفید ہونے کے لیے  اسلامی  طرز ِمعاشرت کو اپنی زندگیوں میں حقیقی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔زیر نظر کتاب ’’ اسلامی معاشر ت ‘‘ سعودی عرب کے معروف  عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو  کی  عربی کتاب "توجيهات الاسلامية لاصلاح الفرد والمجتمع‘‘ کا ترجمہ ہے  ۔  جس  میں انہوں نے اسلامی طرزِ معاشرت  کے قیام کے لیے  جو امور  بنیادی کردار اداکرتے ہیں انہیں شیخ  صاحب نے  بڑے احسن انداز میں بیان  کیا ہے ۔شیخ  جمیل زینو   اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے  مؤلف ہیں  ان  میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی  ہوچکے ہیں۔کتاب ہذا کا ترجمہ  کی  سعادت مولانا عبد الستار قاسم  (فاضل جامعہ سلفیہ) نے  حاصل کی  ہے ۔ اللہ تعالی  کتاب کے  مولف ،مترجم اور ناشرین کو  جزائےخیر سے نوازے  اور  کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    title-pages-islahe-aqeeda-kitab-o-sunnat-ki-roshni-me
    محمد بن جمیل زینو
    ’اصلاح عقیدہ‘ فضیلۃ الشیخ محمد بن جمیل زینو کا چھوٹا سا پمفلٹ ہے جو سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے اس میں عقیدہ توحید کی اہمیت اور شرک و بدعات کی تباہ کاریوں کو واضح کیا گیا ہے۔ ہر سوال کے جواب میں قرآنی آیات اور رسول اللہﷺ کی احادیث پیش کی گئی ہیں۔ اس پمفلٹ کا ترجمہ جناب طاہر نقاش نے کیا ہے۔ ترجمہ عام فہم اور سلیس ہے۔ طاہر نقاش صاحب نے اس پمفلٹ میں جہاں مشکل اصطلاحات تھیں ان کی آسان پیرائے میں تشریح کر دی ہے۔ کتابچہ کو متداول تراجم کو مدنظر رکھتے ہوئے آسان فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور بعض جگہ مفہوم سمجھانے کے لیے فٹ نوٹ کے ذریعے وضاحت کر دی گئی ہے۔ ا س کےعلاوہ باقی تراجم کے مقابلے میں یہ تخریج شدہ اور مولانا مبشر احمد ربانی کا نظر ثانی شدہ نسخہ کااعزاز بھی رکھتا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-tarbiyyat-e-aulaad
    محمد بن جمیل زینو

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’تربیت اولاد‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ میں   شیخ موصوف نے   تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔ یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے۔ شیخ جمیل زینو ﷾اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے مؤلف ہیں ان میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی ہوچکے ہیں۔دار السلام ریسرچ سنٹر لاہور نے اس کتابچہ کا سلیس ورواں ترجمہ کرکے   اور اس میں موجود احادیث کی تخریج کے ساتھ اسے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے مؤلف،مترجم، ناشر اوراس کی طباعت میں معاونت کرنے والوں کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور امت مسلمہ کے بچوں کو حسن اخلاق او رتعلیم اسلام کی دولت سے مالا مال کرے۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-tarbiyat-e-ulad-k-islami-usool-copy
    محمد بن جمیل زینو

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کے معاملہ میں سردمہری کامظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جوکربناک صورت حال پیش آسکتی ہے۔ اس سے اہل ایمان کومحفوظ رکھنےکےلیے اللہ تعالیٰ نے پہلے سےآگاہ کردیا ہے۔ تاکہ وہ اپنی فکر کےساتھ ساتھ اپنے اہل عیال اوراپنی آل اولاد کوعذاب الٰہی میں گرفتار ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکرکریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تربیت اطفال کے اسلامی اصول ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے ’’کیف نربی اولانا‘‘ کا ترجمہ ہے۔اس کتابچہ میں شیخ موصوف نے تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے ۔ شیخ جمیل زینو ﷾اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے مؤلف ہیں ان میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ ۔ اللہ تعالیٰ اسے مؤلف،مترجم، ناشر اوراس کی طباعت میں معاونت کرنے والوں کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور امت مسلمہ کے بچوں کو حسن ِاخلاق او رتعلیم اسلام کی دولت سے مالا مال کرے۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-tasawuf-kitab-w-sunnat-ki-roshni-me-copy
    محمد بن جمیل زینو

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تصوف کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ شیخ محمد جمیل زینو﷫ کی تصوف کےموضوع پر جامع کتاب ’’الصوفیہ فی میزان الکتاب والسنۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ مولانا عبد الجبار صاحب نےاردو ترجمہ کرنےکی سعادت حاصل کی ہے ۔موصوف مترجم ایک اچھا علمی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ فرق ضالہ پر بھی اچھا مطالعہ رکھتے ہیں۔شیخ جمیل زینو ﷫ نےاس کتاب میں تصوف کی ابتدا، صوفیت کتاب وسنت کے میزان میں ، صوفیوں کے اقوال، صوفیوں کی کرامات، صوفیوں کانظریہ جہاد،صوفیوں کے پیراور مشائخ صوفیہ کےنزدیک تقلیدِ شیخ، صوفیہ کےنزدیک ولی کامفہوم جیسے عنوانات قائم کرکے انہیں بڑے عام فہم انداز میں قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے تصوف کی حقیقت کو واضح کیا ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-rahe-hidayat-kaise-mili
    محمد بن جمیل زینو
    شیخ محمد بن جمیل زینو سعودی عرب کے جلیل القدر عالم اور معروف مصنف ہیں۔ان کی تحریر کا اصل موضوع ’اصلاح عقائد‘ ہے اور اس سلسلہ میں متعدد کتابیں ان کے قلم سے نکل عوام و خواص میں سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔شیخ صاحب موصوف تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ میدان تدریس کے بھی شہسوار ہیں۔آپ شام کے شہر حلب میں 29سال تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔بعدازاں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے کہنے پر اردن میں دعوت و تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے ’دارالحدیث الخیریہ‘میں بطور مدرس مقرر ہوئے اور تفسیر ،حدیث اور عقیدہ کے اسباق پڑھانے لگے۔زیر نظر کتابچے میں شیخ نے اپنے ذاتی حالات و کوائف بیان کیے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خالص عقیدہ توحید اختیار کیا۔یہ بات قارئین کے لیے یقیناً دلچسپ ہوگی کہ شیخ صاحب پہلے نقشبندی صوفی تھی،بعد ازاں سلفی عقیدہ کی نعمت سے مالا مال ہوئے ۔یہ کیسے ہوا،اس کتابچے میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
    title-pages-shamail-e-muhammadiapbuh-copy
    محمد بن جمیل زینو

    دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے  اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر  خدمات انجام دیں۔دور  حاضر میں  ہر محاذ پر ملت  کفر  مسلمانوں پر حملہ آور ہے  او راسلام اور مسلمانوں  کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر  آئے دن نعوذ باللہ  پیغمبر اسلام کی ذات  کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے  ذریعے  اس کی  خوب تشہیر کی جاتی ہے۔  تو یقینا ایسی صورت حال میں  رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے  واقعات کو دنیا میں عام  کرنے کی شدید ضرورت ہے  تاکہ  اسے پڑھ کر  امت مسلمہ اپنے پیارے  نبیﷺ کے خلاق  حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے  آگا ہ ہوسکے  اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔زیر نظر کتاب’’شمائل محمدیہ‘‘ سعودی عرب کے  معروف عالم  شیخ محمدبن جمیل زینو﷾ کی تصنیف کاترجمہ ہے ۔جس  میں نبی کریم ﷺ کی سیرت وکردار کوبہت ہی خوبصورت اسلوب میں مرتب کیاگیا ہے اوررسول اللہﷺ کی زندگی کاتقریبا ہر پہلو  موضوع بحث بنایاگیا۔ترجمہ کی سعادت  معروف عالم دین مترجم ومصنف کتب کثیرہ  ابو ضیاء محمود احمدغضنفر ﷫ نے  حاصل کی  ہے ۔ اللہ  تعالی مصنف ،مترجم اورناشرین کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کے لیے  مفید بنائے  ۔شمائل نبویﷺ کے حوالے  سے امام ترمذی﷫ کی  شمائل ترمذی کی شرح  خصائل نبوی(مطبوعہ انصار السنۃ،لاہور) اور شمائل سراج منیر(مطبوعہ مکتبہ قدوسیہ،لاہور ) بھی  انتہائی اہم  اور لائق مطالعہ ہیں ۔(آمین) (م۔ا)

     

    pages-from-sahi-qisas-un-nabi
    محمد بن جمیل زینو

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے ۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صحیح قصص النبوی ‘‘عرب کے مشہور ومعروف ادیب اورسکالرشیخ محمد بن جمیل زینو﷾کی عربی تصنیف ’’ من بدائع القصص النبوی الصحیح‘‘ کا سلیس اردوترجمہ ہے۔شیخ موصو ف نے صحیح احادیث کی روشنی میں زبان رسالت مآبﷺ سے بیان کیے گئےدلچسپ اور نصیحت آموز بارہ خوبصورت ، دلچسپ اور ایمان افروز واقعا ت کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے ۔یہ کتاب آج کے دور میں مروجہ بیہودہ اور لغو لٹریچر کا بہترین نعم البدل ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-pages-sirate-mustaqeem-aur-hum-copy
    محمد بن جمیل زینو

    عقیدہ ومنہج کوسمجھنا  دین میں  بنیادی اہمیت  رکھتا ہے ۔انبیاء سب سے پہلے آکر عقیدے کی اصلاح کیا کرتے تھے ۔عقیدے کی اصلاح کے ساتھ صراط مستقیم کا حصول او رعمل  کی اصلاح ہوتی ہے  ۔عمل کی اصلاح سے اخلاق ومعاملات کی اصلاح ہوتی اور اسی طرح پورے معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے۔اس سارے عمل  میں بنیاد عقیدہ ہے ۔ ہر مسلمان کو سب سے پہلے اپنے عقیدہ کا فہم وشعور ہونا چاہیے  کہ اس کا عقیدہ درست اور عین  اسلام کے  مطابق ہے یا نہیں۔ کیونکہ نجات کا سارا دارومدار عقیدے پر ہے ۔اگر عقیدہ  درست نہ ہوگا تو اچھے سے اچھا عمل بھی بے کار جائے گا۔ زیر نظرکتاب ’’صراط مستقیم اور ہم ‘‘ مشہور ومعروف سعودی عالم دین  محمد بن  جمیل زینو اور سید سیف الرحمن کی  تصنیف ہے ۔ جس میں  انہوں نے  عقیدہ کی بحث کو پیش کرتے ہوئے مباحث فقہیہ  اور مختلف فرقوں  اور تفرقہ بازی کے بگاڑ کو بیان کیا ہے  ۔اور اسی طرح حنفیت کی حقیقت  کو  واضح کرتے  ہوئے  بتایا ہےکہ اصل کامیابی  مختلف اماموں اور تقلید کو اختیار کرنے  میں نہیں بلکہ  صراط  مستقیم  نبی کریم ﷺ کے  کتاب  وسنت میں  وارد فرامین  کو ماننے اور  اللہ ورسولﷺ کی اتباع کرنے کا نام  ہے ۔اللہ اس کتاب کوشرک وبدعات  میں گھیرے  ہوئے  اور  راہ راست سے ہٹے لوگوں کی  اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا )

     

    untitled-1
    محمد بن جمیل زینو
    اس کتاب کے مصنف جمیل زینو شام کے شہر حلب میں پیداہوئے اور وہیں پلے بڑھے آپ کا تعلق صوفیت کے متعدد طریقوں کے ساتھ رہا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو توحید کی سیدھی راہ نصیب فرمائی۔ زیر نظر کتاب میں محترم جمیل زینو نے اپنے ہدایت کی جانب سفر کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کردیا ہے۔ مصنف کے بقول یہ داستان رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شاید پڑھنے والے کو اس میں نصیحت اور سبق مل جائے کہ جو اس کے لیے باطل سے حق کی پہچان کرنےمیں ممدو معاون ثابت ہو۔ شیخ صاحب نے اپنی داستان کو قرآن و سنت کے مضبوط اور قوی دلائل کے ساتھ بھی آراستہ کیاہے تاکہ پڑھنے والے کی ہرمسئلہ میں مکمل تشفی ہوتی چلی جائے۔ محترم ابن لعل دین نے مصنف کے مؤقف کو وضاحت سے بیان کرنے کے لیے فٹ نوٹس کس شکل میں وضاحتیں اور تشریحات لکھ دی ہیں اور ان میں اصل مصادر کےحوالے بھی دے دئیے ہیں۔ الشیخ زکریا زاہد نے کتاب کا سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1247 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں