محمد احمد باشمیل

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد احمد باشمیل
    title-pages-sulah-hudaibia
    محمد احمد باشمیل
    صلح حدیبیہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے اس کے نہایت دور رس نتائج اور مفید اثرات رونما ہوئے۔ صلح حدیبیہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے اس کو ’’فتح مبین‘‘ اور ’’نصر عزیز‘‘ کا نام دیا ہے۔ تمام مسلمان مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ صلح حدیبیہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی سیاسی بصیرت اور فہم و فراست کا ایک شاہکار واقعہ ہے۔ حتیٰ کہ مشہور مؤرخ اور فاضل عالم دین ڈاکٹر حمید اللہ نے صلح حدیبیہ کو عہد نبوی کی سیاست خارجہ کا شاہکار قرار دیا ہے۔ زیر نظر کتاب علامہ محمد أحمد باشمیل کی تألیف لطیف ہے اور اس کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا فریضہ ’’اختر فتح پوری‘‘ نے انجام دیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں صلح حدیبیہ کے مفید اثرات کے ساتھ ساتھ اس وقت کے تاریخی تناظر کے حوالے سے صلح حدیبیہ سے متعلق تمام علمی مباحث کو ایک جگہ سمیٹ دیا ہے۔ موصوف نے اس موضوع کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے اور عالمانہ انداز میں تمام ضروری مباحث کا جائزہ پیش کیا ہے۔ صلح حدیبیہ سے متعلق سیاسی و عسکری واقعات، اس کے اسباب و محرکات، آپ ﷺ کی عمرہ کے لئے روانگی، انٹیلی جنس کے دستے، صحابہ کرام سے مشاورت، صلح کے ثالث حضرات، آپ ﷺ کے نمائندے حضرت عثمانؓ کی مکہ روانگی، بیعت رضوان، صلح کے مذاکرات، شرائط، گواہان، ام سلمہؓ کا مشورہ، اصحاب شجرہ کی فضیلت، قضیہ حدیبیہ کے اسباق، عظیم فوائد اور انقباط اسلامی کے زندہ نمونہ جیسے بیسیوں مضامین پر اس کتاب میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ سیاسی اور عسکری امور سے متعلقہ لوگوں کے لئے یہ کتاب روش اور شان دار مشعل راہ ہے۔ (آ۔ ہ۔)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں



    untitled-1
    محمد احمد باشمیل
    علامہ محمد احمد باشمیل صاحب زیر نظر کتاب ’غزوہ احزاب‘ سے قبل ابتدائی دو غزوات غزوہ بدر اور غزوہ احد پر خامہ فرسائی کر چکے ہیں۔ جس میں انھوں نے ان دونوں غزوات کے تفصیلی حالات و واقعات قلمبند کیے۔ اس کتاب میں بھی مصنف نے نہ صرف غزوہ احزاب کے تفصیلی واقعات کو بیان کیا ہے بلکہ ان تمام فوجی اور سیاسی واقعات کا بھی تذکرہ کیا ہے جن میں مسلمان غزوہ احد اور غزوہ احزاب کے درمیان زندگی گزارتے رہے۔ مصنف نے ان سات سریع اور فوجی حملوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو اسلامی فوج نے مسلمانوں کے مرکز کی مضبوطی اور اس ہیبت کو پختہ کرنے کے لیے کیے جو غزوہ احد کے بعد دلوں سے اکھڑ چکی تھی۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-ghazwa-e-badar
    محمد احمد باشمیل
    ہجرت کے بعد مسلمانوں کا سب سے پہلا غزوہ بدر کےمقام پر لڑی جانےوالی جنگ ہے۔ اس معرکہ میں کفار مکہ کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی اور ان کا پورا سراپا لوہے کے ہتھیاروں سے آراستہ تھا ۔ جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی، ان کے ہتھیار ٹوٹے ہوئے اور ان کی تلواریں کند تھیں۔ لیکن پھر بھی مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور توحید کے سچے جذبے کے ساتھ دشمنان اسلام پر فتح پائی۔ زیر مطالعہ کتاب میں محترم احمد باشمیل نے اسی غزوہ کو ایک منفرد انداز میں صفحات پر بکھیر دیا ہے۔ اس سے نہ صرف غزوہ بدر کی تمام جزئیات سامنے آگئی ہیں بلکہ اس وقت کے مسلمانوں کا جذبہ جہاد اور جوش ایمانی کا بھی بھرپور اندازہ ہو جاتا ہے۔ کتاب کا سلیس اردو ترجمہ مولانا اختر فتح پوری نے کیا ہے۔(ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    image-0006
    محمد احمد باشمیل
    علامہ محمد احمد باشمیل صاحب نے غزوات کے حالات و واقعات کو قلمبند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ’غزوہ بنو قریظہ‘ اس سلسلہ کی چوتھی کڑی ہے۔ غزوات سے متعلق تاریخی کتب میں بہت سا مواد موجود ہے لیکن ان غزوات کے اسباب وعلل اور دیگر متعلقہ واقعات کو الگ کتابی شکل میں پیش کرنا یقیناً ایک مبارک کام ہے۔ ’غزوہ بنو قریظہ‘ کا مطالعہ اس لیے ضروری ہے کہ اس غزوہ نے مسلمانوں کی تقدیر میں نہ صرف انقلاب برپا کر دیا بلکہ دنیا کے پردے سے گمراہی اور ظلمتوں کی گھٹائیں بھی ہٹا دیں۔اس معرکے نے یہودی عنصر کا کا صفایا کیااور جزیرہ عرب کو اس کے شرور آثام اور اس کی سازشوں سے نجات دلا دی۔ یہ سازشیں ایسی تھیں جو صرف اس خبیث عنصر کے اڈوں پر ضرب لگانے سے ہی رک سکتی تھیں۔  (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-ghazwa-e-tabook
    محمد احمد باشمیل
    بلاشبہ غزوہ تبوک اس لحاظ سے تاریخ عہد نبوی ﷺ کا سب سے بڑا غزوہ ہے کہ جس میں اسلامی فوج کے جانبازوں کی تعداد تیس ہزار تھی اور عہد نبوی کی تاریخ میں رسولِ کریم ﷺ کی زیر کمان اتنی تعداد پہلے جمع نہیں ہوئی تھی۔ اس طرح یہ غزوہ سب سے بڑا فوجی حملہ تھا اور رسولِ کریم ﷺ کی آخری فوجی کاروائی تھی حتیٰ کہ آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ زیر نظر کتاب علامہ محمد أحمد باشمیل کی تصنیف لطیف ہے جس کو اردو قالب میں منتقل کرنے کی سعادت مولانا  اختر فتح پوری کو ملی ہے۔ قابل مؤلف نے اس کتاب کو پانچ فصول میں تقسیم کیا ہے اور ہر فصل میں قیمتی اور تحقیقی معلومات نقل کی ہیں۔ فصل اول میں غزوہ حنین اور تبوک کی درمیانی مدت میں وقوع پذیر ہونے والے مختصر فوجی حالات و واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ فصل دوم میں قبائل شام کی تاریخ، تخریبی عناصر کا مدینہ میں متحرک ہونا، منافقین کے تعرفات کے نمونے اور دیگر حالات کا بیان ہے۔ فصل سوم میں غزوہ تبوک کے لئے مسلمانوں کی روانگی، غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مؤمنین، حجۃ الوداع کے خطبہ کی مانند رسول کریم ﷺ کا خطبہ اور تربیت نبوی ﷺ کا ایک واقعہ اور دیگر مختلف واقعات کا مفصل بیان ہے۔ فصل چہارم میں دومتہ الجندل کی فتح، مسجد ضرار کا واقعہ اور رئیس المنافقین کی موت جیسے واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ فصل پنجم کافی طویل فصل ہے جس میں اسلام قبول کرنے والے وفود کا بیان ہے۔ نیزنبی کریم ﷺ کے قتل کی سازش کا واقعہ، حجۃ الوداع، آپ ﷺ کا حج، کعبہ کو غلاف  چڑھانا، اسامہ بن زید کی فوج کو تیاری کا حکم اور آپ ﷺ کی زندگی میں ظہور ہونے والے ارتدادی فتن کا بیان بھی اس فصل میں شامل ہیں۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کو ظاہری فتح کے بجائے معنوی فتح حاصل ہوئی تھی اور وہ اِس طرح کہ انہوں نے اِس طرح وقت دنیا کی سب سے بڑی شہنشاہیت (روم) کی فوج کو خوف زدہ کر دیا تھا۔ غزوہ تبوک کے مقاصد کی تکمیل ہوئی اور بت پرستی کے تمام مظاہر کا مکمل صفایا ہو گیا اور جزیرہ عرب کی انتہائی دور دراز اطراف میں اسلام کا جھنڈا لہرا گیا۔ بہرحال کتاب قابل مطالعہ اور لائق تعریف ہے۔(آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-ghazwa-hunain
    محمد احمد باشمیل
    اسلام کے فیصلہ کن معرکوں میں غزوہ حنین کی حیثیت بالکل نمایاں ہے کیونکہ یہ معرکہ عسکری نقطۂ نگاہ سے ایک اہم معرکہ ہے جس میں مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی زیرِ قیادت شمولیت اختیار کی۔ بارہ ہزار جانبازوں نے شرکت کی اور اتنی تعداد پہلے کسی معرکہ میں نظر نہیں آئی۔ نیز اس معرکہ میں مسلمانوں کی فیصلہ کن فتح، جزیرہ عرب میں بت پرستی کے تابوت، میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ زیر نظر کتاب علامہ محمد احمد باشمیل کی تصنیف ہے جیسے اردو قالب میں مولانا اختر فتح پوری نے منتقل کیا ہے۔ کتاب شاندار تعلیمات اور دقیق قیمتی تحلیلات پر مشتمل ہے۔ بنو ثقیف اور بنو حیوازن کا کس طرح قلعہ قمع کیا گیا اور دوران معرکہ کس قسم کے حالات پیش آئے۔ مخالفین کے کتنے لوگ مقتول ہوئے اور مسلمانوں کے کتنے لوگوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جزیرۂ عرب میں بت پرستی کا خاتمہ کیسے ہوا، یہ سب معلومات کتاب ھذا میں رقم کر دی گئی ہیں۔ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلامی کے خزائن و معارف کے اکتشاف کا خواہاں ہے اسے اس کتاب کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے اور مؤلف کے قیمتی تاریخی سلسلہ کی بقید کتابوں کی تعلیمات و تحلیلات کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔ غزوۂ حنین میں جو دروس و عبر اور نصائح پائی جاتی ہیں انہیں مؤلف نے اپنی کتاب میں اپنے تحلیل و تجزیہ کے دوران نہایت شاندار طریق سے پیش کیا ہے۔ مسلم نوجوانوں خاص طور پر تاریخ کے طالب علموں کے لئے مؤلف کا یہ سلسلہ درخشندہ اسلامی تاریخ کے خزانوں کا احاطہ کرتا ہے جس سے وہ اپنی پیاس کی سیرابی کا سامان پائیں گے۔ جزاہ الندا حسن الجزاء۔(آ۔ہ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-ghazwa-mouta
    محمد احمد باشمیل

    غزوۂ موتہ کا شمار اسلام کے فیصلہ کن معرکوںمیں ہوتا ہے یہ جنگ روم کے عیسائیوں کے خلاف لڑی گئی اس میں آپﷺ نے تین سپہ سالاروں کومقررکیا لیکن وہ تینوں شہید ہوگئے تو مسلمانوں کو انتہائی پسپائی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔تو اس صورت حال میں حضرت خالد بن ولید ﷜نے اسلامی فوج کی قیادت سبنھالی اور مسلمانوں کو جمع کرکے رومیوں کو شکست سے دوچار کیا ۔ زیر نظر کتاب عرب کے مشہو ر تاریخ دان احمد باشمیل کی عربی کتاب کاسلیس آسان ترجمہ ہے فاضل مؤلف نے اس کتاب میں شام کے حالات وواقعات اس کاتاریخی پس منظر او رہجرت کے بعد واقع ہونے واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ان امورکی وضاحت بھی پیش کی جن کےنتیجہ میں غزوۂ موتہ پیش آیا تھا او راس غزوہ کے حالات واقعات کو تفصیلاً پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-fatha-khaibar
    محمد احمد باشمیل
    اسلام کی سنہری تاریخ، قیمتی خزانوں اور بہادرانہ اور قابل تعریف کارناموں سے بھرپور ہے۔ اسلام کے فیصلہ کن معرکوں میں سے ایک ’’معرکہ خیبر‘‘ ہے۔ محرم ۷ہجری کا یہ واقعہ اپنے عوامل اور عواقب کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں نہ صرف یہودیوں کی سطوت اور طاقت پارہ پارہ ہو گئی بلکہ مسلمانوں کو بھی ان کی جانب سے مکمل تحفظ حاصل ہو گیا۔ زیرِ نظر کتاب ’’علامہ محمد أحمد باشمیل‘‘ کی تصنیف ہے جس کو ’’اختر فتح پوری‘‘ نے اردو قالب میں منتقل کیا ہے۔ قابل مصنف نے اسلام کے فیصلہ کن معرکے کے عنوان پر سلسلہ وار مختلف معرکوں پر کتب لکھی ہیں۔ ان میں ہر واقعہ کے پس منظر، محرکات اور جزئیات پر بحث کی ہے اور ایک ایک نقطہ اور ایک ایک مقام کو اپنی وسعت فکر و نظر کا موضوع بنایا ہے۔ واقعہ خیبر اس سے پہلے اتنی مفصل اور مستند معلومات کے ساتھ شاید ہی کسی کتاب میں مذکور ہوا ہو۔ قابل مصنف نے کتاب کو چار فصول میں تقسیم کیا ہے۔  پہلی فصل میں یہود خیبر کی مختصر تاریخ اور خیبر کے جغرافیے پر بحث کی ہے۔ دوسری فصل میں خیبر کی فتح کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں سے وعدہ اور اس غزوہ کی تیاری پر بحث کی گئی ہے۔ تیسری فصل میں جنگ خیبر کے آغاز، ابتدائی مبارزت اور خیبر کے نصف اول قلعوں کی فتح پر معلومات درج کی گئی ہیں اور چوتھی و آخری فصل میں خیبر کے نصف ثانی قلعوں کی فتح، یہودیوں کے مذاکرات، شرائط، جنگی غنائم اور دیگر واقعات پر مفصل بحث کی گئی ہے اور کتاب کے آخری صفحات پر اس واقعہ کا تحلیل و تجزیہ، فوجوں کا موازہ، معرکہ خیبر کے اسباق و نتائج کو بیان کیا گیا ہے۔ عسکری ماہرین، آفیسرز اور فوجی دستوں کے لئے یہ کتاب ایک علمی ورثہ اور مشعل راہ ہے۔(آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-fatha-makka
    محمد احمد باشمیل
    غزوات سے متعلق تاریخی کتب میں بہت سا مواد موجود ہے لیکن ان غزوات کے اسباب وعلل اور دیگر متعلقہ واقعات کو الگ کتابی شکل میں پیش کرنا یقیناً ایک مبارک کام ہے۔ علامہ محمد احمد باشمیل صاحب نے غزوات سے متعلق جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ اس سلسلے کی آٹھویں کڑی ہے۔ اس سے قبل آپ غزوہ بدر، احد، احزاب، بنی قریظہ، صلح حدیبیہ، غزوہ خیبر اور غزوہ موتہ پر قیمتی معلومات فراہم کر چکے ہیں۔ ان کتب کو عوام و خواص سند قبولیت عطا کر چکے ہیں۔ اس کتاب کا موضوع فتح مکہ ہے جس کا معاملہ بڑا حیرت انگیز ہے اس لیے کہ یہ فتح بغیر جنگ کے ہوئی ہے اور یہ عظیم ترین قائد نبی کریم ﷺ کی دور اندیشی کا پختہ پھل ہے۔ یقیناً اس غزوے کا مطالعہ مسلمانوں کے ایمان کی تازگی کا باعث ہو گا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1936 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں