محمد صادق خلیل

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد صادق خلیل
احمد دین
1925-02-25

 مولانا صادق خلیل نےاپنی دینی ودنیاوی ہرقسم کی تعلیم کی تکمیل مدرسہ تعلم الاسلام اوڈانوالہ میں ہی رہ کر۔میٹرک تک پرائیویٹ طور پریہیں رہ کرامتحان دیےفاضل عربی وفاضل فارسی کی بھی یہیں رہ کرتیاری کی۔اوریہیں سے فارغ التحصیل ہوکرسندحاصل کی۔

نام: مولانا محمدصادق خلیل۔

ولدیت: مولاناصادق خلیل صاحب کےوالدگرامی کااسم گرامی مولوی احمددین ہے۔

ولادت: ان کی ولادت 1925ءبمطابق 1343ھ بمقام اوڈانوالہ نزد ماموں کانجن تحصیل سمندری ضلع فیصل آبادمیں ہوئی۔

تعلیم وتربیت:

 مولانا صادق خلیل نےاپنی دینی ودنیاوی ہرقسم کی تعلیم کی تکمیل مدرسہ تعلم الاسلام اوڈانوالہ میں ہی رہ کر۔میٹرک تک پرائیویٹ طور پریہیں رہ کرامتحان دیےفاضل عربی وفاضل فارسی کی بھی یہیں رہ کرتیاری کی۔اوریہیں سے فارغ التحصیل ہوکرسندحاصل کی۔

اساتذہ کرام: مولانا صادق خلیل نےجن اساتذہ کرام سےعلم کی تحصیل کی ان کےنام درج ذیل ہیں۔

1۔شخ الحدیث العلام حافظ محمدگوندلوی۔

2۔امیرالمجاہدین صوفی محمدعبداللہ بانی مدرسہ تعلیم الاسلام ۔

3۔صوفی محمدابراہیم اوڈانوالہ۔4۔مولوی احمددین۔

5۔حافظ محمداسحاق  حسین خان والہ مدظلہ ۔

6۔مولانا محمدداؤدانصاری رحمانی گوجرانوالہ۔

7۔مولاناعبدالرحمان نوسلم کراچی 8۔مولانانواب دین۔

یہ وہ اساتذہ کرام ہیں جن سےمولاناصادق خلیل نےعلمی پیاس بجھائی۔

درس وتدریس:

تعلیم سےفرغت کےبعدآپ نے 1945ءمیں تدریس شروع کی اورپھر آپکی تدریسی مصروفیات کی تفصیل حسب ذیل رہی۔

1۔مدرسہ تعلیم الاسلام 15سال۔

2۔جامعہ سلفیہ 8سال۔

3۔جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن 4سال۔

4۔مدرسہ رحمانیہ لاہور3سال۔

5۔مدرسہ تدریس القرآن والحدیث  راولپنڈی 2سال۔

6۔دارالحدیث رحمانیہ کراچی 1سال۔

7۔دارالحدیث کوٹ رادھاکشن 3سال۔

تلامذہ:

مولاناصادق خلیل سےعلم حاصل کرنےوالےکثیرلوگ ہیں چندایک مشہورتلامذہ کےنام درج ذیل ہیں۔

1۔خطیب ملت علامہ احسان الہی ظہیر 2۔مولاناعبدالحمیدہزاروی۔

3۔حضرب مولاناحافظ عبداللہ  4۔مولانامحمدعبداللہ راولپنڈی۔

5۔مولاناشمس الدین پشاور 6۔مولانااشادالحق اثری فیصل آباد۔

7۔پروفیسرمولانامحمدظفراللہ صاحب جامعہ ابی بکرالاسلامیہ کراچی۔

8۔مولانامحمدخالدسیف فیصل آباد 9۔مولاناقدرت اللہ فوق۔

10۔پروفیسرمولاناعبدالحکیم سیف کوٹ رادھاکشن۔

11۔مولاناعبدالرشیدہزاروی 12۔مولاناقاضی محمداسلم سیف فیروزپوری۔

13۔حافظ فتح محمدفتحی مرحوم (مکہ مکرمہ)

ان چنداورنامورعلماءکرام شاگردوں کےعلاوہ آپ کےشاگردوں کی تعداد تقریبا 400سوسےمتجاوزہے آپ عرصہ سال مختلف مقامات پرخطابت کےفرائض بھی سرانجام دیتےچلےآٖرہے ہیں۔

تصنیفات وتالیفات:

تدریس کےعلاوہ آپ کااصل میدان تحریروترجمہ ہے۔ اس مقصدکےلیےآپ نےفیصل آبادمیں ضیاءالسنہ ادارہ ترجمہ والتالیف قائم کررکھاہے۔

جہاں پرآپ نےمندرجہ ذیل تحریری خدمات سرانجام دیں ہیں۔

ترجمه الردعلی الاخنائی للشیخ ابن تیميه۔

2۔اردوترجمہ ریاض الصالحین۔

افکارصوفيه ترجمه فکرالصوفی تالیف عبدالخالق عبدالرحمن۔

4۔قبروں پرمسجدیں اوراسلام اردوترجمہ تحذیرالمساجدعن اتخازالقبورالمساجد للشیخ محمدناصرالدین البانی۔

حج فبويه ترجمه حجةالنبی صلی الله عليه وسلم للشیخ ناصرالدین البانی ۔

6۔نمازتراویح ترجمہ صلوۃالتراویح لناصرالدین البانی ۔

7۔امام احمدبن حنبل کادورابتلاء ترجمہ محنتہ الامام احمدبن حنبل تحقیق ڈاکٹرنعش مصری۔

8۔اردوترجمہ محمدبن عبدالوھاب رحمہ اللہ تالیف احمدبن عبدالغفورعطار۔

ان کےعلاوہ مندرجہ ذیل کتب کےتراجم ہوچکےہیں۔

1۔شرح عقیدہ طحاویہ 2۔الردعلی الکیری للشیخ الاسلام ابن تیميه۔

الفرقان بین اولیاءالرحمان واولیاء الشیطان۔

صلاة النبی للعلامه البانی ۔

ادارہ ضیاء السنہ کی ہی طرف سےجامع ترمذی کی شہرہ آفاق

شرح تحفة الاحوزی ازعلامه عبدالرحمان مبارکپوری مکمل اعلی کاغذپرطباعت ہوکرفروخت ہورہی ہے۔آپ کےکچھ مضامین جماعتی پرچوں میں چھپےہیں۔جن میں مقام صبر،قرآن پاک کی عظمت،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عائلی زندگی وغیرہ قابل ذکرہیں،مولاناصادق خلیل کتاب وسنت کی اشاعت میں تبلیغ میں کسی مصلحت کےقائل نہیں حقائق بیان کرنےمیں مدہنت سےکانہیں لیتے۔

حوالہ: تذکرہ علماء اہل حدیث از مولانامحمدعلی جانباز۔

    title-pages-tafseer-asdaqu-al-bayan-1-copy
    محمد صادق خلیل

    مولانا محمدصادق خلیل﷫ مارچ 1925 ءمیں اوڈاں والا ماموں کانجن ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ مولانا صادق خلیل کے والد محترم بڑے نیک اورمتقی انسان تھے ۔ انہوں نے اپنے اس اکلوتے فرزند کی تربیت میں اسلامی تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ مولانا صادق خلیل  کچھ بڑے ہوئے تو والد مکرم نے ادعیہ ماثورہ وغیرہ زبانی یاد کرانا شروع کیں اورسرکاری سکول میں داخل کرا دیا ۔ اسکول سے پرائمری پاس کی تو ان کے والد نے 1938ءمیں ان کو اپنے گاؤں اوڈاں والا کے اس دینی مدرسے میں داخل کرا دیا جو صوفی عبداللہ ﷫ نے جاری کیا تھا ۔ یہ چھ سال کا نصاب تھا جو انہوں نے اسی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا کے اساتذہ سے مکمل کیا ۔ صوفی محمد عبداللہ ( بانی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا و جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ) حضرت حافظ محمد گوندلوی ، مولانا نواب الدین ، مولانا ثناءاللہ ہوشیار پوری ، مولانا حافظ محمد اسحاق حسینوی اور مولانا محمد داؤد انصاری بھوجیانی  ﷭ وغیرہم  سے  انہوں  نے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا موصوف نے دارالعلوم سے سند فراغت حاصل  کرنے  کے علاوہ  میٹرک کا امتحان وہیں رہ کر دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحان بھی اسی دارالعلوم کی طرف سے دئیے اور نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے فراغت کے بعد 1945ء اپنی مادر علمی میں ہی تدریس کا آغاز کیا ۔ 1945ءسے 1960ءتک پندرہ سال دارالعلوم اوڈاں والا کی مسند تدریسی پر فائز رہے ۔ اس اثناءمیں بہت سے طلبہ نے ان سے استفادہ کیا ۔  1961ءمیں مولانا سید داؤد غزنوی ﷫ کے حکم پر وہ اپنے گاؤں کے دارالعلوم سے نکلے اور جامعہ سلفیہ ( فیصل آباد ) چلے آئے ۔ یہاں کم و بیش انہوں نے دس سال پڑھایا ۔ چار سال جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن رہے ، ایک سال دارالحدیث کراچی ، دس سال مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں ، تین سال جامعہ رحمانیہ،گارڈن ٹاؤن، لاہور اور تین سال دارالحدیث کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں تدریسی خدمات سرانجام دیں ۔ اس عرصے میں ان سے سینکڑوں طلبہ نے استفادہ کیا اور وہ علم و عرفان کی رفعتوں پر متمکن ہوئے ۔ ان کے چند نامور شاگردوں کے نام یہ ہیں ۔ خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ، مولانا شمس دین پشاور ،  پروفیسر محمد ظفر اللہ کراچی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانا ، ، مولانا قاضی محمد اسلم سیف ﷭، مولانا ارشاد الحق اثری ، مولانا محمد خالد سیف ، مولانا عبدالحمید ہزاروی  حفظہم اللہ۔ مولانا صادق خلیل ﷫ جلیل القدر عالمِ دین تھے ۔ انہوں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں نام پیدا کر کے ارض پاک وہندمیں شہرت دوام حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی علمی صلاحیتوں اور اوصاف و کمالات سے نوازا تھا ۔ آپ جید عالم ، بلند پایہ مدرس ، منجھے ہوئے تجربہ کار مترجم ، اونچے درجے کے مفسرِ قرآن ، بلند اخلاق ، متواضع ، فصیح اللسان ، سلیم العقل اور صحیح الفکر عالم دین تھے ۔ عذوبتِ لِسان اور اخلاق حسنہ کی دولت سے مالا مال تھے ، علم و عمل کا حظ وافر ان کے حصے میں آیا تھا ۔ ان کے اوصاف گوناگوں کے باعث سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور یہ بھی سب پر مشفق و مہربان تھے ۔ آپ اسلاف کی یادگار اور  نشانی تھے ۔ آپ  زندگی بھردرس و تدریس ، وعظ و تقریر اور قلم و قرطاس سے دینِ اسلام کی اشاعت کا فریضہ ادا کر تے رہے ۔ سینکڑوں لوگوں نے ان سے تفسیر ، حدیث ، فقہ و اصول ، صرف و نحو اور منطق وغیرہ جیسے علوم کی تحصیل کی اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔ بلاشبہ مولانا صادق صاحب کی تدریس و تصنیف کا دائرہ دور تک پھیلا دکھائی دیتا ہے ۔   مولانا مرحوم جہاں بلند پایہ مدرس تھے وہیں بہت عمدہ خطیب بھی تھے ۔آپ عرصے تک گاہے بگاہے مرکزی جامع مسجد رحمانیہ مندر گلی فیصل آباد میں خطبہ جمعہ اور نماز عصر کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے رہے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ اوصاف و کمالات اور گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ۔ حدیث ، رسول ﷺاور تفسیر قرآن سے ان کو خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنی رہائش محلہ رحمت آباد ( فیصل آباد ) میں ضیاءالسنہ کے نام سے ترجمہ و تالیف کا ادارہ قائم کر رکھا تھا ۔ترمذی شریف کی شرح تحفۃ الاحوذی کے علاوہ بھی انہوں نے کئی قابل قدر کتب اپنے ادارے کی طرف سے شائع کیں ۔ مولانا ایک جید عالم اور بلند پایہ مصنف تھے۔ انہوں نے متعدد اہم کتب کا نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ ’اصدق البیان‘ کے نام سے اُردو زبان میں قرآن کریم کی ایک ضخیم تفسیر بھی لکھی۔ ۔خدمتِ حدیث کے  سلسلے  میں مشکوٰۃ شریف کا  اردو ترجمہ مع حواشی بھی ان ہی کا  نمایاں کارنامہ ہے ۔ مشکوٰۃ کایہ  ترجمہ  و  حواشی پانچ جلدوں پر مشتمل ہے  اس میں احادیث کی تخریج کر کے صحیح اور ضعیف کا حکم بھی لگایا گیا ہے ۔ یہ کام بڑی محنت ، عرق ریزی اور تحقیق سے کیا گیا ۔مولانا کی صحت بظاہر بہت اچھی تھی ، ترجمہ و تالیف کا کام بڑی مستعدی سے کرتے اور دور دراز کے سفر بھی اکیلے کرتے ۔ وفات سے چند دن پہلے ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور آخر 6 فروری 2004ءکی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے   ۔ اسی روز نماز مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور قریبی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اصدق البیان ‘‘ مولانا صادق خلیل﷫ کا  خدمت  قرآن  کےسلسلے  میں بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ یہ تفسیر اپنے دامن میں معانی و افکار کی گہرائی اور ندرت کی چاشنی لئے ہوئے ہے ۔ مولانا مرحوم کو قرآن پاک سے خاص شغف تھا یہ عظیم الشان تفسیر ان کے اسی ذوق کی مظہر ہے۔  یہ تفسیر سات جلدوں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں اس کی پہلی پانچ جلدیں میسر ہوسکیں  جنہیں قارئین  کی خدمت میں  پیش کیا گیا ہے ۔باقی دو جلدوں کو بھی  دستیاب ہونےپر  ویب سائٹ پر پبلش کردیا جائےگا۔( ان شاء اللہ)(م۔ا)

    title-pages-tafseer-asdaqu-al-bayan-1-copy
    محمد صادق خلیل

    مولانا محمدصادق خلیل﷫ مارچ 1925 ءمیں اوڈاں والا ماموں کانجن ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ مولانا صادق خلیل کے والد محترم بڑے نیک اورمتقی انسان تھے ۔ انہوں نے اپنے اس اکلوتے فرزند کی تربیت میں اسلامی تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ مولانا صادق خلیل  کچھ بڑے ہوئے تو والد مکرم نے ادعیہ ماثورہ وغیرہ زبانی یاد کرانا شروع کیں اورسرکاری سکول میں داخل کرا دیا ۔ اسکول سے پرائمری پاس کی تو ان کے والد نے 1938ءمیں ان کو اپنے گاؤں اوڈاں والا کے اس دینی مدرسے میں داخل کرا دیا جو صوفی عبداللہ ﷫ نے جاری کیا تھا ۔ یہ چھ سال کا نصاب تھا جو انہوں نے اسی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا کے اساتذہ سے مکمل کیا ۔ صوفی محمد عبداللہ ( بانی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا و جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ) حضرت حافظ محمد گوندلوی ، مولانا نواب الدین ، مولانا ثناءاللہ ہوشیار پوری ، مولانا حافظ محمد اسحاق حسینوی اور مولانا محمد داؤد انصاری بھوجیانی  ﷭ وغیرہم  سے  انہوں  نے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا موصوف نے دارالعلوم سے سند فراغت حاصل  کرنے  کے علاوہ  میٹرک کا امتحان وہیں رہ کر دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحان بھی اسی دارالعلوم کی طرف سے دئیے اور نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے فراغت کے بعد 1945ء اپنی مادر علمی میں ہی تدریس کا آغاز کیا ۔ 1945ءسے 1960ءتک پندرہ سال دارالعلوم اوڈاں والا کی مسند تدریسی پر فائز رہے ۔ اس اثناءمیں بہت سے طلبہ نے ان سے استفادہ کیا ۔  1961ءمیں مولانا سید داؤد غزنوی ﷫ کے حکم پر وہ اپنے گاؤں کے دارالعلوم سے نکلے اور جامعہ سلفیہ ( فیصل آباد ) چلے آئے ۔ یہاں کم و بیش انہوں نے دس سال پڑھایا ۔ چار سال جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن رہے ، ایک سال دارالحدیث کراچی ، دس سال مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں ، تین سال جامعہ رحمانیہ،گارڈن ٹاؤن، لاہور اور تین سال دارالحدیث کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں تدریسی خدمات سرانجام دیں ۔ اس عرصے میں ان سے سینکڑوں طلبہ نے استفادہ کیا اور وہ علم و عرفان کی رفعتوں پر متمکن ہوئے ۔ ان کے چند نامور شاگردوں کے نام یہ ہیں ۔ خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ، مولانا شمس دین پشاور ،  پروفیسر محمد ظفر اللہ کراچی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانا ، ، مولانا قاضی محمد اسلم سیف ﷭، مولانا ارشاد الحق اثری ، مولانا محمد خالد سیف ، مولانا عبدالحمید ہزاروی  حفظہم اللہ۔ مولانا صادق خلیل ﷫ جلیل القدر عالمِ دین تھے ۔ انہوں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں نام پیدا کر کے ارض پاک وہندمیں شہرت دوام حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی علمی صلاحیتوں اور اوصاف و کمالات سے نوازا تھا ۔ آپ جید عالم ، بلند پایہ مدرس ، منجھے ہوئے تجربہ کار مترجم ، اونچے درجے کے مفسرِ قرآن ، بلند اخلاق ، متواضع ، فصیح اللسان ، سلیم العقل اور صحیح الفکر عالم دین تھے ۔ عذوبتِ لِسان اور اخلاق حسنہ کی دولت سے مالا مال تھے ، علم و عمل کا حظ وافر ان کے حصے میں آیا تھا ۔ ان کے اوصاف گوناگوں کے باعث سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور یہ بھی سب پر مشفق و مہربان تھے ۔ آپ اسلاف کی یادگار اور  نشانی تھے ۔ آپ  زندگی بھردرس و تدریس ، وعظ و تقریر اور قلم و قرطاس سے دینِ اسلام کی اشاعت کا فریضہ ادا کر تے رہے ۔ سینکڑوں لوگوں نے ان سے تفسیر ، حدیث ، فقہ و اصول ، صرف و نحو اور منطق وغیرہ جیسے علوم کی تحصیل کی اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔ بلاشبہ مولانا صادق صاحب کی تدریس و تصنیف کا دائرہ دور تک پھیلا دکھائی دیتا ہے ۔   مولانا مرحوم جہاں بلند پایہ مدرس تھے وہیں بہت عمدہ خطیب بھی تھے ۔آپ عرصے تک گاہے بگاہے مرکزی جامع مسجد رحمانیہ مندر گلی فیصل آباد میں خطبہ جمعہ اور نماز عصر کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے رہے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ اوصاف و کمالات اور گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ۔ حدیث ، رسول ﷺاور تفسیر قرآن سے ان کو خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنی رہائش محلہ رحمت آباد ( فیصل آباد ) میں ضیاءالسنہ کے نام سے ترجمہ و تالیف کا ادارہ قائم کر رکھا تھا ۔ترمذی شریف کی شرح تحفۃ الاحوذی کے علاوہ بھی انہوں نے کئی قابل قدر کتب اپنے ادارے کی طرف سے شائع کیں ۔ مولانا ایک جید عالم اور بلند پایہ مصنف تھے۔ انہوں نے متعدد اہم کتب کا نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ ’اصدق البیان‘ کے نام سے اُردو زبان میں قرآن کریم کی ایک ضخیم تفسیر بھی لکھی۔ ۔خدمتِ حدیث کے  سلسلے  میں مشکوٰۃ شریف کا  اردو ترجمہ مع حواشی بھی ان ہی کا  نمایاں کارنامہ ہے ۔ مشکوٰۃ کایہ  ترجمہ  و  حواشی پانچ جلدوں پر مشتمل ہے  اس میں احادیث کی تخریج کر کے صحیح اور ضعیف کا حکم بھی لگایا گیا ہے ۔ یہ کام بڑی محنت ، عرق ریزی اور تحقیق سے کیا گیا ۔مولانا کی صحت بظاہر بہت اچھی تھی ، ترجمہ و تالیف کا کام بڑی مستعدی سے کرتے اور دور دراز کے سفر بھی اکیلے کرتے ۔ وفات سے چند دن پہلے ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور آخر 6 فروری 2004ءکی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے   ۔ اسی روز نماز مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور قریبی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اصدق البیان ‘‘ مولانا صادق خلیل﷫ کا  خدمت  قرآن  کےسلسلے  میں بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ یہ تفسیر اپنے دامن میں معانی و افکار کی گہرائی اور ندرت کی چاشنی لئے ہوئے ہے ۔ مولانا مرحوم کو قرآن پاک سے خاص شغف تھا یہ عظیم الشان تفسیر ان کے اسی ذوق کی مظہر ہے۔  یہ تفسیر سات جلدوں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں اس کی پہلی پانچ جلدیں میسر ہوسکیں  جنہیں قارئین  کی خدمت میں  پیش کیا گیا ہے ۔باقی دو جلدوں کو بھی  دستیاب ہونےپر  ویب سائٹ پر پبلش کردیا جائےگا۔( ان شاء اللہ)(م۔ا)

    title-pages-tafseer-asdaqu-al-bayan-1-copy
    محمد صادق خلیل

    مولانا محمدصادق خلیل﷫ مارچ 1925 ءمیں اوڈاں والا ماموں کانجن ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ مولانا صادق خلیل کے والد محترم بڑے نیک اورمتقی انسان تھے ۔ انہوں نے اپنے اس اکلوتے فرزند کی تربیت میں اسلامی تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ مولانا صادق خلیل  کچھ بڑے ہوئے تو والد مکرم نے ادعیہ ماثورہ وغیرہ زبانی یاد کرانا شروع کیں اورسرکاری سکول میں داخل کرا دیا ۔ اسکول سے پرائمری پاس کی تو ان کے والد نے 1938ءمیں ان کو اپنے گاؤں اوڈاں والا کے اس دینی مدرسے میں داخل کرا دیا جو صوفی عبداللہ ﷫ نے جاری کیا تھا ۔ یہ چھ سال کا نصاب تھا جو انہوں نے اسی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا کے اساتذہ سے مکمل کیا ۔ صوفی محمد عبداللہ ( بانی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا و جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ) حضرت حافظ محمد گوندلوی ، مولانا نواب الدین ، مولانا ثناءاللہ ہوشیار پوری ، مولانا حافظ محمد اسحاق حسینوی اور مولانا محمد داؤد انصاری بھوجیانی  ﷭ وغیرہم  سے  انہوں  نے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا موصوف نے دارالعلوم سے سند فراغت حاصل  کرنے  کے علاوہ  میٹرک کا امتحان وہیں رہ کر دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحان بھی اسی دارالعلوم کی طرف سے دئیے اور نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے فراغت کے بعد 1945ء اپنی مادر علمی میں ہی تدریس کا آغاز کیا ۔ 1945ءسے 1960ءتک پندرہ سال دارالعلوم اوڈاں والا کی مسند تدریسی پر فائز رہے ۔ اس اثناءمیں بہت سے طلبہ نے ان سے استفادہ کیا ۔  1961ءمیں مولانا سید داؤد غزنوی ﷫ کے حکم پر وہ اپنے گاؤں کے دارالعلوم سے نکلے اور جامعہ سلفیہ ( فیصل آباد ) چلے آئے ۔ یہاں کم و بیش انہوں نے دس سال پڑھایا ۔ چار سال جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن رہے ، ایک سال دارالحدیث کراچی ، دس سال مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں ، تین سال جامعہ رحمانیہ،گارڈن ٹاؤن، لاہور اور تین سال دارالحدیث کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں تدریسی خدمات سرانجام دیں ۔ اس عرصے میں ان سے سینکڑوں طلبہ نے استفادہ کیا اور وہ علم و عرفان کی رفعتوں پر متمکن ہوئے ۔ ان کے چند نامور شاگردوں کے نام یہ ہیں ۔ خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ، مولانا شمس دین پشاور ،  پروفیسر محمد ظفر اللہ کراچی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانا ، ، مولانا قاضی محمد اسلم سیف ﷭، مولانا ارشاد الحق اثری ، مولانا محمد خالد سیف ، مولانا عبدالحمید ہزاروی  حفظہم اللہ۔ مولانا صادق خلیل ﷫ جلیل القدر عالمِ دین تھے ۔ انہوں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں نام پیدا کر کے ارض پاک وہندمیں شہرت دوام حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی علمی صلاحیتوں اور اوصاف و کمالات سے نوازا تھا ۔ آپ جید عالم ، بلند پایہ مدرس ، منجھے ہوئے تجربہ کار مترجم ، اونچے درجے کے مفسرِ قرآن ، بلند اخلاق ، متواضع ، فصیح اللسان ، سلیم العقل اور صحیح الفکر عالم دین تھے ۔ عذوبتِ لِسان اور اخلاق حسنہ کی دولت سے مالا مال تھے ، علم و عمل کا حظ وافر ان کے حصے میں آیا تھا ۔ ان کے اوصاف گوناگوں کے باعث سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور یہ بھی سب پر مشفق و مہربان تھے ۔ آپ اسلاف کی یادگار اور  نشانی تھے ۔ آپ  زندگی بھردرس و تدریس ، وعظ و تقریر اور قلم و قرطاس سے دینِ اسلام کی اشاعت کا فریضہ ادا کر تے رہے ۔ سینکڑوں لوگوں نے ان سے تفسیر ، حدیث ، فقہ و اصول ، صرف و نحو اور منطق وغیرہ جیسے علوم کی تحصیل کی اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔ بلاشبہ مولانا صادق صاحب کی تدریس و تصنیف کا دائرہ دور تک پھیلا دکھائی دیتا ہے ۔   مولانا مرحوم جہاں بلند پایہ مدرس تھے وہیں بہت عمدہ خطیب بھی تھے ۔آپ عرصے تک گاہے بگاہے مرکزی جامع مسجد رحمانیہ مندر گلی فیصل آباد میں خطبہ جمعہ اور نماز عصر کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے رہے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ اوصاف و کمالات اور گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ۔ حدیث ، رسول ﷺاور تفسیر قرآن سے ان کو خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنی رہائش محلہ رحمت آباد ( فیصل آباد ) میں ضیاءالسنہ کے نام سے ترجمہ و تالیف کا ادارہ قائم کر رکھا تھا ۔ترمذی شریف کی شرح تحفۃ الاحوذی کے علاوہ بھی انہوں نے کئی قابل قدر کتب اپنے ادارے کی طرف سے شائع کیں ۔ مولانا ایک جید عالم اور بلند پایہ مصنف تھے۔ انہوں نے متعدد اہم کتب کا نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ ’اصدق البیان‘ کے نام سے اُردو زبان میں قرآن کریم کی ایک ضخیم تفسیر بھی لکھی۔ ۔خدمتِ حدیث کے  سلسلے  میں مشکوٰۃ شریف کا  اردو ترجمہ مع حواشی بھی ان ہی کا  نمایاں کارنامہ ہے ۔ مشکوٰۃ کایہ  ترجمہ  و  حواشی پانچ جلدوں پر مشتمل ہے  اس میں احادیث کی تخریج کر کے صحیح اور ضعیف کا حکم بھی لگایا گیا ہے ۔ یہ کام بڑی محنت ، عرق ریزی اور تحقیق سے کیا گیا ۔مولانا کی صحت بظاہر بہت اچھی تھی ، ترجمہ و تالیف کا کام بڑی مستعدی سے کرتے اور دور دراز کے سفر بھی اکیلے کرتے ۔ وفات سے چند دن پہلے ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور آخر 6 فروری 2004ءکی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے   ۔ اسی روز نماز مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور قریبی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اصدق البیان ‘‘ مولانا صادق خلیل﷫ کا  خدمت  قرآن  کےسلسلے  میں بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ یہ تفسیر اپنے دامن میں معانی و افکار کی گہرائی اور ندرت کی چاشنی لئے ہوئے ہے ۔ مولانا مرحوم کو قرآن پاک سے خاص شغف تھا یہ عظیم الشان تفسیر ان کے اسی ذوق کی مظہر ہے۔  یہ تفسیر سات جلدوں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں اس کی پہلی پانچ جلدیں میسر ہوسکیں  جنہیں قارئین  کی خدمت میں  پیش کیا گیا ہے ۔باقی دو جلدوں کو بھی  دستیاب ہونےپر  ویب سائٹ پر پبلش کردیا جائےگا۔( ان شاء اللہ)(م۔ا)

    title-pages-tafseer-asdaqu-al-bayan-1-copy-1
    محمد صادق خلیل

    مولانا محمدصادق خلیل﷫ مارچ 1925 ءمیں اوڈاں والا ماموں کانجن ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ مولانا صادق خلیل کے والد محترم بڑے نیک اورمتقی انسان تھے ۔ انہوں نے اپنے اس اکلوتے فرزند کی تربیت میں اسلامی تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ مولانا صادق خلیل  کچھ بڑے ہوئے تو والد مکرم نے ادعیہ ماثورہ وغیرہ زبانی یاد کرانا شروع کیں اورسرکاری سکول میں داخل کرا دیا ۔ اسکول سے پرائمری پاس کی تو ان کے والد نے 1938ءمیں ان کو اپنے گاؤں اوڈاں والا کے اس دینی مدرسے میں داخل کرا دیا جو صوفی عبداللہ ﷫ نے جاری کیا تھا ۔ یہ چھ سال کا نصاب تھا جو انہوں نے اسی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا کے اساتذہ سے مکمل کیا ۔ صوفی محمد عبداللہ ( بانی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا و جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ) حضرت حافظ محمد گوندلوی ، مولانا نواب الدین ، مولانا ثناءاللہ ہوشیار پوری ، مولانا حافظ محمد اسحاق حسینوی اور مولانا محمد داؤد انصاری بھوجیانی  ﷭ وغیرہم  سے  انہوں  نے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا موصوف نے دارالعلوم سے سند فراغت حاصل  کرنے  کے علاوہ  میٹرک کا امتحان وہیں رہ کر دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحان بھی اسی دارالعلوم کی طرف سے دئیے اور نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے فراغت کے بعد 1945ء اپنی مادر علمی میں ہی تدریس کا آغاز کیا ۔ 1945ءسے 1960ءتک پندرہ سال دارالعلوم اوڈاں والا کی مسند تدریسی پر فائز رہے ۔ اس اثناءمیں بہت سے طلبہ نے ان سے استفادہ کیا ۔  1961ءمیں مولانا سید داؤد غزنوی ﷫ کے حکم پر وہ اپنے گاؤں کے دارالعلوم سے نکلے اور جامعہ سلفیہ ( فیصل آباد ) چلے آئے ۔ یہاں کم و بیش انہوں نے دس سال پڑھایا ۔ چار سال جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن رہے ، ایک سال دارالحدیث کراچی ، دس سال مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں ، تین سال جامعہ رحمانیہ،گارڈن ٹاؤن، لاہور اور تین سال دارالحدیث کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں تدریسی خدمات سرانجام دیں ۔ اس عرصے میں ان سے سینکڑوں طلبہ نے استفادہ کیا اور وہ علم و عرفان کی رفعتوں پر متمکن ہوئے ۔ ان کے چند نامور شاگردوں کے نام یہ ہیں ۔ خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ، مولانا شمس دین پشاور ،  پروفیسر محمد ظفر اللہ کراچی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانا ، ، مولانا قاضی محمد اسلم سیف ﷭، مولانا ارشاد الحق اثری ، مولانا محمد خالد سیف ، مولانا عبدالحمید ہزاروی  حفظہم اللہ۔ مولانا صادق خلیل ﷫ جلیل القدر عالمِ دین تھے ۔ انہوں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں نام پیدا کر کے ارض پاک وہندمیں شہرت دوام حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی علمی صلاحیتوں اور اوصاف و کمالات سے نوازا تھا ۔ آپ جید عالم ، بلند پایہ مدرس ، منجھے ہوئے تجربہ کار مترجم ، اونچے درجے کے مفسرِ قرآن ، بلند اخلاق ، متواضع ، فصیح اللسان ، سلیم العقل اور صحیح الفکر عالم دین تھے ۔ عذوبتِ لِسان اور اخلاق حسنہ کی دولت سے مالا مال تھے ، علم و عمل کا حظ وافر ان کے حصے میں آیا تھا ۔ ان کے اوصاف گوناگوں کے باعث سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور یہ بھی سب پر مشفق و مہربان تھے ۔ آپ اسلاف کی یادگار اور  نشانی تھے ۔ آپ  زندگی بھردرس و تدریس ، وعظ و تقریر اور قلم و قرطاس سے دینِ اسلام کی اشاعت کا فریضہ ادا کر تے رہے ۔ سینکڑوں لوگوں نے ان سے تفسیر ، حدیث ، فقہ و اصول ، صرف و نحو اور منطق وغیرہ جیسے علوم کی تحصیل کی اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔ بلاشبہ مولانا صادق صاحب کی تدریس و تصنیف کا دائرہ دور تک پھیلا دکھائی دیتا ہے ۔   مولانا مرحوم جہاں بلند پایہ مدرس تھے وہیں بہت عمدہ خطیب بھی تھے ۔آپ عرصے تک گاہے بگاہے مرکزی جامع مسجد رحمانیہ مندر گلی فیصل آباد میں خطبہ جمعہ اور نماز عصر کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے رہے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ اوصاف و کمالات اور گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ۔ حدیث ، رسول ﷺاور تفسیر قرآن سے ان کو خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنی رہائش محلہ رحمت آباد ( فیصل آباد ) میں ضیاءالسنہ کے نام سے ترجمہ و تالیف کا ادارہ قائم کر رکھا تھا ۔ترمذی شریف کی شرح تحفۃ الاحوذی کے علاوہ بھی انہوں نے کئی قابل قدر کتب اپنے ادارے کی طرف سے شائع کیں ۔ مولانا ایک جید عالم اور بلند پایہ مصنف تھے۔ انہوں نے متعدد اہم کتب کا نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ ’اصدق البیان‘ کے نام سے اُردو زبان میں قرآن کریم کی ایک ضخیم تفسیر بھی لکھی۔ ۔خدمتِ حدیث کے  سلسلے  میں مشکوٰۃ شریف کا  اردو ترجمہ مع حواشی بھی ان ہی کا  نمایاں کارنامہ ہے ۔ مشکوٰۃ کایہ  ترجمہ  و  حواشی پانچ جلدوں پر مشتمل ہے  اس میں احادیث کی تخریج کر کے صحیح اور ضعیف کا حکم بھی لگایا گیا ہے ۔ یہ کام بڑی محنت ، عرق ریزی اور تحقیق سے کیا گیا ۔مولانا کی صحت بظاہر بہت اچھی تھی ، ترجمہ و تالیف کا کام بڑی مستعدی سے کرتے اور دور دراز کے سفر بھی اکیلے کرتے ۔ وفات سے چند دن پہلے ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور آخر 6 فروری 2004ءکی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے   ۔ اسی روز نماز مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور قریبی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اصدق البیان ‘‘ مولانا صادق خلیل﷫ کا  خدمت  قرآن  کےسلسلے  میں بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ یہ تفسیر اپنے دامن میں معانی و افکار کی گہرائی اور ندرت کی چاشنی لئے ہوئے ہے ۔ مولانا مرحوم کو قرآن پاک سے خاص شغف تھا یہ عظیم الشان تفسیر ان کے اسی ذوق کی مظہر ہے۔  یہ تفسیر سات جلدوں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں اس کی پہلی پانچ جلدیں میسر ہوسکیں  جنہیں قارئین  کی خدمت میں  پیش کیا گیا ہے ۔باقی دو جلدوں کو بھی  دستیاب ہونےپر  ویب سائٹ پر پبلش کردیا جائےگا۔( ان شاء اللہ)(م۔ا)

    title-pages-tafseer-asdaqu-al-bayan-1-copy-2
    محمد صادق خلیل

    مولانا محمدصادق خلیل﷫ مارچ 1925 ءمیں اوڈاں والا ماموں کانجن ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔ مولانا صادق خلیل کے والد محترم بڑے نیک اورمتقی انسان تھے ۔ انہوں نے اپنے اس اکلوتے فرزند کی تربیت میں اسلامی تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ مولانا صادق خلیل  کچھ بڑے ہوئے تو والد مکرم نے ادعیہ ماثورہ وغیرہ زبانی یاد کرانا شروع کیں اورسرکاری سکول میں داخل کرا دیا ۔ اسکول سے پرائمری پاس کی تو ان کے والد نے 1938ءمیں ان کو اپنے گاؤں اوڈاں والا کے اس دینی مدرسے میں داخل کرا دیا جو صوفی عبداللہ ﷫ نے جاری کیا تھا ۔ یہ چھ سال کا نصاب تھا جو انہوں نے اسی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا کے اساتذہ سے مکمل کیا ۔ صوفی محمد عبداللہ ( بانی دارالعلوم تقویۃ الاسلام اوڈاں والا و جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ) حضرت حافظ محمد گوندلوی ، مولانا نواب الدین ، مولانا ثناءاللہ ہوشیار پوری ، مولانا حافظ محمد اسحاق حسینوی اور مولانا محمد داؤد انصاری بھوجیانی  ﷭ وغیرہم  سے  انہوں  نے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا موصوف نے دارالعلوم سے سند فراغت حاصل  کرنے  کے علاوہ  میٹرک کا امتحان وہیں رہ کر دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحان بھی اسی دارالعلوم کی طرف سے دئیے اور نمایاں پوزیشن حاصل کی ۔ دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے فراغت کے بعد 1945ء اپنی مادر علمی میں ہی تدریس کا آغاز کیا ۔ 1945ءسے 1960ءتک پندرہ سال دارالعلوم اوڈاں والا کی مسند تدریسی پر فائز رہے ۔ اس اثناءمیں بہت سے طلبہ نے ان سے استفادہ کیا ۔  1961ءمیں مولانا سید داؤد غزنوی ﷫ کے حکم پر وہ اپنے گاؤں کے دارالعلوم سے نکلے اور جامعہ سلفیہ ( فیصل آباد ) چلے آئے ۔ یہاں کم و بیش انہوں نے دس سال پڑھایا ۔ چار سال جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن رہے ، ایک سال دارالحدیث کراچی ، دس سال مدرسہ تدریس القرآن والحدیث راولپنڈی میں ، تین سال جامعہ رحمانیہ،گارڈن ٹاؤن، لاہور اور تین سال دارالحدیث کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں تدریسی خدمات سرانجام دیں ۔ اس عرصے میں ان سے سینکڑوں طلبہ نے استفادہ کیا اور وہ علم و عرفان کی رفعتوں پر متمکن ہوئے ۔ ان کے چند نامور شاگردوں کے نام یہ ہیں ۔ خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ، مولانا شمس دین پشاور ،  پروفیسر محمد ظفر اللہ کراچی ، مولانا قدرت اللہ فوق ، مولانا ، ، مولانا قاضی محمد اسلم سیف ﷭، مولانا ارشاد الحق اثری ، مولانا محمد خالد سیف ، مولانا عبدالحمید ہزاروی  حفظہم اللہ۔ مولانا صادق خلیل ﷫ جلیل القدر عالمِ دین تھے ۔ انہوں نے درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں نام پیدا کر کے ارض پاک وہندمیں شہرت دوام حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سی علمی صلاحیتوں اور اوصاف و کمالات سے نوازا تھا ۔ آپ جید عالم ، بلند پایہ مدرس ، منجھے ہوئے تجربہ کار مترجم ، اونچے درجے کے مفسرِ قرآن ، بلند اخلاق ، متواضع ، فصیح اللسان ، سلیم العقل اور صحیح الفکر عالم دین تھے ۔ عذوبتِ لِسان اور اخلاق حسنہ کی دولت سے مالا مال تھے ، علم و عمل کا حظ وافر ان کے حصے میں آیا تھا ۔ ان کے اوصاف گوناگوں کے باعث سب لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور یہ بھی سب پر مشفق و مہربان تھے ۔ آپ اسلاف کی یادگار اور  نشانی تھے ۔ آپ  زندگی بھردرس و تدریس ، وعظ و تقریر اور قلم و قرطاس سے دینِ اسلام کی اشاعت کا فریضہ ادا کر تے رہے ۔ سینکڑوں لوگوں نے ان سے تفسیر ، حدیث ، فقہ و اصول ، صرف و نحو اور منطق وغیرہ جیسے علوم کی تحصیل کی اور مرتبۂ کمال کو پہنچے ۔ بلاشبہ مولانا صادق صاحب کی تدریس و تصنیف کا دائرہ دور تک پھیلا دکھائی دیتا ہے ۔   مولانا مرحوم جہاں بلند پایہ مدرس تھے وہیں بہت عمدہ خطیب بھی تھے ۔آپ عرصے تک گاہے بگاہے مرکزی جامع مسجد رحمانیہ مندر گلی فیصل آباد میں خطبہ جمعہ اور نماز عصر کے بعد درسِ حدیث ارشاد فرماتے رہے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ اوصاف و کمالات اور گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا ۔ ۔ حدیث ، رسول ﷺاور تفسیر قرآن سے ان کو خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنی رہائش محلہ رحمت آباد ( فیصل آباد ) میں ضیاءالسنہ کے نام سے ترجمہ و تالیف کا ادارہ قائم کر رکھا تھا ۔ترمذی شریف کی شرح تحفۃ الاحوذی کے علاوہ بھی انہوں نے کئی قابل قدر کتب اپنے ادارے کی طرف سے شائع کیں ۔ مولانا ایک جید عالم اور بلند پایہ مصنف تھے۔ انہوں نے متعدد اہم کتب کا نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ ’اصدق البیان‘ کے نام سے اُردو زبان میں قرآن کریم کی ایک ضخیم تفسیر بھی لکھی۔ ۔خدمتِ حدیث کے  سلسلے  میں مشکوٰۃ شریف کا  اردو ترجمہ مع حواشی بھی ان ہی کا  نمایاں کارنامہ ہے ۔ مشکوٰۃ کایہ  ترجمہ  و  حواشی پانچ جلدوں پر مشتمل ہے  اس میں احادیث کی تخریج کر کے صحیح اور ضعیف کا حکم بھی لگایا گیا ہے ۔ یہ کام بڑی محنت ، عرق ریزی اور تحقیق سے کیا گیا ۔مولانا کی صحت بظاہر بہت اچھی تھی ، ترجمہ و تالیف کا کام بڑی مستعدی سے کرتے اور دور دراز کے سفر بھی اکیلے کرتے ۔ وفات سے چند دن پہلے ان کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور آخر 6 فروری 2004ءکی صبح اپنے خالق حقیقی سے جاملے   ۔ اسی روز نماز مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور قریبی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اصدق البیان ‘‘ مولانا صادق خلیل﷫ کا  خدمت  قرآن  کےسلسلے  میں بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ یہ تفسیر اپنے دامن میں معانی و افکار کی گہرائی اور ندرت کی چاشنی لئے ہوئے ہے ۔ مولانا مرحوم کو قرآن پاک سے خاص شغف تھا یہ عظیم الشان تفسیر ان کے اسی ذوق کی مظہر ہے۔  یہ تفسیر سات جلدوں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں اس کی پہلی پانچ جلدیں میسر ہوسکیں  جنہیں قارئین  کی خدمت میں  پیش کیا گیا ہے ۔باقی دو جلدوں کو بھی  دستیاب ہونےپر  ویب سائٹ پر پبلش کردیا جائےگا۔( ان شاء اللہ)(م۔ا)

    Title Page---Rajab K Kundo Par Aik Nazar
    محمد صادق خلیل
    اسلامی مہینہ کی بائیس رجب کو منائی جانے والی کونڈے بھرنے کی رسم اب پاک و ہند میں خوب شہرت پا چکی ہے۔ اسے جناب جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ تو یہ ان کا یوم پیدائش ہے نہ یوم وفات۔ یہ رسم دراصل شیعہ حضرات نے کاتب وحی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے یوم وفات کی خوشی منانے کیلئے ایجاد کی جسے نام نہاد اہلسنت کہلانے والے مسلمانوں نے بھی لاشعوری طور پراپنا لیا۔اس رسم کے ساتھ لکڑہارے کی داستان بھی وابستہ ہے۔ اس کتابچہ میں اس رسم کی تردید اور اس سے متعلقہ دیومالائی داستان کے خاص خاص حصوں کا علمی ، تحقیقی اور عقلی لحاظ سے جائزہ لیا گیا ہے۔

    title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua--albani--copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ سنن اربعہ اور باقی کتب حدیث میں ان احادیث کو تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے او ر ان کی تحقیق کو تفضیل کے ساتھ پیش کیا اور انہیں جرح وتعدیل کے قواعد کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام اور ائمہ حضرات کے علاوہ عوام الناس کے لیے بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے ترجمہ کے فرائض معروف عالم دین مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے انجام دئیے ہیں ۔ کتاب ہذا سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد میں سے صرف سو ضعیف اور موضوع احادیث کی تحقیق کو سلیس اردو میں پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی مصنف ومترجم کے درجات بلند فرمائے ، ان کی خدمتِ دین کےلیے جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

    title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua-1-copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua-1-copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-ahadeese-zaifa-ka-majmoua-1-copy
    ناصر الدین البانی

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم  شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ  کے لیے  اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر  علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے  جنہوں نے  ساری زندگی شجرِ حدیث کی  آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے  تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ  پر عبور واستحضار رکھتے  تھے ۔آپ کی  شخصیت مشتاقان علم وعمل  کے لیے  نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی  علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی  محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ  دین کے لیے  ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات  میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ  البانی  نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ  پرکھ  کاشعور زندہ کیا۔شیخ  کی ساری زندگی  درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد  تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں  شیخ  البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے  ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث  ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث  ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب  سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة  واثرها السي في الامة  کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے  ۔شیخ البانی  نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے علاوہ  سنن اربعہ اور باقی کتب  حدیث میں  ان احادیث کو  تلاش کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے  او ر ان کی تحقیق  کو  تفضیل کے ساتھ پیش کیا  اور  انہیں جرح وتعدیل  کے  قواعد  کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر ضعیف اور موضوع ہونے  کاحکم لگایا ہے ۔یہ کتاب اہل علم ،خطباء ،واعظین ،اساتذہ کرام  اور ائمہ  حضرات  کے  علاوہ عوام الناس کے لیے  بھی بہت مفید اور ضروری ہے۔کتاب ہذا کے  ترجمہ کے فرائض معروف  عالم دین   مولانا  محمد صادق خلیل ﷫ نے  انجام دئیے ہیں  یہ کتاب  3 جلدوں  پر مشتمل ہے  جلداول میں 100 اور جلددوم میں 200 اور ثالث میں بھی  200 احادیث ہیں ۔مولانا صادق خلیل نے   سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة کی  دو جلدوں کےترجمے کا کام مکمل  کرلیا تھا او رتیسری جلد کا ترجمہ جاری  تھا کہ مولانا  6؍فروری2004ء بروز جمعۃ المبارک  اس دارفانی  سے  کوچ کرگئے۔اللہ  تعالی مصنف ومترجم  کے درجات بلند فرمائے  ، ان کی خدمتِ دین کےلیے  جہود کوقبول فرمائے اور اس کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)( م۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-islami-aqaid-urdu-tarjuma-shrha-aqeeda-tahawia-copy
    علامہ ابن ابی العز الحنفی

    اعمال صالحہ کا اعتبار ایمان پر موقوف ہے اس لیے کہ ایمان اصل ہے ۔ امام بخاری﷫ نے اعتقادی اصولوں کو کتاب الایمان اور کتاب التوحید کے تحت نہایت مفصل او رمدلل بیان فرمایا ۔امام ابوداؤد اوربعض دیگر آئمہ کرام نے ان اصولوں کو کتا ب السنۃ کے تحت ذکر کیا ہے جہاں اثباتی انداز میں اللہ کی ربوبیت، الوہیت اس کے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے وہاں منفی انداز میں ان فرقوں کو گمراہ قرار دیا جنہوں نے اللہ کی صفات کا انکار کیا ۔ مسائل عقیدہ پر خصوصیت کے ساتھ بعض جلیل القدر اہل علم نے عقائد کے عنوان پر کتابیں تالیف کی ہیں ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ نے العقیدۃ الواسطیہ، العقیدۃالحمویہ،شرح العقیدہ الاصفہانیہ او رامام طحاوی﷫ نے العقیدۃالطحاویہ کے نام سے رسائل تالیف فرمائے۔ ان کے علاوہ بعض دیگر محدثین نے نہایت عمدہ او رمؤثر انداز میں کتابیں تالیف کیں۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیرنظر کتاب ’’اسلامی عقائد اردور ترجمہ شر ح عقیدہ طحاویہ‘‘علامہ ابو جعفر الورّاق الطحاوی﷫ کی عقیدہ کے موضوع پر معروف کتاب ’’ العقیدہ الطحاویہ ‘‘ کی شرح کا اردو ترجمہ ہے ۔ عقید ہ طحاویہ کی یہ ضخیم شرح علامہ ابن ابی العز الحنفی نےترتیب دی ۔جس میں احسن انداز میں اسلامی عقائد کا احاطہ کیا گیا ہے اور اہل سنت والجماعت کےعقائد بیان کیے گئے ۔ہیں۔ کتاب مذکور کی خو بی یہ ہے کہ تمام اسلامی عقائد کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور باطل فرقوں کے بالمقابل اہل سنت والجماعت کے افکارونظریات کی نمائندگی کی گئی ہے یہ شرح اپنی اہمیت وافادیت کے باعث تقریبا تمام مدارس عربیہ،جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ اور دیگر سعودی عرب کی جامعات وکلیات کے نصاب میں شامل ہے۔کتاب کے آغاز میں علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کامقدمہ نہایت قیمتی نادر معلومات کا خزانہ ہے جس میں انہو ں نے احادیث کے بارے میں نادر معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ علامہ زاہد الکوثری اور ان کے شاگرد علامہ ابو غدہ کے اعتراضات کے جس علمی تحقیقی انداز میں انہوں نے پوسٹ مارٹم کیا ہے یقیناً انہی کا حصہ ہے ۔ شرح عقیدہ طحاویہ کا یہ سلیس و آسان فہم ترجمہ معروف عالم دین مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے تقریبا تیس سال قبل شائع کر کے اپنے ادارہ ضیاء السنۃ سے شائع کیا ہے جسے مدارس کے اساتذہ وطلباء کے ہاں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ان کےمیزان حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

    pages-from-afkaar-e-soofiya-kitabosunnat-ki-roshni-mein
    عبد الرحمن عبد الخالق

    تصوف رہبانیت میں مکمل یگانگت ہے تصوف کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ دراصل یونانی افکار کا مجموعہ ہے اسلام کی پہلی تین صدیوں میں تصوف کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ تصوف ایسی مہلک بیماری ہے جس نے امت مسلمہ میں افتراق کی خلیج کو وسیع کیا۔ اس کی ترویج و اشاعت سے بدعات کو فروغ حاصل ہوا۔ تاریخ شاہد ہے کہ صوفیہ کی جانب سے ہر دور میں توحید وسنت کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئی ہیں ۔تصوف کو خوش نما خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سادہ لوح عوام کو فریب میں مبتلا رکھا گیا۔ اس کی قباحتوں کو نظر سے اوجھل رکھنے کے لیے اس کا نام زہد، عبادت،ذکر وفکر،طریقت رکھا گیا ۔اور الحاد، زندقہ، وحدت الوجود جیسے مشرکانہ نظریات کے پھیلنے کا سبب تصوف ہی ہے۔ اوراس کے پردے میں غیراسلامی افکار کو فروغ ہوا۔ ہندواونہ رسم و رواج کو اختیار کیاگیا۔ خانقاہوں میں عرس کے موقع پر صوفیاء مشائخ کی موجودگی میں رقص وسرور، قوالی، کی محفلیں جمتی ہیں مردوزن کا بے محابا اختلاط ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’افکار صوفیہ کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ کویت کے مشہور سلفی عالم دین شیخ عبد الرحمٰن عبدالخالق کی تصوف کی خرافات او رحقیقت کے متعلق تحریر شدہ عربی کتاب ’’ الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب و السنۃ ‘‘کا اردوترجمہ ہے۔ اس کتا ب میں نہایت عرق ریزی اور محنت سے صوفیہ کے حالات پر مرتب شدہ مستند کتابوں سے استفادہ کر کے صوفیا کے افکار کو کتاب وسنت پر پیش کر کے ان کی تردید کی ہے۔ اورمستند کتب کے حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ صوفیہ کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں کس قدر ناقابل علاج بیماریوں نے جنم لیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکیب حملے کیے گئے فرعون کومومن ثابت کیا گیا اور ابلیس کو موحد کہا گیا۔ مولانا صادق خلیل﷫ نے تقریبا 38 سال قبل اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-imam-ahle-sunnat-ahmad-bin-hanbal-ka-dore-ibtla-copy
    ابو عبد اللہ حنبل بن اسحاق بن حنبل

    امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔  مسئلہ خلق قرآن  میں  خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ   کی  نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ امام اہل سنت احمد بن حنبل   کادور ابتلاء‘‘  امام احمد بن حنبل  کے چچا زاد بھائی  ابو عبداللہ  حنبل بن اسحاق بن حنبل کی  تصنیف  ’’ذکر محنۃ الامام احمد بن حنبل‘‘ کا ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے  امام   صاحب کے  تمام واقعات کو  سند  کےساتھ جمع کیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد نعش (استاد  جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ )  نے اصل کتاب کا مسودہ  تلاش کرکے اس پر محنت کی اور نہایت عرق ریزی اور چھان بین کے بعد اس کو طباعت کی منزل تک پہنچایا اور کتاب کے شروع میں انہوں نے  امام  صاحب کے دورِابتلاء پر مختصر مگر جامع مقدمہ تحریر  کیا جس  سےاصل کتاب کی جانب راہنمائی ملتی ہے ۔کتاب   کو اردو قالب میں  ڈھالنے کا کام   مولانا محمد صادق خلیل﷫ نے  انجام دیا۔اس کتاب کے مطالعہ سے  امام احمد بن حنبل   کی عظمت ِشان او ران کی سنت کےساتھ والہانہ محبت  کا اندازہ  ہوتا ہے  کہ کس طرح آپ نے سنت کے احیاء کےلیے  اپنے آپ کو  تکالیف  کے سپرد کردیا۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو  حق پر قائم  رہنے اور سنت رسول  ﷺ کے    مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق عطاء فرمائے(آمین) (م۔ا)

    pages-from-hajj-e-nabvi
    ناصر الدین البانی

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے ۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام  سےخارج ہے۔ اگر اللہ تعالی توفیق دے تو ہر پانچ سال بعد حج یا عمر ہ کی صورت میں اللہ تعالی ٰ کے گھر حاضر ی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔مگر یہ اجر وثواب تبھی ہےجب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے۔ اور منہیات سےپرہیز کیا جائے ورنہ حج وعمرہ کےاجروثواب سےمحروم رہے گا۔حج کے احکام ومسائل کے بارے میں اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب بازار میں دستیاب ہیں اور ہر ایک کا اپنا ہی رنگ ڈھنگ ہے۔انہی کتب میں سے زیر تبصرہ کتاب  ’’حج نبوی‘‘ محد ث العصر شیخ ناصر الدین البانی ﷫ کی حج کےموضوع پر جامع ترین کتاب ’’ صفۃ حجۃ النبی ﷺ منذ خروجہ من المدینۃ الیٰ رجوعہ‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے حدیث جابر﷜ کی روشنی میں نبیﷺ کے حج ِمبارک کے احوال کو اس طر ح ترتیب دیا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ حج کے پورے سفر میں ہم رسول اکرمﷺ کے ساتھ تھے۔ سفرحج کےدوران پیش آنے والے تمام واقعات ،آپ کے خطبے سوالوں کےجوابات مناسک حج ،دیگر مفید معلومات اور عجیب وغریب نکت اور ظرائف سے شیخ نے ا س کتاب کوپر کشش بنایا اورحسب ِعادت احادیث کی صحت عدم صحت کے ریمارکس بھی ساتھ ساتھ دئیے ہیں۔کتاب میں شیخ البانی﷫ نے حج کےجملہ احکام ومسائل کو بیان کرنے کے بعد آخر میں حج کے موقعہ رواج پانے والی بدعات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اس اہم کتاب کےترجمہ کی سعادت پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مفسر قرآن مصنف و مترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نےحاصل کی۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی تمام   دینی کاوشوں کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین(م۔ا)

    title-pages-roza-e-aqdas-ki-ziyarat
    امام ابن تیمیہ
    یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’الرد علی الاخنائی‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کی زیارت پر مبسوط بحث کی گئی ہے ۔روایتی فقہاء کا خیال ہے کہ روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے ،لیکن شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔شیخ الاسلام خوب سمجھتے تھے کہ اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھانا آسان نہیں،لیکن انہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عتاب کے پیش نظر اپنے آپ کو اس کٹھن کام کے لیے آمادہ کیا اور عوام کی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کو مفصل ،مبسوط اور واضح شکل میں پیش کر دیا۔واضح رہے کہ امام صاحب نے روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر سے تو روکا ہے تاہم مطلق زیارت کو جائز قرار دیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بنی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجلال و احترام اور توقیر و اکرام ایسے پر کشش انداز اور دل نشین پیرائے میں ذکر فرمایا ہے جو کمال محبت،جذب و مستی اور وارفتگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔

    title-pages-riaz-al-saliheen--sadiq-khalil--1-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے کئی صدیوں سے یہ مجموعہ حدیث سے امت مسلمہ میں مقبول ہے ۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام حاصل کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے۔ ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ر یاض الصالحین ‘‘وطن عزیز کے معروف عالم دین استاذ الاساتذہ مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور ) کے ترجمہ وحواشی پر مشتمل ہے ۔ مولانا صادق خلیل ﷫نے یہ ترجمہ تقریبا چالیس سال قبل اس وقت کیا کہ جب آپ جامعہ تدریس القرآن والحدیث ،راولپنڈی میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دے رہے تھے ۔موصوف نے ریاض الصالحین کا مفید ترجمہ وحواشی تحریر کرنے کے علاوہ ایک علمی مقدمہ بھی لکھا جو کتاب ہذامیں شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی خدمت حدیث کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-riaz-al-saliheen--sadiq-khalil--2-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے کئی صدیوں سے یہ مجموعہ حدیث سے امت مسلمہ میں مقبول ہے ۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام حاصل کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے۔ ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ر یاض الصالحین ‘‘وطن عزیز کے معروف عالم دین استاذ الاساتذہ مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور اسلامیہ ،لاہور ) کے ترجمہ وحواشی پر مشتمل ہے ۔ مولانا صادق خلیل ﷫نے یہ ترجمہ تقریبا چالیس سال قبل اس وقت کیا کہ جب آپ جامعہ تدریس القرآن والحدیث ،راولپنڈی میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دے رہے تھے ۔موصوف نے ریاض الصالحین کا مفید ترجمہ وحواشی تحریر کرنے کے علاوہ ایک علمی مقدمہ بھی لکھا جو کتاب ہذامیں شامل اشاعت ہے ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی خدمت حدیث کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-aqeeda-ahle-sunnat-wal-jamat-copy
    امام ابن تیمیہ

    عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ عقیدہ اہل سنت الجماعت ‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی شہرہ آفاق تالیف عقیدہ واسطیہ کی شرح کاترجمہ ہے ۔یہ شرح وتوضیح فضیلۃ الشیخ محمد ہراس کی ہے۔ شیخ موصوف نے نہایت سلیس شگفتہ انداز میں عقیدہ واسطیہ کی شرح فرمائی ہے۔ اس شرح کا یہ سلیس و آسان فہم ترجمہ معروف عالم دین مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے عقیدہ اہل سنت والجماعت کےنام سے کیا ۔ جسے مدارس کے اساتذہ وطلباء کے ہاں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ان کےمیزان حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-masla-e-touheed-copy
    سید داؤد غزنوی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنی یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مسئلہ توحید‘‘ حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کی تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کےباب التوحید ،باب حقیقۃ الشرک، اور باب اقسام الشرک کا اردو ترجمہ اور ذیلی تعلیقات ہیں۔ حجۃ اللہ البالغہ کے اس حصہ کو اردو قالب میں ڈھالنے کا شرف خاندان ِ غزنویہ کے عظیم سپوت مولانا سید داؤو غزنوی ﷫ کو حاصل ہو ا۔ 1950ء میں پہلی بار اس کی اشاعت منظر عام آئی تو ہرطبقہ کےاہل علم وتحقیق اور عوامی حلقوں میں نہایت پسند کیاگیا۔اور جلد ہی یہ ایڈیشن ختم ہوگیا۔موجودہ ایڈیشن مئی 1973 ء کاطبع شدہ ہے ۔اللہ تعالیٰ شاہ ولی اللہ اور سید داؤد غزنوی ﷭ کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-mishkaat-ul-misabeh-1
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

    title-pages-mishkaat-ul-misabeh-2
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

    title-pages-mishkaat-ul-misabeh-3
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

    title-pages-mishkaat-ul-misabeh-5
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

    title-pages-mishkaat-ul-misabeh-4
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    اس وقت آپ کے سامنے ’مشکوٰۃ المصابیح‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ’مشکوٰۃ المصابیح‘ احادیث کا وہ مجموعہ ہےجسے امام بغوی نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر خطیب تبریزی نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی۔مزید برآں ہر فصل میں ایک باب کا اضافہ کیا۔’مشکوۃ المصابیح‘ کو تین فصول میں تقسیم کیا گیا ہےپہلی فصل میں  صحیح بخاری و مسلم کی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ دوسری فصل میں وہ احادیث ہیں جن کو دیگر ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ تیسری فصل میں شروط کے تحت ایسی چیزیں شامل ہیں جن میں باب کا مضمون پایا جاتا ہے۔ ’مشکوۃ المصابیح‘ کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پیش نظر اردو قالب مولانا صادق خلیل  مرحوم کی انتھک محنت کا ثمرہ ہے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ کتاب کے اردو ترجمے میں ان کی محنت کی جھلک واضح نظر آتی ہے لیکن ترجمے میں بعض جگہ سرسری نقائص کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً بعض مقامات پر مشکل الفاظ کا ترجمہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ٹائٹل پر مولانا کے نام کے ساتھ مترجم و شارح بھی لکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے صرف ترجمہ کیا ہے احادیث کی تشریح نہیں کی۔ بہت نادر مقامات پر بعض حدیثوں کی صرف مختصر وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق و نظر ثانی کے ذیل میں ناصر محمود داؤد کا نام ذکر کرتے ہوئے پیش لفظ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ضعیف رواۃ کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اسماء و رجال کی کتب کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ امر واقع اس سے بالکل مختلف ہے۔ اور بہت کم مقامات پر یہ اہتمام نظر آتا ہے۔ اور تحقیق تو کجا مشکوۃ میں بیان کردہ احادیث کی تخریج بھی نہیں کی گئی۔

     

    title-pages-namaz-e-traweeh--albani--copy
    ناصر الدین البانی

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب"نماز تراویح"اپنے زمانے کے امام اردن کے معروف عالم دین اور بے شمار کتب کے مصنف علامہ البانی صاحب﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد صادق خلیل صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور سیدنا عمر فاروق سب کی یہی سنت تھی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    namaazenabvishaikhalbaanirahimahullah-copy
    ناصر الدین البانی
    اسلام نے عبادات میں سے نماز پرجتنا زور دیا ہے شاید ہی کسی دوسری عبادت پر دیا ہو-حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی اہمیت کے پیش نظر اس کو دیگر ارکان سے واضح شکل میں پیش کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں مذہبی تقلید کی جکڑبندیوں کی وجہ سے نہ صرف عوام بلکہ علمائے کرام بھی نماز کی صحیح کیفیات سے نابلد ہیں-اس کتاب میں مصنف نے نماز کا مکمل طریقہ ان احادیث اور اقوالِ آئمہ کی روشنی میں پیش کیا ہے جو صحت کے قواعد وضوابط کے معیار کے مطابق ہوں- نیز کتاب کے شروع میں اتباع سنت اور رد تقلیدکے حوالےسے تفصیلی گفتگو کی گئی ہے- جس میں مختلف آئمہ کرام کے فتاوی کے ذریعے اتباع اور اطاعت کے مفہوم کو واضح کیا ہے اور تقلید کے بارے میں آئمہ کے اقوال کو بیان کر کے اس کی حقیقت کو بھی واضح کیا ہے-مصنف نے ان چیزوں کے بعد نماز کی ابتدا سے لے کر آخر تک تمام ارکان کی ادائیگی کےبارے میں مسنون طریقہ بیان کیا ہے اور پوری نماز کو نکھار کر پیش کر دیا ہے-اس کتاب کی خاصیت یہ ہےکہ مترجم مولانا محمد صادق خلیل نے شیخ ناصر الدین البانی کو لاحق ہونے والے سہو مثلا فاتحہ خلف الامام کے حوالے سے غلط مؤقف کی بھی محکم دلائل سے نشاندہی کر دی ہے- نیز کتاب کے آخر میں علامہ ناصر الدین البانی کا مختصر تعارف اور ان کی علمی خدمات پر ایک جامع نوٹ تحریر کیا گیاہے

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 160 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں