سعید احمد چنیوٹی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
سعید احمد چنیوٹی
عبد الرحمن
1958-05-14

مولاناسعید احمدسعید چنیوٹی نےرسمی تعلیم میٹرک تک حاصل کی دینی تعلیم میں درس نظامی اوروفاق المدارس کےفاضل ہیں جبکہ فاضل عربی کاامتحان بھی پاس کرچکےہیں۔ایک ماہ تک گوجر ہ میں مولانامحمدیعقوب صاحب گوجروی کی خدمت میں دورہ تفسیرکےلیے حاضررہےدینی تعلیم آپ نےکلیہ القرآن کریم والحدیث فیصل آبادمیں رہ کرمکمل کی۔

نام : مولاناسعید چنیوٹی ۔

ولدیت : عبدالرحمٰن۔

ولادت : مولاناسعیداحمدچنیوٹی کی ولادت 1958ءبمطابق 1377ھ چنیوٹ ضلع جھنگ میں ہوئی ۔

تعلیم وتربیت:

مولاناسعید احمدسعید چنیوٹی نےرسمی تعلیم میٹرک تک حاصل کی دینی تعلیم میں درس نظامی اوروفاق المدارس کےفاضل ہیں جبکہ فاضل عربی کاامتحان بھی پاس کرچکےہیں۔ایک ماہ تک گوجر ہ میں مولانامحمدیعقوب صاحب گوجروی کی خدمت میں دورہ تفسیرکےلیے حاضررہےدینی تعلیم آپ نےکلیہ القرآن کریم والحدیث فیصل آبادمیں رہ کرمکمل کی۔

اساتذہ کرام: مولاناسعیداحمدچنیوٹی نےمندرجہ ذیل اساتذہ کرام سےکسب فیض کیا۔

1۔مولانابشیراحمدجیسم رحیم یارخان  2۔مولانا خا ن محمد3۔مولانا محمدعبداللہ امرتسری  4۔مولانامحمدبعقوب گوجروی۔

درس تدریس: آپ عرصہ  دس سال سےجامعہ علمیہ dبلاک سرگودھامیں تدریسی خدمات سرانجا م دےرہے ہیں جبکہ شہرکی دیگرمساجد میں آپ کےخطبات ہوتےرہتےہیں تقریروتدریس کےعلاوہ تحقیق کااچھاذوق رکھتےہیں۔

تلامذہ: معروف تلامذہ مندجہ ذیل ہیں ۔

1۔مولاناعبدالحیی النصاری مدرس جامعہ سلفیہ  ۔

2۔مولاناعبدالرشیدراشدپسروری مدرس جامعہ رحمانیہ لاہور۔

3۔مولاناعبدالستاربھٹی استاد عربی ہائی سکول اسلام آباد ۔

4۔حافظ عبدالقادر 5۔حافظ عبدالغفار حتعلمین جامعہ الریاض سعودی عرب ۔

تصنیف تالیف :

 مولانا سعیداحمدچنیوٹی نےابھی تک فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبدبن باز حفظہ کی تالیف التحذیرعن البلا غ کااردوترجمہ کیاہےجسے اوارہ احیائے السنۃ النبویہ سرگودھا نےشائع کیاہے۔

حوالہ : تذکرہ علماء اہل حدیث  دوم از محمدعلی جانباز۔

    title-pages-itihade-millat-ka-naqeeb-fikre-ahle-hadith-hi-kiyon
    سعید احمد چنیوٹی
    قرآن میں ہے’’ اسی طرح ہم نے تم کو میانہ روش بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ اس آیت  کے تناظر میں  اہل حدیث فکر کے حاملین کا یہ کہنا ہے کہ  ہم حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔عقائد ، عبادات اور معاملات وغیرہ میں کسی بھی پہلو سے افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں۔حضرات صحابہ کرام اور سلف صالحین کا یہی منہج اور مسلک تھا۔جس طرح اسلام باقی تمام مذاہب و ادیان کےمقابلے میں وسط و اعتدال پر مبنی ہے اسی طرح صحابہ کرام ؓ و سلف تمام فرق کےمقابلے میں اعتدال و وسط کے پیروکار ہیں۔مثلا خوارج اور روافض کے مقابلہ میں صحابہ کرام ؓ کے بارےمیں انہی کا موقف اعتدال ، میانہ روی کا آئینہ دار ہے۔خوارج، معتزلہ اور مرجئہ کے مابین مسلہ وعدہ و وعید کے بارے میں سلف کا موقف ہی معتدل و وسط ہے۔قدریہ اور جبریہ کے مابین تقدیر میں وسط پہلو سلف ہی کا ہے۔جہمیہ معطلہ اور مشبہ کےمابین مسلہ صفات باری تعالیٰ میں وسط مسلک سلف ہی کا ہے۔ نہ ان کے ظاہریت ہے نہ تقلید جامد، نہ جمود ہے نہ ہی آزاد خیالی، نہ رہبانیت ہے اور نہ ہی حیلہ سازی۔فکر اہل حدیث کے قائلین و حاملین کا کہنا ہے کہ ہم اسی منہج فکر کے پر کار بند ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ مصنف کی اسی طرز کی ایک کاوش ہے جس میں موصوف نے تاریخی اور علمی دلائل سے یہ بات ثابت کرنے کوشش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-shaika-ul-hadith-muhammad-abdullah-werawalwi-hayat-w-khidmat
    سعید احمد چنیوٹی
    سرزمین فیصل آباد کو جن نفوس قدسیہ نے کتاب و سنت کے علم سے سیراب کیا ان میں سے  ایک  استاذ العلماء ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث امرتسری ہیں ۔ کلیہ دارالقرآن و الحدیث انہی کی یاد گار ہے جو تقریبا نصف صدی سے علم و عمل کے میدان میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے ۔ یہ درسگاہ انہوں نے آزادی برصغیر کے بعد قائم کی تھی ۔ جس سے بے شمار حضرات  استفادہ کر چکے ہیں ۔ مولانا نے ہمیشہ ہی دنیا سے بے رغبتی اختیار کی بلکہ وغظ و تبلیغ اور تدریس  کی جو خدمات سرانجام دیتے اس کا بھی معاوضہ نہ لیتے اور اپنی تجارت شروع کی ۔ انہوں نے اپنی تمام دلچسپیوں کا مرکز اپنے طلباء کو بنا رکھا تھا انہیں اللہ کے دین سے روشناس کرانا ان کی زندگی کا مقصد اولین تھا ۔ آپ نحو ، صرف ، منطق ، بلاغت ، معانی میں یکتائے روز گار تھے ۔ اور علم الفرائض کے تو گویہ امام تھے ۔ اس علم کی معروف کتاب السراجی کی انہوں نے شرح بھی لکھی ہے ۔ آپ علوم میں بہت زیادہ رسوخ رکھتے تھے ۔ اسی وجہ سے آپ کے اساتذہ آپ پر مکمل اعتماد کر تے تھے ۔ ان کی علالت  یا عدم موجودگی میں آپ ہی مسند تدریس ارشاد فرمایا کر تے تھے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-bastan-al-waezeen-w-riaz-al-saliheen-copy
    امام ابن جوزی بغدادی

    حقیقی مومن سچی طلب ، محبت، عبودیت ، توکل، خوف وامید،خالص توجہ او رہمہ وقت حاجت مندی کی کیفیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے پھر وہ اللہ کے رسول کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ دریں صورت کہ اس کی ظاہر ی وباطنی حرکات وسکنات شریعت محمدی کے مطابق ہوں ۔ یہی وہ شریعت ہے جو اللہ تعالیٰ کی پسند اور مرضی کی تفصیل کواپنے اندر سموئے ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ کوئی ضابطہ حیات قبول نہیں کرے گا۔ ہر وہ عمل جو اس طریقۂزندگی سے متصادم ہو وہ توشۂ آخرت بننے کی بجائے نفس پرستی کا مظہر ہوگا۔ جب ہرپہلو سے سعادت مندی شریعت محمدیہ پر موقوف ہے تو اپنی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے تمام لمحات اس کی معرفت اورطلب کے لیے وقف کردے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’بستان الواعظین وریاض ا لسامعین‘‘ چھٹی صدی ہجری کےمعروف امام ابن الجوزی﷫ کی تصنیف ہے جو کہ واعظ و ارشاد ،نصیحت آموز واقعات وحکایات ،بعض قرآنی آیات کی تشریح،معاملات ، عبادات ودیگر متفرق موضوعات پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب خطبا واور واعظین کےلیے بیش قیمت نادر تحفہ ہے ۔مولانا سعید احمد چنیوٹی﷾ نے اس کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے اردو دان طبقہ کےلیےاردوقالب میں ڈھالا ہے۔ اور پروفیسر حافظ محمد اصغر﷾ نے اس کی تخریج کی ذمہ داری انجام دی ہے جس اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1467 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں