حکیم محمد اشرف سندھو

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حکیم محمد اشرف سندھو
    title-pages-akmal-al-bayan-fi-sharah-hadith-najad-qaran-al-shaitan-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    نبی کریم ﷺ کی نبوت کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپﷺ نے مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں کی پہلے سے ہی پیشین گوئی فرما دی تھی۔نبی کریمﷺ نے  اپنی متعدد احادیث مبارکہ‌ میں عراق کو فتنوں کی سرزمین قراردیا ہے۔تاریخ  اس بات پرشاہد ہے کہ ہمیشہ بڑے بڑے فتنے عراق ہی سےنمودارہوئے ہیں، اورآج بھی ہم اپنی کھلی آنکھوں‌ سے یہاں پر پھیلے فتنوں کودیکھ رہے ہیں۔ صحابی رسول سیدنا  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنہ یہاں ہے فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔(بخاری:3289) اس حدیث میں مشرق سے مراد عراق ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عراق جنگ جمل، صفین، نہروان، واقعہ کربلاء، بنو امیہ اور بنو عباس کی لڑائیاں، پھر تاتاریوں کے خون ریز ہنگاموں کی شکل میں یہ فتنے ظاہر ہوئے۔خوارج وروافض، قدریہ ومعتزلہ اور جہمیہ وغیرہ جیسے گمراہ فرقوں کا ظہور بھی کوفہ، بصرہ وغیرہ عراقی شہروں سے ہوا۔بارہ سو سال تک مسلمانوں کا متفق علیہ یہ رہا کہ  نجد قرن الشیطان سے مراد عراق ہی ہے۔جیسا کہ حنفی شارحین حدیث علامہ کرمانی وعینی اور مسلمہ شارحین حافظ ابن حجر وقسطلانی کی تصریحات سے ظاہر ہوتا ہے۔لیکن جب امام التوحید شیخ محمد بن عبد الوھاب نے نجد یمامہ میں توحید کا علم بلند کیا تو فرقہ غالیہ نے انکے ساتھ بھی وہی سلوک  کرنا شروع کر دیا جو ہر موحد کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ان انہوں نے امام محمد بن عبد الوھاب کو بدنام کرنے کے لئے اس حدیث کا مفہوم بگاڑتے ہوئے  اسے نجد یمامہ پر فٹ کرنا شروع کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب "اکمل البیان فی شرح حدیث نجد الشیطان" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے انہوں نے فرقہ غالیہ کی ان جعل سازیوں کا مستند دلائل سے رد کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-tareekh-al-taqleed-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام ایک کامل دین ہے ۔ ہر مسلمان شہادتین کے اقرار کے ساتھ حصراً دو چیزوں کا مکلف بن جاتا ہے یعنی کتاب و سنت۔ قیامت تک کے لئے دنیا کی کوئی طاقت ان دو چیزوں میں تفریق پیدا نہیں کرسکتی ۔ یہ کامیابی کی سب سے قوی اساس اور نجات کا مرکزی سبب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے قلوب و اذہان میں اس کی اہمیت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی ، چنانچہ انہوں نے اسی پر عمل کرکے رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لقب حاصل کیا۔ اسی لئے کتاب و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہے جو اجماع و سلف صالحین سے ثابت ہے ، خیر القرون کے مسلمانوں نے بھی اسی کو اپنا کر  عالمِ کفر پر غلبہ پایا اور باطل ان کے سامنے سر نگوں تھا۔اس کے برعکس ایک حساس اور گھمبیر مسئلہ تقلید شخصی کا ہے ، جس کا آغاز قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوا۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس سے ہر دور میں مسلمان تشتت و افتراق کا شکار ہوئے ہیں۔ اس نے اسلام کے مصفیٰ آئینہ کو دھندلا دیا۔ تقلید راہِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور مقلد کو تارکِ سنت بناتی ہے ۔ تقلید وحی کی ضد ، توحید کے منافی اور چوتھی صدی کی بدعت ہے۔اللہ تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب "تاریخ التقلید" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ پر بناء رکھتے ہوئے  تقلید کی تاریخ کو مرتب فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-firqah-najiah-bajawaabtaifah-mansoorah
    حکیم محمد اشرف سندھو

    دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کےاعتبار سے اختلافات کاہونا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنيا ميں بہت سارے مذاہب اور مسالک پائے جاتے ہیں۔ اور ان میں سے ہر مسلک یہ نعرہ بلند کرتاہے  کہ وہی حق پر ہے اور باقی تمام مسالک راہ ہدایت سے ہٹے ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایسے لوگ حق پر ہیں  جن کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل کے عین مطابق ہے۔ زبانی کلامی تو مذاہب عالم کاہر گروہ و مذہب اپنی جگہ یہی حسن ظن رکھتا ہے کہ فرقہ ناجیہ طائفہ منصورہ کامصداق ہمارا مذہب ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اہل حدیث ایک ایسی جماعت ہے جو تقلیدی بیڑیوں کی بجائے قرآن سنت پر عمل پیرا ہیں اور یہی اہل حدیث کا منہج و دعوت ہے۔ اہل حدیثوں کےخلاف الزام تراشی کی مہم اور بدنام کرنے کی پرزور کوشش کچھ حیرت انگیز نہیں بلکہ ہر دور میں اہل حق کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا یا جاتا رہاہے۔ زیر نظر کتاب"فرقہ ناجیہ بجواب فائفہ منصورہ" مولانا حکیم محمد اشرف سندھو کی تصنیف ہے۔جس میں موصوف نے مقلدین کے اکابر علماء کے اقوال نقل کیے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ فرقہ ناجیہ اگر ہےتو اہل حدیث ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ آمین (عمیر)

    title-pages-falahe-darain-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" فلاح دارین" پاکستان کے معروف عالم دین حکیم محمد اشرف سندھو  صاحب ﷫ کی تصنیف ہے ،جس کی تخریج وتعلیق محترم حافظ عبد الروف بن عبد الحنان بن حکیم محمد اشرف نے کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئےنماز کا مکمل طریقہ بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-muqam-e-ahle-hadith-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مقام اہلحدیث" محترم حکیم اشرف صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل حدیث کے اسی مقام ومرتبے اور شان کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-maqyas-e-haqiqat-bajwab-maqyas-e-hanfiyat--jadeed-audition--copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے ۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ،جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد دو چيزوں قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"مقیاس حقیقت بجواب مقیاس حنفیت"محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے جوایک بریلوی عالم مولوی محمد عمر اچھروی کی کتاب "مقیاس حنفیت" کا کافی وشافی جواب ہے۔ مقیاس حنفیت کے مصنف مولوی اچھروی نے اپنی کتاب میں تاریخی غلط بیانی ، جعلسازی اور فریب کاری کے ایسے جوہر دکھائے ہیں کہ مسلمان توکیا اگر کوئی غیر مسلم ذی شعور بھی دیکھ پائے توحیران رہ جائے ۔کذب اور غلط بیانی پر مبنی اس کتاب کےبارے یو ں چیلنج کیا کہ :’’ایک ہزار روپے انعام اس شخص کودیا جائے گا جو اس کتاب کا ’’ مقیاس حنفیت‘‘ کا جواب نمبر وار پیش کر کے شائع کرے گا۔اور یک صد روپیہ ہر اس شخص کو دیا جائے گا جو اس کتاب کا ایک حوالہ غلط ثابت کردے او ر جتنے حوالے ثابت کر ے اتنے سو روپے انعام حاصل کرے‘‘(طبع ثالث ص64) مولوی عمر اچھروی نے اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کے خلاف نہایت گندی زبان اور حقارت آمیز رویہ استعمال کیا ہے جسے کتاب کے اندر جابجا ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔محترم حکیم محمد اشرف سندھو ﷫نے بھی رد عمل کے طور پربعض جگہوں پر سخت زبان کااستعمال کیا ہے۔ مصنف﷫نے اس کتاب میں بریلویوں کی طرف سے مسلک اہل حدیث پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ مسلک اہل حدیث کے حوالے سےایک لاجواب اور قابل مطالعہ نایاب کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ یہ کتاب پہلے الگ الگ دوحصوں میں شائع ہوئی تھی۔زیر تبصرہ ایڈیشن میں دونوں حصوں کویکجا کردیا گیا ہے۔(م۔ا)

    title-pages-maqyas-e-haqiqat-bajwab-maqyas-e-hanfiyat-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    مسلک اہلحدیث کی بنیاد  دو چيزوں قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ  دو جلدوں پر مشتمل کتاب"مقیاس حقیقت بجواب مقیاس حنفیت"محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے جوایک بریلوی عالم مولوی محمد عمر اچھروی کی کتاب "مقیاس حنفیت" کا کافی وشافی جواب ہے۔ اس رضا خانی مولوی نے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کے خلاف نہایت گندی زبان استعمال کی ہے جسے کتاب کے اندر جابجا ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔محترم  حکیم محمد اشرف  سندھو ﷫نے بھی رد عمل کے طور پربعض جگہوں پر سخت زبان  کااستعمال کیا ہے۔ مصنف﷫نے اس کتاب میں بریلویوں کی طرف سے مسلک اہل حدیث پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ مسلک اہل حدیث کے حوالے سےایک لاجواب اور قابل مطالعہ نایاب کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-maqyas-e-haqiqat-bajwab-maqyas-e-hanfiyat-2-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    مسلک اہلحدیث کی بنیاد  دو چيزوں قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ  دو جلدوں پر مشتمل کتاب"مقیاس حقیقت بجواب مقیاس حنفیت"محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے جوایک بریلوی عالم مولوی محمد عمر اچھروی کی کتاب "مقیاس حنفیت" کا کافی وشافی جواب ہے۔ اس رضا خانی مولوی نے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کے خلاف نہایت گندی زبان استعمال کی ہے جسے کتاب کے اندر جابجا ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔محترم  حکیم محمد اشرف  سندھو ﷫نے بھی رد عمل کے طور پربعض جگہوں پر سخت زبان  کااستعمال کیا ہے۔ مصنف﷫نے اس کتاب میں بریلویوں کی طرف سے مسلک اہل حدیث پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ مسلک اہل حدیث کے حوالے سےایک لاجواب اور قابل مطالعہ نایاب کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-pegham-e-jelani-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    شیخ عبد القادر جیلانی ﷫ایک موحد اور متبع سنت انسان تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی قرآن اور سنت کے مطابق گزاری اور لوگوں کو  قرآن وسنت پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے رہے۔آپ کی تزکیہ نفس کے حوالہ سے بے مثال خدمات چہار دانگ عالم میں عقیدت واحترام کے ساتھ تسلیم کی جاتی ہیں۔لیکن افسوس کہ آپ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں آپ کی خدمات وتعلیمات کوپس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کے صریح منافی ہے بلکہ خود شیخ کی مبنی بر حق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ اس پرطرہ یہ کہ اگر ان عقیدت مندوں کو ان کی غلو کاریاں سے آگاہ کیاجائے تو یہ نہ صرف یہ کہ اصلاح کرنے والوں پر برہم ہوتے ہیں بلکہ انہیں اولیاء ومشائخ کا گستاخ قرار دے کر مطعون کرنے لگتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پیغام جیلانی﷫" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی ﷫کی صحیح اور حقیقی تعلیمات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کے معتقدین اور سچے عقیدت مندوں ومریدین سے درخواست کی ہے کہ وہ بھی  اپنی اصلاح کریں اور اپنے پیر مرشد کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قرآن وسنت کو تھام لیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو عقیدہ توحید اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1991 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں