محمد اختر صدیق

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد اختر صدیق
محمد صدیق

ابتدائی تعلیم وتربیت اپنےوالدمحترم سےحاصل کی اورمیٹرک کےبعد دینی تعلیم  کے لیے اپنے والدمحترم کی خواہش    پہ   آ پ جامعہ رحمانیہ لاہورمیں چلےآئےاوریہاں 7سالہ کورس مکمل کیادوران تعلیم ایک واقعہ قابل ذکرہےکہ دوران تعلیم میں ان کی پوسٹنگ ایک سرکاری سکول میں بطورٹیچرہوگئی اوریہ چھوڑکرچلےگئےمگرپھرحافظ ثناءاللہ مدنی صاحب ﷾اوراپنی والدہ محترمہ کےسمجھانےبجھانےپر سکول کی نوکری کوچھوڑکردوبارہ جامعہ آئےاورتعلیم مکمل دوران تعلیم ایف اے بےاے اورفاضل عربی کےامتحانات اعلی نمبروں سےپاس کیے اورعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سےattc  کاامتحان بھی پاس کیا۔اس کےبعد ان کاداخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہوگیااورآپ نےوہاں تعلیم حاصل کی تعلیم کےخاتمہ پرآپ کا داخلہ ڈپلومہ فی سیاسۃ والقضا ء میں ہوااورآپ  نے وہ ڈگری حاصل کی ۔

نام : اخترصدیق ۔

ولدیت: ان کےگرامی کانام محمدصدیق ہے۔

ولادت:

اخترصدیق صاحب کی ولادت اوکاڑہ شہرکےقریب واقع حویلی لکھاکےایک گاؤں چور مانکہ میں ہوئی ۔ تحصیل دیپالپور اورضلع اوکاڑہ ہے۔

خاندانی پس منظر:

ان کےوالدگرامی ایک سکول ٹیچرتھے۔اورگاؤں کی مسجد میں امام بھی تھےان کاخاندان تقریبا 2اڑھائی سوسال سےگاؤں کی مسجد کی امامت کی خدمات سرانجام دےرہاہے۔ان کےوالدصاحب سےپہلےان کےنانا مسجدکےامام تھےوہ بریلوی مکتبہ فکرسےتعلق رکھتےتھےان کےوالد بھی بریلوی تھےلیکن پھر65ء میں 211۔32 میں ان کی تعنیاتی ہوئی وہاں ایک عالم دین تھےغالباان کانام عبدالرحمن تھا۔انہوں نےجب یہ دیکھا کہ یہ ٹیچر ختم ،ساتے،چالیسویں میں شامل ہوتااورکرواتا ہےتوانہوں نےان کوسمجھایااورکہاان کاوجود شریعت میں نہیں ہےپھران کےوالدنےتحقیق کی اور مختلف جگہوں سےبریلوی مکتبہ فکرکےمدارس سےجواب طلب کیا مگرکہیں سےبھی جواب نہ ملا ۔اس کےبعد 74ءمیں حج پرگئے تووہاں کاماحول دیکھااٰمین اوررفع الیدین دیکھا تویہ تھوڑےتبدیل ہوگئےپھر کعبہ کےاندرروروکردعائیں کیں کےاللہ سیدھی راہ دکھلادے کہتےہیں کہ اس کےبعدان کوایک خواب آیاخواب میں کیادیکھتےہیں کہ گاؤں کی مسجدمیں امامت کروارہاہوں گےگلی میں کچھ لوگ آتےہیں احرام پہنےہوئےاوران میں ایک لمباساآدمی بھی ہےاس نےاونچی ساری اٰمین کہی ہےاورکہاکہ اس کوبتادوکہ رفع الیدین بھی نبی کریم کی سنت ہےاتناکہہ کرآگاچلےگئےاورپھرخواب کی تعبیرپوچھی توبتلایاگیاکہ صحابہ میں حضرت عمرکاقدلمباتھا۔برحال اس کےبعدیہ اہل حدیث ہوگئے۔پھرآپ نےگاؤں والوں کوبتلایاکہ میں اہل حدیث ہوگیااوراگرتم مجھےامام رکھناچاہتےہوتوٹھیک ورنہ تم جوامام لےکرآؤگےاس کےپیچھےنمازیں پڑھتا رہوں گالیکن بعض فتوی کی وجہ سےاوراختلاف کی وجہ سےگاؤں چھوڑدیااورشہرحویلی لکھاآگئےحویلی لکھامیں بھی آپ کی پوسٹنگ ہوئی تھی بطور ٹیچربرحال 6ماہ کےبعدگاؤں کےلوگ آئےاورکہاکہ آپ آجائیں گاؤں میں اورنمازیں پڑھائیں مگر آپ وہابیت کی تبلیغ نہیں کریں گے۔گاؤں چلےگئےمگرپھروہی مخالفتیں اورجھگڑے گاؤں کانمبردار جسکانام حاجی نمبردارنےتومخالفت اورمخاصمت کی جنگ میں اتنی شدّت اختیارکی ان کےوالد محمدصدیق پرقاتلانہ حملہ کروایامگراللہ تعالی نےبچالیا۔برحال آپ دل جمعی سےاورثابت قدمی سےدین کی خدمت میں مصروف کاررہے۔اورآج تقریبا45سال کی محنت اورکوشش کےبعدگاؤں  کےاندر اکثرگھراہل حدیث ہوچکےہیں ۔ان کےوالدنےاس عرصہ کےدوران مسجدسےکبھی ایک روپیہ بھی نہیں لیا یہ انکا خاصہ ہےکہ مفت اللہ کےدین کی خدمت سرانجام دی۔اخترصاحب کے6بہن بھائیوں میں سے 5نےدینی تعلیم حاصل کررکھی ہے۔ایک چھوٹابھائی زبان کی لکنت کی وجہ سےتعلیم حاصل نہیں کرسکا۔

تعلیم وتربیت :

ابتدائی تعلیم وتربیت اپنےوالدمحترم سےحاصل کی اورمیٹرک کےبعد دینی تعلیم  کے لیے اپنے والدمحترم کی خواہش    پہ   آ پ جامعہ رحمانیہ لاہورمیں چلےآئےاوریہاں 7سالہ کورس مکمل کیادوران تعلیم ایک واقعہ قابل ذکرہےکہ دوران تعلیم میں ان کی پوسٹنگ ایک سرکاری سکول میں بطورٹیچرہوگئی اوریہ چھوڑکرچلےگئےمگرپھرحافظ ثناءاللہ مدنی صاحب ﷾اوراپنی والدہ محترمہ کےسمجھانےبجھانےپر سکول کی نوکری کوچھوڑکردوبارہ جامعہ آئےاورتعلیم مکمل دوران تعلیم ایف اے بےاے اورفاضل عربی کےامتحانات اعلی نمبروں سےپاس کیے اورعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی طرف سےattc  کاامتحان بھی پاس کیا۔اس کےبعد ان کاداخلہ مدینہ یونیورسٹی میں ہوگیااورآپ نےوہاں تعلیم حاصل کی تعلیم کےخاتمہ پرآپ کا داخلہ ڈپلومہ فی سیاسۃ والقضا ء میں ہوااورآپ  نے وہ ڈگری حاصل کی ۔

اساتذہ:

 اپنےتعلیمی سفرمیں جن اساتذہ سےآپ نےاپنی علمی پیاس بجھائی ان کےنام درج ذیل ہیں ان میں بعض اساتذہ وہ ہیں جن کےآ پ باقاعدہ شاگرد تونہیں رہےلیکن ان سے آپ کی ملاقا ت ہےسوال جواب کیے ہیں اروعلمی فائدہ حاصل کیاہے۔

جامعہ رحمانیہ میں اساتذہ :

1۔مولاناشفیق مدنی صاحب﷾ 2۔مولاناعبدالرشیدخلیق صاحب﷾ ۔

3۔مولانااسحاق زاہدصاحب﷾ 4۔قاری عبدالحلیم صاحب ﷾۔

5۔عبدالقوی لقمان صاحب۔﷾6۔مولانا طاہرمحمودصاحب ﷾۔

7۔مولانا عبدالستارصاحب۔﷾8۔مولانارحمت اللہ صاحب ﷫۔

9۔حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب ۔﷾10۔مولاناعبدالسلام صاحب ۔

11۔مولاناعبدالسلام فتح پوری﷫ 12۔مولانارمضان سلفی صاحب ۔﷾

13۔مولاناعبدالرحمن مدنی صاحب۔﷾14۔مولانا عبدالرشیدراشدصاحب ۔

جامعہ اسلامیہ میں استاد:

1۔عبدالمحسن العبادصاحب 2۔شیخ سلیمان الراحیلی ۔

3۔شیخ عارف شمرانی یہ البانی کےشاگردتھے۔

4۔شیخ رجاء عابدصاحب ۔

جن سےآپ نےاستفادہ کیا:

1۔شیخ عثیمین  2۔حسین عالی شیخ  3۔ابو بکرالجزائری (پاکستانی عالم )۔

4۔زبیرعلی زئی صاحب﷫ 5۔عبدالمنان نورپوری  واسعہ ۔

یہ وہ حضرات تھےجن سےآپ نےعلم کےبےمثل بےمول موتی حاصل کیے۔

درس وتدریس:

مولانااخترصدیق کی تدریسی خدمات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔جامعہ اسلامیہ لاہور 3سال  2۔عبداللہ بن مسعود اسلامک سینٹرجوہرٹاؤن 3سال          3۔جامعہ خدیجہ الکبریٰ میں بھی آپ تدریس فرماتےرہےہیں ۔

4۔اس کےبعد آپ ریاض (سعودی عرب)چلےگئےاوروہاں اسلامک سنٹرمیں بطورمدرس کام کررہےہیں۔

تصانیف :

مولانااخترصدیق صاحب نےبعض کتابوں کےتراجم کیے ہیں اور بعض خود تصنیف فرمائیں ہیں۔ان میں سےچندایک کےنام درج ذیل ہیں۔

1۔استخارہ احکام مسائل 2۔بسنت اسلامی ثقافت اورتوہین رسالت 3۔تماکونوشی کی حرمت 4۔خواب اور تعبیر 5۔خواتین اورشاپنگ  6۔سلام اورمصافحہ کےفضائل اورمسائل  7۔غیراسلامی تہوارتاریخ ،حقائق ،مشاہدات ۔

8۔مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں 9۔ٹیلیفون اورموبائل کااستعمال آداب،فوائد،نقصانات  10۔پریشانیوں سےنجات 11۔رسم نکاح اورشریعت کی مخالفت (عبدالعزیزبن باز کی کتاب کاترجمہ)۔

12۔سنت مطہرہ اورآداب مباشرت (ناصرالدین البانی کی کتاب کاترجمہ )۔

13۔شرح عقیدہ واسطیہ سوالاجوابا(ابن تیمیہ کی کتاب کاترجمہ)۔

حوالہ: مولانااخترصدیق صاحب بواسطیہ ھاتف و کتاب وسنت ڈاٹ کا م۔

    Title Page---Ahkam o Masayil
    محمد اختر صدیق
    بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی معاملے میں مختلف وجوہات کی بناء پرکوئی فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں پاتا-ایسی صورت میں انسان کوچاہیے کہ وہ دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ تعالی سے استخارہ کرے تاکہ پریشان کن صورتحال سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے-مصنّف نے اس مختصرسے کتابچہ میں استخارہ کے تمام  شرعی احکام ومسائل سے آگاہی فراہم کی ہے-استخارہ کی فضیلت واہمیت بیان کرتے ہوئے اس کی حکمت اور آداب پر روشنی ڈالی گئی ہے- اس کے بعد استخارہ کا مکمل طریقہ ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ  استخارہ کے فوائد پر اپنی آراء کا اظہار کیا گیا ہے –اس کے علاوہ استخارہ سے متعلق دیگر مسائل جن میں استخارہ کا وقت،کیا استخارہ کے کے بعد خواب آنا ضروری ہے؟ اور استخارہ کے بعد انسان کیا کرے؟جیسے مسائل شامل ہیںدورِحاضر میں ٹی وی پروگرامز اور دیگر ذرائع سے استخارہ کا لوگوں کے اذہان میں غیر شرعی مفہوم ٹھونسا جا رہا ہے۔ یہ کتابچہ کتاب و سنّت کی درست راہنمائی فراہم کرتا ہے۔
    Title Page---Basant Islami Saqafat ya Toheene Risalat
    محمد اختر صدیق

    ہمارے بہت سارے نام نہاد دانشور ایک عرصے سے  اس بات کا اعلان کرتے چلے آرہے ہیں کہ بسنت ایک خالص موسمی اور علاقائی تہوار ہے جس کا مذہب کے ساتھ دور کا بھی تعلق  نہیں ہے- اس دعوے کی حقیقت کیا ہے آئیے ملاحظہ کرتے ہیں مولانا اختر صدیق صاحب کی اس کتاب میں-مولانا نے کتاب کے شروع میں بسنت کا مکمل تعارف کرواتے ہوئے بسنت کی ابتدا اور تاریخ  پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ خالص ہندوانہ مذہبی تہوار ہے جو کہ گستاخ رسول ''حقیقت رائے'' کی یاد میں منایا جاتا ہے-بسنت نے پاکستانیوں کی زندگی میں کیا گل کھلائے ہیں اوراس کی وجہ سے  انہیں کس قدر جانی ومالی نقصان برداشت کرنا پڑا اس کی تفصیل بھی آپ کو اس کتاب میں پڑھنے کوملے گی-کتاب کے آخر میں بسنت کے حق میں دلائل کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے بسنت کے خلاف عوام الناس کے بیانات کو قلمبند کیا گیا ہے-

     

    title-pages-tambako-noshi-ki-sharri-haisiyat
    محمد اختر صدیق
    فی زمانہ تمباکو نوشی کی وبا بہت عام ہو رہی ہے صرف پاکستان میں روزانہ ہزاروں نئے سگریٹ نوشوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ شاید ہمارے ہاں علمائے کرام کا اس نشے کو شدو مد سے تنقید کا نشانہ نہ بنانا ہے۔ زیر تبصرہ مختصر سا کتابچہ اسی سلسلے میں تالیف کیا گیاہے۔ کتابچہ کے مؤلف مولانا اختر صدیق صاحب نے کتابچہ میں سب سے پہلے تمباکو نوشی کی شرعی حیثیت واضح کی ہےپھر تمباکو نوشی کے فوائد و نقصانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ لوگ تمباکونوشی کا شکار کیوں ہوتے ہیں اس کے محرکات کا تذکرہ ہے تو وہیں اسلامی معاشرہ پر اس کے اثرات کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان علما کے فتاوی جات، ڈاکٹر حضرات کے تاثرات ذکرکرنے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو بھی شامل کتاب کیا گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمباکونوشی سے چھٹکارا پانے کے کی تراکیب بھی کتاب کا حصہ ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-khawab-aur-tabeer
    محمد اختر صدیق
    عام زندگی میں ہر انسان کو خوابوں سے واسطہ رہتا ہے جہاں انسان اچھا خواب دیکھ کر خوش ہوتا ہے وہیں برا خواب دیکھ کر پریشان بھی ہو جاتا ہے۔ خوابوں سے متعلق مناسب شرعی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگ فقط نیند میں نظر آنے والے واقعات پر کچھ غیر شرعی افعال سرانجام دینے لگتے ہیں۔ بہر حال شریعت مطہرہ نے اس سلسلہ میں بھی انسان کی کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ پچاس کے قریب صفحات پر مشتمل زیر نظر کتابچہ میں مولانا اختر صدیق نے اسی شرعی رہنمائی کو اختصار کے ساتھ قلمبند کر دیا ہے۔ مولانا موصوف فاضل مدینہ یونیورسٹی اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سابق استاد ہیں۔ کتابچہ کی دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے پہلے حصہ میں خواب کے آداب، اقسام اور خواب سے متعلقہ شرعی رہنمائی کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصہ میں اچھے اور بہترین خواب کے اسباب، کیا اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا جا سکتا ہے؟ نبی کریمﷺ کو خواب میں دیکھنا کیسا ہے؟ جیسے مباحث پیش کیے گئے ہیں۔ خوابوں سے متعلقہ شریعت کی عام تعلیمات سے واقفیت کے لیے اس کتابچہ کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-khawateen-aur-shoping
    محمد اختر صدیق
    اللہ تعالیٰ نے خواتین کے لیے بہترین مقام ان کا گھر قرار دیا ہے۔ لیکن شریعت نے ضروری کاموں کے سلسلہ میں انھیں گھر سے باہر نکلنے کی بھی اجازت دی ہے۔ انہی ضروری کاموں میں ایک بازار جانا اور خریداری کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں ہماری بہت سی بہنوں کا انداز ہر گزرتے دن کے ساتھ بہت بے باکانہ ہوتا چلا جا رہا ہے، چھوٹی چھوٹی ضرورت کے لیے بازار جانا معمول بن گیا ہے، حالانکہ ایک ہی وقت میں بازار جا کر ضروری چیزیں خریدی جا سکتی ہیں۔ اور تو اور ہماری بہت سی بہنیں اپنی کلائیاں غیر محرم مردوں کے ہاتھوں میں دے کر چوڑیاں چڑھانے میں مصروف نظر آتی ہیں اس کے علاوہ ایک ناشائستہ حرکت خاص طور پر عید کے دنوں میں یہ دیکھنے میں آتی ہےکہ مہندی لگوانے کے لیے بھی مرد حضرات کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ بہر حال اس سلسلہ میں خواتین کو دینی تعلیمات کو یکسر فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ زیر مطالعہ کتابچہ بھی مولانا اختر صدیق نے اسی مقصد کے تحت تالیف کیا ہے کہ خاتون اسلام کو شاپنگ سے متعلقہ دینی احکامات سے آگاہی دی جائے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بہت سے اہم امور کی طرف اشارہ کیا ہے جن کا اگر خواتین اہتمام کریں تو بہت ساری خرابیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ خواتین کے لیے اس کتابچہ کامطالعہ خاصا مفید ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-salam-aur-musafa-k-fazail-w-masail-copy
    محمد اختر صدیق

    دنیا میں بسنے والےتمام لوگ ملاقات کے وقت اپنے اپنے مذہب ، تہذیب وتمدن اور اطوار اوخلاق کی بنا پر ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا اظہار مختلف انداز میں کرتے ہیں ۔دین اسلام کی تعلیمات انتہائی اعلیٰ اور ممتاز ہیں۔ اسلام نے ملاقات کے وقت’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ او رجواباً وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے کا حکم دیا ہے ۔  نبی کریم ﷺ نے  فرمایا ہے :’’ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر حق ہے کہ  وہ اس کے سلام کا جواب دے (صحیح بخاری) سلام کے  جہاں اللہ  تعالیٰ کی رحمت طلب کرنے کے لیے  دعائیہ کلمات ہیں  وہاں آپس میں محبت واخوت بڑھانے کا ذریعہ اوراجنبیت کو ختم کرنے کا  باعث بھی ہیں۔مسلمانوں کا آپس ملاقات کے وقت زبان سےسلام کہنے کے ساتھ ہاتھ سے مصافحہ کرنا  ایسی عظیم سنت ہے  کہ اس پر عمل کرنے سے  دل سے حسد ،بغض، اور کینہ  وغیرہ دورہو جاتاہے زیر نظر کتابچہ ’’سلام اور مصافحہ کے فضائل ومسائل‘‘ محترم  مولانا  محمداختر صدیق﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی  و جامعہ لاہور ،لاہور ) کی  کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں انہوں نے  قرآن حدیث کی روشنی  سلام اور مصافحہ کی اہمیت وفضیلت اوراس کے  احکا م ومسائل کوبڑے احسن انداز میں بیان  کرنے کےبعد  دوہاتھوں سے  مصافحہ کرنے  کی بھی  وضاحت کی  ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ  کو عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے۔مصنف کتاب ماشاء اللہ ایک اچھے واعظ مترجم ومصنف ہونےکے ساتھ ساتھ  کامیاب  مدرس بھی ہیں  موصوف مدینہ یونیورسٹی  سے  فراغت کے بعد  اپنی مادرِ علمی  جامعہ لاہور الاسلامیہ ،عبد اللہ بن  مسعود اسلامک سنٹر اور لاہور میں  بچیوں کی ایک   معروف درسگاہ میں کچھ عرصہ تدریسی خدمات پیش کرنے کے  علاوہ  مجلس التحقیق الاسلامی ، اور مکتبہ اسلامیہ ،لاہور میں تحقیق وتصنیف اور ترجمہ  کا کام بھی کرتے رہے  ہیں۔ موصوف کئی کتب مکتبہ اسلامیہ کی طرف سے شائع  ہوچکی ہیں ۔ان دنوں  سعودی عرب میں  جالیات کے ادارے میں بطور واعظ  ومترجم  اپنی خدمات پیش کررہے  ہیں۔اللہ تعالیٰ  ان کے علم وعمل او رزور ِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-ghair-islami-tehwar-tareekhhaqaiqmushahidat
    محمد اختر صدیق
    مسلم معاشروں کو اخلاقی بگاڑ کا شکار کرنے کے لیے مغرب نے ایسے درجنوں تہوار مستعار دے دئیے ہیں جن کا اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن ہمارے نام نہاد مسلمان شد ومد کے ساتھ ان مغربی تہواروں کو منانے میں مصروف ہیں۔ دینِ اسلام تفریح اور کھیلوں کا مخالف نہیں ہے لیکن تفریح کے نام پر اباحیت پسندی کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں مولانا اختر صدیق نے انھی مغربی تہواروں کا اپنے مخصوص انداز میں تذکرہ کیاہے جو مسلم معاشروں میں بھی رواج پاچکے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نےبسنت، ویلنٹائن ڈے، خواتین کاعالمی دن اور اپریل فول وغیرہ جیسے تہواروں کو موضوع بحث بنایا ہے۔ مصنف نے تہواروں کی تاریخی اور شرعی حیثیت کا مختصر جائزہ پیش کیا ہے۔ چند اہل قلم اور فکر مند دانشوروں کے آرٹیکل بھی شامل کتا ب ہیں۔ تمام دلائل باحوالہ نقل کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-musalman-khandan-islam-ki-aaghosh-me
    محمد اختر صدیق
    افراد سے خاندان تشکیل پاتا ہے اور خاندانوں سے معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ ایک اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اسلامی خاندانوں کا وجود بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اسلامی خاندانی نظام کے تحت شریعت نے خاندان کے سربراہ کو اپنے ماتحت افراد کا نگران مقرر کیا ہے۔ حقوق و فرائض کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے کئی قسم کی پیچیدگیاں اور مشکلات جنم لیتی ہیں جس کا حل شریعت نے بہت احسن انداز میں پیش کیا ہے لیکن بدقسمتی سے بہت سے لوگ شرعی تعلیمات سے آگاہی نہ رکھنے کی وجہ سے افراد خانہ کی رہنمائی سے قاصر رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’مسلمان خاندان اسلام کی آغوش میں‘ میں یہی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک اسلامی خاندان کس طرح شریعت سے رہنمائی حاصل کر کے کامیابی کے زینے پر قدم رکھ سکتا ہے اور خاندان کا سربراہ کیسے خاندان کی تربیت اور اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے؟ یہ کتاب عرب و عجم کے جید علمائے کرام کے خاندانی نظام پر دئیے گئے فتاویٰ جات پر مشتمل ہے۔ عربی فتاویٰ جات کا سلیس اردو ترجمہ اور ان کو ترتیب مولانا اختر صدیق صاحب نے دیا ہے۔ اس میں نکاح کی شروط، اولاد کی تربیت، میاں بیوی کے حقوق، والدین کی خدمت و اطاعت، خاندانی مشکلات، طلاق، خلع، عدت وغیرہ سے متعلق فتاوی جات جمع کیے گئے ہیں۔ بعض قدیم فتاویٰ جات مثلاً فتاویٰ ثنائیہ، فتاویٰ نذیریہ سے بھی بعض فتاویٰ شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کتاب کا بڑا حصہ ایسے فتاوی جات پر مشتمل ہے جو ہفت روزہ ’غزوہ‘ اور ’جرار‘ میں قسط وار طبع ہوتے رہے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کرں
    title-teliphone-aur-mobile-ka-istamal-aadabfawaidniqsanat
    محمد اختر صدیق
    گزشتہ چند سالوں سے ٹیلیفون اور موبائل کی دنیا میں زبردست انقلاب آیا ہے۔ موبائل فون اور کنکشن بے انتہا سستے ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں موبائل فون کے صارفین کی تعداد میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ملک پاکستان میں موبائل صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ٹیلیفون بے شبہ ایک جدید ٹیکنالوجی اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن اس کے استعمال کے حوالے سے بعض اخلاقیات کا ملحوظ رکھا جانا بہت ضروری ہے۔ لیکن موبائل  فون کمپنیوں کے کال اور میسجز کے نت نئے پیکجز کے باوصف بہت سے لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ مولانا اختر صدیق صاحب نے پیش نظر کتابچہ اسی وجہ سے تالیف کیا ہے کہ لوگوں کو موبائل اور ٹیلیفون کے غلط استعمال سے بچا کر اس نعمت سے استفادے کی طرف راغب کیا جائے۔ انھوں نے کتاب میں ٹیلیفون اور موبائل پر گفتگو کے آداب ذکر کیے ہیں اور اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ موبائل کا غلط استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل پر معصوم خواتین کو اپنے جال میں پھنسانے والوں کو طریقہ واردات اور ان کے علاج کو شامل کتاب کیا گیا ہے۔ موبائل فون کے استعمال کے چند خاص آداب ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ بعض حقیقی واقعات بھی ذکر کیے گئے ہیں جو ان لڑکیوں کے لیے مشعل راہ ہیں جو ٹیلی فونک رابطہ کے ذریعے اپنے خوابوں کا شہزادہ تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر اپنا سب کچھ برباد کرا بیٹھتی ہیں۔(ع۔م)

    title-pages-preshaniyon-se-nijat
    محمد اختر صدیق
    ہر انسان کو زندگی میں متعدد مقامات پر ایسے سانحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ا س کے لیے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے وہ غمگین اور پریشان ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے میں صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ایسے افعال کے مرتکب ہو جاتے ہیں جن سے شریعت نے اجتناب کا حکم دیا ہے۔ دین اسلام نے اس سلسلہ میں بہت جامع احکامات دئیے ہیں جن میں انسانی نفسیات کا پاس وو لحاظ کیا گیا ہے اور جو فطرت کےعین مطابق ہیں۔ غموں اور تکلیفوں کے سلسلہ میں اگر شرعی احکامات کو سامنے رکھا جائے تو یقین مانیے بہت سے عرصہ دراز سے لا ینحل مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک سنجیدہ کاوش ہے جس میں محترم اختر صدیق صاحب نے پریشانیوں اور غموں سے نبرد آزما ہونے اور ان سے چھٹکارا پانے کےستائیس کے قریب علاج رقم کیے ہیں۔ دراصل شیخ صالح المنجد نے اسی موضوع پر ’علاج الہموم‘ کے نام سے ایک مختصر کتابچہ تالیف کیا تھا جس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے مولانا نے اس میں بہت سارے اضافہ جات اور مناسب ترمیم کے بعد اردو دان طبقہ کے لیے پیش کیا ہے۔کتاب کا اسلوب اور زبان کا استعمال سادہ اور عام فہم ہے۔ مولانا نے کتاب کے شروع میں کتاب کی چند قسمیں بیان کرنے کے بعد براہ راست کتاب و سنت سے اخذ کرتے ہوئے غموں سے نجات کے طریقے بتلائے ہیں۔ کتاب کے آخر میں غموں کو ختم کرنے کے لیے ابن قیم کے بیان کردہ پندرہ نکات کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے ۔ غموں اور پریشانیوں سے نبرد آزما ہونے اور اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی سے آگاہی کے لیے80 صفحات پر مشتمل اس کتابچے کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔  (ع۔م) 


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-3
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ زیر نظر کتابچہ شیخ ابن باز او رشیخ صالح العثیمین  کے ایک عربی رسالہ کاترجمہ ہے ۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہوں پر رواج پائے جانے والے چند امور کی وضاحت کی ہے کہ بعض مسلمان جانتے بوجھتے اور بعض لاعلمی کی وجہ سےان پر اپنا قیمتی پیسہ پانی کی طرح بہار رہے ہیں ۔حقیقت ہے یہ کہ ظاہر ی طور پر ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ ا یسے بے فائدہ کاموں پر لٹایا ہوا سرمایہ روز قیامت ہمارے لیے وبال جان بن سکتا ہے ۔ کتابچہ ہذا کا اردو ترجمہ اور اس میں مناسب ترمیم واضافہ کا کام مخترم مولانا محمداختر صدیق ﷾ ( فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور و مدینہ یونیورسٹی ) نے سرانجام دیا ہے اللہ اہل اسلام میں رواج پاجانے والی رسومات کا خاتمہ فرمائے او ر تمام مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق فرمائے اور کتابچہ کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)۔( م۔ا )

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    Title Page---Sunnat e Mutahhira aur Adaab e Mubashirat
    ناصر الدین البانی

    یہ کتاب دراصل محدث نبیل علامہ ناصر الدین البانی رحمتہ اللہ علیہ کی عربی تصنیف "آداب الزّفاف فی السّنۃ المطھّرۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے ایک دوست کی شادی کے موقع پر تحریر فرمائی ہے۔ اس میں انہوں نے وقت کی قلت کے باعث فقط ان مسائل پر قلم اٹھایا ہے جو سہاگ رات سے قبل اور بعد میں پیش آمدہ ہیں۔ اسی طرح مباشرت کے آداب کا تذکرہ بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ ان کی یہ کوشش اس بناء پر بہت خوش آئند ہے کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھا کر لوگوں کیلئے کتاب و سنت کی راہنمائی مہیا کی ہے جس پر لاتعداد مخرب الاخلاق کتابچے، رسائل و جرائد اور مضامین زیر گردش ہیں۔ شیخ موصوف نے اس نازک موضوع پر ایسی پاکیزہ اور اعلٰی معلومات بہم پہنچائی ہیں جن کی بنیاد اللہ تعالٰی کا مقدس کلام اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اطہر سے نکلے ہوئے محبوب ترین الفاظ ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے  بھی انتہائی مفید ہے کہ شادی کرنے والے نوجوان اس سے مناسب رہنمائی لے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے برصغیر میں ایسے مسائل کے متعلق سوال کرتے ہوئے عموماً لوگ جھجک محسوس کرتے ہیں۔

     

    title-pages-sharha-aqeeda-wastiya-sawalan-jawaban
    امام ابن تیمیہ

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ''عقیدہ واسطیہ''بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔زیرنظر کتاب''شرح عقیدہ واسطیہ سوالاً جواباً''شیخ عبد العریز السلمان کی عربی کتاب''الاسئلة والاجوبة الاصولية على العقيدة الواسطية''کا اردو ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت محترم مولانا محمد اختر صدیق ﷾ (فاضل جامعہ لاہوالاسلامیہ ،لاہو ر وفاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے حاصل کی اور مکتبہ اسلامیہ نے اسے اعلی طباعتی معیار پر شائع کیا ہے ۔ فاضل مصنف نے عقیدے کے مسائل کو عمدہ اور آسان فہم انداز میں پیش کیاہےیہ کتاب دینی طلباء،اساتذہ کرام اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے کیوں کہ مصنف نے اسے عام فہم اورسلیس انداز میں سوالاً جواباً مرتب کیا ہے ۔کتاب ہذا کے مترجم محترم محمداختر صدیق ﷾ ماشا ء اللہ ایک قابل مدرس اور اچھے واعظ ہیں اس کتاب کے علاوہ تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ومترجم ہیں سعودی عرب میں دعوتی ،تبلیغی او رتالیف وترجمہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-ulad-ki-tarbiyat-kaise-krain-copy

جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوشک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ اولاد کی تربیت کیسے کریں‘‘شیخ  محمد بن ابراہیم الحمد کی  تصنیف ہے ۔ جس میں  شیخ نے  جہاں والدین سے اولاد کی تربیت میں سرزد ہونے  والی چند مشہور کوتاہیوں کا تذکرہ  کیا ہے وہاں بچوں کی تربیت  کے کچھ سنہری اصول  بھی ذکر کیے  ہیں ۔اور تربیتِ اطفال میں  جو چیزیں معاون ہیں  ان کا تذکرہ  کرتے ہوئے  چند عظیم ماؤں کا ذکر خیر بھی کیا ہے ۔ مزید برآں اس کتاب میں  بعض ایسی شخصیات کا ذکر بھی ہے  جنہوں نے  یتیمی کے ایام صرف ماں کے زیر اثر گزارے اور ان کی  حسنِ  تربیت  سے اعلیٰ اخلاق وبہترین اوصاف کے مالک بنے ۔اس عربی کتاب کو اردو قالب  میں  ڈھالنے  کا فریضہ جناب  محترم نصر اللہ شاہد   صاحب نے  انجام دیا ہے  اور چند مقامات پر اضافہ جات بھی  کیے  ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کتاب کے  مصنف،مترجم ،ناشرین اور کتاب کی تصحیح   ونظر ثانی کرنے والے محترم  محمد اختر صدیق صاحب (فاضل جامعہ لاہورالاسلامیہ و مدینہ یونیورسٹی ) کی  کاشوں کو  قبول فرمائے  اور  ہمیں اسلامی  اصولوں پرعمل پیرا   ہوتے  ہوئے  اپنے نونہالوں کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

pages-from-dawat-deen

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔ اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج دعوت اور اصول دعوت کے حوالے سے   اہل علم نے عربی اور اردو زبان میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی کتب قابل ذکر ہیں جوکہ آسان فہم او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیر نظر کتابچہ’’دعوت ِ دین‘‘سماحۃ الشیخ ابن باز ﷫ کے ایک عربی کتابچہ’’كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ‘‘ کا ترجمہ ہے جس میں شیخ نےفریضہ امر بالمعروف ونہی عن المنکرکی اہمیت،اس فریضہ کے مراتب اور اس کے حکم کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتابچہ کا سلیس اردو ترجمہ کرنے کی سعادت ابو عبداللہ بن بشیر نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش اور لوگوں میں امربالمعروف امر ونہی عن المنکرکے فریضہ کو ادا کرنے کاشعور پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ ا)

title-pages-rasool-peace-be-upon-him-k-alwidai-kalimat
یہ امر شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ دنیا میں جس قدر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اقدس پر لکھا گیا ہے ،کسی دوسری ہستی پر نہیں لکھا گیا۔سیرت نگاروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر قلم اٹھایا ہے ۔زیر نظر مختصر کتابچے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش،آپ کی ذمہ داری،جہاد و اجتہاد،بہترین اعمال،عرفات،منیٰ اور مدینہ میں اپنی امت کے لیے الوداعی باتیں،زندوں اور فوت شدگان کے لیے الوداعی گفتگو اور ان جگہوں پر آپ کی وصیتوں کا ذکر،آپ کے مرض کی ابتداء،سختی اور موت کے وقت اپنی امت کے لیے وصیتیں اور الوداعی باتیں اور آپ کا رفیق اعلیٰ کو پسند کرنا،اس کی وضاحت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہادت کی موت نصیب ہوئی،ان کی موت کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی ،آپ کی میراث،آپ کے حقوق ،آپ کی امت پر ذکر کیے گئے ہیں۔ہر بحث کے آخر میں ان سے حاصل شدہ اسباق ،فوائد،عبرتوں اور نصیحتوں کا تذکرہ بھی کر دیا گیا ہے۔

title-pages-rasool-ullah-k-sawalat-aur-sahaba-k-jawabat-copy

نبی اکرم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذاتِ اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا:۔’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات صحابہ کرام﷢ کو دین  کی تعلیم سوالات کی صورت میں دیا کرتے تھے ۔آپ  ﷺ صحابہ  ﷢ سے سوال کرتے  اگر  ان کو ان کےمتعلق معلوم ہوتا تو وہ جواب دے دیتے اور جواب نہ دینے کی صورت میں  نبی کریم ﷺ اس سوال کا جواب دیتے ۔نبی کریم  ﷺکے صحابہ کرام سےکیے گئےیہ سوالات  حدیث  کی مختلف میں  موجودد ہیں  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اللہ ﷺ کےسوالات  اور صحابہ﷢ کے جوابات‘‘ شیخ سلمان نصیف الدحدوح کی عربی کتاب ’’ الرسول یسال والصحابی یجیب‘‘ کا  اردود ترجمہ ہے  فاضل مصنف نے اس کتاب کو مختلف موضات کےتحت 20 ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔جس میں انہوں نے نے   نبی اکرم  کے  صحابہ  کرام ﷢ سے کیے گئے  سوالات   اور ان کے جوابات کو کتب  احادیث سے تلاش کر کے ایک جگہ جمع کردیا ۔ اس کتاب کو عربی اردو قالب میں  محترم جناب احسان اللہ فاروقی ﷾ نے ڈھالا ہے اور ترجمہ کے ساتھ تخریج کا اہم کام بھی انجام دیاہے ۔اور مولانا محمد اختر صدیق (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور و فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے کتاب کی نظرثانی کے امور انجام دیئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  عامۃ الناس کےلیے نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

pages-from-seerat-e-umar-farooq-ra

اللہ تعالیٰ نے امت ِاسلامیہ میں چند ایسے افراد پیدا کیے جنہوں نے دانشمندی ، جرأت بہادری اور لازوال قربانیوں سے ایسی تاریخ رقم کی کہ تاقیامت ا ن کے کارنامے لکھے اور پڑھے جاتے رہے ہیں گے تاکہ افرادِ امت میں تازہ ولولہ اور جذبۂ قربانی زندہ رہے۔ آج مغرب سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ مسلمان ممالک کے لیے ایسی تعلیمی نصاب مرتب کیے جائیں جوان ہیروز اور آئیڈیل افراد کے تذکرہ سے خالی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوجوان پھر سےوہی سبق پڑھنے لگیں جس پر عمل پیرا ہو کر اسلامی رہنماؤں نے عالمِ کفر کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر مسلموں (ہندوؤں،عیسائیوں ،یہودیوں) کے کارنامے تو بڑے فخر سے پڑھائے جارہے ہیں مگر دینی تعلیمات او رااسلامی ہیروز کے تذکرے کو نصاب سے نکال باہر کیا جارہا ہے ۔ سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ کاوہ روشن باب ہے جس نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ آپ نے حکومت کے انتظام   وانصرام بے مثال عدل وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انسانی رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم ﷜ کا ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ سادگی فروتنی اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر فاروق ﷜ کے اسلام لانے اور بعد کے حالات احوال اور ان کی   عدل انصاف پر مبنی حکمرانی سے اگاہی کے لیے مختلف اہل علم اور مؤرخین نے   کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)   وغیرہ کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیرنظر کتاب ’’ سیرت عمر فاروق ﷜‘‘ محترم محمد رضاکی تصنیف ہے جوکہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب ﷜ کی سیرت اورکارناموں پر مشتمل ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق﷜ہوتے ‘‘ آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود بائیس لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ حتیٰ کہ غیر مسلم دانشور یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر ایک عمر او رپیدا ہوجاتا تو دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہتا۔ اللہ تعالی مصنف ،مترجم ،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢   کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم   پرچلنے   کی توفیق عطا فرمائے(آمین)(م۔ا)

title-pages-munafiqeen-ka-kirdar-aur-alamaat
انسانی رویہ میں منفی و مثبت رجحانات ایک معمول کی بات ہوتی ہے اور دونوں پہلو اپنے اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں او ردونوں پہلوؤں میں ہر ایک ایک مستقل رویہ ظاہر کررہا ہوتا ہے۔ چاہے وہ  درست ہو یا صحیح۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے آدمی کی شخصیت کا تعین مشکل ہوجائے یہ کسی بھی مذہب اور سوسائٹی میں اچھا خیال نہیں کیا گیا۔ شریعت میں کفر اور اسلام  وہ اصطلاحات ہیں جو حق و باطل کے رویہ کو ظاہر کرتی ہیں اسی طرح جو ان دونوں میں سے کسی راہ کو متعین نہ کرپائے بلکہ اس کے قول یا شخصیت سے دونوں پہلوؤں کی آمیزش نظر آئے اس دو رُخے انسان کو اسلامی اصطلاح میں منافق کہتے ہیں او راس  کی  سزا کفر سے بھی زیادہ ہے۔ مسلمانوں کو نفاق سےبچنے کی تلقین کی گئی ہے اور شارع نے اس کی علامات بھی واضح کردی ہیں۔زیر نظر کتاب انہی علامات نفاق پر مشتمل ہے جو قرآن و سنت کےدلائل سے مرتب ہے۔(ک۔ط)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 257 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں