حافظ زبیر علی زئی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ زبیر علی زئی
حاجی مجدد خان
1957-06-25
2013-11-10

شیخ زبیر علی زئی صاحب نے3سے4ماہ میں قرآن مجیدحفظ کرلیا تھا۔آپ نےجامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے سندفراغت حاصل کی وفاق المدارس السلفیہ سےالشھادۃ العالمیہ کی سندبھی حاصل کی۔نیزآپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی  مادری زبان ہند کوکے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پراسترس رکھتے تھے۔جن میں عربی اردو پشتوانگلش یونانی فارسی اور پنچابی شامل ہیں۔

آپ کو علم الرجال سے بڑی دلچسبی  تھی چنانچہ ایک پر اپنے بارے میں خود لکھتے ہیں۔

راقم الحروف کوعلم اسمائے الرجال سے بڑالگاؤ ہے ’’مقالات1 498 ،،

نام: زبیرعلی زئی۔

ولدیت: ان کےوالدصاحب کانام حاجی مجددخان تھا۔

ولادت: 25جون 1957ءمیں حضروضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت:

شیخ زبیر علی زئی صاحب نے3سے4ماہ میں قرآن مجیدحفظ کرلیا تھا۔آپ نےجامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے سندفراغت حاصل کی وفاق المدارس السلفیہ سےالشھادۃ العالمیہ کی سندبھی حاصل کی۔نیزآپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی  مادری زبان ہند کوکے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پراسترس رکھتے تھے۔جن میں عربی اردو پشتوانگلش یونانی فارسی اور پنچابی شامل ہیں۔

آپ کو علم الرجال سے بڑی دلچسبی  تھی چنانچہ ایک پر اپنے بارے میں خود لکھتے ہیں۔

راقم الحروف کوعلم اسمائے الرجال سے بڑالگاؤ ہے ’’مقالات1 498 ،،

اساتذہ: حافظ زبیرعلی صاحب نےجن اساتذہ کرام سے علم حاصل کیاان کےنام درج ذیل ہیں۔

1۔الشیخ محب اللہ شاہ راشدی  واسعۃ

اپنے استاد کے بارہ میں لکھتے ہیں(زبیرصاحب)استادمحتر م مولانا ابومحب اللہ شاہ الراشدی  سے میری پہلی ملاقات انکی لائبریری ’’مکتبہ راشدیہ،،میں ہوئی تھی میرےساتھ کچھ اور بھی طالب علم       تھے۔’’مقالات 1؍494

اسی طرح ایک اور جگہ لکھتے ہیں:اگرمجھے رکن ومقام کےدرمیان کھڑا کرکے قسم دی جائےتویہی کہوں گا میں شیخ محب اللہ شاہ راشدی سے زیادہ نیک،عابد،زاہد افضل اور شخ بدیع الدین سے زیادہ عالم و فقہی انسان کوئی نہیں دیکھا۔’’مقالات 1؍505،،

2۔الشیخ بدیع الدین شاہ راشدی  شاہ صاحب سے تعلق تلمذ کا ذ کر کرتے ہوئے حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے خود لکھاہے’’راقم الحروف کوبھی ان سے شرف تلمذ حاصل ہےمقالات1؍491 ،،

اسی طرح ایک مقام پرشیخ محب اللہ شاہ راشدی اور شیخ بدیع الدین راشدی  کے حوالہ سے کچھ یوں لکھتےہیں۔

’’آپ انتہائی خشوع وخضوع اورسکون واطمینان کےساتھ نماز پڑھاتے تھےاس کا اثریہ ہوتاتھاکہ ہمیں آپ کے پیچھے نماز پڑھنے میں انتہائی سکون وا طمینان حاصل ہوتا تھا،گویا یہ سمجھ لیں کے آپ کی ہرنماز آخری نماز ہوتی تھی ،یہی سکون واطمنان ہیں شیخ العرب والعجم مولانا بدیع الدین شاہ راشدی کے پیچھے نماز پڑھنےمیں حاصل ہوتاتھا’’مقالات 1؍494 ،،

اسی طرح ایک جگہ کچھ یوں لکھا’’راقم الحروف سے آپ کا رویہ شفقت سے بھرپور تھا ایک دفعہ آپ ایک پروگرام کے سلسلہ میں راولپنڈی تشریف لائے تو کافی دیرتک مجھے سینے سے لگائےرکھا’’1؍492 ،،

3۔الشیخ اللہ دتہ سوہدرویر  حافظ زبیرعلی زئی صاحب نےان کے بارہ میں لکھا’’جن شیوخ سے میں نےبہت زیادہ استفادہ کیا ان میں حاجی اللہ دتہ صاحب سرفہرست ہیں ’’مقالات1؍509 ،،

4۔علامہ مولانا فیض الرحمن الثوری ۔

حافظ زبیرعلی زئی ان کےبارہ میں لکھتےہیں:راقم الحروف کوآپ سےاستفادہ کا موقعہ استادمحترم محترم شیخ ابومحمدبدیع الدین شاہ راشدی کے مکتبہ راشدیہ نیوسعیدآبادمیں ملا۔آپ نے سندحدیث اور اس کیااجازت اپنےدستخط کےساتھ 13صفر 1408ء کومرحمت فرمائی آپ مولانا اوروہ سیدنذیرحسین دہلوی  سےروایت کرتےہیں’’مقالات 1؍508،،

5۔الشیخ عطاءاللہ حنیف بھوجیانی 

آپ مسلک کے علماءمیں سےمیں سے ایک نامورعالم دین تھےآپ کی متعددتصانیف ہیں جن میں ایک سنن نسائی کی عربی شرح التعلیقات السلفیہ ہے۔

6۔الشیخ حافظ عبدالمنان نورپوری ۔

آپ عالم باعمل شخصیت تھےعلم بحرزفار تھےآپ کی کتب میں ارشادالقاری الی نقدفیض الباری مراۃ البخاری مقالات نورپوری اور احکام ومسائل جیسی بلندپایہ کتب ہیں۔

7۔الشیخ حافظ عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ۔

آپ جماعت کےجید علماء میں سے ہیں آپ کی مختلف کتب میں سےایک معروف کتاب تفسیردعوۃ القرآن ہے۔

8۔الشیخ عبدالمجیدازہر:

حافظ زبیرعلی زئی صاحب ان کوبھی اپنااستاد مانتےتھےاوروقتافوقتا ان سےمحتلف موضوعات میں رہنمائی کےلیے رجوع فرماتےرہتےتھے۔

تلامذہ:

پورے ملک سےکثیرطلبہ نےآپ سےاستفادہ اورکسب فیض کیاہے۔ چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔

1۔شیخ ندیم ظہیرحفظہ اللہ تعالی۔

2۔شیخ حافظ شیرمحمدصاحب  حفظہ اللہ۔

3۔شیح صدیق رضاصاحب حفظہ اللہ۔

4۔شیخ غلام مصطفی ظہیرامن پوری حفظہ اللہ۔

تصانیف:

شیخ  کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف ہیں جن میں سےچندایک کے نام درج ذیل ہیں۔

اثبات عذاب القبرللبيهقی (تحقیق وتخریج)

نیل المقصودفی التعلیق علی سنن ابی داؤد(اس میں فقہی فوائدکے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج بھی ہے)

3۔نمازمیں ہاتھ باندھنےکاحکم اور مقام۔

4۔نورالعین فی اثبات رفع الیدین(یہ کتاب یقینا اپنےب میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے یہی وجہ ہےکہ اس کتاب کے مطالعہ سےبڑی تعدادنےاس سنت متواترہ کواپنی نماز کی زینت بنالیاہے۔

6۔جھوٹ(200)آل دیوبندکےتین سو

7۔ہدایۃ المسلمین(نمازکے اہم مسائل مع مکمل نمازنبوی۔

8۔اختصارعلوم الحدث (حافظ ابن کثیر  کی کتاب کاترجمہ ھے)

9۔تحقیقی اصلاحی اورعلمی مقالات جلداول تاچہارم (ان میں ماہنامہ الحدیث میں شائع ہونےوالے مضامین کوجمع کیاگیاہے۔

10۔فتاوٰی علمیۃ(المعروف توضیح الکلام 2 جلدیں)

11۔القول المتین فی الهبربالتامین۔

12۔سوالات 200 آل دیوبندسے۔

13۔صحیح بخاری پراعتراض کاعلمی جائزہ(یہ کتاب منکرین حدیث کی کتاب اسلام کےمجرم کاجواب ہے)

15۔ مختصر صحیح بخاری ۔ 16۔دین میں تقلید کامسئلہ۔

17۔امین اوکاڑوی کاتعاقب۔18۔بدعتی کےپیچھے نماز کاحکم۔

19۔انوارالصحیفہ فی احادیث الضعیفہ۔

20۔تحفة الاقویاء فی تحقیق کتاب الضعفاء۔

اس کے علاوہ اوربھی کتب ہیں نیز کتب احادیث پرتحقیق و تخریج کا کام بھی کیاہے۔

تصنیفی خدمات کے علاوہ آپ نےابطال باطل کے لیے مناظرے بھی کیےہیں بلکہ مناظروں کےلیےدوردرازکا سفربھی کیاہے۔

کلمات ثناءوخصائص نبیلہ:علم حدیث کےممتاز ماہراور فن اسماءرجال کےشہ سوارتھے۔بڑے متقی اورعابد،زاہدانسان تھے۔علم وعمل کےآفتاب تھے۔حق صداقت کی علامت تھے۔جس مسئلہ کاحق ہونا ان

پرواضح ہوجاتا اس پرمظبوطی سے ڈٹ جاتےاوردنیاکی طاقت انہیں اپنے موقف نہیں ہٹاسکتی تھی۔اوراس معاملہ میں کسی لومۃ لائم کی پرواہ نہ کرتے تھے۔

احادیث کی صحت وسقم کےبارہ میں شیخ صاحب کی تحقیقات بہت وسیع تھیں اور وہ ان کی یہ عادت تھی کہ حدیث پرحکم لگانےسےپہلےاس حدیث کی پوری تحقیق فرمایا کرتےتھےاوراگراس سلسلہ میں ان سےکوئی غلطی سرذدہوجاتی اور جب انہیں احساس ہوتاتووہ اعلانیہ اپنی غلطی سےرجوع فرماتےتھے۔اور یہ ان کی بہت بڑی خوبی تھی جوخال خال لوگوں میں ہی نظر آتی ہے۔موجودہ دور میں گمراہ فرقےثقہ وثبت رواۃ حدیث کواپنی نفسیاتی خوہشات کی وجہ سےضعیف باورکرانےکی کوشش کرتے نظر آتےہیں ایسےباطل فرقوں کےخلاف موصوف کاقلم فوری حرکت میں آجایاکرتاتھا۔شیخ  کی تحریرانتہائی سلیس عام فہم اردوپرمشتمل ہوا کرتی تھی اورانداز ایسا جونتہائی اختصاراورجامع مانع ہو۔طوالت اور اطناب آپ کی تحریرمیں نظرنہیں آتا۔محتصرمگرجامع۔  دوران مطالعہ اگرکوئی علمی نکتہ نظرآجاتاتواس کواپنی ذات تک محدود نہیں رکھتےتھے بلکہ ماہنامہ الحدیث میں ایک شزرے کے طور پرشائع کرکےتمام قارئین کےلیے عام کردیتےتھے۔حافظ زبیرعلی زئی صاحب اتنہائی سادہ لوح،بےتکلف ہنس مکھ اور نرم دل ونرم مزاج آدمی  تھے۔شیخ صاحب کا انداز تدریس بھی ممتاز تھا مسئلہ کی تفہیم اس آسانی سےفرماتے کہ طلاب علم بآسانی سمجھ  جاتے تھے۔

جماعت اہل حدیث کے ممتازعلماءکرام نے ان کی شان میں تعریفی کلمات کہےہیں۔

جن میں شیخ رفیق اثری صاحب،شیخ ارشادالحق اثری صاحب،

شیخ مسعودعالم صاحب،شیخ مبشراحمدربانی صاحب،شیخ عبدالستارحمادصاحب،شیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب،شیخ خبیب احمدصاحب،شیخ محمودالحسن صاحب  نےتعریفی کلمات کہےہیں اوربلاشبہ عظیم محدث علم کےپہاڑعلم اسماءالرجال کےماہراورانتہائی پاکیزہ صفت محقق تھے۔اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

وفات:

جماعت اہل حدیث کے ممتاز عالم دین محقق شہرجامع صفات النبیلہ حافظ زبیرعلی زئی صاحب کواپنی آخری عمرمیں فالج کااٹیک ہوا تقریباڈیڑھ ماہ تک اسپتال میں زیرعلاج رہے۔اورپھربروزاتوار 5 محرمالحرام 1435ہجری بمطابق 10 نومبر2013 عیسوی میں اس دنیافانی سےرخصت ہوکرخالق حقیقی سےجاملے۔شیخ کانمازجنازہ ان کےآبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالمجیدازہرصاحب حفظہ اللہ نےپڑھایا نمازجنازہ میں علماء طلباء سمیت کثیرتعداد میں ملک بھرسےلوگوں نےشرکت کی تقریبا10 ہزار سےزائدافراد آپ کےجنازہ میں شریک تھے۔ان کی وفات بروئے حدیث امت کےلیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

حوالہ: ویکیپیڈیا فیس بک۔انٹرنیٹ۔مقالات حافظ زبیرعلی زئی۔

    title-page-al-e-deoband-sy-210-sawalat
    حافظ زبیر علی زئی
    برصغیرمیں دیوبندی اور اہل حدیث کی کش مکش ایک عرصے سے جاری ہے اس میں دونوں طرف سے اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں اور دوسرے کی تردید میں بہت کچھ لکھا جاچکاہے زیرنظر کتاب میں جناب حافظ زبیرعلی زئی نے دیوبندیوں سے 210 سوالات کیے ہیں کہ وہ ان کاجواب دیں اس لیے کہ ان کابھی یہی اسلوب ہے کہ وہ اہل حدیث سے سوالات ہی کرتے جاتے ہیں اگر ان سوالات کو غور سے پڑھا جائے تواوضح ہوگا کہ دیوبندی حضرات کے عقائد وافکار میں بہت سی غلطیاں موجود ہیں جن کی اصلاح ہونی چاہیے نیز ان سوالات کا جو اب بھی ان کےپاس موجود نہیں ہے کیونکہ جواب قرآن وحدیث او رامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال کی روشنی میں مانگاگیا ہے جبکہ ان کےعقائد ونظریات ان سے ثابت نہیں ہیں


    title-pages-aale-deoband-k-300-jhot
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی جماعت اہل حدیث کے نامور عالم اور کامیاب مناظر ہیں۔ تحقیق حدیث ان کا خاص موضوع ہے۔ حدیث کے دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کار لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی اور جہاں کہیں بھی حدیث پر حملہ ہو، چاہے انکار کی صورت میں ہو یا دو ر ازکار تاویلات کی صورت میں موصوف بے قرار ہوجاتے ہیں اور ان کا خارا شگاف قلم حرکت میں آ جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے حافظ صاحب کی نظر میں دیوبندی علما کے 300 جھوٹوں پرمشتمل ہے۔ موصوف کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں:’’ بہت سے لوگ مسلسل دن رات اکاذیب و افتراء ات گھڑتے اور سیاہ کو سفید، سفید کو سیاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے دیوبندی حضرات نے تو کذب و افتراء کو اپنا شیوہ و شعار بنا رکھا ہے۔ راقم الحروف نے اس کتاب میں بعض دیوبندی علما اور مصنفین کے تین سو (300) اکاذیب (جھوٹ) اور افتراء ات باحوالہ جمع کر کے عوام و خواص کی عدالت میں پیش کر دئیے ہیں۔ تاکہ کذابین کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے۔‘‘ وہ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-ikhtisar-aloomulhadees
    حافظ زبیر علی زئی

    محدثین کرام نے نہایت جانفشانی کے ساتھ احادیث کی کتابوں کے مجموعے لکھے، اسماء  الرجال کا علم مدون کیا اور اصول حدیث کی کتابوں کو زیب قرطاس کر کے ہمارے لیے آسانیاں فراہم کیں۔ زیر نظر کتاب ’اختصار علوم الحدیث‘ بھی دراصل اصول حدیث پر لکھی جانے والی اسماعیل بن عمر بن کثیر کی شاندار کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ محترم حافظ زبیر علی زئی کے ترجمے اور تحقیق و حواشی نے کتاب کو چار چاند لگادئیے ہیں جس سے ان کی خداداد صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب میں نہایت عرق ریزی کے ساتھ حدیث کی تمام اقسام مثلاً صحیح، حسن، ضعیف، معضل، منقطع اور شاذ وغیرہم کی تمام تر ضروری تفصیلات کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔

     

     

    title-pages-al-qaulul-mateen-fil-jahri-bilatmeen
    حافظ زبیر علی زئی
    نماز دین اسلام کادوسرا اہم رکن اورقرب الہی کابہترین ذریعہ ہے ۔جہاں اللہ رب العزت نے مواظیت نماز کوفرض قراردیاہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلواکارأیتمونی أصلی)کی شرط عائدفرمائی یعنی تکبیرتحریمہ سے تسلیم تک تمام امورکاطریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوناضروری ہے ۔انہی امورمیں سے نماز کے بعض مسائل ایسے ہیں جواحادیث صحیحہ اورعمل صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہونے کے باوجودبعض لوگوں کے اعتراضات کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں ۔آمین بالجہرکامسندبھی انہی میں شامل ہے ۔صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جہری نماز وں میں باجماعت نماز پڑھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے خاتمہ پرآمین بلندآواز سے کہی جائے گی لیکن بعض لوگ ضعیف احادیث اورمردوددلائل کی بناء پرآمین بالجہرکے مخالف ہیں اورقائلین بالجہرپرنانواطعن وتشنیع کرتے ہیں ۔زیرنظرکتاب میں انتہائی مدلل اورعلمی طریقہ سے آمین بالجہرکاثبوت پیش کیاگیاہے اوراس کے مخالف نقطہ نگاہ کے دلائل کابھی ناقدانہ جائزہ لیاگیاہے ۔


    title-page-ameenokarwikataaqub-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محقق العصر فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے آٹھ رکعت سنت تراویح کے موضوع پر مدلل رسالہ "نور المصابیح" کے جواب میں مشہور دیوبندی عالم امین صفدر اوکاڑوی کی کتاب کے محاکمہ اور جواب الجواب میں یہ کتاب حافظ زبیر علی زئی  کا امین صفدر اوکاڑوی صاحب کے نام کھلا خط ہے جسے ان کی زندگی ان کی خدمت میں بھیجا گیا تھا اور جس کا کوئی جواب وہ نہ دے سکے۔  یوں تو موضوع کتاب تراویح کی رکعات ہے۔ لیکن مقدمہ میں فاضل مصنف نے اوکاڑوی صاحب کے اکاذیب و اباطیل، ان کی کتب کے تناقضات، اور ان کے باطل عقائد و افکار کو طشت از بام کیا ہے

     

     

    title-page-ahle-hadees-aur-jannat-ka-rasta-zubair-ali-zai
    حافظ زبیر علی زئی

    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

     

     

     

    title-pages-ahle-hadith-aik-sifati-naam
    حافظ زبیر علی زئی

    طائفہ منصورہ، فرقہ ناجیہ اور اہل حق کا صفاتی نام اہل حدیث ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو ہر دور میں موجود رہے اور قیامت تک رہیں گے۔ طائفہ منصورہ  کی وضاحت کرتے ہوئے امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا ’’ اگر یہ طائفہ منصورہ اصحاب الحدیث ( اہل حدیث) نہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ ہیں۔(معرفۃ علوم لحدیث للحاکم) اہل حدیث وہ خاص لوگ ہیں جن کے بچے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے گہرا شغف اور قلبی لگاؤ ہے۔ وہ قیاس آرائیوں اور فقہی موشگافیوں کی بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرنے میں سعادت جانتے ہیں،۔ یہ  کتاب  فضلیۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی تصنیف لطیف ہے جو اہل حدیث  کے صفاتی نام کے بارے میں پیدا ہونے والے اشکالات واعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ یہ اس لحاظ سے بڑی جامع اور منفرد کتاب ہے کہ ہر بات مستند، مدلل اور باحوالہ ہے۔ اللہ رب العزت محترم حافظ صاحب حفظہ اللہ کو صحت وتندرستی والی لمبی عمر سے نوازے اور ان سے اسی طرح کا علمی وتحقیقی کام کراتا رہے۔

     

    bidatikpeechaynamazkahukm2-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    دين اسلام میں اس بات کاتصور بھی نہیں کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود نماز ادا نہ کرے- نماز کی اس اہمیت کے پیش نظر اس کے لوازمات کویقنینی بنانا انتہائی ضروری ہے- انہی لوازمات سے ایک امام كا بدعتی خرافات سے محفوظ ہوناہے- زيرنظر کتاب میں ملک کی نامور شخصیت حافظ زبیر علی زئی نے بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ پر سیر حاصل گفتگو کی ہے- مصنف نے قرآن وسنت،اقوال صحابہ اورتبع تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ ایک مسلمان کے لیے کسی طرح بھی روانہیں کہ وہ ایک بدعتی امام کے پیچھے نماز ادا کرے- مصنف نے مختلف موضوعات پر بڑی اچھی گفتگو کی ہے مثال کے طور پر بدعت کی تعریف،اس کی اقسام اور بدعت کے بارے میں آئمہ اربعہ کےساتھ ساتھ دیگر آئمہ کے اقوال اور بدعت کا حکم بیان کیا ہے-اور اسی طرح مختلف گروہوں میں مختلف ناموں سے جو بدعتیں رائج ہیں ان کی نشاندہی کی ہے-

    title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad3
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

    title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad2-copy-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

    title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad3
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

    title-pages-tadad-e-rakat-qayam-e-ramzan-ka-tehqiqi-jaiza-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے نامور محقق اور معروف عالم دین محترم حافظ زبیر علی زئی صاحب  ﷫کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ گیارہ رکعات  تراویح مع وتر کو ثابت کیا ہے،اور بعض لوگوں کی طرف سے پیدا کئے گئے مغالطات کا دلائل کے ساتھ رد کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-talkhees-nasb-ul-imaad-fi-jarha-al-hassan-ul-ziyaad-
    حافظ زبیر علی زئی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب"تلخیص نصب العماد فی جرح الحسن بن زیاد" پاکستان کے معروف عالم دین محقق محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث حسن بن زیاد کے بارے علماء جرح وتعدیل کے اقوال نقل کرتے ہوئے ان پر ضعف کا حکم لگایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

    untitled-1
    حافظ زبیر علی زئی
    امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ’صحیح بخاری‘ کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ لیکن پھر بھی بعض عاقبت نا اندیش  صحیح بخاری اور امام بخاری پر اعتراضات کا سلسلہ دراز کیے رکھتے ہیں۔ انہی حضرات میں سے ایک صاحب احمد سعید ملتانی چتروڑگڑھی ہیں جنہوں نے ’قرآن مقدس اور بخاری محدث‘ کے نام سے کتاب لکھی، جس میں انہوں نے صحیح بخاری کی 54 حدیثوں پر متعدد اعتراضات کیے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں محترم حافظ زبیر علی زئی نے اپنے مخصوص انداز میں اس کتاب کا جامع اور مسکت جواب دیا ہے۔ حافظ صاحب نے کتاب کے شروع میں ملتانی صاحب کے 34 جھوٹوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    deenmaintaqleedkamasla-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    یہ کتاب دراصل حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے تقلید  کے رد پر مشتمل  ان پانچ مضامین کا مجموعہ ہے جو ماہنامہ الحدیث حضرو میں قسط وار شائع ہوئے۔ فرق مسالک سے شغف رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ اہلحدیث اور احناف کے درمیان ایمان، عقائد اور اصول کے بعد ایک بنیادی اختلافی مسئلہ تقلید ہے۔ پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں تقلید مطلق اور تقلید شخصی۔ قرآن، حدیث ، اجماع اور آثار سلف صالحین سے تقلید کی یہ دونوں قسمیں باطل اور مردود ہیں۔ لیکن آج یہ مسئلہ امت مسلمہ میں شدید اختلاف کا موجب بنا ہوا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ اگر امت مسلمہ کبھی متفق و متحد ہوئی تو کتاب و سنت ہی پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ نہ کہ چار یا بارہ اماموں پر۔ دعوت غور و فکر اور تقلیدی اندھیروں سے کتاب و سنت کے دلائل کی روشنی سے دین کو سمجھنے کی دعوت دیتی یہ کتاب انشاء اللہ بہت سے رہِ گم کردہ مسافروں کو صراط مستقیم کی روشن شاہراہ کا رستہ دکھانے کا سبب بنے گی۔

     

     

    sirat-rahmat-ul-alamin-ke-darkhashan-pahlu
    حافظ زبیر علی زئی

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد، وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ الغرض عہد نبوت سے لے کر آج تک رسول اللہﷺ کی سیرت طیبہ پر اتنا زیادہ لکھا گیا اور لکھا جارہا ہےکہ ان کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرت رحمت للعالمین کے درخشاں پہلو ‘‘ محدث لعصر ارض پاکستان کے نامور عالم دین مولانا حافظ زبیر علی ﷫ کی ان تحریروں کامجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً ’’ مجلہ الحدیث‘‘ حضرو میں شائع ہوتی رہیں۔ شیخ موصوف کے شاگرد رشید مولانا حافظ ندیم ظہیر ﷾نے ان تمام مطبوعہ مضامین کو مرتب کرکے افادۂ عام کے لیے شائع کیا ہے۔ شیخ زبیر علی زئی نے جہاں کئی اہم علمی موضوعات کو دلائل وبراہین سے مزین کیا ہے وہاں سیرت النبی ﷺ کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔کتاب ہذا کےعلاوہ سیرت النبی ﷺپر تین کتب تیار کیں اور مزید معجزات النبی ﷺ کے بارے میں ایک مکمل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن زندگی نے وفانہ کی اور آپ اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے ۔ (إنا لله وإليه راجعون) اللہ تعالیٰ ان کی تمام علمی وتحقیقی کاوشیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ان کےدرجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-page-bukhari-par-itrazat-ka-ilmi-jaiza
    حافظ زبیر علی زئی
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت اسلامی شریعت کی اسی طرح اساس وبنیاد ہے جس طرح کہ قرآن کریم ہے حدیث وسنت کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے او رنہ ہی احکامات خداوندی پر عمل ممکن ہے اللہ تعالی جزائے خیر دے محدثین کرام رحمہم اللہ کو جنہوں نے انتہائی محنت او رجگر کاوی سے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال وارشادات  اور عادات وافعال کو حیطۂ تحریر میں لاکر کتابی شکل میں امت کے سامنے پیش کیاتاکہ ان پرعمل کرنے میں آسانی اور سہولت رہے ۔اس ضمن میں امام محمدبن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ  کامرتب کردہ مجموعہ حدیث جو ’صحیح بخاری ‘ کےنام سے معروف ہے جوایک ممتاز مقام رکھتا ہے  کہ اس میں صرف انہی احادیث کو جمع کیا گیا ہے  جوفن حدیث  کی رو سے قطعی صحیح ہیں کوئی کمزور روایت اس میں جگہ نہیں پا سکتی وہ لوگ جو حدیث وسنت کے اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے اور امت کارشتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کمزور کرنا چاہتے ہیں مختلف طریقوں سے  حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جرح وتنقید کانشانہ بناتے رہتے ہیں ان کی ناپاک جسارتوں کا دائرہ یہاں تک وسعت پذیر ہوا کہ اب انہوں نے ’’صحیح بخاری‘‘ کو بھی ناقابل اعتبار ٹھہرانے کےلیے اس پر اعتراضات کرنا شروع کردیئے ہیں اس نوع کےشبہات  کا ازالہ بہت سارے علماء نے کیا ہے ۔زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ’’صحیح بخاری  پر اعتراضات کا علمی جائزہ‘‘جناب محترم حافظ زبیر علی زئی  حفظہ اللہ کی تألیف ہے جو علم حدیث کے مختلف گوشوں میں یدطو لی رکھتےہیں اور ہمہ وقت خدمت حدیث میں مشغول ہیں آنجناب نے اس کتاب میں صحیح بخاری ،امام بخاری اور صحیح بخاری کامختصر تعارف کرواتے ہوئے صحیح بخاری پر کیئے گئے بعض اعتراضات کا ٹھوس علمی اور مسکت جواب دیا ہے جس پر وہ تمام اہل اسلام کے شکریہ کےمستحق ہیں۔

    title-page-munkrine-hadith-key-hamley-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہےکہ صحیح بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب قرآن کے بعد سب سے زیادہ صحیح ترین کتاب ہے بخاری ومسلم ان دونوں کتابوں کو ساری امت نے قبول کر لیا ہے سوائے تھوڑے حروف کے جن پر بعض حفاظ مثلا دار قطنی نے تنقید کی ہے لیکن ان دونوں کی صحت پر امت کا اجماع ہے اور اجماع امت اس پر عمل کرنے کو واجب کرتا ہے اس کتاب میں مصنف نے بخاری کی چند احادیث پر دور حاضر کے  منکرین حدیث نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کا با التفصیل جواب دیا ہے جس کے مطالعہ سے ان حضرات کی علمی قابلیت اور دیانت و امانت کا خوب نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
    title-pages-sahih-bukhari-ka-difa-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ،جسے امت  کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے۔امام بخاری﷫کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ بھی  ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ بھی  ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوتِ استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔ صحیح بخاری کی   کئی مختلف اہل علم نے شروحات ،ترجمے اور حواشی وغیرہ کا کام کیا ہے شروح صحیح بخاری میں فتح الباری کو ایک امتیازی مقام اور قبولِ عام حاصل ہے ۔لیکن بعض نام نہاد اہل علم ہمیشہ سے صحیح بخاری  پر اعتراضات کرتے چلے آئے  ہیں اور اس کی بعض روایات کو عقل سلیم سے سمجھنے کی بجائے اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ علماء حق نے ان کے کمزور اعتراضات اور بیہودہ تنقید کا  ہمیشہ مسکت اور مدلل جواب دے کر انہیں چپ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " صحیح بخاری کا دفاع"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  صحیح بخاری پر کئے گئے اعتراضات کا علمی جائزہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو حدیث نبویﷺ پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔آمین(راسخ)

    pages-from-tareeq-ul-jnnat-ul-maroof-jannat-ka-rasta
    حافظ زبیر علی زئی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کے لیے بےشمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔ پس انسان کے لیےلازم ہےکہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی اداکرے۔ اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہے تو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہےکہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہے جس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہےیہ واحد دین ہےجو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"طریق الجنۃ" مولانا زبیر علی زئیؒ کی محنت کا نتیجہ ہےموصوفؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں اور مسلک حق اہل حدیث کےلیے ان کی بے پناہ تحقیقات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موصوفؒ نے اپنی تصنیف میں مختصر صحیح عقائد، نماز کے احکام، قیام رمضان، فاتحہ خلف الامام، اور تقلید وغیرہ کے موضوعات پر تحقیقی بحث کی ہے اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور ان کے لیے سامان مغفرت بنائے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-ftaawa-ilmiya-almaroof-tozeeh-al-ahkam-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکام شریعت کے اندر بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے کیونکہ شرعی احکام اور مسائل دینیہ سے آگاہی ہر مسلمان مرد اور عورت کی ضرورت ہے اور اس روحانی تشنگی کی سیرابی کے لیے شروع اسلام سے عامۃ الناس کی راہنمائی کے لیے نبیﷺ سائلین کا خود تشفی بخش جواب دیتے ۔بعض اوقات مسائل کی پیچیدگیوں کی عقدہ کشائی کے لیے وحی کا نزول ہوتا ۔پھر صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور علماء و محدثین نے اس ذمہ داری کو نہایت اچھے انداز سے نبھایا۔اگرچہ قدیم علماء کے فتاویٰ کافی تعداد میں موجود ہیں لیکن ہر دور میں فتویٰ طلبی اور نت نئے مسائل جنم لینے کی وجہ سے ایسے مسائل کی وضاحت کی اہمیت برقرار رہی بلکہ فتویٰ طلبی کی ضرورت او رافتاء کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔پاکستان میں کئی جید علماء اپنے طور یاکسی جماعت کے پلیٹ فارم پر عوام الناس کے دینی مسائل کے جوابات قلمبند کر رہے ہیں اور کئی علماء کے فتاویٰ منصہ شہود پر آکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ المعروف توضیح الاحکام ‘‘ محدث العصر حافظ زبیر علی ﷫ کے جاری کردہ فتاوی کی تیسری جلد ہے ۔حافظ زبیر علی زئی﷫ کا شمار ان جید علما ء میں ہوتا ہے جو استنباط مسائل میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول تحقیق کے میدان کے بھی شہسوار تسلیم کیے جاتے ہیں۔فتاویٰ’ توضیح الاحکام‘ ان فتووں کا مجموعہ ہے جو شیخ محترم سے مختلف مواقعوں پر دریافت کیے گئے۔اس فتاویٰ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھر پور عرق ریزی کے ساتھ ایسے سوالات کے بالدلائل تفصیلی جوابات بھی جمع کیے گئے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اختصار کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔(م۔ا)

    title-from-ftaawa-ilmiya
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی کا شمار ان جید علما ء میں ہوتا ہے جو استنباط مسائل میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول تحقیق کے میدان کے بھی شہسوار تسلیم کیے جاتے  ہیں۔ آپ کے سامنے کتاب’ توضیح الاحکام‘ ان فتووں کا مجموعہ ہے جو شیخ محترم سے مختلف مواقعوں پر دریافت کیے گئے اور مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب کو دو جلدوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی جلد عقائد، طہارت، نماز، دعا اور جنازے کے مسائل سے عبارت ہے۔ دوسری جلد نکا ح وطلاق، جہاد، اخلاق و آداب اور خرید و فروخت جیسے مسائل سے پُر ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھر پور عرق ریزی کے ساتھ ایسے سوالات کے بالدلائل تفصیلی جوابات بھی جمع کیے گئے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اختصار کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔


    title-pages-ftaawa-ilmiya-jilad2
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی کا شمار ان جید علما ء میں ہوتا ہے جو استنباط مسائل میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول تحقیق کے میدان کے بھی شہسوار تسلیم کیے جاتے  ہیں۔ آپ کے سامنے کتاب’ توضیح الاحکام‘ ان فتووں کا مجموعہ ہے جو شیخ محترم سے مختلف مواقعوں پر دریافت کیے گئے اور مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب کو دو جلدوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی جلد عقائد، طہارت، نماز، دعا اور جنازے کے مسائل سے عبارت ہے۔ دوسری جلد نکا ح وطلاق، جہاد، اخلاق و آداب اور خرید و فروخت جیسے مسائل سے پُر ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھر پور عرق ریزی کے ساتھ ایسے سوالات کے بالدلائل تفصیلی جوابات بھی جمع کیے گئے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اختصار کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔
    [important color=blue title=پہلی جلد ]اس کتاب کی پہلی جلد ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کیجئے[/important]

    quran-makhlooq-naheen
    حافظ زبیر علی زئی

    تمام اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن اللہ تعالی کی کلام ہے اور مخلوق نہیں ہے۔قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق ہے؟ اس بحث کا آغاز عباسی دور میں ہوا۔معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن مخلوق ہے، کلام الہی نہیں ہے۔ان کے ہاں رسول اللہ پر معانی کا القاء ہوتا تھا اور آپ انہیں الفاظ کا جامہ پہنا دیتے تھے۔ مامون الرشید کے دور میں حکومت کا مسلک اعتزال تھا۔ لہذا یہ مسئلہ 827ء میں شدت اختیار کر گیا۔ اور علمائے اسلام سے جبراً یہ اقرار لیا گیا کہ قرآن کلام قدیم نہیں بلکہ مخلوق ہے۔ بہت سے علما نے انکار کر دیا اور قید وبند کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئے۔ امام احمد بن حنبل پر بھی اس سلسلے میں بڑے ظلم ڈھائے گئے لیکن وہ اپنے نظریے پر قائم رہے۔زیر تبصرہ مضمون " قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین حافظ زبیر علی زئی کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے مدلل گفتگو کرتے ہوئے اہل سنت والجماعت کے عقیدے کو ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید مخلوق نہیں ،بلکہ اللہ تعالی کا کلام ہے۔اس مضمون کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔اللہ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے ۔ آمین (راسخ)

    pages-from-qurbani-key-masael-zubair-ali-zai
    حافظ زبیر علی زئی

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے او رعبادات کی مختلف اقسام ہیں ۔مثلاً قولی،فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں ایک عبادت قربانی بھی ہے۔ قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔تخلیق انسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے۔ قرآن مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس عمل کو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام   سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’قربانی کے مسائل‘‘محدث العصر حافظ زبیر علی زئی﷫ کےجاری کردہ مجلہ ’’الحدیث‘‘ اور مجلہ شہادت میں قربانی کے احکام مسائل کے حوالے سے مطبوعہ مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس میں شیخ موصوف نے قربانی کے جملہ احکام مسائل کو بادلائل پیش کیا ہے ۔بالخصوص ایام قربانی کے متعلق جامع گفتگو پیش کی ہے۔ (م۔ا)

    title-page-mukhtasar-saheeh-namaz-e-nabvi-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    دين اسلام میں جس قدر نماز کی پابندی پر زور دیا گیا ہے اسی قدر اسے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے مطابق ادا کرنے کی  بھی تاکید کی گئی ہے- صرف وہی نماز خدا تعالی کے ہاں قابل قبول ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوگی-زیر نظر رسالہ میں حافظ زبیر علی زئی نے انتہائی اختصار کے ساتھ احادیث رسول کی روشنی میں نماز نبوی کا مکمل طریقہ سپرد قلم کر دیاہے-علاوہ ازیں وضو کا مسنون طریقہ،دعائے قنوت،نماز کے بعد کے اذکار اور نماز جنازہ پڑھنے کا صحیح اور مدلل طریقہ بھی مختصر انداز میں ذکر کر دیا گیا ہے-حافظ صاحب نے احادیث کا تذکرہ کرتے ہوئے صرف صحیح اور حسن لذاتہ احادیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

     

    title-pages-maqalat-al-hadith
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ایک جانی مانی اور علمی طور پر قدآور شخصیت ہیں۔ اصول حدیث اور اسماء الرجال کےمیدان میں آپ یدطولیٰ  رکھتے ہیں۔ جہاں موصوف کی بہت سی کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو کر اہل علم سے داد وصول کر چکی ہیں وہیں آپ کے مضامین قارئین کے ذوق کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ آپ نے 2004ء میں ایک ماہنامہ ’الحدیث‘ کے نام سے نکالنے کا اہتمام کیا جس کا تسلسل تاحال بڑی کامیابی کے ساتھ برقرار ہے۔ گوناگوں مصروفیات کے باوجود ’الحدیث‘ کا ہر شمارہ حافظ صاحب ہی کے تحقیقی مضامین سے پُر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اہل علم حضرات ’الحدیث‘ میں اپنے رشحات قلم پیش کرتے رہتے ہیں۔ قارئین کے پرزور اصرار پر ماہنامہ ’الحدیث‘ میں اب تک جتنے بھی مضامین 2004ء سے 2010ءتک شائع ہوئے ہیں ان کو کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 691 صفحات پر مشتمل اس ضخیم  کتاب میں بہت سارے اساسی اور اہم مسائل پر تحقیقی ابحاث موجود ہیں۔ تمام مضامین کو مختلف موضوعات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ بنیادی موضوعات میں توحید و سنت کے متعلق مسائل، مسلک اہل حدیث، طہارت و نماز سے متعلق مسائل، الدعا، اصول حدیث و تحقیق الروایات، تذکرہ علمائے حدیث، تعارف و تبصرہ، اہل باطل اور مبتدعین کا رد، زکوٰۃ و معاملات اور دریچہ اصلاح جیسے عنوانات شامل ہیں۔ مقدمہ میں حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں: ’’چونکہ ہمارے رسالے میں راقم الحروف اور حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کا متفق ہونا ضروری ہے، لہٰذا ہم نے تمام مضامین کو خود چیک کیا اور جہاں صاحب تحریر سے اختلاف تھا، اس کی وضاحت و صراحت کر دی۔‘‘ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-namaz-main-hath-bandhnay-ka-hukm-aur-muqam-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    نماز کے دیگر مسائل کی طرح ایک اختلافی مسئلہ نماز میں حالت قیام میں ہاتھ باندھنے کے مقام کا بھی ہے۔ ہمارے برصغیر میں اکثریت نماز میں زیر ناف ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتی نظر آتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ اس کتاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں حالت قیام میں ہاتھ باندھنے کے مقام کی وضاحت اور ہاتھ باندھنے کا حکم مستند احادیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ طرفین کے دلائل اور ان پر کئی طرق سے بحث ہے۔ فاضل مصنف نے نفس مسئلہ پر ہی راست گفتگو کی ہے جو کہ اکثر یا تو احادیث و آثار پر مشتمل ہے ، یا مخالفین پر اتمام حجت کیلئے سلف صالحین کے زیر بحث مسئلہ سے متعلقہ اقوال پر۔ اپنے موضوع کے لحاظ سے مختصر مگر جامع کتاب ہے۔

    title-pages-namaz-mein-haath-bandhne-ka-hukm-aur-muqam--jadeed-audition--copy
    حافظ زبیر علی زئی

    نماز دین اسلام کے بنیادی  پانچ ارکان میں سے  کلمہ توحید کے بعد ایک  اہم ترین رکن  ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ  باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی  کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق  کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سارے مسلمان نماز نبوی ﷺ پڑھنے کی بجائے مختلف مسالک  اور اپنے علماء کی بتلائی ہوئی نماز پڑھتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام "محقق العصر محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نماز میں ہاتھ باندھنے اور ہاتھ باندھنے کے مقام کے حوالے سے مدلل  گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو سنت نبوی کے مطابق نماز پڑھنے  کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-nor-ul-ainain-fi-isbat-rafe-yadain-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    شریعت اسلامیہ میں  نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  لہٰذا نماز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری)  نماز میں رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر ثابت ہے لیکن افسوس بہت سے دیگر مسائل کی طرح  ’’ مسئلہ رفع الیدین ‘‘ بھی تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ جب صحیح مرفوع احادیث، آثار صحابہ، آثار تابعین اور آئمہ کرام سے رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین ثابت ہے تو اس کے مقابلے میں ضعیف، موضوع اور چند ایک تابعین کے عمل کی کیا وقعت رہ جاتی ہے ؟ رفع الیدین کو  ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بنا دیا گیا  ہے اور حامیین اور مخالفین نے اس پر بہت کچھ لکھ کر اس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی کوششوں میں سے ایک اعلیٰ کوشش مولانا  حافظ زبیر علی زئی محقق حدیث حفظہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جس میں انہوں نے رفع الدین کے مسئلے کو نکھارنے کی کوشش کی ہے۔مختلف لوگوں کے مختلف دلائل ،ان کا عالمانہ تجزیہ، اور پھر ان دلائل کا علمی محاکمہ پیش کیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے سنت کی اہمیت پر بیان کر کے ایک مسلمان کے لیے یہ چیز واضح کی ہے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد سنت کی پیروی اور اتباع ہونی چاہیے اس لیے اس موضوع کو نکھارنے کے بعد دوسرے مسائل کو پیش کیا ہے۔ رفع الیدین کے دلائل کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں پائے جانے والے اعتراضات کو خوب واضح کیا اور ان کا علمی انداز سے جواب دیا ہے۔ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کے عمل اور بعد کے تابعین اور تبع تابعین کے اعمال اور اقوال سے اس مسئلہ کو نکھارنے کی کوشش کی ہے۔ نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین اس سے قبل اپنی اہمیت وافادیت کے پیش نظر کئی بار چھپ چکی ہے۔ علمی اور سنجیدہ حلقوں میں بہت مقبول ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ علمی دنیا میں ایک عظیم انقلاب ہے، یہی وجہ ہے کہ عرصہ دراز گزرنے کے باوجود یہ کتاب لاجواب ہی ہے۔محدث لائبریری پر اس کتاب کا  پرانا ایڈیشن (نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین) بھی موجود ہے۔ اب اسی کتاب کو مزید حک واضافہ کے ساتھ دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ جس میں زیادات واضافے کے تحت حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے اور بہت سے علمی وتحقیقی مباحث کو شامل کرلیا ہے۔ مثلاً سجدوں میں رفع الیدین کا مسئلہ، اخبار الفقہاء والمحدثین کی روایت کاجائزہ ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب تفسیر اور ترک رفع یدین وغیرہ۔واضح رہے کہ اس ایڈیشن میں سابقہ تسامح وغیرہ کی تصحیح اور بعض کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔ اور بعض جگہ علمی فائدہ جانتے ہوئے تکرار کو بحال رکھا گیا ہے۔ نیز اب یہی ایڈیشن معتبر ہے۔ ادارہ محدث نے ضروری سمجھا کہ اس کتاب کو بھی آپ کےلیے پیش کردی جائے۔ سو کتاب پیش ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا  ہے کہ وہ حق کا علم ہو جانے کے بعد اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے-آمین

    noorulainainfeemaslarafaulyadain-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    نماز میں رفع الیدین ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے اور حامیین اور مخالفین نے اس پر بہت کچھ لکھ کر اس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی کوششوں میں سے ایک اعلی کوشش مولانا زبیر علی زئی محقق حدیث حفظہ اللہ تعالی کی ہے-جس میں انہوں نے رفع الدین کے مسئلے کو نکھارنے کی کوشش کی ہے-مختلف لوگوں کے مختلف دلائل ،ان کا عالمانہ تجزیہ، اور پھر ان دلائل کا علمی محاکمہ پیش کیا ہے-اس لیے سب سے پہلے سنت کی اہمیت پر بیان کر کے ایک مسلمان کے لیے یہ چیز واضح کی ہے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد سنت کی پیروی اور اتباع ہونی چاہیے اس لیے اس موضوع کو نکھارنے کے بعد دوسرے مسائل کو پیش کیا ہے-رفع الیدین کے دلائل کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں پائے جانے والے اعتراضات کو خوب واضح کیا اور ان کا علمی انداز سے جواب دیا ہے-جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کے عمل اور بعد کے تابعین اور تبع تابعین کے اعمال اور اقوال سے اس مسئلہ کو نکھارنے کی کوشش کی ہے-اللہ تعالی سے دعا کہ وہ حق کا علم ہو جانے کے بعد اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے-آمین

    title-pages-hadya-tu-al-muslimeen-nimaz-k-aham-masail-maa-mukammal-nimaze-nabwi
    حافظ زبیر علی زئی
    نماز ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے جس کے تارک کے بارے میں رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: (بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاۃ) ‘‘شرک و کفر اور آدمی کے درمیان نماز کے چھوڑنے کا فرق ہے(صحیح مسلم:82) اور علمائے اسلام نے بھی اس رکن کے تارک کو ملت اسلامیہ سے خارج سمجھا ہے۔اس گئے گزرے دو رمیں جبکہ بدعات و خرافات او رباطل عقائد رواج پاچکے ہیں او ران نظریات کی زد سے نماز جیسی عبادت بھی نہ بچ  سکی۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا (صلوا کما رأیتمونی اصلی) (صحیح بخاری:631) ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔‘‘اب ہر مکتبہ فکر اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ ا س کی بیان کردہ نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہے اور ہر گروہ  کی نماز کا ذریعہ اخبار اقوال و افعال رسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کو ثابت کرنے کے لیے ہم تک پہنچنے والی مختلف خبریں  ہی  اس اختلاف کی وجہ ہیں۔ لہٰذا ان اخبار  کی استنادی حالت جانچنے کے لیے علم اسماء الرجال پر عبور حاصل کرنا او رمحدثین کے اصولوں پر ہر خبر کو پرکھ کر اس پر عمل کرنا اختلافات کے خاتمے کے لئے از بس ضروری ہے۔ لیکن آج ہمیں جو نماز کے مختلف  ایڈیشن نظر آتے ہیں  افسوس کہ لوگ محدثین کے اخبار کو لینے کے معیارات کو استعمال نہیں کرتے اور اپنے اپنے مسلک کے نماز کے ایڈیشن کو ثابت کرنے کے لیے  معیار تحقیق سے گری پڑی روایات کو بھی اپنی دلیل بنا کر پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔  زیر نظر کتاب محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی مرتبہ ہے۔  حافظ صاحب عہد حاضر کے ایک کہنہ مشق محقق ہیں اور اسماء الرجال پر  ان کی بہت گہری نگاہ ہے۔ مذکورہ کتاب میں وضو اور نماز کا طریقہ اور اس سے متعلقہ مسائل جو اللہ کے رسولﷺ سے ثابت تمام افعال و اقوال بیان کردیئے ہیں اور محقق فاضل نے ہر  دلیل کو اسماء الرجال کے فن پر پرکھتے ہوئے اس کی تخریج او رحکم کے ساتھ نشاندہی بھی کردی ہے۔ حدیث کی وضاحت اور مسائل  کے استنباط کے علاوہ قاری کے ذہن میں معاشرے میں گردش کرنے والی نماز کی جزئیات سے متعلق متضاد اخبار  و مسائل کا تجزیہ بھی کردیا گیا ہے۔ ہر حدیث کی استنادی حالت اپنے حوالوں کے ساتھ درج ہے۔ جس کی وجہ سے اس تحریر پر اعتماد بڑھ جاتا ہے ۔ لہٰذا ان تمام خوبیوں کی وجہ سے یہ کتاب لائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-imamat-k-ahal-kon-1
    زیر نظر کتاب دو کبار علماء حدیث کے دو رسالوں کا مجموعہ ہے ۔جن میں سے پہلا رسالہ شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین راشدی صاحب رحمہ اللہ کا ہے اور دوسرا رسالہ حافظ زبیر علی زئی حافظہ اللہ کاہے۔اس کتاب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ نماز کی امامت  کے لیے امام کن اوصاف کا حامل ہو۔نیز امام کا صحیح العقیدہ اور بدعات سے مبرہ ہونا ضروری ہے ۔فاسد العقیدہ اور بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ۔لہذا مصلحت کے لبادہ میں گمراہ عقائد کے حامل اور بدعات کے رسیہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی جو رخصت فراہم کی جاتی ہے کتاب وسنت کے دلائل اور آثار سلف کی رو سے یہ قطعاً غلط ہے ۔بلکہ نماز میں ایسے امام کا انتخاب لازم ہے جس کا عقیدہ صحیح اور بدعت کا پرچار کر نہ ہو ۔اس مسئلہ کے بارے میں صحیح اور کامل آگاہی کے لیے زیر تبصرہ کتاب کا مطالعہ ازہد ضروری ہے ۔(فاروق رفیع)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-ikhtisar-aloomulhadees
    حافظ زبیر علی زئی

    محدثین کرام نے نہایت جانفشانی کے ساتھ احادیث کی کتابوں کے مجموعے لکھے، اسماء  الرجال کا علم مدون کیا اور اصول حدیث کی کتابوں کو زیب قرطاس کر کے ہمارے لیے آسانیاں فراہم کیں۔ زیر نظر کتاب ’اختصار علوم الحدیث‘ بھی دراصل اصول حدیث پر لکھی جانے والی اسماعیل بن عمر بن کثیر کی شاندار کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ محترم حافظ زبیر علی زئی کے ترجمے اور تحقیق و حواشی نے کتاب کو چار چاند لگادئیے ہیں جس سے ان کی خداداد صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب میں نہایت عرق ریزی کے ساتھ حدیث کی تمام اقسام مثلاً صحیح، حسن، ضعیف، معضل، منقطع اور شاذ وغیرہم کی تمام تر ضروری تفصیلات کو احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔

     

     

    title-pages-azwah-al-masabih-fi-tahkik-mishkat-masabih
    شیخ ولی الدین الخطیب التبریزی
    مشکوٰۃ المصابیح مسائل میں احادیث کاوہ بہترین مجموعہ ہے کہ جس میں محمد بن عبداللہ التبریزی نے بہترین ترتیب کے ساتھ مسند کتب حدیث سےسينكڑوں روایات کومتعلقہ مسائل کےتحت نقل کردیا ہے۔مشکوٰۃ کی تخریج و تحقیق اگرچہ علامہ ناصر الدین البانی کر چکے ہیں۔ او راب حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ جو کہ فن اسماء الرجال میں منجھی ہوئی شخصیت ہیں ۔زیر نظر کتاب انہی کی تخریج و تحقیق او رفوائد پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے مشکوٰۃ میں درج ہر حدیث کا فن جرح و تعدیل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ان پر  صحت و ضعف کا حکم لگایا ہے۔ احادیث کی استنادی حالت کو جانچنے کے لیےنہایت عمدہ تحریر ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-juz-rafa-ul-yadain
    محمد بن اسماعیل بخاری

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) نماز کے مسائل میں رفع الیدین کوایک بنیادی اور اساسی حیثیت حاصل ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام   کی اس قدر   کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے   زیادہ صحابہ   نے روایت نہ کیا ہو۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جزء رفع الیدین‘‘ رفع الیدین کےاثبات کے موضوع پر امیر المومنین فی الحدیث   امام محمد بن اسماعیل بخاری﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں امام بخاری ﷫ نے ایک سو بائیس حوالوں سے اس کاثبوت واثبات واضح کیا ہے۔ ان احادیث کے رایوں میں مکہ ،حجاز ، عراق، شام، بصرہ، یمن ، خراسان اور بخارا سے تعلق رکھنے والے حضرات شامل ہیں اثبات رفع الیدین میں یہ رسالہ حرف ناطق ہے ۔ جس سے علم حدیث کے اصول ومبادی جاننے والا کو ئی انکار نہیں کرسکتا ۔امام بخاری کے اس رسالےکو متعدد ناشرین نے ترجمہ کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ زیر تبصرہ ایڈیشن کے عربی متن کی عمد ہ تحقیق، مثالی تخریج اور مستند اردو ترجمہ   محدث العصر حافظ زبیرعلی زئی﷫ کے قلم ہوا ہے جس اس رسالے کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس رسالےکوامت مسلمہ کی نمازوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ آمین (م۔ا)

    title-pages-hajji-k-shabo-rooz-copy
    ابو عبد اللہ خالد بن عبد اللہ الناصر

    حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن  ہے ۔ بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز  روزہ  صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ  فقط مالی عبادت ہے ۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی  اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے ۔ جج کرنے  سے پہلے  حج  کے طریقۂکار  سےمکمل آگاہی  ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’ حاجی کے شب وروز ‘‘ شیخ خالد  بن عبد اللہ  الناصر کی عربی کتاب ’’ المنہاج فی یومیات الحاج‘‘ کا  ترجمہ ہے   ۔ محدث العصر   حافظ زبیرعلی زئی ﷫ نے  اسے ’’ حاجی  کے شب و روز کے  نام سے اردو  کے بہترین قالب میں ڈھالا ہے ۔ اور اس میں بعض انتہائی  ضروری مسائل کا اضافہ کردیا ہے جس  سے کتاب کی قدر وقیمت میں  مزید اضافہ  ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اہل اسلام کے لیے  راہنما بنائے اور اس کتاب کے مرتبین کو اس کابہترین اجر وثواب عنائیت فرمائے (آمین) (م۔ا)

    sharahhadeesjibraeel-copy
    عبد المحسن العباد

    یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔

    title-pages-shamael-e-tirmazi--zubair-ali-zai--copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتبِ احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔کتب ِ سیرت او رکتب ِ شمائل میں فرق یہ ہے کہ کتب سیرت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر بات خوب وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہجرت جہاد وقتال ،غزوات ، دشمن کی طرف سے مصائب وآلام، امہات المومنین کابیان اور صحابہ کرام کے تذکرے وغیرہ ۔جبکہ شمائل وخصائل کی کتب میں صرف آپﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی موضوع ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کا چلنا پھرنا، آپ کا کھانا پینا آپ کی زلفوں کے تذکرے ، آپ کےلباس اور بالوں وغیرہ کے بیانات جو اصلاح فرد کےلیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس طرف بھی خوصی توجہ کی ہے مثلاً امام اورامام ترمذی نے اس موضوع پر الگ سے کتب تصنیف ہیں۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے ۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب ہے ۔اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول ﷺكے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات ‏کو احادیث کی روشنى میں جمع کردیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- ‏سیّد کائنات ﷺ کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے ‏تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ زیر تبصرہ شمائل ترمذی کے ترجمہ وتحقیق وفوائد کا کام حافظ زبیر علی زئی ﷫ نے کیا ہے۔یہ ترجمہ حسب ذیل(دو مستند نسخوں سے سند متن کی تصحیح، ہر روایت کی بہترین تخریج، صحت وضعف کے اعتبار سے ہر حدیث پر حکم، آسان فہم ترجمہ، مختصر مگر جامع ونافع فوائد) خوبیوں کےباعث دیگر تراجم سے ممتاز ہے ۔شیخ الحدیث حافظ عبد الحمید ازہر ،حافظ ندیم ظہیر حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے میں شامل تمام افراد کی مخت کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اہل ایمان کو سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-ibadaat-main-bidat-aur-sunnat-e-nabwi-say-unn-ka-radd
    عمرو بن عبد المنعم بن سلیم
    اللہ رب العزت کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمارے دین کو مکمل کر دیا ہے ۔اس کا شکر یوں ادا ہو سکتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے اور ہر معاملے میں اس کی پیروی (اتباع) کی جائے ۔لیکن شیطان انسان کو ہر طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ اس نے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ خیال ڈالا کہ نیک کام زیادہ سے زیادہ ہونے چائییں،لہذا عبادات کی نت نئی صورتیں ایجاد ہوئیں اور دین سمجھ کر انہیں بھی اپنایا جانے لگا۔اسی شئے کو شریعت میں بدعت کہا گیا ہے ۔بدعت در حقیقت بہت بڑا جرم ہے کہ ’تکمیل دین‘ کے الہیٰ انعام کی تکذیب ونا شکری ہے ۔زیر نظر کتاب میں عبادات میں رائج بدعات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ کتاب و سنت سے ان کی تردید کی گئی ہے ۔اصل کتاب عربی میں تھی،جس کا ترجمہ مولف سلفی عالم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے کیا ہے ،جس سے کتاب کی ثقاہت پر مہر تصدیق مثبت ہو گئی ہے ۔
    title-pages-fazail-e-jihad
    حافظ ابوالقاسم ابن عساکر الدمشقی
    اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں جہاد جاری رہا اس وقت تک اسلام کاغلبہ کفار پر پوری آب و تاب سے قائم تھا جونہی مسلمانوں نےاپنی بداعمالیوں اور تعیش پرستی کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا تو ذلت و مسکنت ان کا مقدر بن گئی۔ اور آج عالم اسلام کی حالت زار سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔کفار  ملت واحد بن کر بھیڑیوں کی طرح  اہل اسلام پر ہر طرف سےجھپٹ رہے ہیں اور اُمت مسلمہ دشمن اسلام کے لگائے ہوئے گھاؤ سے گھائل جسم لئے ہوئے سسکیاں لے رہی ہے۔یقیناً جہاد جسےنبیؐ نے اسلام کی  چوٹی کہا ہے جب تک اس علم کو  تھاما نہیں جاتا ۔مسلمانوں کے ذلت و رسوائی اور مسکنت کے ادوار ختم نہیں ہوسکتے۔ زیر نظر کتاب حافظ ابن عساکر کی  جہاد کے فضائل پر چالیس احادیث پر مشتمل مرتبہ ہے۔ ابن عساکر چونکہ احادیث مرتب کرتے ہوئے  روایات کی استنادی حالت کا خیال نہیں رکھتے او رمذکورہ  کتاب میں بھی  انہوں نے ضعیف اور موضوع روایات تک ذکر کردی ہیں چونکہ مجموعی طور پر فضائل جہاد پر اسلاف کی کاوش کا یہ ایک گراں مایہ سرمایہ تھا۔لہٰذا اس کی  افادیت کے پیش نظر حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ان احادیث کی تخریج و تحقیق اور فوائد بھی مرتب کردیئے ہیں۔ حافظ زبیر علی زئی صاحب کے  محتاط قلم سے  روایات پر حکم اور تعلیقات کی وجہ سے  یہ کتاب  علمی ثقاہت کے قابل اعتبار اور منفرد حیثیت اختیار کرگئی ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    fazael-e-darood-o-salalm-2
    اسماعیل بن اسحاق القاضی

    نبی کریم ﷺپر درود پڑھنا آپ ﷺ سے محبت کا اظہار اور ایمان کی نشانی ہے۔درود پڑھنے کے متعدد فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔سیدنا ابو ہریرہ ﷜فرماتے ہیں کہ ﷺنے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ ( مسلم : ۴۰۸)ایک دوسری روایت میں نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘ (صحیح الجامع : ۶۳۵۹)سیدنا ابی بن کعب﷜فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺسے کہا:’’اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ پر زیادہ درود پڑھتا ہوں ،تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں آپ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ ﷺنے فرمایا :جتنا چاہو۔ میں نے کہا : چوتھا حصہ؟ آپ ﷺنے فرمایا :جتنا چاہواور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ آپ ﷺنے فرمایا:جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : دو تہائی ؟ آپ ﷺنے فرمایا : چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا : میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تب تمھیں تمھاری پریشانی سے بچا لیا جائے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ایک روایت ہے میں ہے: تب تمھیں اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت کی پریشانیوں سے بچا لے گا۔‘‘ (ترمذی : ۲۴۵۷ ، وصححہ الالبانی)لیکن درود وہ قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اور آپ ﷺ نے وہ صحابہ کرام ﷢کو سکھلایا ہو۔درود لکھی ،درود تنجینا،درود ہزاری اور درود تاج جیسےآج کل کے من گھڑت درودوں کی اللہ تعالی ہاں کوئی حیثیت نہیں ہے ،کیونکہ یہ اس کے حبیب سے ثابت نہیں ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"فضائل درود وسلام"امام اسماعیل بن اسحاق القاضی﷫ کی کتاب "فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ" کا اردوترجمہ ہے۔اردو ترجمہ وتحقیق کی سعادت جماعت اہل حدیث کے معروف عالم ومحقق مولانا زبیر علی زئی ﷫نے حاصل کی ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب میں درود کے حوالے سے تمام ذیلی مباحث کا تفصیلی احاطہ کیا ہے،اور درود وسلام کی صحیح روایات،درود وسلام کی ضعیف روایات،اور درودوسلام کے بعض مسائل وغیرہ جیسی مباحث کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم دونوں کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title
    امام مالک بن انس
    دینا جہاں میں صرف اسلام ہی وہ دین ہےکہ جس کی تمام تر تعلیمات قرآن وحدیث کی صورت میں صحیح وسالم اور محفوظ ہیں یہ شرف بھی اسلام کے حصےمیں آیاہے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود رب العالمین نے دے رکھی ہے شریعت اسلامیہ چونکہ آخرت تک کےتمام ادوار ومراحل کو محیط ہے لہذا اسے اس جامع انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ کسی دور میں بھی کوئی نام نہاد اسکالر،دانشور،مفکر،مدبریا متجدد اجادیث سے منحرف ہوکر عقلی وذہنی اختراعات یا اپنے ذاتی فہم کو جز ولازم  قرار نہ دے سکے ۔اس سے انکار کی مجال نہیں کہ مختلف قرون میں مختلف  انداز سے کئی قسم کے فتنوں سے جنم لیا ہے لیکن یہ بھی ایک لاریب حقیقت ہے کہ ایسے لوگوں کاوجود عارضی ہوا کرتاہے ۔ان کے نام ونشان تک مٹ جایا کرتے ہیں اور اس کے بر عکس احادیث کی خدمت میں لیل ونہار گزارنے والے محدثین عظام،آئمہ دین اور ان کےجانشین علمائے کرام آج بھی عالم افق پر نمایاں ہیں اور قیامت تک رہیں گے(ان شاء اللہ )انہیں محدثین میں سے ایک امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ تھے جنھوں نے ہر قسم کی آزمائش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یکجاکرکے ’’المؤطا‘‘کے نام سے لوگوں میں روشناس کرایا۔اس کتاب کی عربی شروحات وتعلیقات کی صورت میں بہت خدمت کی گئی ہے۔
    اہم نوٹ
    حدیث کی اس اہم ترین کتاب کو ان شاء اللہ اردو یونیکوڈ میں ٹائپ کرنے کا ارادہ ہے۔ جو احباب اس ٹائپنگ کے کام میں تعاون کر سکتے ہوں وہ ہم سےاس ای میل ایڈریس پر رابطہ فرمائیں۔ webmaster (at) KitaboSunnat.com
    title-pages-nabi-kareem-saww-k-lail-w-nihar-copy
    امام حسین بن مسعود البغوی

    رہبرانسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔سیرت نبویﷺ کا سب سے اعلیٰ اور مستند شاہکار قرآن مجید کی آیات بینات ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد صحابہ کرام بھی سیرت نبویﷺ کے عکاس اورترجمان ہیں ۔آپ ﷺ کی اتباع نے ان کی زندگیوں اورسیرتوں کو تبدیل کردیا تھا جس کے باعث انہیں راشدون، صادقوں، فائزون اور مفلحون جیسے القاب عطاکیے گئے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔مشہور تابعی عروہ بن زبیر بن عوام ﷫ اولین سیرت نگار ہیں کہ جن کی ’’مغازی رسولﷺ‘‘ کا متن آج بھی ہمارے پاس محفوظ اورموجود ہے ۔سیرت نگار ی کے ضمن میں ایک باب تراجم کابھی ہے ۔ مختلف زبانوں میں سیرت کے بہت سےتراجم اردو زبان میں ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں عربی زبان کی کتب سیرت کے اردو تراجم باقی زبانوں پر مقدار او رمعیار ہر دو اعتبار سے فوقیت رکھتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نبی کریم ﷺ کے لیل ونہار‘‘امام حسین بن مسعود بغوی ﷫ کی سیرت کے موضوع پر عربی کتاب ’’ الانوار فی شمائل نبی المختار‘‘ کاترجمہ ہے ۔اس کتاب میں وقائع سیرت او رسوانح کی بجائے آپ ﷺ کی عملی سیرت اور آداب وشمائل کے مختلف پہلوؤں کو بارہ ابواب میں تقسیم کیاگیا ہے ۔ان بارہ ابواب کے مطالعے سے سیرت نبویﷺ کا ایک ایسا نقشہ سامنے آتا ہے جس میں ایک عملی دلآویزی اور جمال آفریں کشش محسوس ہوتی ہے ۔اس کتاب سیرت کا سب سےبڑا وصف واقعات کی صحت اور استناد ہے ۔مترجم کتاب محترم جناب حافظ زبیر علی زئی ﷫ نے ترجمہ کے ساتھ حوالوں کی تخریج کا اہتمام کر کے کتاب کی علمی اہمیت میں اضافہ کیا ہے ۔ترجمے کا اسلوب دل نشیں اور شگفتہ ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-nasr-ul-baari-fi-tahqiq-juz-al-qarata-lil-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    دين اسلام میں جس طرح نماز کی اہمیت مسلمہ ہے بالکل اسی طرح نماز کے اندر سورۃ فاتحہ کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے- كتاب وسنت كی نصوص اس سلسلے میں واضح راہنمائی فراہم کرتی ہیں اگر کوئی شخص غیر جانبداری سے ان کا مطالعہ کرے تویقینا راہ صواب اس کی منتظر ہے-علمائے اسلام کی جانب سے اس موضوع پر بہت سی کتب منظر عام پر آئیں-اس سلسلے میں امام بخاری نے ایک کتاب جزء القراء ۃ للبخاری کے نام سے تصنیف کی – جس میں انہوں نے فاتحہ خلف الامام کو موضوع بحث بناتے ہوئے تفصیل کے ساتھ اپنی علمی آراء کا اظہار فرمایا-حافظ زبیر علی زئی نے اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے امام صاحب کی  کتاب کا ترجمہ، تحقیق ، تعلیقات اور اضافہ جات کے ساتھ انتہائی سادہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے اتمام حجت  کیا ہے-اس سلسلے میں انہوں نے احادیث مرفوعہ،آثار صحابہ،آثار التابعین اور اس ضمن میں علماء کرام کا تذکرہ کر کے ثابت کیاہے کہ کسی بھی مرفوع حدیث میں فاتحہ خلف الامام کی ممانعت وارد نہیں ہوئی-فاتحہ خلف الامام کی ممانعت میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی  ہیں وہ صحیح نہیں ہیں یا ان کی اصل نہیں- مصنف نے کتاب میں فاتحہ خلف الامام کے اثبات پر دلائل کے انبار لگاتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ نماز کا لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر نماز کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-kitab-al-arbain
    امام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ
    شیخ السلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے عہد کے وہ عظیم محدث ، مجتہد ، مجاہد ، مفتی اور غیور ناقد تھے جنہوں نے موقع کی مناسبت سے باطل مذاہب ومسالک کے ردود بھی لکھے اور فلسفیانہ ومنطقیانہ موشگافیوں کی اصل حقیقت بھی واضح فرمائی ، نیز عوام کے مسائل ہوں یا علما کی  ذہنی   الجھنیں ، آپ نے اپنے فتاوی کے ذریعے سے ان کا بہترین حل پیش جو آج  بھی اس راہ کے راہیوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ شیخ السلام کی ساری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے آپ نے اپنے دور میں کتاب و سنت کی ترجمانی کی ، دین اسلام کی برتری اور اہل حق کی علمبرداری خود پر لازم کر رکھی تھی ۔ آپ نے جہاں  عقائد باطلہ اور فرق ضالہ کے خلاف قلمی جہاد کیا ، وہاں اخلاقیات ، عبادات ، معاملات اور حقوق وآداب پر بھی کئی کتابیں تحریر کیں ہیں ۔ انہیں میں سے ایک تصنیف لطیف کتاب الاربعین ہے جس میں ایک اسلامی زندگی کے مذکورہ گوشوں پر بڑی خوش اسلوبی سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کتاب کو محترم حافظ زبیر علی زئی نے اردو قالب میں  ڈھال کر اعلی تحقیق و تخریج سے مزین کیا ہے ، نیز مختصر جمع و فوائد اس پرطرہ ہیں ۔ محترم حافظ  صاحب دور حاضر میں حقیقی علمی درد رکھنے والے ہیں ۔ اللہ ان کی  دینی خدمات قبول فرمائے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-azwah-al-masabih-fi-tahkik-mishkat-masabih
    شیخ ولی الدین الخطیب التبریزی
    مشکوٰۃ المصابیح مسائل میں احادیث کاوہ بہترین مجموعہ ہے کہ جس میں محمد بن عبداللہ التبریزی نے بہترین ترتیب کے ساتھ مسند کتب حدیث سےسينكڑوں روایات کومتعلقہ مسائل کےتحت نقل کردیا ہے۔مشکوٰۃ کی تخریج و تحقیق اگرچہ علامہ ناصر الدین البانی کر چکے ہیں۔ او راب حافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ جو کہ فن اسماء الرجال میں منجھی ہوئی شخصیت ہیں ۔زیر نظر کتاب انہی کی تخریج و تحقیق او رفوائد پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے مشکوٰۃ میں درج ہر حدیث کا فن جرح و تعدیل کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ان پر  صحت و ضعف کا حکم لگایا ہے۔ احادیث کی استنادی حالت کو جانچنے کے لیےنہایت عمدہ تحریر ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-balon-ka-mamla-copy
    ابن بشیر الحسینوی

    اسلام ایک کامل واکمل دین ہے جس نے انسانوں کی ہرموڑپر رہنمائی کی ہے او رزندگی گزارنے کے تمام سلیقے سکھائے ہیں۔ چھوٹے  سے چھوٹے  مسئلے پر بھی تفصیلی بحث  کی ہے ان میں سے ایک اہم  مسئلہ  بالوں کا ہے۔اس موضوع پر مشاہیرِ اسلام نےاپنے  اپنے  انداز میں لکھا مگر وہ موتی کتب فقہ واحادیث  میں بکھرے ہوئے ہیں ۔ اس  مصروف اور ہیجان انگیز دور میں عام  آدمی کےلیے  ان سب کا چننا اور پھر انہیں ایک لڑی میں پرونا بہت مشکل ہے۔  زیر تبصرہ کتاب ’’بالوں کا معاملہ ‘‘ کے مصنف  جنا ب ابن بشیر حسینوی  ﷾ نے نہایت خوبصورتی اوراختصار کے ساتھ قرآنی آیات ، صحیح احادیث اور آثار صحابہ کے  حوالوں سے عام فہم اور دلنشیں انداز میں  بالوں کا معاملہ مختلف ابواب میں تقسیم کر کے  ان پر روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے مسلمان مرد کےبالوں کےاحکام ، کنگھی کرنے کےآداب، کن صورتوں میں بال منڈوانا جائز ہے ؟کن حالتوں میں بال کٹوانا ممنوع ہے ؟ سفید بالوں کا  کیا حکم ہے ؟ وضومیں سر کا مسح، نومسلم کےبالوں کا  حکم ، بچے اور عورت کےبالوں کے احکام  ،ابرؤوں کے بالوں کےاحکام ،رخساروں کے بال،الغرض بالوں کے متعلقہ تقریبا 137 احکام پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا ہے ۔ جو کہ انتہائی  قابل قدر  وقابل تحسین ہے ۔ محترم ابن بشیر حسنیوی صاحب  نے ثانوی کی تعلیم جامعہ لاہور الاسلامیہ سے حاصل کی پھر جامعہ التربیۃ الاسلامیہ ، فیصل آباد میں داخلہ  لیااور سندفراغت  حاصل کی پھر تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے  میدان  میں مصروف ہوگے   اور ماشاء اللہ ان کے  کئی مضامین   جماعت کے علمی  رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔اور اب مرکز امام احمد بن حنبل کےنام سےایک دینی ادارے  کے  مدیر ومنتظم او رساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کاکام بھی کررہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں اضافہ فرمائے  (آمین)  (م۔ا)

    title-pages-hajji-k-shabo-rooz-copy
    ابو عبد اللہ خالد بن عبد اللہ الناصر

    حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن  ہے ۔ بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز  روزہ  صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ  فقط مالی عبادت ہے ۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی  اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے ۔ جج کرنے  سے پہلے  حج  کے طریقۂکار  سےمکمل آگاہی  ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’ حاجی کے شب وروز ‘‘ شیخ خالد  بن عبد اللہ  الناصر کی عربی کتاب ’’ المنہاج فی یومیات الحاج‘‘ کا  ترجمہ ہے   ۔ محدث العصر   حافظ زبیرعلی زئی ﷫ نے  اسے ’’ حاجی  کے شب و روز کے  نام سے اردو  کے بہترین قالب میں ڈھالا ہے ۔ اور اس میں بعض انتہائی  ضروری مسائل کا اضافہ کردیا ہے جس  سے کتاب کی قدر وقیمت میں  مزید اضافہ  ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اہل اسلام کے لیے  راہنما بنائے اور اس کتاب کے مرتبین کو اس کابہترین اجر وثواب عنائیت فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-hisn-ul-muslim
    سعید بن علی بن وہف القحطانی
    قرآن و حدیث میں دعا کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر و نمایاں کیا گیاہے۔دعا دراصل خدا کے حضور اپنی لاچاری،بے بسی اور عاجزی کا اقرار اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اعتماد وتوکل کا اظہار ہے۔یہی وجہ ہے کہ دعا نہ کرنے والوں کو متکبر قرار دیا گیا ہے۔دعا کی اہمیت کے پیش نظر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو زندگی کے ہر موقع سے متعلق دعائیں سکھائی ہیں،جوکہ کتب احادیث میں مذکور ہیں۔’حصن المسلم‘میں انہی دعاؤں کو جمع کر دیا گیا ہے۔یہ مجموعہ اصلاً ایک عربی عالم نے جمع کیا ہے،لہذا اس کا ترجمہ بھی ضروری تھا تاکہ اردو دان طبقہ ان دعاؤں کے معانی سے بھی واقف ہو سکتا۔چنانچہ جناب عبدالحمید سندھی نے یہ ضرورت بھی پوری کر دی اور تمام دعاؤں کا اردو ترجمہ کردا۔اس مجموعہ دعا کے مختلف ایڈیشن بازار میں دستیاب ہیں۔تاہم اس ایڈیشن کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تحقیق و تخریج محدث زماں حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے کی ہے۔(ط۔ا)

    title-pages-sabeelul-momineen-copy
    ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    اسلام اعلی اخلاقیات کا حامل مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلی اخلاق اور بلند کردار اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اورانہیں بد اخلاقی اور بد کرداری سے منع کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ اخلاقیات کے اعلی ترین مقام پر فائز تھے،اللہ تعالی نے آپ کو اخلاق کا بہترین نمونہ اور پیکر بنا کر بھیجا تھا۔کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز تھے۔ اس کی گواہی قرآن نے بھی دی اور صحابہ و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے بھی۔ یہاں تک کہ آپ کے بدترین مخالفین،جنہوں نے آپ پر طرح طرح کے الزامات تو لگائے لیکن کبھی آپ کی سیرت اور کردار کی بابت ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے۔حیرت کا مقام ہے کہ آپ کے ہم عصر مخالفین تک آپ کو اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل گردانتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب " سبیل المومنین" محترم جناب ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی تصنیف ہے  جبکہ تحقیق وتخریج محترم مولانا حافظ زبیر علی زئی صاحب﷫ کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں انتہائی سادہ لیکن مؤثر انداز میں اسلام  کے اخلاق و کردار کے اسباق کو بیان کیا ہے۔مولف موصوف نے انتہائی اختصار کے ساتھ اخلاقیات  کے دروس کو ایک ترتیب سے مرتب کر دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

    title-page-sunan-ibne-maja-1
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

    title-pages-sunan-ibne-maja-2
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

    title-pages-sunan-ebn-e-maja-3
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

    title-pages-sunan-ebn-e-maja-4
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

    title-pages-sunan-ebn-e-maja-5
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

    title-page-abo-dawood-1
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

    title-page-abo-dawood2
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

    title-page-abo-dawood-jild-3
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

    title-pages-abo-dawood-jilad-4
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

    title-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-2
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-3
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-6
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-5
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-4
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-7
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-shrha-arbaen-nowi-copy
    ابو زکریّا یحیٰ بن شرف النووی الدمشقی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکی ہیں ۔زیر نظر شرح بھی  اسی سلسلے  کی ایک اہم کڑی ہے ۔جس میں احادیث کا ترجمہ  فوائد وتشریح انڈیا  کے جید عالم دین   شیخ  عبد الہادی عبد الخالق مدنی ﷾کی  کاوش ہے۔انہوں نے  آسان فہم انداز میں  بھر پور ترجمانی کی  ہے اورعلمی واصلاحی فوائد تحریر کیے ہیں ۔اس کتاب کی اہم خوبی ہرروایت  کی تخریج کےساتھ ساتھ  صحت وسقم کے اعتبار سے ہر روایت پر محدث العصر حالظ زبیر علی زئی﷫ کا نمایاں  حکم ہے ۔نیز احادیث کے متن کے لیے  دار المہناج بیروت  سے شائع شدہ اربعین نووی کے محقق نسخے  کو اصل قرار دیا گیا ہے ۔ جسے محققین نے  تین  قلمی نسخوں کی روشنی میں مرتب کیا ہے ۔اور اسی طرح فاضل نوجوان  مولانا عبد اللہ یوسف ذہبی﷾ (ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل سائنسز) نے  اپنے رفقاء کے ساتھ بڑی محنت وجانفشانی سے اس کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے  ہر ممکن کوشش کی ہے ۔جس سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو طباعت کے  لیے تیار کرنے والے  تمام احباب کوجزائے خیر عطا فرمائے  ، ان کی دین ِاسلام کی اشاعت  وترویج کے لیے محنتوں کوقبول فرمائے  اور اس کتاب کو  عوام وخواص کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-shamael-e-tirmazi--zubair-ali-zai--copy
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی

    انسانیت کے انفرادى معاملات سے لے کراجتماعى بلکہ بین الاقوامى معاملات اورتعلقات کا کوئی ایسا گوشہ نہیں کہ جس کے متعلق پیارے پیغمبرﷺ نے راہنمائی نہ فرمائی ہو، کتبِ احادیث میں انسانى زندگی کا کوئی پہلو تشنہ نہیں ہے یعنى انفرادى اور اجتماعی سیرت واخلاق سے متعلق محدثین نے پیارے پیغمبر ﷺ کے فرامین کی روشنى میں ہر چیز جمع فرمادی ہے۔کتب ِ سیرت او رکتب ِ شمائل میں فرق یہ ہے کہ کتب سیرت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ہر بات خوب وضاحت سے بیان کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہجرت جہاد وقتال ،غزوات ، دشمن کی طرف سے مصائب وآلام، امہات المومنین کابیان اور صحابہ کرام کے تذکرے وغیرہ ۔جبکہ شمائل وخصائل کی کتب میں صرف آپﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی موضوع ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ کا چلنا پھرنا، آپ کا کھانا پینا آپ کی زلفوں کے تذکرے ، آپ کےلباس اور بالوں وغیرہ کے بیانات جو اصلاح فرد کےلیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔اسی لیے ائمہ محدثین نے اس طرف بھی خوصی توجہ کی ہے مثلاً امام اورامام ترمذی نے اس موضوع پر الگ سے کتب تصنیف ہیں۔ شمائل ترمذی پا ک وہند میں موجو د درسی جامع ترمذی کے آخر میں بھی مطبوع ہے۔ جسے مدارسِ اسلامیہ میں طلباء کو سبقا پڑھایاجاتا ہے ۔ اور اسے شمائل محمدیہ کےنام سے الگ بھی شائع کیا گیا ہے علامہ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ وغیرہ نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا ہے ۔اور کئی اہل علم نے اسے اردو دان طبقہ کے لیے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ شمائل ترمذی‘‘ امام ترمذی ﷫ کی نبی کریم ﷺ کی خصائل وعادات پر مشمتل کتاب ہے ۔اس کتاب میں امام ترمذی ﷫نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول ﷺكے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات ‏کو احادیث کی روشنى میں جمع کردیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- ‏سیّد کائنات ﷺ کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے ‏تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ زیر تبصرہ شمائل ترمذی کے ترجمہ وتحقیق وفوائد کا کام حافظ زبیر علی زئی ﷫ نے کیا ہے۔یہ ترجمہ حسب ذیل(دو مستند نسخوں سے سند متن کی تصحیح، ہر روایت کی بہترین تخریج، صحت وضعف کے اعتبار سے ہر حدیث پر حکم، آسان فہم ترجمہ، مختصر مگر جامع ونافع فوائد) خوبیوں کےباعث دیگر تراجم سے ممتاز ہے ۔شیخ الحدیث حافظ عبد الحمید ازہر ،حافظ ندیم ظہیر حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے میں شامل تمام افراد کی مخت کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اہل ایمان کو سیرت طیبہ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-fazail-e-jihad
    حافظ ابوالقاسم ابن عساکر الدمشقی
    اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں جہاد جاری رہا اس وقت تک اسلام کاغلبہ کفار پر پوری آب و تاب سے قائم تھا جونہی مسلمانوں نےاپنی بداعمالیوں اور تعیش پرستی کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا تو ذلت و مسکنت ان کا مقدر بن گئی۔ اور آج عالم اسلام کی حالت زار سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔کفار  ملت واحد بن کر بھیڑیوں کی طرح  اہل اسلام پر ہر طرف سےجھپٹ رہے ہیں اور اُمت مسلمہ دشمن اسلام کے لگائے ہوئے گھاؤ سے گھائل جسم لئے ہوئے سسکیاں لے رہی ہے۔یقیناً جہاد جسےنبیؐ نے اسلام کی  چوٹی کہا ہے جب تک اس علم کو  تھاما نہیں جاتا ۔مسلمانوں کے ذلت و رسوائی اور مسکنت کے ادوار ختم نہیں ہوسکتے۔ زیر نظر کتاب حافظ ابن عساکر کی  جہاد کے فضائل پر چالیس احادیث پر مشتمل مرتبہ ہے۔ ابن عساکر چونکہ احادیث مرتب کرتے ہوئے  روایات کی استنادی حالت کا خیال نہیں رکھتے او رمذکورہ  کتاب میں بھی  انہوں نے ضعیف اور موضوع روایات تک ذکر کردی ہیں چونکہ مجموعی طور پر فضائل جہاد پر اسلاف کی کاوش کا یہ ایک گراں مایہ سرمایہ تھا۔لہٰذا اس کی  افادیت کے پیش نظر حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ان احادیث کی تخریج و تحقیق اور فوائد بھی مرتب کردیئے ہیں۔ حافظ زبیر علی زئی صاحب کے  محتاط قلم سے  روایات پر حکم اور تعلیقات کی وجہ سے  یہ کتاب  علمی ثقاہت کے قابل اعتبار اور منفرد حیثیت اختیار کرگئی ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-fazail-e-sihaba-sahih-riwayat-ki-roshni-me
    حافظ شیر محمد
    ’صحابہ‘کا لفظ ’صحابی‘کی جمع ہے ،جس کے معنی ساتھی کے ہیں۔اصطلاحی اعتبار سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین وہ خوش قسمت ہستیاں ہیں،جنہیں جناب رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر انوار کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔یہی وہ پاکباز گروہ ہے،جس نے قرآن وحدیث کی تعلیمات آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیا،رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع و تحفظ کیا اور پوری دنیا میں خدا کے کلمے کو سربلند کرنے کےلیے تن،من،دھن کی قربانی دی۔ان کی انہیں عظیم الشان خدمات کی بنا پر خداوند قدوس کی بارگاہ  سے انہیں ’رضی اللہ عنہم‘کی سند عطا ہوئی۔ان سے محبت کو دین کا جزو قرار دیا گیا اور ان سے نفرت یا بغض کو نفاق و طغیان سے تعبیر کیا گیا۔اپنے ذہنوں کو حب صحابہ رضی اللہ عنہم سے معمور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے فضائل و مناقب سے واقفیت حاصل کی جائے ،جس کے لیے زیر نظر کتاب کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا۔اس کتاب کی تحقیق و نظر ثانی محدث زماں حافظ زبیر علی زئی نے کی ہے اور اس میں محض صحیح روایات ہی پر اعتماد کیا گیا ہے جس سے یہ ایک مستند مجموعہ فضائل منظر عام پر آیا ہے۔(ط۔ا)

    title
    امام مالک بن انس
    دینا جہاں میں صرف اسلام ہی وہ دین ہےکہ جس کی تمام تر تعلیمات قرآن وحدیث کی صورت میں صحیح وسالم اور محفوظ ہیں یہ شرف بھی اسلام کے حصےمیں آیاہے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود رب العالمین نے دے رکھی ہے شریعت اسلامیہ چونکہ آخرت تک کےتمام ادوار ومراحل کو محیط ہے لہذا اسے اس جامع انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ کسی دور میں بھی کوئی نام نہاد اسکالر،دانشور،مفکر،مدبریا متجدد اجادیث سے منحرف ہوکر عقلی وذہنی اختراعات یا اپنے ذاتی فہم کو جز ولازم  قرار نہ دے سکے ۔اس سے انکار کی مجال نہیں کہ مختلف قرون میں مختلف  انداز سے کئی قسم کے فتنوں سے جنم لیا ہے لیکن یہ بھی ایک لاریب حقیقت ہے کہ ایسے لوگوں کاوجود عارضی ہوا کرتاہے ۔ان کے نام ونشان تک مٹ جایا کرتے ہیں اور اس کے بر عکس احادیث کی خدمت میں لیل ونہار گزارنے والے محدثین عظام،آئمہ دین اور ان کےجانشین علمائے کرام آج بھی عالم افق پر نمایاں ہیں اور قیامت تک رہیں گے(ان شاء اللہ )انہیں محدثین میں سے ایک امام مالک بن انس المدنی رحمہ اللہ تھے جنھوں نے ہر قسم کی آزمائش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو یکجاکرکے ’’المؤطا‘‘کے نام سے لوگوں میں روشناس کرایا۔اس کتاب کی عربی شروحات وتعلیقات کی صورت میں بہت خدمت کی گئی ہے۔
    اہم نوٹ
    حدیث کی اس اہم ترین کتاب کو ان شاء اللہ اردو یونیکوڈ میں ٹائپ کرنے کا ارادہ ہے۔ جو احباب اس ٹائپنگ کے کام میں تعاون کر سکتے ہوں وہ ہم سےاس ای میل ایڈریس پر رابطہ فرمائیں۔ webmaster (at) KitaboSunnat.com
    title-pages-mishkat-ul-masabeeh-abu-anas-copy
    شیخ ولی الدین الخطیب التبریزی

    مشکوٰۃ المصابیح  حدیث کی ایک  معروف کتاب ہے۔ جسے  اس کی تالیف کے دور سے ہی اس قدرشرفِ قبولیت حاصل ہے  کہ بہت سے لوگوں نے اس کی شروحات ،تعلیقات اور حواشی لکھے حتی خود مصنف کے استاذ محترم  نے بھی اپنے لائق  شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا  نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے او ربہت سے دینی مدارس میں یہ  کتاب شاملِ  نصاب ہے ۔اس لیے  بہت سے اہل علم نے  اس کی عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی  لکھے ہیں ۔ صاحب  مشکوٰۃ نے  احادیث مشکوٰۃ کے راویوں اورمخرجین کے علاوہ ااحادیث کےضمن میں آنے والی شخصیات کا بھی ایک الگ کتاب میں بالاختصار تذکرہ کیا ہے  جس کا نام ’’ الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ہے مدارسِ اسلامیہ میں پڑھائے جانے والے درسی نسخہ کےآخر میں یہ کتاب مطبوع ہے ۔مشکوٰۃ پڑھنے والے ہر شخص کےلیے  ’’الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ کاپڑھنا  از حد ضروری ہے۔زیر تبصرہ  ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے ترجمہ کے فرائض پروفیسر ابوانس محمد سرور گوہر نے سرانجام دئیے ہیں۔اور  انتہائی سلیس اور رواں ترجمہ پوری  احیتاط کےساتھ کیاہے۔اس ترجمہ کی  نظر ثانی شارح صحیح بخاری ،مفتی جماعت    شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے  انتہائی  ذمہ داری سے   ادا کی  ہے۔ اور احادیث کی تخریج وتحقیق کا فریضہ عصر ِحاضر کےعظیم محقق علامہ حافظ زبیر علی زئی نے عرق ریزی سے سرانجام دیا ہے ۔اوراس  میں  شامل اشاعت  الاکمال کاترجمہ معروف اسلامی سکالر ومضمون نگار ،مترجم کتب کثیرہ  پروفیسر ابو حمزہ سعیدمجتبیٰ السعیدی (سابق استاذ حدیث جامعہ لاہورالاسلامیہ ،ورکن مجلس ادارت ماہنامہ  محدث،لاہور) کےقلم ہوا ہے  ۔کتاب  ہذا پر مذکورہ  معروف  علمی  شخصیات  کے کام کی وجہ  سے زیر تبصرہ ایڈیشن منفرد خصوصیات کا حامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کےمصنف،مترجم، محقق ،ناشرین اور  کتاب کو تیار کرنے والے دیگر اہل علم کی  کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے  نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    title-pages-mishkat-ul-masabeeh-abu-anas-copy
    شیخ ولی الدین الخطیب التبریزی

    مشکوٰۃ المصابیح  حدیث کی ایک  معروف کتاب ہے۔ جسے  اس کی تالیف کے دور سے ہی اس قدرشرفِ قبولیت حاصل ہے  کہ بہت سے لوگوں نے اس کی شروحات ،تعلیقات اور حواشی لکھے حتی خود مصنف کے استاذ محترم  نے بھی اپنے لائق  شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا  نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے او ربہت سے دینی مدارس میں یہ  کتاب شاملِ  نصاب ہے ۔اس لیے  بہت سے اہل علم نے  اس کی عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی  لکھے ہیں ۔ صاحب  مشکوٰۃ نے  احادیث مشکوٰۃ کے راویوں اورمخرجین کے علاوہ ااحادیث کےضمن میں آنے والی شخصیات کا بھی ایک الگ کتاب میں بالاختصار تذکرہ کیا ہے  جس کا نام ’’ الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ہے مدارسِ اسلامیہ میں پڑھائے جانے والے درسی نسخہ کےآخر میں یہ کتاب مطبوع ہے ۔مشکوٰۃ پڑھنے والے ہر شخص کےلیے  ’’الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ کاپڑھنا  از حد ضروری ہے۔زیر تبصرہ  ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے ترجمہ کے فرائض پروفیسر ابوانس محمد سرور گوہر نے سرانجام دئیے ہیں۔اور  انتہائی سلیس اور رواں ترجمہ پوری  احیتاط کےساتھ کیاہے۔اس ترجمہ کی  نظر ثانی شارح صحیح بخاری ،مفتی جماعت    شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے  انتہائی  ذمہ داری سے   ادا کی  ہے۔ اور احادیث کی تخریج وتحقیق کا فریضہ عصر ِحاضر کےعظیم محقق علامہ حافظ زبیر علی زئی نے عرق ریزی سے سرانجام دیا ہے ۔اوراس  میں  شامل اشاعت  الاکمال کاترجمہ معروف اسلامی سکالر ومضمون نگار ،مترجم کتب کثیرہ  پروفیسر ابو حمزہ سعیدمجتبیٰ السعیدی (سابق استاذ حدیث جامعہ لاہورالاسلامیہ ،ورکن مجلس ادارت ماہنامہ  محدث،لاہور) کےقلم ہوا ہے  ۔کتاب  ہذا پر مذکورہ  معروف  علمی  شخصیات  کے کام کی وجہ  سے زیر تبصرہ ایڈیشن منفرد خصوصیات کا حامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کےمصنف،مترجم، محقق ،ناشرین اور  کتاب کو تیار کرنے والے دیگر اہل علم کی  کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے  نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    title-pages-mishkat-ul-masabeeh-abu-anas-copy
    شیخ ولی الدین الخطیب التبریزی

    مشکوٰۃ المصابیح  حدیث کی ایک  معروف کتاب ہے۔ جسے  اس کی تالیف کے دور سے ہی اس قدرشرفِ قبولیت حاصل ہے  کہ بہت سے لوگوں نے اس کی شروحات ،تعلیقات اور حواشی لکھے حتی خود مصنف کے استاذ محترم  نے بھی اپنے لائق  شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا  نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے او ربہت سے دینی مدارس میں یہ  کتاب شاملِ  نصاب ہے ۔اس لیے  بہت سے اہل علم نے  اس کی عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی  لکھے ہیں ۔ صاحب  مشکوٰۃ نے  احادیث مشکوٰۃ کے راویوں اورمخرجین کے علاوہ ااحادیث کےضمن میں آنے والی شخصیات کا بھی ایک الگ کتاب میں بالاختصار تذکرہ کیا ہے  جس کا نام ’’ الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ہے مدارسِ اسلامیہ میں پڑھائے جانے والے درسی نسخہ کےآخر میں یہ کتاب مطبوع ہے ۔مشکوٰۃ پڑھنے والے ہر شخص کےلیے  ’’الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ کاپڑھنا  از حد ضروری ہے۔زیر تبصرہ  ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے ترجمہ کے فرائض پروفیسر ابوانس محمد سرور گوہر نے سرانجام دئیے ہیں۔اور  انتہائی سلیس اور رواں ترجمہ پوری  احیتاط کےساتھ کیاہے۔اس ترجمہ کی  نظر ثانی شارح صحیح بخاری ،مفتی جماعت    شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے  انتہائی  ذمہ داری سے   ادا کی  ہے۔ اور احادیث کی تخریج وتحقیق کا فریضہ عصر ِحاضر کےعظیم محقق علامہ حافظ زبیر علی زئی نے عرق ریزی سے سرانجام دیا ہے ۔اوراس  میں  شامل اشاعت  الاکمال کاترجمہ معروف اسلامی سکالر ومضمون نگار ،مترجم کتب کثیرہ  پروفیسر ابو حمزہ سعیدمجتبیٰ السعیدی (سابق استاذ حدیث جامعہ لاہورالاسلامیہ ،ورکن مجلس ادارت ماہنامہ  محدث،لاہور) کےقلم ہوا ہے  ۔کتاب  ہذا پر مذکورہ  معروف  علمی  شخصیات  کے کام کی وجہ  سے زیر تبصرہ ایڈیشن منفرد خصوصیات کا حامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کےمصنف،مترجم، محقق ،ناشرین اور  کتاب کو تیار کرنے والے دیگر اہل علم کی  کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے  نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    title-pages-nasr-ul-baari-fi-tahqiq-juz-al-qarata-lil-bukhari
    محمد بن اسماعیل بخاری

    دين اسلام میں جس طرح نماز کی اہمیت مسلمہ ہے بالکل اسی طرح نماز کے اندر سورۃ فاتحہ کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے- كتاب وسنت كی نصوص اس سلسلے میں واضح راہنمائی فراہم کرتی ہیں اگر کوئی شخص غیر جانبداری سے ان کا مطالعہ کرے تویقینا راہ صواب اس کی منتظر ہے-علمائے اسلام کی جانب سے اس موضوع پر بہت سی کتب منظر عام پر آئیں-اس سلسلے میں امام بخاری نے ایک کتاب جزء القراء ۃ للبخاری کے نام سے تصنیف کی – جس میں انہوں نے فاتحہ خلف الامام کو موضوع بحث بناتے ہوئے تفصیل کے ساتھ اپنی علمی آراء کا اظہار فرمایا-حافظ زبیر علی زئی نے اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے امام صاحب کی  کتاب کا ترجمہ، تحقیق ، تعلیقات اور اضافہ جات کے ساتھ انتہائی سادہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے اتمام حجت  کیا ہے-اس سلسلے میں انہوں نے احادیث مرفوعہ،آثار صحابہ،آثار التابعین اور اس ضمن میں علماء کرام کا تذکرہ کر کے ثابت کیاہے کہ کسی بھی مرفوع حدیث میں فاتحہ خلف الامام کی ممانعت وارد نہیں ہوئی-فاتحہ خلف الامام کی ممانعت میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی  ہیں وہ صحیح نہیں ہیں یا ان کی اصل نہیں- مصنف نے کتاب میں فاتحہ خلف الامام کے اثبات پر دلائل کے انبار لگاتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ سورۃ فاتحہ نماز کا لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر نماز کو مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    آج نماز کے حوالے سے بہت سی کتابیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی جن میں نہ صرف اپنے اپنے مسلکوںکا دفاع کیا جاتاہے بلکہ ضعیف اور موضوع روایات درج کرنے میں بھی کسی قسم کے تردد سے کام نہیں لیا جاتاجس وجہ سے عوام لناس میں نماز کی ادائیگی میں بہت تفاوت نظر آتا ہے  اس لیے اس تفاوت کو ختم کرنے اور باہمی اختلاف کو دور کرنے کے لیے ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہے جو بالکل وہ طریقہ ہو جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی ادائیگی فرمائی اور بعد میں صحابہ کرام نے بھی اسی طریقے کو اختیار کیا- زیر نظر کتاب ڈاکٹر سید شفیق الرحمن کی طرف سے نماز نبوی پر لکھی جانے والی ایک بہترین کاوش ہے- ان کا اندازانتہائی آسان اور عام فہم ہے اور نمازکے متعلق تقریباً تمام موضوعات کو جمع کردیا گیا ہے جن میں طہارت کے مکمل مسائل، وضو اور تیمم کا طریقہ اور تکبیر اولی سے سلام تک مکمل نماز نبوی کے ساتھ ساتھ مساجد، اور جنازے کے احکام کا احاطہ کیا گیا ہے-اس کے ساتھ ساتھ نماز معہ کی فرضیت اور اہمیت اور طریقہ ادائیگی کو بیان کیا ہے،نماز کسوف اور خسوف کا طریقہ،میت کے احکام وغیرہ- مزید برآں نماز تہجد، نماز سفر اورسجدہ سہو کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی گئی ہے-جنازے سے متعلقہ جمیع مسائل کا حاطہ کیا گیا ہے اور میت سے متعلقہ امور کی نشاندہی کی گئی ہے- اس کتاب کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف صحیح احادیث سے استدلال کیا گیا ہے- احادیث کی تخریج وتحقیق معروف عالم دین حافظ زبیر علی زئی نے کی ہے

     
    title-pages-kitab-al-arbain
    امام احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ
    شیخ السلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنے عہد کے وہ عظیم محدث ، مجتہد ، مجاہد ، مفتی اور غیور ناقد تھے جنہوں نے موقع کی مناسبت سے باطل مذاہب ومسالک کے ردود بھی لکھے اور فلسفیانہ ومنطقیانہ موشگافیوں کی اصل حقیقت بھی واضح فرمائی ، نیز عوام کے مسائل ہوں یا علما کی  ذہنی   الجھنیں ، آپ نے اپنے فتاوی کے ذریعے سے ان کا بہترین حل پیش جو آج  بھی اس راہ کے راہیوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ شیخ السلام کی ساری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے آپ نے اپنے دور میں کتاب و سنت کی ترجمانی کی ، دین اسلام کی برتری اور اہل حق کی علمبرداری خود پر لازم کر رکھی تھی ۔ آپ نے جہاں  عقائد باطلہ اور فرق ضالہ کے خلاف قلمی جہاد کیا ، وہاں اخلاقیات ، عبادات ، معاملات اور حقوق وآداب پر بھی کئی کتابیں تحریر کیں ہیں ۔ انہیں میں سے ایک تصنیف لطیف کتاب الاربعین ہے جس میں ایک اسلامی زندگی کے مذکورہ گوشوں پر بڑی خوش اسلوبی سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس کتاب کو محترم حافظ زبیر علی زئی نے اردو قالب میں  ڈھال کر اعلی تحقیق و تخریج سے مزین کیا ہے ، نیز مختصر جمع و فوائد اس پرطرہ ہیں ۔ محترم حافظ  صاحب دور حاضر میں حقیقی علمی درد رکھنے والے ہیں ۔ اللہ ان کی  دینی خدمات قبول فرمائے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-islami-wazaif
کتاب وسنت میں مختلف اوراد و وظائف اور ادعیہ منقول ہیں ، جن کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے ۔کیونکہ ذکر الہی اذہان و قلوب کے اطمینان کا باعث،قرب الہی کا ذریعہ ،آفات و مصائب سے بچاؤ کا سبب اور بے تحاشا اجرو ثواب کا ذریعہ ہے ،اس لیے ہمہ وقت  اوراد و اذکار کا اہتما م کرنا چاہیے اور ادعیہ ماثورہ کو زبانی یادکرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔علماء کرام عامۃ الناس کی سہولت کی خاطر دعاؤوں کے موضوع پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں،جن میں سے علامہ عبد السلام بستو ی کی  مایہ ناز کتاب (اسلامی وظائف) ہے۔کتاب ہٰذامختلف اوقات ومقامات کی ادعیہ کا بہتیرین مجموعہ ہے۔پھر سونے پہ سہاگہ یہ کے فضیلۃ الاستاذ حافظ زبیر علی زئی کے شاگرد رشید کی تحقیق وتخریج ہے ، جس نے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں،الغرض یہ ایک عمدہ ترین     کتاب ہے جس سے استفادہ نہایت مفید ہے۔(ف۔ر)
untitled-1

دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

untitled-1

دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

untitled-1

دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

untitled-1

دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

untitled-1

دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

title-page-shari-ahkam-ka-insaiklopeidiya
دینی احکام ومسائل کی معرفت ہرمسلمان کےلیے انتہائی ضروری ہے لیکن اکثر مسلمانوں کو دین کے موٹے موٹے  اور کثیرالاستعمال مسائل  کا بھی علم نہیں ہے  اس کی کئی ایک وجوہات ہیں  اس کمی کو پورا کرنے کےلیے اہل علم دن رات محنت کررہے ہیں  اللہ رب العزت ان تمام علمآء کی محنت کو قبول فرمائے۔اس کتاب میں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح احکام کا انتخاب کیا گیا ہے  اور اس کی تحقیق وتخریج  بھی کی گئی ہے ۔مثلا ً نیت  کے احکام، رات کو پیش آنےوالے 265 مسائل کا شرعی حل ،چہرے کے احکام ،زکوۃ کے احکام اور وقت کے احکام کی مفید مباحث کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سارے احکام  کو بیان کیا گیا ہے۔

copy-of-title-page-sahih-bukhari-ka-mutalia-aur-fitna-inkar-e-hadees
قرآن مجید کے بعد صحیح بخاری سب کتابوں سے زیادہ صحیح کتاب ہے ۔جیسا کہ امت مسلمہ کے متفقہ تلقی بالقبول والے اصول (اصح الکتب بعد کتاب اللہ )اور اجماع سے ثابت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کہ منکرین حدیث نے صحیح بخاری کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور اسی سلسلے میں شبیر احمد ازہر میرٹھی نے ’اسماء الرجال‘کے بھیس میں ’صحیح بخاری کا مطالعہ‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اس عظیم الشان کتاب پر بے جا الزام تراشی کر کے اس کی شان کو گھٹانے کی کوشش کی ہے جو بقول شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ بدعتی ہونے کی نشانی ہے۔زیر نظر کتاب میں فاضل نوجوان حافظ ابو یحیٰ نورپوری نے میرٹھی کی کتاب کا مفصل رد لکھا ہے اور اصول حدیث،علم اسماء الر جال اور اصول محدثین کی روشنی میں اس کی تردید کی ہے تاکہ عامۃ المسلمین منکرین حدیث کے فتنے اور تلبیسات سے محفوظ رہیں۔
title-pages-mashhoor-waqiyat-ki-haqiqat
اسلام واحد آسمانی دین ہے جس کے دلائل و مراجع دستاویزی شکل میں محفوظ ہیں ۔اس کی اہم وجہ تو یہ ہے کہ دین حنیف کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ مالک الملک نے اپنے ذمہ لی ہے۔پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گرامایہ خدمات بھی لائق تحسین ہیں۔انہوں نے احادیث نبویہ کو سینوں اور صحیفوں میں محفوظ کیا۔ان کی روش پہ چلتے ہوئے تابعین ،تبع تابعین اور محدثین نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو حفاظت حدیث کے لیے وقف کر دیا۔اس سب کے باوجود محلدین نے ذخیرہ احادیث میں ضعیف ومن گھڑت احادیث وواقعات کو داخل کرنے کی اپنی سی کوشش کی ۔لیکن محدثین کرام نے ان کی ان چیرہ دستیوں کو تشت از بام کیا اور صحت حدیث کے اتنے زریں اصول مقرر کیے کہ احادیث نبویہ میں ملاوٹ کی تمام سازشیں معدوم ہو گئیں یوں ذخیرہ احادیث محفوظ ٹھرا ۔پھر محدثین نے ضعیف ومن گھڑت روایات کی تحقیق کی اور ضعیف اور موضوع روایات پر الگ کتب تصانیف کیں ۔زیر نظر کتاب میں ایسی ہی کتب سے نقد شدہ زبان زد عام ضعیف او رموضوع واقعات ہیں ۔تالیف کتاب کا مقصد یہ ہے کہ خطباء ،واعزین اور عوام ایسے واقعات بیان کرنے سے گریز کریں اور ایسے کسی واقعہ کو سننے کے بعد اسے مسترد کردیں۔(ف۔ر)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1420 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں