محمد ارشد کمال

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد ارشد کمال
1979-11-16

مولانانےسرکاری سکول سےمڈل تک تعلم حاصل کرنےکےبعد9مئی 1996ءکوجامعہ ابی ھریرہ (رینالہ خورداوکاڑہ)میں داخلہ لیااوراستاد پنجاب حضرت مولاناعطاءاللہ لکھوی  کےصاحبزادہ گرامی حافظ شفیق الرحمن لکھوی اورجامعہ کےدیگر اساتذہ سےجنوری 2001ءتک حصول تعلیم میں مشغول رہے۔پھرجامعہ لاہورالاسلامیہ لاہور(رحمانیہ)میں داخل ہوئےاوریہاں کےاساتذہ سےخوب استفادہ کیا۔

2003ءمیں جامعہ دارالعلوم المحمدیہ (لوکورکشاپ لاہور)میں شیخ الحدیث حافظ عبداللہ رفیق سےصحیح البخاری پڑھی اوراسی سال یہاں سےسندفراغت بھی حاصل کی اسی دوران جامعہ کےدوسرے اساتذہ سےبھی دوسری کتابیں پڑھیں۔

نام: محمدارشدکمال۔

ولادت: مولانامحمدارشدکمال 16 نومبر 1979ءکوضلع قصورکےایک گاؤں چک نمبر18میں پیداہوئے۔

تعلیم وتربیت:

مولانانےسرکاری سکول سےمڈل تک تعلم حاصل کرنےکےبعد9مئی 1996ءکوجامعہ ابی ھریرہ (رینالہ خورداوکاڑہ)میں داخلہ لیااوراستاد پنجاب حضرت مولاناعطاءاللہ لکھوی  کےصاحبزادہ گرامی حافظ شفیق الرحمن لکھوی اورجامعہ کےدیگر اساتذہ سےجنوری 2001ءتک حصول تعلیم میں مشغول رہے۔پھرجامعہ لاہورالاسلامیہ لاہور(رحمانیہ)میں داخل ہوئےاوریہاں کےاساتذہ سےخوب استفادہ کیا۔

2003ءمیں جامعہ دارالعلوم المحمدیہ (لوکورکشاپ لاہور)میں شیخ الحدیث حافظ عبداللہ رفیق سےصحیح البخاری پڑھی اوراسی سال یہاں سےسندفراغت بھی حاصل کی اسی دوران جامعہ کےدوسرے اساتذہ سےبھی دوسری کتابیں پڑھیں۔

اساتذہ:

مولانا ارشدکمال نےدوران تعلیم جن اساتذہ کرام سےکسب فیض کیا ان کےنام مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔حافظ شفیق الرحمن لکھوی  2۔مولاناعبدالرحمن مدنی ۔

3۔مولاناعبدالسلام صاحب  ﷫ 4۔حافظ عبداللہ رفیق صاحب۔

ان کےعلاوہ کئی دیگراساتذہ سےبھی اپنی علمی تشنگی کودورکیا۔

درس وتدریس:

فارغ التحصیل ہونےکےبعدمولانانےخطابت اورتصنیف وتالیف کےمیدان میں قدم رکھا اورتاحال اسی میں مصروف کارہیں۔

تصانیف:

مولانا تصنیف وتالیف کا ذبردست ذوق رکھتےہیں ان کی چندکتابیں شائع ہوچکی ہیں۔علمی شخصیت ہیں اس لیے وفتافوقتا ایسےپچیدہ موضوعات پرقلم اٹھاتےرہتےہیں۔جن میں عوام الناس بلکہ خواص بھی غلط فہمی میں مبتلاہوجاتےہیں وہ ایسےمسائل کوکھول کراس انداز میں بیان کردیتےہیں کہ عام آدمی بھی ان علمی جواہروں سےاپنےدامن کوآراستہ وپیراستہ کرکےراہ راست پرگامزن ہوجاتاہے۔انکی چندایک کتابوں کےنام درج ذیل ہیں۔

1۔اسلامی مہینےاورانکا تعارف  2۔المسندفی عذاب القبر 3۔عذاب قبر

4۔سیدناثعلبہ بن حاطب درعدالت انصاف۔

حوالہ: سیدناثعلبہ بن حاطب درعدالت انصاف از۔ارشدکمال۔

کتاب وسنت ڈاٹ کام۔

    sample
    محمد ارشد کمال

    اللہ تعالی کا ہم پریہ احسان ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری آسانی کے لیے زمانے کو بارہ مہینوں میں تقسیم فرمادیاہے اور ان میں سے چار مہینوں محرم، رجب، دوالقعدہ اور ذو الحج کو حرمت کے مہینے قرار دیا محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے بعض مخصوص مہینوں کے لیے کچھ اعمال او ران کے عظیم فضائل وبرکات بیان فرمائے ۔قمری سال اور اس کے مہینوں کے تعارف کے سلسلے میں عربی اوراردومیں مختصر اور مفصل بہت کتب ترتیب دگی ہیں جن میں ان مہینوں کی تاریخ اور ان میں سر انجام دی جانے والی عبادت کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن ان میں اکثر کتب غیر مستند اور ناقابل اعتماد ہیں ۔زیر نظر کتاب ''اسلامی مہینے اور ان کا تعارف'' اسی موضوع پر مولانا ارشد کمال ﷾ کی جامع اور مستند کتاب ہے جس میں قمری سال اوراس کے تمام مہینوں سے متعلق ہر مہینے کا نام ، اس کی وجہ تسمیہ، تاریخی حیثیت، اور اس میں سرانجام دیئے جانے والے اعمال وعبادات اور بدعات ورسومات کی شرعی حیثت کے متعلق بڑی تحقیقی اور مستند معلومات جمع کردی گئی ہیں اللہ تعالی مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-al-musnad-fi-azaab-e-al-qabar
    محمد ارشد کمال
    روح اور بدن کی جدائی کا نام  موت ہے۔ موت  عالم دنیا سے عالم آخرت میں داخلے کا ذریعہ ہے،جہاں سے انسان کی ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ عالم آخرت کے دو مرحلے ہیں ایک عالم برزخ ،یعنی موت سے لے کر حساب وکتاب کےلیے دوبارہ اٹھائےجانے تک، اور دوسرا مرحلہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد یعنی عالم حشر سے شروع  ہوگا۔ عالم برزخ میں ملنے والی سزا کو عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ عقیدہ عذاب قبر اس قدر اہم ہے کہ اس  پر بڑے بڑے محدثین اور آئمہ کرام رحمہم اللہ اجمعین نے باقاعدہ کتب تالیف فرمائی ہیں۔ جیسا کہ امام بیہقی  نے ’’ اثبات عذاب قبر‘‘ امام ابن ابی الدنیا نے ’’کتاب القبول اور کتاب الاہوال‘‘ امام قرطبی نے ’’التذکرہ‘‘ امام ابن رجب نے ’’اھوال القبور ‘‘ امام ابن قیم نے ’’ کتاب الروح‘‘ اورامام  جلال الدین سیوطی نے ’’ شرح الصدور‘‘ جیسی گراں قدر کتب تالیف فرمائیں۔ مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ المسند فی عذاب القبر ‘‘ فاضل مؤلف محمد ارشد کمال  کاوش ہے۔اس میں انہوں نے  عذاب قبر کے اثبات پر ڈیڑھ سو کے قریب صحیح وصریح  مرفوع وموقوف احادیث جمع کر دی ہیں،اورعذاب قبر کےحوالے سے  پیدا ہونے والے بعض اہم مسائل پر  تسلی بخش اور مدلل بحث کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(ک،ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-sayyidna-solbah-bin-hatib-dar-adalat-e-insaf
    محمد ارشد کمال

    صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ اور صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہی وہ پاکیزہ جماعت ہے جس کی تعدیل قرآن نے بیان کی ہے۔ متعدد آیات میں ان کے فضائل ومناقب پر زور دیا ہے اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اوران کی راہ سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر کیا ہے۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م﷢ کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن وحدیث کےساتھ تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ اور محدثین نے ’’الصحابة کلهم عدول‘‘ کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے یاتغافل کشی سے کام لیتے۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت، کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہی گئی ۔ لیکن مخالفین اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے صحابہ کرامؓ ہی کو ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ ان کے کردار کوبد نما کرنے کےلیے ہر قسم کےاتہام تراشنے سے دریغ نہ کیا۔قرآن وسنت کے مقابلہ میں تاریخی وادبی کتابوں سے چھان بین کر کے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی سعئ ناکام کی ۔تو محدثین اور علمائے امت نے   مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات اور دفاع صحابہ کے سلسلے میں   گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’سیدنا ثعلبہ بن حاطب﷜ در عدالتِ انصاف ‘‘ محترم جناب مولانا محمد ارشد کمال ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے سیدنا ثعلبہ بن حاطب﷜ پر لگائے جانے والے بہتانوں کا بڑے علمی انداز میں تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک کتابچے کا جواب ہے مصنف موصوف نے ان تمام اعتراضات کے جوابات دیے ہیں جو سیدنا ثعلبہ بن حاطب ﷜ پر عموماً کیے جاتے ہیں۔مصنف نے اس کتاب کودوحصوں میں تقسیم کیاہے ۔یہ ایک تحقیقی تصنیف ہے جو اپنے موضوع کی نہایت اہم کتاب ہےاور یہ ایک   اہم فریضہ تھا جس کے ادا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق عطا فرمائی۔ ۔اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کا وش کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کے دلوں میں صحابہ کی   عظمت ومحبت پیدا فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-page-azab-e-qabar
    محمد ارشد کمال
    اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں-عالم برزخ کیا ہے؟ اور عذاب قبر کیا ہے؟ اس کتاب میں اسی معرکۃ الآراء مسئلے سے  متعلق تمام حقائق  کو سپرد قلم کیا گیا ہے- مصنف محمد ارشد کمال نے کمال مہارت سے لغت، قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے اثبات عذاب قبر پر دلائل کا انبار لگاتے ہوئے منکرین عذاب قبر کو مسکت جوابات سے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کی دعوت دی ہے-علاوہ ازیں منکرین عذاب قبر کے چند بناوٹی اصولوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے ان کا بھر پور محاسبہ کیا گیا ہے-  کتاب کے آخر میں انتہائی جانفشانی کے ساتھ منکرین عذا ب قبر سے متعلق علماء کرام کی آراء کو بھی قلمبند کر دیا گیا ہے-

    title-pages-azab-e-qabar-quran-e-majeed-ki-roshni-me-copy
    محمد ارشد کمال

    عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔عذاب قبر سے مراد وہ عذاب اور سزا ہے جو موت سے لے کر حساب وکتاب کے لیے دوبارہ اٹھائے جانے یعنی قیامت سےپہلے تک اللہ تعالیٰ کےنافرمانوں کودی جاتی ہے ۔ اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں ۔جبکہ بعض کوتاہ بین ایسے بھی ہیں جنہوں نےاس کا انکار کیا جیسا کہ عصر حاضر میں منکرین حدیث ہیں جواس کا کلی انکار کرتے ہیں او راسی طرح برزخیوں کا ٹولہ ہے جو کہتے ہیں کہ اس قبر میں میت کو عذاب نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ عذاب قبر قرآن مجید کی روشنی میں ‘‘ فاضل نوجوان محقق ومترجم محترم جناب مولانا ارشد کمال ﷾ کی علمی وتحقیقی کاوش ہے ۔موصوف نے اس مختصر کتاب میں عقیدہ عذاب قبر کو قرآن مجید سے ثابت کرتے ہوئے منکرین حدیث ومنکرین عذاب قبر کے اعتراضات کا بودا پن بھی ظاہر کیا ہے ۔موصوف اسی موضوع پر ایک تفصیلی کتاب ’’ المسند فی عذاب القبر ‘‘کے نام میں بھی تصنیف کرچکے ہیں جوکہ کتاب وسنت سائٹ پر موجود ہے ۔(م۔ا) 

    title-pages-naikiyon-ko-barbad-krne-wale-aamal-copy
    محمد ارشد کمال

    جس طرح صالح اعمال کرنے ضروری ہیں اسی طرح اس سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرنا بھی لازم ہے کیونکہ انسان بڑی تگ ودو کے بعد اعمال کی لڑی پروتا ہے اور ذراسی بے احتیاطی سےیہ لڑی بکھر بھی سکتی ہے لہذا ایک مسلمان کی اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزدنہ ہو جس کی وجہ سے اس کی ساری محنت ومشقت اکارت ہوجائے ۔کیونکہ انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیکیوں کو برباد کرنیوالے اعمال ‘‘ معروف قلمکار اور علم دوست ، مصنف ومترجم مولانا محمد ارشد کمال ﷾کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے نیکیوں کو برباد کرنے والے ان اعمال کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ انسان جنہیں بہتر سمجھ کر اپنا لیتا ہے اور نتیجتاً اس کےثواب برباد اوراعمال ضائع ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ، مصنف و ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

    pages-from-gunahon-ko-mitane-wale-aamaal
    محمد ارشد کمال

    انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق و مالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک   کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہو کر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتے ہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔ گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہو چکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلے جاتے ہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کو آواز دیتا ہے کہ: اے دنیا والو! ہے کوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ان اعمال کی تفصیل موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’گناہوں کو مٹانے والے اعمال‘‘ فاضل نوجوان متعدد کتب کے مصنف مولانا محمد ارشد کمال﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے حسن کمال کے ساتھ کتاب وسنت کے بکھرے ہوئے حسین و جمیل پھولوں کو چن کر ایک ایک شاندار گلدستہ مرتب کردیا ہے۔ یہ کتاب گناہوں کو مٹانے والے اعمال کا شاندار خزینہ، عقیدہ وعمل کا آئینہ اور اخروی نجات کا دفینہ ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اسے عوام الناس کے نفع بخش بنائے۔ آمین (م۔ا)

    pages-from-al-adab-ul-mufrid
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔ اسلامی آاداب واطوار کے موضوع پر امام بخاری نے ایک مستقل کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جو ’’الادب المفرد‘‘ کے نام سےمعروف ومشہور ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ ان احادیث کو پیش فرمایا ہے جن سے ایک اسلامی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک مسلمان کے شب وروز کیسے گزرتے ہیں وہ اپنے قریبی اعزہ وقارب کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے دوست واحباب اور پاس پڑوس کے تعلق سے اس کا کیا برتاؤ ہوتا ہے ۔ ذاتی اعتبار سےاسے کس مضبوط کردار اور اخلاق کا حامل ہوتا چاہیے۔ان جیسے بیسیوں موضوعات پر امام بخاری نے اس کتاب میں احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ اس کتاب میں ابواب کی کل تعداد 644 اور مرفوع وموقوف روایات کی تعداد1322 ہے ۔اس کتاب پر محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ نے علمی وتحقیقی کام کر کے اس کی افادیت دوچند فرمادی ہے ۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر بعض اہل علم نے اس کی شروح وحواشی کا کام بھی کیا ہے۔اور اسی طرح اس کےمتعدد ترجمے بھی کیے گئےہیں ۔ سب سے پہلے نواب صدیق حسن خاں قنوجی ﷫ نے’’ توفیق الباری ‘‘ اور مولانا عبدالغفار المہدانوی ﷫نے’’سلیقہ‘‘ اور مولانا عبد القدوس ہاشمی ﷫ نے’’ کتاب زندگی ‘‘ کےنام سے اس کا ترجمہ کیا ۔ زیرتبصرہ ترجمہ ادب المفرد کا چوتھا محترم مولانا ارشد کمال﷾نے کیا ہے۔ مولاناموصوف ایک منجھے ہوئے صاحب علم نوجوان ہیں جن کے قلم سے کئی مفید کتابیں عالم ِ وجود میں آئی ہیں او راللہ تعالیٰ نے انہیں شرفِ قبولیت سے نوازا ہے ۔مولانا ارشد کمال ﷾ نے ’’الادب المفرد‘‘ کا ترجمہ ہی نہیں اس کی احادیث کی مختصر تخریج بھی کی ہے اور شیخ البانی ﷫ نے احادیث پر جو حکم لگایا ہے اسے بھی ترجمہ کا حصہ بنایا ہے۔ یوں ترجمہ کی افادیت سہ چند ہوگئی ہے۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالستار الحماد﷾کی نظرثانی سے اس ترجمہ کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔مکتبہ اسلامیہ کےمدیر جناب مولانا محمد سرور عاصم﷾ نے اسے طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ، اورناشر کی خدمت حدیث کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

    pages-from-taqleed-ki-sharai-haisiat-hafiz-jalaluddin-qasmi
    جلال الدین قاسمی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں۔ زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں۔ لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ تقلیدکی شرعی حیثیت ‘‘مولانا حافظ جلال الدین قاسمی ﷾ کی تقلیدکے حوالے سے قرآن وحدیث، آثار صحابہ وتصریحات ائمہ عظام واقوال علماء کرام کی روشنی میں اہم کتاب ہے جس میں انہوں نے لوگوں کو تقلیدِ شخصی کے بدترین نتائج سے اگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ   انہیں کتاب وسنت کی طرف رجوع کی ترغیب دلائی ہے۔ فاضل مصنف دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی اور سنسکرت کےعلاوہ اور بھی زبانوں میں آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے ۔انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔فنِ خطابت پر جو قدرتی ملکہ آپ کو حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔ نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل تحسین خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اور اللہ ورسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) مصنف موصوف نے اس قبل ’’رد تقلید ‘‘کے عنوان سے انڈیا میں ایک رسالہ شائع کیا تھا جو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجو د ہے۔ زیر نظر کتابچہ بھی اگر چہ تقلیدکے رد کے سلسلے میں ہے اور تقریبا سابقہ کتابچہ کے مواد پر مشتمل ہے۔ لیکن اس کو پاکستان میں تخریج وتخریج کےساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس تحقیقی کام سےکتاب کی افادیت اور استنادی حیثیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس لیے اس کو ویب سائٹ پر اپڈ یٹ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مؤلف اور جملہ معانین کے اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) م ۔ا

    title-pages-mohabbat-ya-ishaq-copy
    عبد اللہ ناصر رحمانی

    عشق کی بیماری میں شیطان دو طرح کے لوگوں کو مبتلاء کرتا ہے، ایک بے دین طبقہ اور دوسرا دین دار طبقہ۔بے دین طبقے میں لیلی مجنوں، شیریں فرہاد وغیرہ کے نام سننے کو ملتے ہیں۔اور دین دار طبقے میں اس بیماری کا شکار صوفیاء ہوتے ہیں۔کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت زیادہ  فرق ہے۔ عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔ لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ عزیز مصر کی بیوی کو یوسف علیہ السلام سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" محبت یا عشق " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم  مولانا عبد اللہ ناصرر حمانی  صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے مقدس ہستیوں کے لئے لفظ عشق استعمال کرنے سے منع کیا ہے اور ان کے ساتھ لفظ محبت استعمال کرنے کو درست قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ تمام اہل علم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-muqam-e-risalat-copy
    محمد ادریس فاروقی

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مقالم رسالت " جماعت اہل کے معروف عالم دین مسلم پبلی کیشنز کے مالک محترم نعمان فاروقی صاحب کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  مقام رسالت ،مقام حدیث،تدوین حدیث،کتب حدیث،استخفاف حدیث اور فتنہ انکار حدیث پر ایک مختصر ،مدلل اور عام فہم علمی وتحقیقی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-munkareen-e-hadees-mughalita-angaiziyon-key-ilmi-jawaab
    جلال الدین قاسمی

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث انکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلی رہی ہے۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظر کتاب ’’ منکرینِ حدیث کی مغالطہ انگیزیوں کے علمی جوابات‘‘ انڈیاکے معروف جید سلفی عالم دین مولانا حافظ جلال الدین قاسمی ﷾ کی فتنہ انکار حدیث کے رد کےسلسلے میں اہم کاوش ہے ۔اس موضوع پر اگرچہ بہت کتب اور لٹریچر اس سے قبل موجود ہے۔ مگر یہ کتاب انتہائی اختصار وجامعیت کے ساتھ عوام وخوام دونوں کےلیے یکساں مفید ہے ۔نیز اس کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں انہیں اشکلات وشبہات کا ازالہ کیاگیا ہے جنہیں عام طور منکر ین حدیث بڑے طمطراق کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرکے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ کتاب ان کے پیش کردہ اشکلات وشبہات کو قلع قمع کرنے کے لیے کافی وشافی ثابت ہوگی ۔ مولانا محمد ارشدکمال﷾ کی تخریج سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ مصنف کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ شریعت اور اسرار شریعت پرگہری نظر رکھتے ہیں۔دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی کےعلاوہ بھی کئی زبانوں میں آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے،دنیا کی مشکل ترین زبان سنسکرت کے ادب اور خصوصاً اس کی گرائمر پرمہارت رکھتے ہیں۔ انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔موصوف میدان خطابت کےشہسوار ہیں ان کا ہر خطاب کتاب وسنت کےدلائل سے معمور ہوتا ہے۔ فنِ خطابت پر جو قدرتی ملکہ آپ کو حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ۔2 جولائی 2014 سے پیس ٹی وی پر ان کےعلمی خطابات’’ فیضان کتاب وسنت ‘‘ نامی پروگرام کےتحت نشر کئے جارہے ہیں جنہیں دنیا کے156 ممالک میں دیکھا اور سنا جار ہا ہے ۔نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل تحسین خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اور اللہ ورسول کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(م۔ا)

    title-pages-preshaniyon-aur-mushklat-ka-hall-copy
    حافظ محمد حمزہ کاشف

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تماممصائب وآلام بیماری اور تکالیف  سب کچھ  منجانب اللہ ہے  اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا  حصہ ہے  کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ  کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں  مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ  اطاعت پرمضبوط  ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ  انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی  تقاضا ہےکہ  وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے  اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک  ان کے   اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا  نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے  ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے  شمار گناہوں کو  معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی  ضرورت  ہے  یعنی نفس پر اتنا  قابو  ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس  میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں  وہ  اداس اور بدل نہ  ہو۔ زیر نظر کتاب ’’پریشانیوں اور مشکلات کاحل ‘‘ محترم حافظ  محمد  حمزہ کاشف اور جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن  حفظہمااللہ کی مشترکہ کاوش ہے ۔مصنفین نےاس کتاب کی ترتیب کےوقت اس موضوع کی اکثر کتب بالخصوص عامر محمد ہلالی کی کتاب ’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ کومدنظر رکھا ہے۔قارئین کی سہولت کی خاطر کتاب کو حسب ذیل  چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔آزمائش اور تقدیر الٰہی ،آزمائشوں میں خیر وبرکات کےپہلو،سوچنےکا عمدہ انداز اور خوش رہنے کے قاعدے ،آزمائش میں نیک لوگوں کا طرز عمل ،آزمائش سے پہلے اور بعد۔ یہ کتاب پریشانیوں کا احساس کم کرنے اور غموں کےزخموں پر مرحم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) فاضل محقق مولانا محمدارشد کمال﷾ کی تحقیق کے ساتھ اس کتاب  کی افادیت اور ثقاہت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کومؤلفین  اور جملہ معاونین کےلیے  صدقہ جاریہ  بنائے اور اہل ایمان کو  مصائب اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-preshaniyon-aur-mushklat-ka-hall-jadeed-audition--copy
    ڈاکٹر حافظ شہباز حسن

    دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی تکالیف میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکرکے اللہ تعالیٰ کےاجر وثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔اور حالات واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کوپہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سےنجات سےمتعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے۔  زیر نظر کتاب ’’پریشانیوں اور مشکلات کاحل ‘‘ محترم حافظ محمد حمزہ کاشف اور جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن حفظہمااللہ کی مشترکہ کاوش ہے ۔مصنفین نےاس کتاب کی ترتیب کےوقت اس موضوع کی اکثر کتب بالخصوص عامر محمد ہلالی کی کتاب ’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ کومدنظر رکھا ہے۔قارئین کی سہولت کی خاطر کتاب کو حسب ذیل ساتھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اوروہی مشکل دورکر سکتا ہے۔ آزمائش اور تقدیر الٰہی۔  آزمائشوں میں خیر وبرکات کےپہلو۔ سوچنےکا عمدہ انداز اور خوش رہنے کے قاعدے ۔ آزمائش میں نیک لوگوں کا طرز عمل ۔ آزمائش سے پہلے اور بعد۔ جادواورنظر بد سےبچاؤ کےطریقے ۔  آخری باب میں عرب علماء کا موقف بالعموم اور شیخ وحید عبدالسلام بالی کا موقف اوران کے تجربا ت بالخصوص پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب پریشانیوں کا احساس کم کرنے اور غموں کےزخموں پر مرحم رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ (ان شاء اللہ) فاضل محقق مولانا محمدارشد کمال﷾ کی تحقیق کے ساتھ اس کتاب کی افادیت اور ثقاہت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کومؤلفین اور جملہ معاونین کےلیے صدقہ جاریہ بنائے اور اہل ایمان کو مصائب اور پریشانیوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن موجود ایڈیشن میں ساتویں باب کااضافہ کیا گیا ہے جو تقریبا100 صفحات پر مشتمل ہے۔ لہذا اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے۔(م۔ا)

    page-from-gunahon-ki-maafi-key-10-asbaab
    جلال الدین قاسمی

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ان اعمال کی تفصیل موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’گناہوں کی معافی کے 10 اسباب‘‘ انڈیاکے معروف جید سلفی عالم دین مولانا حافظ جلال الدین قاسمی ﷾ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں انہوں نے قرآن واحادیث کی روشنی میں ایسے دس اسباب کوبیان کیا ہے کہ جن کو اختیار کرنے سے ایک انسان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ کتاب میں وارد احادیث واثار کی تخریج وتحقیق کا فریضہ نوجوان عالم دین مولانا ارشد کمال﷾ نے انجام دیا ہے۔ مصنف کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ شریعت اور اسرار شریعت پرگہری نظر رکھتے ہیں۔دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی کےعلاوہ بھی کئی زبانوں میں آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے،دنیا کی مشکل ترین زبان سنسکرت کے ادب اور خصوصاً اس کی گرائمر پرمہارت رکھتے ہیں۔ انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔موصوف میدان خطابت کےشہسوار ہیں ان کا ہر خطاب کتاب وسنت کےدلائل سے معمور ہوتا ہے۔ فنِ خطابت پر جو قدرتی ملکہ آپ کو حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔ 2 جولائی 2014 سے پیس ٹی وی پر ان کےعلمی خطابات’’ فیضان کتاب وسنت ‘‘ نامی پروگرام کےتحت نشر کئے جارہے ہیں جنہیں دنیا کے156 ممالک میں دیکھا اور سنا جار ہا ہے۔ نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل تحسین خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(م۔ا)

title-pages-fatawa-afkar-e-islami-copy

اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ افکار اسلامی ‘‘ ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن کاہلوں﷾(شعبہ علوم اسلامیہ یوای ٹی ،لاہور ) کی کاوش ہے یہ کتاب در اصل ان فتاوی ٰ جات پر مشتمل ہے جو موصوف کےتحریر کردہ فتاویٰ جات ماہنامہ دعوۃ التوحید ،اسلام آباد میں (جولائی2000ء تا نومبر2010ء) میں شائع ہوتے رہے ۔موصوف نےمطبوعہ فتاوی میں کچھ حک واضافہ کرکے اسے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔نیز اس میں مجلہ دعوۃ التوحید میں شائع ہونے والے دیگر علماء کے فتاوی جات بھی شامل ہیں۔فتاویٰ کا یہ مجموعہ 310 سوالات اوران کے جوابات پر مشتمل ہے ۔محترم جنا ب مولانا ارشد کمال ﷾ نے اس فتاویٰ میں موجود روایات کی تخریج وتحقیق کی ہے اور نظرثانی کرتے ہوئے بعض مقامات پر مفید اضافے بھی کیے ہیں جس سے اس فتاویٰ کی افادیت میں دو چند ہوگئی ہے۔(م۔ا)

title-pages-muqam-e-risalat-copy

فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مقالم رسالت " جماعت اہل کے معروف عالم دین مسلم پبلی کیشنز کے مالک محترم نعمان فاروقی صاحب کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  مقام رسالت ،مقام حدیث،تدوین حدیث،کتب حدیث،استخفاف حدیث اور فتنہ انکار حدیث پر ایک مختصر ،مدلل اور عام فہم علمی وتحقیقی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1681 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں